ہمیں آزمانا چاہتے ہو تو ذرا ہاتھ لگا کر دیکھو:فضل الرحمن
گھر، کچن اور جنریٹر کے پیچھے پڑنے سے کچھ نہیں ہوگا، خواجہ آصف کو گدگدی کی تھی قیمتی پتھر امریکا کو پیش،سیاستدانوں کو جانتا ہوں، اپنا حصہ رکھ کر ملک کا سوچتے :خطاب
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کو طویل عرصے سے تجربہ گاہ بنایا گیا ہے ، اب ان اضلاع کا انضمام ختم کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، قبائلی علاقوں کا اصل مسئلہ آئینی نہیں بلکہ معدنی وسائل ہیں،یہاں بڑے بڑے صاحب بہادر گزرے ہیں، وہ بھی ہمارے سروں پر بیٹھنا چاہتے تھے ، ہم نے ان کو بغل میں دبا دیا، ہم مرعوب ہونے والے نہیں، ہمیں آزمانا چاہتے ہو تو ذرا ہاتھ لگا کر دیکھو،پشاور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر بتایا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کا فیصلہ غلط تھا، سوال یہ ہے کہ انضمام کا فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا اور اب اسے ختم کرنے کی باتیں کس کے اشارے پر ہو رہی ہیں، ہمیں معدنیات کی تلاش اور ترقی پر کوئی اعتراض نہیں تاہم وسائل سے متعلق معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ قیمتی پتھر لے جا کر امریکی حکام کے دفاتر میں پیش کئے گئے اور امریکی اس بات کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ وہ اس معاملے میں آگے بڑھ رہے ہیں،انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر کیے گئے ، لیکن جیسے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوئی، دہشت گردی کا شور بھی ختم ہوگیا۔
، انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان سے منسلک اضلاع کے بعد اب کوہاٹ ڈویژن میں بھی ایمرجنسی لگائی جائے گی کیونکہ وہاں سے بھی سمگلنگ کا راستہ موجود ہے ، جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہمارے خلاف تشہیری مہم چلانے کے بجائے سیاسی بات چیت کی جائے ، گالیاں دینے ،گھر، کچن اور جنریٹر کے پیچھے پڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف محترم اور بڑے بھائی ہیں،میں نے تو ان کو صرف تھوڑی گدگدی کی تھی، لیکن انہیں غصہ اگلے روز آیا، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دوسرے دن مکا اٹھایا تو اسے اپنے ہی چہرے پر مارنا چاہیے تھا، کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے اسی روز ایوان میں جواب دے دیا تھا۔ ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاہم جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل ہیں اور آپ کے پاس ٹیکنالوجی، اس لیے کھل کر عوام کے سامنے آئیں اور معاہدے کریں، گورنر کی جانب سے افغانستان جانے کا مشورہ دینے پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ماضی میں آپ بھی انگریزوں کے ماتحت تھے تو پھر آپ بھی برطانیہ چلے جائیں ، انہوں نے کہا کہ آپ نے چین کو مایوس کردیا ہے ، ان کی سرمایہ کاری کو راستے میں روک دیا، اس کی جگہ کون لے رہا ہے ؟ اس کی جگہ امریکا لے رہا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اپنے ملکی ذخائر کو اس طرح بیچتے ہیں تو پھر یہ بات واضح ہے کہ یہ پاکستانی سیاست دان ہیں ، میں ان کو جانتا ہوں، ان کی ترجیحات کو جانتا ہوں، پہلے وہ اپنے حصے کا تعین کرتے ہیں، اس کے بعد ملک کے لیے سوچتے ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments