پنجاب اسمبلی:زرعی ٹیکس میں اضافہ کے معطل کردہ نوٹیفکیشنز بحال

پنجاب اسمبلی:زرعی ٹیکس میں اضافہ کے معطل کردہ نوٹیفکیشنز بحال

سپیکر نے نوٹیفکیشنز پیش نہ کرنے پر کالعدم کیے تھے ، ایوان نے تاخیر درگزر کر دی پنجاب فلم سٹی اتھارٹی اور 7نجی بل پیش، کمیٹیوں کے سپرد، متعدد قراردادیں منظور

لاہور (سیاسی نمائندہ) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے وہ نوٹیفکیشنز، جو ایک روز قبل سپیکر کی رولنگ کے ذریعے معطل کیے گئے تھے ، بحال کر دئیے گئے ۔ ایوان نے نوٹیفکیشنز پیش کرنے میں تاخیر کو متفقہ طور پر درگزر کرتے ہوئے ان کی بحالی کی توثیق کر دی۔اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت دو گھنٹے پانچ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ صوبائی وزیر قانون رانا اقبال نے نوٹیفکیشنز پیش کرنے میں تاخیر کو درگزر کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ یاد رہے کہ سپیکر نے ایک روز قبل زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے نوٹیفکیشنز کو ایوان سے منظوری نہ لینے پر کالعدم قرار دیا تھا۔نوٹیفکیشنز کی بحالی پر سپیکر نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے ضروری تھا تاکہ کسی قسم کا ابہام نہ رہے اور آئینی اختیارات واضح رہیں۔

اجلاس کے دوران محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر سے متعلق سوالات کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی نے قسم کھا کر یقین دہانی کرانے کی کوشش کی، جس پر سپیکر نے انہیں قسم اٹھانے سے روک دیا اور متعلقہ الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت کی۔ایوان میں پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل 2026 سمیت 7 نجی بل پیش کیے گئے جن میں مختلف نجی جامعات کے قیام اور ترمیمی بل شامل تھے ۔ تمام بلز کو مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔غیر سرکاری کارروائی میں ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالے کرنے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔اسی طرح وزیراعلیٰ مریم نواز کے دو سال مکمل ہونے پر خراج تحسین اور نواز شریف کینسر کیئر ہسپتال کی تیز رفتار تعمیر پر اطمینان کی قراردادیں بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں۔ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں