شوبز کی دنیا کے بین الاقومی ایورڈز

شوبز کی دنیا کے بین الاقومی ایورڈز

اسپیشل فیچر

تحریر : خرم سہیل (


دادا صاحب پھالکے ایوارڈ:(بھارت)دادا صاحب پھالکے ایوارڈز ہندی سینما کے معتبر اوراعلیٰ معیار کے اعزازات ہیں۔ ان ایوارڈز کا انعقاد بھارتی حکومت کرتی ہے۔ اس میں شوبز کے علاوہ شعبہ ہائے زندگی سے متعلق دیگر مختلف طرح کے ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کا آغاز 1969ء میں ہوا۔ یہ ایوارڈز بہت ہی سینئر اورمعتبر ترین شخصیات کو دیے جاتے ہیں۔ یہ ایوارڈز داداصاحب پھالکے کے نام پر ہیں، ان کو ہندی سینما کا سرپرست سمجھاجاتاہے۔ یہ ایوارڈز انڈیا کے بہت سے نامور فن کاروں کو مل چکا ہے، جن میں پرتھوی راج، نوشاد، ستیاجیت رائے، راج کپور، اشوک کمار، لتامنگیشکر، دلیپ کمار، مجروح سلطان پوری، دیو آنند، یش چوپڑا، شیام بینگل اورمناڈے جیسی شخصیات شامل ہیں۔نیشنل فلم ایوارڈز:(بھارت)یہ ایوارڈز انڈیا میں بہت مقبول ہیں۔ ان ایوارڈز کے انتظامی امور میں بھارتی حکومت کے علاوہ ملک کی معروف شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں۔ 1954ء میں ان ایوارڈز کااجرا ہوا۔ ایوارڈز کی تقریب نیو دہلی میں ہوتی ہے اور وصول کنندہ کوبھارتی وزیر اعظم کے ہاتھوں یہ ایوارڈ دیاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کی اہمیت یوں بھی زیادہ ہے کہ یہ بھارت کے قومی ایوارڈز کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان ایوارڈز میں 2 اقسام کے اعزازات ہیں، جن میں ایک فیچر فلم کے لیے جب کہ دوسری قسم نان فیچر فلم ہے اورپھر آگے ان کی مزید شاخیں تقسیم ہوجاتی ہیں، ان میں بھی اعزازات دیے جاتے ہیں۔ فلموں کے حوالے سے لکھاریوں کو بھی یہ اعزاز ملتاہے اورایک ایوارڈ اسپیشل جیوری ایوارڈ ہے جو ایسی کتاب کو دیا جاتاہے جو ہندی سینما پر لکھی گئی ہو۔ اس کے علاوہ بھارت میں 4 قومی سول ایوارڈز ہیں جو مختلف شعبوں میں دیے جاتے ہیں، ان تمام اعزازات کا اجرا 1954ء میں ہوا۔ ان کے نام، بھارت رتنا۔ پدما وی بھوشن۔ پدما شری۔ پدما بھوشن ہیں۔ایشیانیٹ فلم ایوارڈ:(بھارت)انڈیا میں ملائلم فلموں کے لیے یہ بہت بڑا ایوارڈ اورجنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ کا ایک اہم ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈز بھی ٹیکنکل اورآرٹسٹک دونوں شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ 1998ء میں اس کی ابتدا ہوئی اوراب تک جاری ہے۔ 30 شعبوں میں ایوارڈز کے لیے فن کاروں کو نامزد کیاجاتاہے۔ میڈیا کی طرف سے دیے جانے والے شوبز کے ایوارڈزAnandalok Awards:(بھارت)یہ ایوارڈز انڈیا کی بنگالی سینما کی صنعت میں ایک اہم اورسالانہ بنیادوں پر ہونے والے ایوارڈز ہیں۔ Anandalok بنگالی زبان میں شائع ہونے والا فلمی رسالہ ہے، جس کے نام پر ان ایوارڈز کا نام رکھاگیاہے۔ یہ رسالہ بھارت کی ریاست آندرا پردیش سے شائع ہوتاہے۔ ان ایوارڈز کا تمام اہتمام یہی رسالہ کرتاہے۔ 1975ء میں یہ میگزین شائع ہونا شروع ہوا اور 1998ء میں اس نے فلمی ایوارڈز دینے کی ابتدا کی۔ یہ ایوارڈز فلم کے 19شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔فلم فیئر ایوارڈز:(بھارت)ان ایوارڈز کا انعقاد ایک بڑے بھارتی میڈیا گروپ دی ٹائم کی طرف سے ہوتاہے۔ یہ ایوارڈز آرٹسٹک اورٹیکنیکل دونوں شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ اسپیشل ایوارڈ اورکریٹیک ایوارڈ بھی دیاجاتاہے۔ یہ ایوارڈز ہندی فلموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 1954ء سے یہ ایوارڈز باقاعدگی سے دیے جارہے ہیں۔ ان ایوارڈز کے لیے دو طرح کا ووٹنگ سسٹم بناہوا ہے۔ ایک تو ماہرین کی کمیٹی ہے اوردوسرے عوام ہیں۔ دونوں پہلوئوں سے ایوارڈ دینے سے پہلے دیکھاجاتاہے۔ ان ایوارڈز کی بھارت میں بہت اہمیت ہے۔ یہ ایوارڈز جن شعبوں میں دیے جاتے ہیں، ا ن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔O۔ میرٹ ایوارڈز (14شعبے)O۔ کریٹکس ایوارڈز (4شعبے)O۔ ٹیکنیکل ایوارڈز (12شعبے)O۔ اسپیشل ایوارڈز (6شعبے)انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی ایوارڈز:(بھارت)یہ ایوارڈز سالانہ بنیادوں پر بالی ووڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 2000ء میں ان ایوارڈز کی ریت قائم ہوئی۔ ان ایوارڈز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بھارت سے باہر کسی دوسرے ملک میں ہوتے ہیں اورانتظامیہ، حاضرین اورنامزد ہونے والے لوگ طے شدہ ملک میں جاکر اس کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔ تین بنیادی شعبوں میں یہ ایوارڈز دیے جاتے ہیں، جن میں ٹیکنیکل، اسپیشل اور پاپولر ایوارڈز شامل ہیں۔ اب تک ان ایوارڈز کی تقریب جن ملکوں میں ہوچکی ہے، ان میں برطانیہ، جنوبی افریقہ، ملائشیا، سنگاپور، دبئی، بنکاک، نیدر لینڈ، روس، سری لنکا اورکینیڈا شامل ہیں۔بھارت کے دیگر ایوارڈزاس کے علاوہ بھی بھارت میں بہت سے ایوارڈز ایسے ہیں، جن کا باقاعدگی سے انعقاد ہوتاہے۔ چند ایک نمایاں ایوارڈز کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے۔ اجرا کی تاریخ کے تناظر میں ایوارڈز کے سفر کے بارے میں اندازہ لگایاجاسکتاہے۔O۔ بک اسٹار انٹر ٹینمنٹ 2010ءO۔ فلم فیئر ایوارڈز سائوتھ۔ تیلگو، 1954ئ۔ تامل، 1954ئ۔ ملائلم، 1967ئ۔ کنادا، 1970ءO۔ گلوبل انڈین فلم ایوارڈز 2005ءO۔ گولڈن کیلا ایوارڈز 2009ءO۔ کیرالا اسٹیٹ فلم ایوارڈز 1969ءO۔ ماتھروب حامی فلم ایوارڈز 1998ءO۔ نندی ایوارڈز 1964ءO۔ سائوتھ انڈین انٹرنیشنل مووی ایوارڈز 2012ءO۔ اسٹار اسکرین ایوارڈز 1998ءO۔ اسٹار ڈسٹ ایوارڈز 2003ءO۔ وی جے ایوارڈز 2006ءO۔ زی سنے ایوارڈز 1998ءO۔ اسکرین ایوارڈز 1995ءمختلف بادشاہتوں کی جانب سے شوبز کی شخصیات کو دیے جانے والے ایوارڈزدنیا کے چند ممالک ابھی تک ایسے ہیں، جہاں بادشاہت کا وجود قائم ہے اوران بادشاہتوں کا احترام اورمرتبہ عوام اورفن کاروں کے لیے بہت بلند ہے۔ یہ بادشاہتیں ان بہترین افراد کو اعزازات سے نوازتی ہیں جو ان کے ملک کا پرچم سربلند کرے۔ ان ایوارڈز کی قدرومنزلت پوری دنیا میں ہے۔ دنیا کے چند بہترین ممالک کے اعزازات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔آرڈر آف دی برٹش ایمپائر:(برطانیہ)یہ برطانیہ کا اعلیٰ ترین شاہی اعزاز ہے۔ یہ ان افراد کو دیاجاتاہے جو اپنے شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کریں اوربرطانیہ کے لیے مثبت تصور کو فروغ دیں۔ یہ چوں کہ شاہی اعزاز ہے لہٰذا ہر کسی کے بس میں یہ اعزاز حاصل کرنا نہیں ہے۔ 4؍جون 1917ء میں اس اعزاز کے دینے کی ابتدا ہوئی۔ ان کا اجرا کنگ جارج پنجم کے ہاتھوں ہوا۔ اب یہ اعزاز ملکہ الزبتھ دوم کے ہاتھوں دلوایا جاتاہے۔ یہ اعزازپانچ اقسام کا ہے، جن میں سویلین اورملٹری کے افراد شامل ہیں۔ ان کی ترتیب کچھ یوں ہے۔O۔ Knight Grand Cross(GBE)O۔ Knight Commander(KBE)O۔ Commander(CBE)O۔ Officer(OBE)O۔ Member(MBE)ان میں سے دو اعزازات ایسے ہیں، جن کو حاصل کرنے والے کے ساتھ کچھ القاب بھی لگ جاتے ہیں، وہ دواعزازات Knight اور Dame ہیں، اگر مرد ہے تو اپنے نام کے ساتھ Knight اور Sir کااضافہ کرسکتاہے جب کہ عورت ہے تو وہ اپنے نام کے ساتھ Dame لگاسکتی ہے۔ دونوں القاب کا مطلب باعزت اوراعلیٰ کے ہیں۔ اسی طرح برٹش ایمپائر میڈل بھی برطانیہ کا ایک معتبر اعزاز ہے۔ یہ ملٹری اورسویلین لوگوں کو بہترین خدمات پر دیاجاتاہے۔ برصغیر میں تقسیم سے پہلے کے ادوار میں اوربالخصوص مغل عہد میں اس نوعیت کے اعزازات کی روایت بہت پختہ تھی۔(جاری ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بچوں کو ریاضی سیکھنے میں دشواری کیوں؟

بچوں کو ریاضی سیکھنے میں دشواری کیوں؟

دماغی تحقیق نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیاریاضی کو ایک مشکل مضمون سمجھا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو زبان، مطالعہ یا دیگر مضامین میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن ریاضی کے سوالات حل کرتے وقت مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بچے کی توجہ کم ہے، مشق ناکافی ہے یا اس کی ذہانت مطلوبہ سطح کی نہیں تاہم ایک جدید تحقیق اس حوالے سے ایک نئی حقیقت سامنے لائی ہے کہ ریاضی میں مشکلات کا تعلق صرف محنت یا ذہانت سے نہیں بلکہ دماغ کے مخصوص حصوں کے کام کرنے کے انداز سے بھی ہو سکتا ہے۔امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی اور سان ہوزے سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس موضوع پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین نے بچوں کے دماغی سکینز اور ان کی ریاضیاتی کارکردگی کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ بعض بچے ریاضی کے سوال حل کرنے میں دوسروں کی نسبت زیادہ دشواری کیوں محسوس کرتے ہیں۔نمبروں کو سمجھنے کا دماغی عملتحقیق میں 7 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کو مختلف قسم کے عددی سوالات حل کرنے کے لیے دیے گئے۔ بعض سوالات میں عام ہندسے یعنی 3، 5 اور 8 جیسے اعداد استعمال کیے گئے جبکہ بعض میں انہی ہندسوں کو نقطوں کی شکل میں ظاہر کیا گیا۔ مثال کے طور پر تین نقطے یا پانچ نقطے دکھا کر بچوں سے ان کا موازنہ کرنے کو کہا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ ریاضی میں کمزور سمجھے جانے والے بچے سوال کو سمجھنے کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ان کے سامنے نقطوں کی شکل میں سوال پیش کیا گیا تو ان کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی اور وہ دوسرے بچوں کی طرح درست جواب دے سکے لیکن جب یہی سوال عددی علامات یا ہندسوں کی شکل میں پیش کیا گیاتو ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔اس سے پتا چلتا ہے کہ اصل مسئلہ سوال کو سمجھنے میں نہیں بلکہ عددی علامات کو حقیقی مقدار سے جوڑنے میں ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بچے جانتے ہیں کہ پانچ چیزیں کیا ہوتی ہیں لیکن دماغ بعض اوقات 5کے ہندسے کو اسی تصور سے فوری طور پر جوڑنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔دماغ کے کون سے حصے کردار ادا کرتے ہیں؟محققین نے بچوں کے دماغ کا ایم آر آئی سکین بھی کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ سوالات حل کرتے وقت کون سے حصے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دو اہم دماغی حصے ریاضیاتی صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔پہلا حصہ مڈل فرنٹل جائرس کہلاتا ہے۔ یہ حصہ توجہ مرکوز رکھنے، معلومات کو یاد رکھنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسرا حصہ انٹیریئر سنگولیٹ کورٹیکس ہے جو غلطیوں کی نشاندہی، فیصلہ سازی اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تحقیق میں دیکھا گیا کہ ریاضی میں دشواری کا شکار بچوں میں ان دونوں حصوں کی سرگرمی نسبتاً کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوال حل کرتے وقت اپنی غلطیوں کو کم محسوس کرتے ہیں اور جواب دیتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لاتے۔جلدبازی بھی ایک مسئلہتحقیق کا ایک اور دلچسپ پہلو بچوں کے رویے سے متعلق تھا۔ ماہرین نے دیکھا کہ ریاضی میں کمزور بچے اکثر سوالات کے جواب جلدی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ان سے غلطی ہو جائے تو وہ اس پر زیادہ غور نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی سوچ کے انداز میں کوئی خاص تبدیلی لاتے ہیں۔اس کے برعکس ریاضی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بچے غلط جواب کے بعد زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کا جائزہ لیتے ہیں اور اگلے سوال میں زیادہ توجہ کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی عادت انہیں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔والدین اور اساتذہ کیا کر سکتے ہیں؟اس تحقیق کے نتائج تعلیمی میدان میں کئی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاضی میں کمزوری کا مطلب ذہانت کی کمی نہیں۔ بعض بچوں کو صرف ہندسوں کے درمیان تعلق قائم کرنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو صرف کتابی سوالات تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں ریاضی کے استعمال کے مواقع پیدا کریں۔ خریداری کے دوران قیمتوں کا حساب لگوانا، کھلونوں کی گنتی کروانا، یا اشیا کو گروپوں میں تقسیم کروانا مفید سرگرمیاں ثابت ہو سکتی ہیں۔اسی طرح رنگین بلاکس، چارٹس اور تصویری مواد کے ذریعے بچوں کو مقدار کا تصور سمجھانا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب بچے حقیقی اشیا کے ذریعے اعداد کو محسوس کرتے ہیں تو ان کے دماغ میں نمبروں اور مقداروں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ریاضی سکھانے کا نیا زاویہیہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روایتی تدریسی طریقوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے دماغی عمل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی بچے کو ریاضی میں دشواری پیش آ رہی ہو تو اسے محض زیادہ مشق یا ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ اس کی سوچ کے انداز کو سمجھا جائے اور ایسے طریقے اپنائے جائیں جو اعداد کو زیادہ واضح اور قابلِ فہم بنا سکیں۔ریاضی صرف نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ سوچنے، تجزیہ کرنے اور مسائل حل کرنے کی تربیت بھی ہے۔ اس لیے بچوں کی حوصلہ افزائی، مناسب رہنمائی اور سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ تدریسی حکمت عملی مستقبل کی نسلوں کو بہتر سیکھنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

رومن گلیڈی ایٹر اور شیر

رومن گلیڈی ایٹر اور شیر

1800 سال پرانا معمہ کیسے حل ہوا؟انسانی تاریخ میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو صدیوں تک افسانہ اور حقیقت کے درمیان معلق رہتی ہیں۔ رومن سلطنت کے گلیڈی ایٹرز اور خونریز مقابلوں کی داستانیں بھی انہی میں شامل ہیں۔ فلموں، ناولوں اور تاریخی تحریروں میں اکثر دکھایا گیا ہے کہ گلیڈی ایٹر میدانِ جنگ میں شیروں اور دوسرے خطرناک جانوروں کا سامنا کرتے تھے لیکن اس دعوے کے حق میں براہِ راست جسمانی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اب برطانیہ میں آثارِ قدیمہ کی ایک تحقیق نے تقریباً دو ہزار سال پرانے اس راز پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو شمالی انگلینڈ کے شہر یارک میں ایک انسانی ڈھانچہ ملا ہے جس کی ہڈیوں پر شیر کے دانتوں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا پہلا براہِ راست ثبوت سمجھی جا رہی ہے کہ رومن دور میں انسانوں اور بڑے شکاری جانوروں کے درمیان جان لیوا مقابلے واقعی منعقد ہوتے تھے۔یارک میں ملنے والا حیران کن ڈھانچہیہ ڈھانچہ یارک کے ایک قدیم قبرستان سے دریافت ہوا جو رومن دور میں اہم فوجی اور انتظامی مرکز تھا۔ اس زمانے میں یارک کو ایبوراکم (Eboracum) کہا جاتا تھا اور یہ برطانیہ میں رومن اقتدار کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ماہرین نے جس شخص کا ڈھانچہ دریافت کیا اس کی عمر موت کے وقت تقریباً 26 سے 35 سال کے درمیان تھی۔ ہڈیوں کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ وہ جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور انسان تھا۔ اس کے جسم پر پرانی چوٹوں اور زخموں کے آثار بھی موجود تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اکثر پرتشدد سرگرمیوں یا لڑائیوں میں حصہ لیتا رہا تھا۔تحقیق کے دوران سب سے حیران کن بات اس کی کولہے کی ہڈی پر موجود مخصوص نشانات تھے۔ ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا کہ یہ نشانات کس جانور کے دانتوں سے بنے ہیں، لیکن جدید سائنسی تکنیکوں نے اس معمہ کو حل کر دیا۔ ماہرین نے ہڈی پر موجود نشانات کے تھری ڈی سکین تیار کیے اور ان کا موازنہ مختلف بڑے گوشت خور جانوروں مثلاً شیر، چیتے اور دوسرے شکاری جانوروں کے دانتوں کے نشانات سے کیا۔نتائج حیران کن تھے۔ نشانات کی ساخت اور گہرائی سب سے زیادہ شیر کے دانتوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ مزید دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ زخم غالباً اس وقت لگے جب انسان مر چکا تھا یا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیر نے اس کے جسم کو نوچا یا کاٹا تھا۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی انسانی ڈھانچے پر ایسے نشانات دریافت ہوئے ہیں جو براہِ راست رومن دور کے شیر اور انسان کے تصادم کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔گلیڈی ایٹرز کے خونریز کھیلرومن ایمپائر میں عوامی تفریح کے لیے بڑے بڑے میدان بنائے جاتے تھے جہاں گلیڈی ایٹرز ایک دوسرے سے یا خطرناک جانوروں سے لڑتے تھے۔ ان مقابلوں کا مقصد عوام کو تفریح فراہم کرنا اور سلطنت کی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔قدیم رومن مصنفین نے اپنی تحریروں میں ان کھیلوں کا ذکر کیا ہے۔ تاریخی تصاویر، موزیکس اور مجسمے بھی ایسے مناظر دکھاتے ہیں جن میں انسان شیر، ریچھ یا دوسرے جنگلی جانوروں کے مقابلے میں نظر آتے ہیں۔ تاہم مورخین کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی براہِ راست جسمانی ثبوت موجود نہیں تھا کہ ایسے مقابلے حقیقت میں ہوتے تھے۔یارک میں ملنے والی یہ دریافت اب ان تاریخی بیانات کی سائنسی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رومن ایمپائر کے شمالی علاقوں تک بھی ایسے خونریز کھیل منعقد کیے جاتے تھے۔شیر برطانیہ تک کیسے پہنچا؟اس دریافت نے ایک اور دلچسپ سوال کو جنم دیا ہے۔ برطانیہ میں تو قدرتی طور پر شیر موجود نہیں تھے پھر وہ وہاں کیسے پہنچے؟ماہرین کے مطابق رومن ایمپائر کا تجارتی اور فوجی نیٹ ورک بہت وسیع تھا۔ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور دوسرے دور دراز علاقوں سے جنگلی جانور پکڑ کر سلطنت کے مختلف شہروں میں لائے جاتے تھے۔ ان جانوروں میں شیر، چیتے، ہاتھی اور دوسرے جانور شامل تھے۔یہ جانور سمندری اور زمینی راستوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر دور منتقل کیے جاتے تھے۔ پھر انہیں عوامی تماشوں اور مقابلوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ یارک میں ملنے والا ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ رومن ایمپائر کی رسائی اور انتظامی صلاحیت کتنی وسیع تھی کہ وہ افریقی شیروں کو بھی برطانیہ تک لے آنے میں کامیاب تھی۔تاریخ اور سائنس کا امتزاجیہ دریافت صرف ایک ہڈی یا ایک زخم کی کہانی نہیں بلکہ تاریخ اور سائنس کے اشتراک کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔ جدید تھری ڈی سکیننگ، حیاتیاتی تجزیے اور آثارِ قدیمہ کی تکنیکوں نے ایک ایسا معمہ حل کیا ہے جو تقریباً اٹھارہ سو برس سے پوشیدہ تھا۔ماضی میں جو باتیں صرف تحریری روایات یا فن پاروں میں موجود تھیں، اب ان کی تصدیق حقیقی جسمانی شواہد سے ہو رہی ہے۔ اس طرح انسانی تاریخ کے ان گوشوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو صدیوں سے دھند میں چھپے ہوئے تھے۔یارک میں ملنے والی یہ ہڈی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رومن تفریحی کھیل محض ڈرامائی کہانیاں نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے حقیقی انسانوں کی زندگیاں، ان کی قربانیاں اور بعض اوقات ان کی ہولناک اموات بھی شامل تھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

جان کیبوٹ کی شمالی امریکہ آمد24 جون 1497ء کو اطالوی ملاح جان کیبوٹ شمالی امریکہ کے ساحل پر پہنچا۔ وہ انگلستان کے بادشاہ ہنری ہفتم کی سرپرستی میں بحرِ اوقیانوس کے پار نئی تجارتی راہوں کی تلاش کے لیے روانہ ہوا تھا۔ مؤرخین کے مطابق وہ موجودہ کینیڈا کے علاقے نیوفاؤنڈ لینڈ یا اس کے قریبی ساحل تک پہنچا۔ جان کیبوٹ نے اپنے جہاز ''میتھیو‘‘ کے ذریعے بحرِ اوقیانوس عبور کیا اور ایک ایسے خطے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جس کے بارے میں یورپ میں بہت کم معلومات موجود تھیں۔ بعد کی صدیوں میں برطانیہ نے کینیڈا اور شمالی امریکہ کے دیگر علاقوں میں جو نوآبادیاں قائم کیں ان کے دعوؤں کی تاریخی بنیاد جان کیبوٹ کی دریافت کو قرار دیا گیا۔ نپولین کا روس پر حملہ24 جون 1812ء کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ نے روس پر حملہ شروع کیا۔ تقریباً چھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل یہ لشکر اس وقت یورپ کی سب سے بڑی فوجی قوت سمجھا جاتا تھا۔ نپولین نے دریائے نیمن عبور کرکے روسی سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا اور یوں تاریخ کی ایک عظیم ترین فوجی مہم کا آغاز ہوا۔ابتدائی طور پر فرانسیسی فوج تیزی سے روس کے اندر داخل ہوئی لیکن روسیوں نے پسپائی اختیار کی اور راستے میں موجود خوراک اور وسائل تباہ کرتے گئے۔ جب فرانسیسی فوج ماسکو پہنچی تو شہر تقریباً خالی اور آگ کی لپیٹ میں تھا۔ شدید سردی، بھوک اور بیماری نے فرانسیسی فوج کو تباہ کر دیا۔روس سے واپسی کے دوران نپولین کی فوج کا بیشتر حصہ ختم ہو گیا۔ جنگِ سولفیرینو24 جون 1859ء کو شمالی اٹلی کے مقام سولفیرینو میں ایک عظیم جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں تقریباً تین لاکھ فوجیوں نے حصہ لیا اور ایک ہی دن میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انیسویں صدی کی یہ خونریز ترین لڑائیوں میں سے ایک تھی۔جنگ کے بعد سوئس تاجر ہنری ڈونانٹ میدانِ جنگ سے گزرا اور زخمی فوجیوں کی حالت دیکھ کر شدید متاثر ہوا۔ اس نے زخمیوں کی امداد کے لیے رضاکارانہ خدمات کے تصور کو فروغ دیا اور بعد ازاں اپنی مشہور کتاب ''اے میموری آف سولفیرینو‘‘ تحریر کی۔ہنری ڈونانٹ کی انہی کوششوں کے نتیجے میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی وجود میں آئی اور جنیوا کنونشنز کی بنیاد پڑی۔ماسکو وکٹری پریڈ24 جون 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کے بعد سوویت یونین نے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں ایک عظیم الشان وکٹری پریڈ کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب جنگ کے اختتام کے بعد سوویت افواج کی کامیابی اور لاکھوں قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس پریڈ کا سب سے یادگار منظر وہ تھا جب جرمن فوج کے قبضے میں لیے گئے جھنڈے اور فوجی نشانات لینن کے مزار کے سامنے پھینکے گئے۔ اس عمل کو نازی جرمنی کی مکمل شکست اور سوویت فتح کی علامت سمجھا گیا۔یہ تقریب نہ صرف جنگ کے خاتمے کی یادگار بنی بلکہ اس نے سوویت یونین کی عالمی طاقت کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کو بھی نمایاں کیا۔

مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے

مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے

سائنسدانوں اور محققین کی وارننگمصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر میں تحقیق، تعلیم، صحافت اور کاروبار کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔ آج طلبہ اپنی اسائنمنٹس کی تیاری سے لے کر محققین تحقیقی مواد جمع کرنے تک، ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ChatGPT، Gemini، Copilot اور دیگر جدید پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن ماہرین اب خبردار کر رہے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز پر مکمل انحصار سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً جب بات حوالہ جات اور تحقیقی ذرائع کی ہو۔حالیہ دنوں میں امریکہ میں منعقد ہونے والے مختلف سائنس میلوں اور تحقیقی مقابلوں کے ججوں نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق متعدد طلبہ اپنے پراجیکٹس میں ایسے حوالہ جات پیش کر رہے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتے یا جن میں مصنف، جرنل، اشاعت کی تاریخ اور دیگر تفصیلات غلط درج ہوتی ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ حوالہ جات پر مشتمل تھی۔جعلی حوالہ جات کا بڑھتا ہوا مسئلہماہرین کے مطابق اے آئی کے چیٹ بوٹس بظاہر انتہائی اعتماد کے ساتھ معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ ایسی معلومات بھی تخلیق کر دیتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ ٹیکنالوجی کی زبان میں اس رجحان کو Hallucination کہا جاتا ہے۔جب کوئی صارف کسی مخصوص موضوع پر تحقیقی حوالہ جات طلب کرتا ہے تو بعض اوقات AI ایسے تحقیقی مقالوں کے نام، مصنفین اور جرائد تخلیق کر دیتا ہے جو حقیقت میں کبھی شائع ہی نہیں ہوئے۔ چونکہ یہ معلومات بظاہر مستند انداز میں پیش کی جاتی ہیں اس لیے بہت سے طلبہ اور نئے محققین انہیں درست سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں۔سائنس فیئر کے ججوں نے متعدد ایسے پراجیکٹس دیکھے ہیں جن میں حوالہ جات کی فہرست تو موجود تھی لیکن ان میں شامل کئی تحقیقی مقالے آن لائن تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل سکے۔ مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ حوالہ جات مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔صرف طلبہ ہی نہیں محققین بھی متاثریہ مسئلہ صرف سکول یا کالج کے طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ پیشہ ور محققین بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے بعض مقالات میں بھی ایسے حوالہ جات پائے گئے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں تھے۔ ان جعلی حوالہ جات کو Ghost References کا نام دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی محقق غیر مصدقہ AI مواد کو براہ راست اپنے تحقیقی کام میں شامل کر لیتا ہے تو اس سے پورے تحقیقی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔تحقیق کی دنیا میں حوالہ جات کی حیثیت بنیاد کی مانند ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی غلط معلومات پر قائم ہو تو تحقیق کے نتائج بھی مشکوک ہو جاتے ہیں؛چنانچہ تحقیقی ادارے اور جامعات اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کہاں غلطی کرتی ہے؟مصنوعی ذہانت دراصل معلومات کو سمجھنے کے بجائے زبان کےPatterns کی بنیاد پر جواب تیار کرتی ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ حقیقی ڈیٹا بیس سے منسلک نہیں ہوتی نتیجتاً بعض مواقع پر یہ ممکنہ طور پر درست دکھائی دینے والی لیکن حقیقت میں غلط معلومات تیار کر دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تجربات میں ماہرین نے مصنوعی ذہانت کو درست حوالہ جات فراہم کیے اور صرف ان کی فارمیٹنگ درست کرنے کا کہا۔ اس عمل کے دوران بھی AI نے بعض حوالوں میں مصنفین کے نام، جلد نمبر یا اشاعتی تفصیلات تبدیل کر دیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف نئے حوالہ جات گھڑنے تک محدود نہیں بلکہ موجودہ معلومات میں غیر ارادی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ تعلیم وتحقیق کیلئے خطرے کی گھنٹی تعلیم اور تحقیق درست معلومات پر قائم ہوتی ہے۔ اگر طالب علم مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات کو تصدیق کے بغیر استعمال کرنے لگیں تو غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس طرح طلبہ کے تحقیقی مقالے، تھیسس اور اسائنمنٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ماہرین مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اسے ایک مفید معاون ٹیکنالوجی قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ AI کا استعمال نہیں بلکہ اس پر اندھا اعتماد ہے۔تحقیقی کام کے دوران ہر حوالہ، ہر دعوے اوراعدادوشمار کی اصل ماخذ سے تصدیق ضروری ہے۔ اگر AI کسی تحقیقی مقالے کا حوالہ فراہم کرے تو محقق کو چاہیے کہ اس مقالے کو جرنل کی ویب سائٹ یا ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے خود تلاش کرے۔ طلبہ کو بھی سکھایا جانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت تحقیق میں معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کی فراہم کردہ معلومات کو حتمی سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔مستقبل کا چیلنجمصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں روز بروز بہتر ہو رہی ہیں اور آنے والے برسوں میں اس کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم جوں جوں یہ ٹیکنالوجی طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے۔تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکزکو ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیں۔ مصنوعی ذہانت یقیناً علم اور تحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب ہے لیکن کوئی بھی مشین انسانی تحقیق، تنقیدی جائزے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی لیے AI سے مدد ضرور لیں مگر اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کریں۔

منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟

منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟

تاریخ انسانی میں دولت مند افراد کی کمی نہیں رہی۔ قدیم مصر کے فرعون ہوں، روم کے شہنشاہ یا جدید دور کے ارب پتی سرمایہ دار، ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے جن کی دولت نے دنیا کو حیران کیا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ تاریخ کا سب سے امیر آدمی کون تھا تو بیشتر مؤرخین کی انگلی مغربی افریقہ کے چودہویں صدی کے ایک حکمران، منسا موسیٰ، کی جانب اٹھتی ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کی دولت کا درست اندازہ آج بھی ممکن نہیں اور جس کے سفرِ حج نے مصر کی معیشت تک کو متاثر کر دیا تھا۔سونے کی کانوں سے شاہی خزانے تکچودہویں صدی عیسوی میں جب یورپ کے بیشتر حصے سیاسی انتشار اور معاشی مسائل کا شکار تھے، مغربی افریقہ میں سلطنت مالی خوشحالی اور ترقی کی علامت تھی۔اور اس سلطنت کا وحکمران تھا ، منسا موسیٰ تھا، جس کا نام آج بھی دولت، اقتدار اور فیاضی کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔منسا موسیٰ 1312ء میں مالی سلطنت کا حکمران بنا۔ منسا دراصل شاہی لقب تھا جس کے معنی بادشاہ یا شہنشاہ کے ہیں۔ اُس کے دور میں مالی سلطنت موجودہ مالی، سینیگال، گنی، نائیجر اور موریطانیہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال تھا خصوصاً سونے کی کانیں اس کی اصل طاقت تھیں۔مؤرخین کے مطابق اس زمانے میں دنیا کے معلوم سونے کا ایک بڑا حصہ مالی سے حاصل ہوتا تھا۔ بامبوک(Bambouk) اور بری(Bure) کے علاقے سونے کی پیداوار کے اہم مراکز تھے۔ یہی سونا منسا موسیٰ کی بے مثال دولت کی بنیاد بنا۔ اس کے علاوہ مالی کی سلطنت صحارا کے پار تجارت کے اہم راستوں پر قابض تھی۔ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ جانے والے قافلے مالی سے گزرتے تھے، جس سے خزانے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تھا۔منسا موسیٰ کا سفر حجمنسا موسیٰ کی شہرت صرف دولت کی وجہ سے نہیں پھیلی، اس کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ 1324ء میں مکہ مکرمہ کے لیے کیا جانے والا حج کا سفر ہے۔یہ سفر اتنا پرشکوہ تھا کہ اس کی وجہ سے منسا موسیٰ کی شہرت نہ صرف اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئی بلکہ تاجروں کے ذریعے یورپ تک اس کے نام کا چرچا ہوا۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ حج کے اس سفر میں موسیٰ کے ہمراہ 60 ہزار فوجی اور 12 ہزار غلام تھے جنہوں نے چار چار پاؤنڈ سونا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ 80 اونٹوں پر بھی سونا لدا ہوا تھا۔ اندازہ ہے کہ موسیٰ نے 125 ٹن سونا اس سفر میں خرچ کیا۔ اس سفر کے دوران وہ جہاں سے بھی گزرا، غربا اور مساکین کی مدد کرتا رہا اور ہر جمعہ کو ایک نئی مسجد بنواتا رہا۔ اس حج کے بعد منسا موسیٰ کا نام اسلامی دنیا کے بڑے حکمرانوں میں شمار ہونے لگا۔ عرب مؤرخین نے اس کے بارے میں تفصیل سے لکھا اور یورپی نقشہ سازوں نے اپنے نقشوں میں مالی کو نمایاں مقام دینا شروع کر دیا۔ چودہویں صدی کے بعض نقشوں میں منسا موسیٰ کو تاج پہنے اور ہاتھ میں سونے کا ڈلا تھامے دکھایا گیا ہے جو اس کی دولت کی عالمی شہرت کا ثبوت ہے۔دولت سے بڑھ کر علم و ثقافت کا سرپرستمنسا موسیٰ صرف دولت مند بادشاہ نہیں تھا بلکہ علم دوست حکمران بھی تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کسی سلطنت کی اصل طاقت صرف خزانے میں نہیں بلکہ علم و دانش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے ٹمبکٹو کو علمی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ٹمبکٹو اُس کے دور میں دنیا کے اہم علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ مصر، مراکش اور اندلس سے علما ، فقہااور معمار یہاں آنے لگے۔ مدارس، مساجد اور کتب خانے قائم کیے گئے۔ فقہ، ریاضی، فلکیات، تاریخ اور ادب کی تعلیم دی جانے لگی اور ٹمبکٹو کی شہرت بغداد، قاہرہ اور قرطبہ جیسے علمی مراکز کے ہم پلہ سمجھی جانے لگی۔منسا موسیٰ کے روزمرہ معمولات کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں تاہم تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ دربار میں مختلف علاقوں کے نمائندوں اور تاجروں سے ملاقاتیں کرتا، مشیروں سے مشورے کرتا اور سلطنت کے انتظامی امور کی نگرانی کرتا تھا۔ مذہبی رجحان کی وجہ سے عبادات اور اسلامی تعلیمات بھی اس کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔اس کی شخصیت میں شاہانہ وقار اور مذہبی وابستگی کا دلچسپ امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ بے پناہ دولت کا مالک تھا دوسری طرف مساجد اور تعلیمی اداروں کی تعمیر پر خطیر سرمایہ خرچ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک امیر حکمران نہیں بلکہ ایک دور اندیش ریاست ساز کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔1337ء کے قریب منسا موسیٰ کا انتقال ہوگیا اور اس عظیم حکمران کے بعد مالی کا علمی، ثقافتی اور مالیاتی مقام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ منسا موسیٰ کے بعد مالی کی سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ ایک ایک کرکے تمام علاقے ہاتھ سے نکل گئے اور 1854ء میں شہر گاد کے سونگھائی حکمران نے مالی کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔لیکن اس سلطنت کے نامور حکمران کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ آج جب دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست مرتب کی جاتی ہے تو جدید دور کے ارب پتی بھی اس کے سامنے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

بیناک برن کی جنگ23 جون 1314 ء کو سکاٹ لینڈ کی تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا جسے بیناک برن کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں آزادی کی جدوجہد کا اہم مرحلہ تھی۔ سکاٹ فوج کی قیادت رابرٹ دی بروس کر رہے تھے جبکہ انگریز فوج کی قیادت ایڈورڈدوم کے ہاتھ میں تھی۔ سکاٹ لینڈ کئی برسوں سے انگریزی تسلط کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔ رابرٹ دی بروس نے سکاٹ قوم کو متحد کیا اور انگریز افواج کے خلاف مزاحمت کو منظم کیا۔ اس جنگ کے نتائج دور رس ثابت ہوئے۔ سکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک کو زبردست تقویت ملی اور رابرٹ دی بروس کی حیثیت ایک قومی ہیرو اور بادشاہ کے طور پر مستحکم ہوئی۔ بعد ازاں 1328ء میں انگلستان نے سکاٹ لینڈ کی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ ٹائپ رائٹر پیٹنٹ کا اجرا 23 جون 1868ء کو امریکی موجدکرسٹوفر لیتھم شولز اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے آلے کا پیٹنٹ ملا جس نے تحریری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ یہ آلہ ٹائپ رائٹر تھا جسے جدید کمپیوٹر کی بورڈ کا پیشرو سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں سرکاری اور تجارتی امور میں تحریری ریکارڈ کی اہمیت بڑھ رہی تھی لیکن تمام کام ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ شولز نے ایک ایسی مشین تیار کی جو حروف کو کاغذ پر تیزی اور یکسانیت کے ساتھ منتقل کر سکتی تھی۔ بعد ازاں اسی مشین کی بنیاد پر QWERTY کی بورڈ لے آؤٹ متعارف ہوا جو آج بھی دنیا بھر کے کمپیوٹروں اور موبائل آلات میں استعمال ہو رہا ہے۔ٹائپ رائٹر نے صحافت، کاروبار، عدالتی نظام، سرکاری دفاتر اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اولمپک کمیٹی کا قیام 23 جون 1894 کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کا قیام فرانس کے شہر پیرس میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام میں فرانسیسی ماہرِ تعلیم کوبرٹین نے مرکزی کردار ادا کیا۔ان کا خیال تھا کہ کھیل مختلف قوموں کے درمیان امن، دوستی اور صحت مند مقابلے کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں جدید اولمپک تحریک وجود میں آئی۔ 23 جون کو پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں ہونے والی کانفرنس میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی قائم کی گئی۔IOC کا بنیادی مقصد اولمپک کھیلوں کا انعقاد، ان کے اصولوں کی نگرانی اور عالمی سطح پر کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔ اس ادارے کے قیام کے دو سال بعد 1896 ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں جدید دور کے پہلے اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔ انٹارکٹک معاہدے کا نفاذ 23 جون 1961ء کوانٹارکٹک ٹریٹی باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا۔ یہ معاہدہ سرد جنگ کے دور میں بین الاقوامی تعاون کی ایک غیر معمولی مثال سمجھا جاتا ہے۔انٹارکٹکا زمین کا سب سے جنوبی اور انتہائی سرد براعظم ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک کئی ممالک اس خطے پر دعوے کر رہے تھے جس سے مستقبل میں تنازعات کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک نے ایک معاہدہ تشکیل دیا جس کے تحت انٹارکٹکا کو صرف سائنسی تحقیق اور پرامن مقاصد کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔اس معاہدے نے براعظم میں فوجی سرگرمیوں، ہتھیاروں کی آزمائش اور جوہری دھماکوں پر پابندی عائد کی۔ سائنسدانوں کو تحقیق کے لیے آزادانہ رسائی دی گئی اور مختلف ممالک کے درمیان سائنسی معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔بریگزٹ ریفرنڈم23 جون 2016ء کو بریگزٹ ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں برطانیہ کے عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً 51.9 فیصد ووٹرز نے یورپی یونین چھوڑنے جبکہ 48.1 فیصد نے اس میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔یہ ریفرنڈم کئی برسوں سے جاری سیاسی اور عوامی بحث کا نتیجہ تھا۔ یورپی یونین کے مخالفین کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کو اپنی سرحدوں، قوانین اور اقتصادی پالیسیوں پر مکمل خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حامیوں کا خیال تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے لیے فائدہ مند ہے۔نتائج سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور ملک کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔