قائمہ کمیٹی :بغیر لائسنس جانوروں کی ویکسین تیاری،فروخت کا انکشاف
کمیٹی کی ڈی جی لائیوسٹاک پختونخوا کی سرزنش ، تمباکو کو فصل قرار دینے کیلئے کمیٹی قائم زیتون پودے کی لائف ایک ہزار سال ،413کلو آئل ایک پودے سے ملا ،کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد (نامہ نگار)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں پاکستان میں جانوروں کی ویکسین بغیر لائسنس بنانے اور فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک خیبر پختونخوا کی سرزنش کردی۔اجلاس چیئرمین مسرور احسن کی زیرصدارت ہوا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے استفسار کیا کہ کیا بغیر لائسنس جانوروں کی ویکسینیشن کی جارہی ہے ؟ ڈی جی لائیو سٹاک کے پی نے کہا کہ 2019 سے لائسنس کے لیے اپلائی کیا ہے ، تاہم ڈریپ نے لائسنس جاری نہیں کیا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ لائیو سٹاک حساس شعبہ ہے ، غریب لوگوں کا روزگار اس سے جڑا ہے ، بغیر لائسنس جانوروں کو ویکسین لگائی جارہی ہے یا پانی؟اجلاس میں تمباکو کی کاشت پر بھی بحث ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ 90 فیصد تمباکو خیبرپختونخوا میں جبکہ پنجاب میں بھی کاشت ہوتا ہے ۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت کو تمباکو کو فصل قرار دینا چاہیے ، تمباکو اُگانے والوں کا مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔ مڈل مین 300 روپے فی کلو تمباکو خرید کر 700 روپے میں فروخت کررہا ہے ۔ چیئرمین پی ٹی بی نے بتایا کہ 45/46 فیصد تمباکو درآمد ہوتا ہے اور پی ٹی بی کے کل 17 ممبران ہیں۔
کمیٹی نے تمباکو کو بطور فصل شمار کرنے کے لیے سب کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی کو وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل آلیو کونسل کا ممبر بن چکا ہے ، اس سال دس لاکھ پودے لگائے جائیں گے ۔ وزارت کے حکام نے بتایاکہ 80 ہزار ڈالر کا زیتون ہم ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ پاکستان اٹلی، سپین اور ترکی سے پودے امپورٹ کرتا تھا۔اب ہماری اپنی نرسریز بنا رہی ہیں۔ اس پودے کی لائف ایک ہزار سال ہے ۔ ایک ایکڑ پر 135 پودے لگتے ہیں۔413 کلو آئل ایک پودے سے ملا ہے ۔ دنیش کمار نے اصلاحات اور زرعی پیداوار پر سوال اٹھایا۔ شہادت اعوان نے گندم اور کپاس کی پیداوار میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اگلی میٹنگ میں تقابلی جائزہ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments