بلاول کی تقریر دوسرے انتخابی مرحلے کا ماحول بنانیکی کوشش

بلاول کی تقریر دوسرے انتخابی مرحلے کا ماحول بنانیکی کوشش

ن لیگ کیلئے پہلے مرحلے کی کامیابی ہی بڑا سیاسی سرمایہ ،شاید جواب نہ دے

(تجزیہ:سلمان غنی)

قومی سیاست کا بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے وسیع تر سیاسی مفادات کو قومی مفادات سے جوڑ کر نئی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی رویہ ملک میں انتشار کا باعث بنتا ہے ۔ تقریباً ہر انتخاب میں شکست کھانے والی جماعت نتائج کو دھاندلی سے جوڑ دیتی ہے ، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کے عدم احترام نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔آزاد کشمیر کے حالات اور انتخابات کے تناظر میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر اور احتجاج بھی معنی خیز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ  کا مفاد۔ ان کا یہ کہنا بھی توجہ طلب ہے کہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے ۔اگر بلاول بھٹو کے تحفظات کا جائزہ لیا جائے تو وہ ایک طرف ریاست کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ، خصوصاً کراچی میں ان کی مخالف جماعتیں بھی انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی پر ایسے ہی اعتراضات کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح اگر آزاد کشمیر کے حالات پر انہیں تشویش ہے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ وہاں حکومت خود پیپلز پارٹی کی ہے اور وزیراعظم فیصل راٹھور بھی انہی کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ انتخابی عمل سے قبل آنے والی رپورٹس یہی ظاہر کر رہی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی پر برتری حاصل ہے ، اور یہ رپورٹس ریکارڈ کا حصہ ہیں۔اگر سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہماری انتخابی سیاست ہمیشہ تلخ رہی ہے۔

سیاسی جماعتوں نے قومی مفاد سے زیادہ اپنے اقتدار کو ترجیح دی۔ 1970ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کو واضح اکثریت ملی، مگر اقتدار منتقل نہ ہونے کے نتیجے میں ملک دولخت ہو گیا۔ اقتدار میں آنے والی جماعت ریاستی اداروں کو سراہتی ہے ، لیکن اقتدار سے باہر ہوتے ہی انہی اداروں پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتی ہے ، پھر دوسری جماعت اقتدار میں آ کر یہی طرزِ عمل اختیار کرتی ہے ۔گلگت بلتستان کے انتخابات بھی اس تناظر میں قابلِ ذکر ہیں۔ وہاں پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت نہیں تھی، تاہم مسلم لیگ (ن) کے تعاون سے حکومت قائم ہوئی اور انتخابی نتائج کو بڑے پیمانے پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد عمومی تاثر یہی تھا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی۔ انتخابی سیاست میں عوامی تاثر بڑی اہمیت رکھتا ہے ، اسی لیے کئی مضبوط امیدوار ن لیگ کے ساتھ آ ملے اور پہلے مرحلے میں ن لیگ نے 13 میں سے 9 نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔اسی پس منظر میں بلاول بھٹو کی حالیہ تقریر کو 2 اگست کے دوسرے مرحلے کے انتخابات سے قبل اپنی جماعت کے حق میں ماحول بنانے کی کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کے بیانات سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو قبول کرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

اگر ہر شکست کے بعد ریاست کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے تو اس سے ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کو عوام کے فیصلے کے مطابق منتخب حکومت کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ، جبکہ شکست خوردہ جماعتیں اکثر اپنی ناکامی کا ذمہ دار ریاست کو قرار دیتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔جہاں تک ریاست پر ن لیگ کا ساتھ دینے کے الزام کا تعلق ہے ، یہ ردِعمل انتخابی نظام کی کمزوریوں اور سیاسی عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے ۔ انتخابی سیاست میں سخت بیانیہ وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے ، لیکن قومی معاملات پر قومی قیادت سے ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی توقع کی جاتی ہے ۔ اس مرحلے پر مسلم لیگ (ن) شاید اس تقریر کا جواب دینا ضروری نہ سمجھے ، کیونکہ پہلے مرحلے کی کامیابی ہی اس کے لیے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات میں بڑا سیاسی سرمایہ ہے ۔بلاول بھٹو نے اگر یہ کہا ہے کہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے تو اس کے لیے محض سخت بیانات کافی نہیں، انہیں قومی سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا اور غیرجانبدار کمیشن کے قیام کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے ۔ کشمیر کے حالات پر پورے ملک میں تشویش پائی جاتی ہے ، اس لیے یہ وقت آگ پر تیل ڈالنے کا نہیں بلکہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...