مریم کی قانونی چارہ جوئی کیا حکومتی اتحاد پر اثر انداز ہوگی؟
کوئی بھی فیصلہ سالک،شافع پر مشترکہ لاگو ہوگا، شاید نوبت استعفوں تک نہ جائے
(تجزیہ:سلمان غنی)
وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات پر قانونی چارہ جوئی کو خود حکومتی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ آپ وفاقی وزیر ہیں الزام نہ لگائیں اورثبوت لائیں اور حکومت اتنی کرپٹ ہے تو وزیر بن کر کیوں بیٹھے ہیں۔ مریم نواز ان الزامات پر مصلحت کا شکار ہونے کی بجائے اسے ٹیسٹ کیس بنانے پر مصر ہیں، اب دیکھنا ہوگا کہ سالک حسین اپنے الزامات پر کھڑے نظر آتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں اور آپس کے اختلافات کا یہ سلسلہ کیا ن لیگ اور ق لیگ کے اتحاد پر اثر انداز ہوگا یا نہیں۔ جہاں تک وفاقی وزیر کے الزامات کا تعلق ہے تو اس کا پس منظر شاید کرپشن سے زیادہ کچھ اور معاملات پر تحفظات ہیں جس میں فوری طور پر گجرات میں ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی کو اہم بتایا جا رہا ہے ۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ تکلیف اس بات کی ہے کہ میں نے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کر دیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ سالک حسین اس پر ناراض تھے اور انہوں نے اپنی ایک سفارش پر عملدرآمد نہ ہونے کا بدلہ پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات اور فائلوں کی بجائے الماریاں بھری ہونے کا ردعمل دے کر کیا ،جس پر پنجاب حکومت کا ردعمل تو قدرتی تھا۔مریم نواز یہ نہیں چاہتیں کہ مخالفین کو یہ موقع ملے کہ وہ اس بیان کو بنیاد بنا کر ان کی حکومت کی ساکھ پر اثر انداز ہوں۔سالک حسین ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت کے صاحبزادے ہیں اور ان کے دوسرے صاحبزادے چودھری شافع حسین پنجاب حکومت میں وزیر ہیں، چودھری شجاعت کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو وہ خالصتاً وضع داری کی سیاست رہی ہے اور اپنے شدید تحفظات کے باوجود بھی وہ ذاتیات پر آنے اور الزام تراشی سے کنی کتراتے رہے ہیں۔اب سالک حسین کی بنا پر پیدا شدہ ایشو خود چودھری شجاعت کیلئے چیلنج ہوگا۔ خود ن لیگ کے سربراہ نواز شریف اور شجاعت حسین کے درمیان ہمیشہ سے ایک احترام اور تکریم کا تعلق رہا۔
مشرف کے دور میں جب شریف خاندان بری طرح سے عتاب میں تھا تو چودھری شجاعت نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد بیگم کلثوم نواز سے بھی رابطے میں رہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کا ساتھ دیتے رہے ،واقفان حال کا کہنا ہے کہ نئی صورتحال میں نواز شریف اور چودھری شجاعت کا سیاسی رشتہ شاید ختم نہ ہو، البتہ اگر معاملہ ذاتی اور قانونی کارروائی تک پہنچا تو صورتحال بدل سکتی ہے ۔اس وقت اہم سوال علیحدگی سے زیادہ اتحادی جماعتوں کے اعتماد کا ہے ،اگر اختلافات کو سیاسی مشاورت سے حل نہ کیا گیا تو ایک بیان سے شروع ہونے والا تنازع بڑے سیاسی فاصلے میں تبدیل ہو سکتا ہے ،جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ سالک حسین وزرارت سے استعفے دے دیں گے تو یہ ابھی قبل از وقت ہے ۔تاہم سالک حسین کی جانب سے پنجاب کی موجودہ حکومت کے مقابلے میں اپنے ماموں پرویز الٰہی کی حکومت کو بہترین قرار دینے کا عمل خود پرویز الٰہی کیلئے پیغام ضرور ہوگا۔
کیونکہ چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کے درمیان قریبی رشتہ داری کے باوجود سیاسی معاملات پر اختلافات نے ایک دوسرے کو فاصلے پر کھڑا کر رکھا ہے ۔اب نئی پیدا شدہ صورتحال میں بنیادی فیصلہ بچوں کے درمیان نہیں بزرگوں کے درمیان ہونا ہے ۔ دوسری جانب پنجاب کے محاذ پر بھی صوبائی وزیر شافع حسین اور حکومت کے درمیان سرد جنگ جاری تھی مگر انہوں نے کبھی حدود عبور نہیں کی، لہٰذا اب معاملہ وفاقی وزیر چودھری سالک اور پنجاب حکومت کے درمیان ہی نہیں رہے گا، اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ چودھری سالک اور چودھری شافع حسین پر مشترکہ لاگو ہوگا۔چودھری شجاعت کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ معاملہ وزرا کے استعفوں تک نہ جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments