آن لائن مالی فراڈ روکنے کیلئے نیشنل سائبر فراڈ کوآرڈی نیشن سیل کی تجویز

آن لائن مالی فراڈ روکنے کیلئے نیشنل سائبر فراڈ کوآرڈی نیشن سیل کی تجویز

سٹیٹ بینک، پی ٹی اے ، نادرا، ایس ای سی پی اوربینک مجوزہ سیل کا حصہ ہوں گے 60 فیصد سائبر کرائم واقعات مالی فراڈ پر مشتمل ،متاثرین میں 57فیصد نوجوان شامل سیل سے مالی فراڈ کے مقدمات کی تحقیقات میں آسانی ہوگی ،این سی سی آئی اے

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان میں سائبر کرائمز، خصوصاً آن لائن مالی فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے )سائبر جرائم اور مالی فراڈ کی روک تھام کے لیے کام کر رہی ہے تاہم ان واقعات پر قابو پانے کے لیے نیشنل سائبر فراڈ کوآرڈی نیشن سیل (این سی ایف سی سی) کے قیام کی تجویز زیر غور ہے ۔یہ تجویز این سی سی آئی اے کے حکام کی جانب سے دی گئی ہے ، جو روزانہ اس نوعیت کے مقدمات سے نمٹتے ہیں۔ حکام کے مطابق مجوزہ سیل کے قیام سے مالی فراڈ کے مقدمات کی تحقیقات میں آسانی ہوگی اور ایسے واقعات کی شرح کم کرنے میں مدد ملے گی۔روزنامہ دنیا کو دستیاب دستاویزات کے مطابق مجوزہ سیل میں این سی سی آئی اے کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے )، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور بینک شامل ہوں گے ۔مجوزہ سیل کا بنیادی مقصد آن لائن مالی فراڈ کی روک تھام ہے ۔ اس کے تحت این سی سی آئی اے جرائم کی تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزکس، ایف آئی آر کے اندراج اور پراسیکیوشن کے امور انجام دے گی۔ سٹیٹ بینک مالی معاملات میں معاونت اور ڈیبٹ بلاکنگ پروٹوکولز کے حوالے سے مدد فراہم کرے گا جبکہ پی ٹی اے فراڈ میں استعمال ہونے والی جعلی سمز اور یو آر ایل بلاک کرنے سمیت دیگر متعلقہ امور میں معاونت کرے گی۔نادرا شناخت کی تصدیق اور فراڈ میں ملوث شناختی کارڈز کی نشاندہی میں مدد دے گا جبکہ ایس ای سی پی غیر قانونی سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز کی شناخت میں معاونت کرے گی۔این سی سی آئی اے کے ایک ذریعے نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ یہ سیل فی الحال تجویز کے مرحلے میں ہے ۔ اس کے قیام کے بعد تمام متعلقہ امور ایک ہی ونڈو کے ذریعے انجام دئیے جا سکیں گے ۔ این سی سی آئی اے کے مطابق پاکستان میں سائبر کرائمز کے مجموعی واقعات میں مالی فراڈ کا تناسب 60 فیصد ہے جبکہ مالی فراڈ کا شکار ہونے والے افراد میں 57 فیصد نوجوان شامل ہیں۔ حکام کے مطابق نوجوان جلد رقم کمانے کی خواہش میں مختلف ایپس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور زیادہ منافع کے لالچ میں فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...