پاسداران ،اعتدال پسندوں میں اختلافات سے فیصلوں میں تاخیر
امریکا کی جنگ بندی میں دلچسپی مگر اپنی شرائط پر،توسیع سے بھی عدم اعتماد رہے گا
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا، ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوسرے دور کیلئے جاری کوششیں نتیجہ خیز بنتی نظر نہیں آ رہیں ،لیکن پاکستان اپنے ثالثی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے اب بھی سرگرم نظر آ رہا ہے ۔امریکا کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور پر آمادگی کے باوجود ایران مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں اور وہ آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد سے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی نہ کھولنے کے عمل کو بنیاد بناتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو بے فائدہ سمجھتا ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار متعدد بار ایرانی لیڈر شپ خصوصاً صدر مسعود پزشکیان اور عباس عراقچی سے روابط قائم کر چکے ہیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ ایرانی لیڈر شپ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اس حوالے سے ان کے تحفظات صرف امریکا کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ خود ایرانی لیڈر شپ کے اپنے اندر سے بھی بھرپور دباؤ آ رہا ہے۔
پاسداران انقلاب اور اعتدال پسند ایرانی سٹیک ہولڈرز کے آپس کے اختلافات فیصلوں میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں ۔ وہ عناصر جو امریکا سے مذاکراتی عمل کے ہی خلاف تھے وہ امریکا کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی کو جواز بناتے ہوئے اپنی لیڈر شپ پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ اب مذاکرات پر لچک کا کوئی سوال نہیں، لیکن کیا یہ معاملہ صرف فریقین تک محدود ہے ؟، جنگ بندی کے اس عمل کو فریقین کے ساتھ چین ،روس ،سعودی عرب و دیگر ممالک کی تائید بھی حاصل تھی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وقتی طور پر جنگ بندی کی مدت میں اضافہ ہو، تاکہ مذاکراتی عمل کا تسلسل قائم رہ سکے ۔ بظاہر تو خود صدر ٹرمپ کا یہ بیان بھی آ چکا ہے کہ معاہدہ نہ ہو سکا تو جنگ بندی کی مدت میں توسیع کا کوئی امکان نہیں، لیکن کیا امریکا توسیع کے خلاف ہے؟
ایسا نہیں، اس لئے کہ امریکا اب جنگی صورتحال سے بچنا چاہتا ہے ،لہٰذا جس نکتہ پر معاملہ اٹکا نظر آ رہا ہے اس پر فیصلہ امریکا کے اختیار میں ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ وہ جنگ سے بچنا چاہتا ہے اور جنگ بندی میں دلچسپی رکھتا ہے ، مگر اپنی شرائط پر۔ البتہ جنگ بندی میں توسیع اب ایک ٹیکنیکل وقفہ ہے ۔ مستقل امن نہیں لہٰذا توسیع ممکن ہے ،مگر عدم اعتماد برقرار رہے گا اور خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی مفادات اس بات کا تعین کریں گے کہ جنگ بندی کتنی دیر چلے گی اور اس میں توسیع کیسے ممکن ہے ۔ البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ باوجود فریقین کے ایک دوسرے کے حوالہ سے شدید تحفظات ہیں، مگر وہ نہیں چاہیں گے کہ جنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو۔ لہٰذا قوی امکان یہی ہے کہ قلیل مدت کیلئے پھر سے جنگ بندی میں توسیع ہو جائے جو چند روز کے لئے ہوگی، مگر طویل مدتی معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے اور جنگ بندی میں توسیع کے عمل میں چین اور سعودی عرب کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔