افغان طالبان بارے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی

 افغان طالبان بارے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی

سفارتی محاذ پر دہشتگردی کے سدباب کیلئے مربوط حکمت عملی پر گامزن ہونا پڑے گا

(تجزیہ:سلمان غنی)

قومی اسمبلی میں پاک افغان تعلقات اور خطے میں دہشتگردی کے رجحانات اور اسکے پاکستان پر اثرات کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خطاب کو اہم قرار دیا جا سکتا ہے ، جس میں انہوں نے جہاں کئی بار افغان لیڈر شپ سے دہشتگردی کے سدباب کے ضمن میں مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دہشتگردی کے  خاتمہ میں اپنے کردار کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ ٹی ٹی پی پر تحریری ضمانت دینے پر تیار نہیں۔ خواجہ آصف نے یہ انکشاف بھی کیا کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو افغانستان کے دور دراز علاقوں میں بھجوانے کے عوض ہم سے دس ارب مانگے جو ہم انہیں دینے کو تیار تھے لیکن کیا گارنٹی تھی کہ وہ یہ مال کھا پی کر پھر دوبارہ ہماری سرحد پر آ کر نہ بیٹھ جائیں، ہمارا مسئلہ صرف یہی رہا کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے اور یہی وہ نکتہ ہے جسکی بنا پر ہمارے افغانستان سے سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں ،لہٰذا ایسا کیوں ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے پر کنٹرول کیوں نہیں کر پائے ،بلاشبہ افغانستان کا مسئلہ براہ راست دہشتگردی سے جڑا ہوا ہے اور بلوچستان اور پختونخوا میں دہشتگردی کے ڈانڈے افغان سرزمین سے ملتے ہیں جسکے مصدقہ شواہد سے پاکستان چین و دیگر دوست ممالک کو بھی آگاہ کر چکا ہے۔

پاکستان کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ افغان حکومت دہشتگرد گروہوں کیخلاف موثر کارروائی کرے اور دوحہ معاہدے کی اس روح پر عمل ہو کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی ۔ اب خواجہ آصف نے اس بات کی تصدیق کر دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ دہشتگرد تنظیمیں یہاں سرگرم ہیں اور انہیں کسی دور دراز علاقے میں شفٹ کیا جا سکتا ہے ،لیکن پاکستان کو ا س بات کی بھی گارنٹی نہیں کہ بھاری رقم ادائیگی کے بعد یہ دہشتگرد تنظیمیں پھر سے یہاں آ کر اپنا مذموم عمل شروع کر دیں گی ۔ 10 ارب کی فراہمی کے اعلان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کی قیمت اپنے جان و مال سے اٹھانے کے بعد اب نقد ادائیگی بھی کر کے اس سے جان چھڑانا چاہتا ہے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشتگردی سے پاک کرنے میں سنجیدہ نہیں اور یہی پاکستان کیلئے بڑی پریشانی ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اب یہ مسئلہ باتوں سے حل ہونے والا نہیں لگتا اور خواجہ آصف درست کہتے ہیں کہ طالبان کے مخلوط سگنلز پر بھروسہ کرنا خطرناک ہوگا چین جیسے ملک نے خود اپنے مفاد میں پاک افغان مذاکرات کرائے دہشتگردی کیخلاف اقدامات تجویز ہوئے لیکن افغان طالبان نے زبانی شرائط قبول کیں لیکن اقدامات نہ کئے اور اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ روس جس نے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رکھا ہے وہ بھی افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے گروہوں کی نشاندہی کرتا ہوا اپنی تشویش ظاہر کرتا نظر آ رہا ہے۔

لہٰذا پاکستان کو سفارتی محاذ پر افغان طالبان کو ایکسپوز کرتے ہوئے دہشتگردی کے سدباب کیلئے مربوط حکمت عملی پر گامزن ہونا پڑے گا اور جب تک افغان طالبان کو دفاعی محاذ پر نہیں لایا جاتا اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر انہیں چارج شیٹ نہیں کیا جاتا وہ دہشتگردی کیخلاف اقدامات کیلئے تیار نہیں ہونگے ۔ پاکستان کو جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی لیکن یہ کامیابی بھی علاقائی طاقتوں کے تعاون اور اندرونی استحکام پر منحصر ہے ۔ خواجہ آصف کے قومی اسمبلی میں خطاب میں افغان سرزمین سے دہشتگردی کے عمل پر تشویش اتنی عیاں تھی کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ماضی میں جب ہم امریکی پراکسی تھے تو کیا ہماری پالیسیاں درست تھیں ،وہ امریکی جو یہاں آئے ہمیں استعمال کیا اور چلے گئے اور ہم آج تک نتائج بھگت رہے ہیں، کہنے کا مطلب شاید یہ کہ ہمیں ہرگز امریکی مفادات کے تحت افغانستان کیخلاف جنگ میں نہیں الجھنا چاہئے تھا اور حقائق بھی یہی ہیں کہ ہم افغانستان میں کردار ادا کرتے رہے اور بیرونی قوتیں اپنے مقاصد پورے کرتی رہیں اور اسکے نتائج ہمیں بھگتنا پڑے اور اس کا بڑا سبق یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنے مفادات دیکھنے چاہئیں اور بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بننے سے گریزکرنا چاہئے ، آج اگر افغانستان کی سرزمین ہمارے لئے عذاب بنی ہے تو اس میں ہماری ریاستی پالیسیوں کا دخل رہا ہے جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں