اقبالؒ کی ایک کرداری نظم جبریل وابلیس - مختصر جائزہ

اقبالؒ کی ایک کرداری نظم  جبریل وابلیس - مختصر جائزہ

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر ضیاء الحسن


جبریل و ابلیس اقبال کی ایک مکالماتی اور کرداری نظم ہے، جو عنوان کی مناسبت سے دو کرداروں ، جبریل اور ابلیس پر مشتمل ہے۔ جبریل کا کردار تقدیس ، تسبیح و تمجید ،عبادت واطاعت کی علامت ہے جب کہ ابلیس کا کردار سرکشی ، بغاوت ،حرکت وعمل ، نافرمانی ، خودشناسی و خودنگری کی علامت ہے ۔ جبریل صرف اتنا ہی جانتا ہے جتنا اس بتادیا گیاہے ۔ وہ مزید جاننا بھی نہیں چاہتا ۔ ابلیس منشائے خداوندی سے سب سے زیادہ آگاہی رکھتا ہے ، انسان سے بھی زیادہ جسے صحائف کے ذریعے وقتاً فو قتاً آگاہی دی جاتی رہی ہے ۔اقبال ایک ایسے شاعر تھے، جنھوں نے کائنات کی پیدا ئش ، آدم کی تخلیق ، ہبوط ِ آدم اور انسان وکائنات کی غرض وغایت پر مابعد الطبیعاتی فکر کی روشنی میں غور کیا ۔ وہ جہاں صحائف میں مذکور دانش سے آگاہ تھے ، وہاں مشرق ومغرب کے جدید و قدیم فلسفوں ، سائنس اور شوشل سائنسوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے ۔ انھیں قصۂ آدم سے خصوصی دل چسپی تھی اور اس قصہ کی فلسفیانہ جہات سے انھوں نے انسان ، کائنات اور خداکے وجود کو سمجھنے کی سعی کی اور اس نظریے تک پہنچے، جس کی مختلف تفصیلات اُن کی اردو فارسی شاعری میں بکھری ہوئی ہیں ۔ اقبال نے یہ نظم غزل کی ہئیت میں لکھی ہے ۔ اس نظم کی بحرر جز مثمن سالم ہے ،جو پر شکوہ لب و لہجے کے لیے بہترین ہے ۔ یوں تو اقبال کی پوری شاعری میں اُسلوب کا شکوہ مسلسل اپنا احساس دلاتا ہے، لیکن اس نظم میں اقبال نے دو کائناتی کرداروں کی گفتگو کو پیش کرنا تھا ، اس لیے اس کی لفظیات ، استعارات اور اصوات سے انھوںنے وہ کائناتی گونج پید ا کی ہے ،جس سے اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ گئی ہے :ہم دم دیرینہ کیساہے جہان ِرنگ وبو؟نظم کے اس پہلے حصے میں جبریل اپنے پرانے ساتھی ابلیس سے پوچھتے ہیں کہ وہ جہان جس کے لیے تُونے فرشتوں کی پاکیزہ محفل چھوڑی ہے، کیساہے ۔ اس یک مصری مکالمے میں دوتراکیب بہت اہم ہیں ۔(۱) ہم دم دیرینہ(۲) جہانِ رنگ وبو۔پہلی ترکیب سے اس تعلق کا اظہارہوتاہے ،جو ایک پرانے دوست کے لیے چاہے و ہ دوستی ترک ہی کیوں نہ کر چکا ہو، فطری طورپردل میں موجود ہوتاہے ۔ یہ دوستی کا ایک تقاضا ہے ۔ اس میں محبت اور چاہت ہے ،لیکن ساتھ ملال اور افسوس بھی ہے ۔ا س ترکیب سے مصرعے کے مجموعی مزاج کا تعین کیاگیاہے ۔ دوسری ترکیب جہانِ رنگ بوہے ،جس سے پتا چلتا ہے کہ اختیار نہ کر سکنے کے باوجود جبریل کے دل میں بھی دنیاکی کشش ہے ۔ بنیادی طور پر جہانِ رنگ و بو حسُن کا استعارہ ہے : سوزوسازودردوداغ وجستجو وآرزو ابلیس کا جواب جامع اور اشارتی ہے ۔ یہاں ابلیس کے لب ولہجے میں ان عناصر کی قدروقیمت کا احساس ہوتا ہے ۔ مصرعے کی ساخت بتاتی ہے کہ ابلیس ان عناصر کو کتنا اہم سمجھتا ہے ۔ا س ایک مصرعے میں اقبال نے انسانی زندگی کی کل سرگزشت بیان کر دی ہے ۔ گویاانسانی زندگی ان ہی عناصر پر مشتمل ہے ۔ انسان کے دل میں آرزو پید اہوتی ہے، وہ اس آرزو کی جستجو کر تاہے ۔اس جستجو کے دوران میں اسے درد و داغ ملتے ہیں اور آخر کار منزل یعنی سوزوساز تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔ اقبال کے نزدیک زندگی نہ محض سوز ہے اور نہ محض ساز بلکہ ان دونوں پر مشتمل ہے ۔یہاں سوز جلال کا اور ساز جمال کا استعارہ ہے یا سوز قوت کا اور ساز عشق کا استعارہ ہے ۔ اقبال زندگی کو ان دونوں کا مرکب یعنی دونوں کے ملاپ کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔ اقبال نے اس بات کوایک اور شعرمیںیوں بیان کیا ہے :شمشیروسنان اوّل ، طاؤس و رباب آخر یہاں انسان جلال وجمال کا مرقع نظر آتا ہے ۔ اس مکالمے کواس نظم کا مرکزی خیال سمجھنا چاہیے:ہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگو کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاکِ دامن ہو رفو؟جواب میںجبریل اُسے بتاتے ہیں کہ اے ابلیس اگرچہ تونے منزل افلاک چھوڑ دی ہے، لیکن تونے جو پاکباز اور سراپا نیاز زندگی افلاک پر گزاری تھی ، وہ آج بھی فرشتوں کے لیے مثال ہے ۔اس مکالمے کے پس منظر میں ابلیس کی انکار سے قبل کی تمام زندگی کی طرف اشارہ ہے جس میں وہ اپنی عبادت گزاری وفرمانبرداری کے طفیل فرشتوں میں اعلیٰ ترین مقام تک جاپہنچا تھا ۔ اس مکالمے کے دوسرے مصرعے میں جبریل اور دیگر فرشتوں کی اپنے ساتھی کی ذلت وخواری پر درمندی کا اظہار بھی ہوتاہے اور اس کو اس ذلت سے نکالنے کی آرزو کا اظہار بھی ہے ۔ جب جبریل کہتے ہیں : کیانہیں ممکن کہ تیرا چاک ِ دامن ہورفو؟تواس میں خوف بھی ہے کہ کہیں ابلیس انکار نہ کر دے اور آرزو بھی ہے کہ کاش وہ چاکِ دامن کی رفو گری پر آمادہ ہوجائے یعنی غلطی کی تلافی ہوجائے ۔ اس مصرعے کالب ولہجہ بتاتا ہے کہ بظاہردو ہم مرتبہ ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہیں ،لیکن ایک کے لہجے میں تیقن او راتھارٹی ہے جب کہ دوسرے کے لہجے میں منت سماجت اور رَد کیے جانے کا خوف اور ہمدردی ہے۔یہاں دامن کا چاک ہونا بہت اہم علامت ہے کیونکہ ہماری تمام کلاسیکی شاعری میں چاک دامانی عشق کااستعارہ ہے۔ بنیادی طور پر بندگی ہی مقام عشق ہے اور شانِ خداوندی مقام محبوبیت ہے ۔ اسی طرح ایک اور نظم میں اقبال نے ابلیس کو خواجۂ اہل فراق کہاہے ،جس سے پتا چلتا ہے کہ اقبال ابلیس کے کس قدر بلند مرتے کے قائل تھے کیونکہ وہ ہجر کو عشق کی سب سے اعلیٰ منزل سمجھتے ہیں ۔ کیوں کہ وصل آرزو کی موت اور ہجر میں طلب کی لذت ہے جو ہمہ وقت مصظرب اور متحرک رکھتی ہے :آہ اے جبریل! تُو واقف نہیں اسے راز سے کر گیا سرمست مجھ کو، ٹوٹ کر میرا سبواب یہاں میری گزر ممکن نہیں، ممکن نہیں کس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کو جس کی نومیدی سے ہو سوزِ درون کائنات اس کے حق میں ’’تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطو‘‘جبریل کے سوال کے جواب میں ابلیس کا ایک طویل مکالمہ ہے ۔ اس میں بھی دراصل اقبا ل نے اپنا نظریہ بیان کیاہے۔اس کے پہلے لفظ آہ میں افسوس اور ملال کا عنصر ہے کہ کاش تو واقف ہوتا کہ تیری ساری بزرگی ،عبادت ، رضامندی تیری ناواقفیت میں پوشدہ ہے ۔ یہاں اقبال نے لفظ واقف لکھ کر کمال کردیاہے کہ اس کے پس منظر میںپورا قصہ آدم ؑرکھ دیا ہے ۔ جہاں فرشتے خدا سے کہتے ہیں انسان تو دنیا میں خون خرابا کرے گا اور تیری عبادت ہم کرتے ہیںاوراس سے اعلیٰ ہیں، لیکن خداتعالی آدمؑ کو اسما ء سکھا کر برتر کرتے ہیں، یعنی ناواقف کو واقف کرتے ہیں ۔ یہ چھوٹا سا لفظ بڑی معنویت رکھتا ہے ۔یہاں جبریل اپنے بلند مقام اور خدا سے اپنے تقرب کے باوجود ، ابلیس سے جو واقف اسرار ہے ، کم ترمقام پر نظر آتاہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میرا سبواگرچہ ٹوٹ گیاہے لیکن ردعمل کے طورپر مجھے یہ رندی وسرمستی کی کیفیت دے گیاہے ۔ سبو کے ٹوٹنے کا نتیجہ تویہ ہونا چاہیے تھا کہ سرمستی ختم ہوجاتی لیکن یہ ایسا سبو ہے جو ٹوٹ کر بھی سر مست کر تاہے ۔ سبو کا ٹوٹنا اس کی غلطی کا استعارہ ہے ۔ سائنسی اصطلاح میںبات کریں تو ابلیس یہاںMutation کی بات کر رہا ہے، جس سے زندگی ارتقا کے مراحل طے کرتی ہے اور آگے بڑھتی ہے ۔ ابلیس کے سبو کا ٹوٹنا بھی ایک Mutational عمل ہے، جس کی وجہ سے کائنات نے نئی کروٹ لی اور نئے ڈھب سے آگے بڑھی ۔ اس لیے ابلیس جبریل کی ناواقفیت پر ملال کر تاہے اور کہتا ہے کہ میَںجس جہاں سے آشنا ہوا ہوں، تُو اس سے واقف نہیں ،ورنہ تو مجھے افلاک پر واپسی کی دعوت نہ دیتا کیونکہ تیری رضا خاموش ہے ، سوزو ساز سے خالی ہے ، بے ہنگامہ و بے رونق ہے ۔ اس جہاں میں اب میرا گذار نہیں ہوسکتا ، ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اقبال نے ایک اور کمال کیاہے کہ ’’ممکن نہیں‘‘ کی تکرار سے اسے حق الیقین کے مرتبے پرپہنچا دیا ہے ۔ یہ تکرار صرف تکرار نہیں بل کہ گہر ی مغویت کی حامل ہے ۔ ابلیس نافرمانی کی وجہ سے دنیامیں بھیجا گیا ، چنا نچہ و ہ رحمت ایزدی سے مایوس و ناامید ہوگیا لیکن اس کی وجہ سے ہی دنیا میں تلاش و جستجو کا سلسلہ جاری ہوا ،اس لیے وہ لا تقنطو کو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہے : کھو دیے انکار سے تُو نے مقامات بلند چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو؟ابلیس کے مکالمے سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ اپنے مقام سے مطمئن ہے لیکن اس حصے میں جبریل کا سوال یہ ظاہر کرتاہے کہ وہ ابلیس کے جواب سے مطمئین نہیں ۔ وہ اسے کہتا ہے کہ اے ابلیس تو خودہی راندہ ِ درگاہ نہیں ہوا بل کہ تُونے تمام فرشتوں کو اپنے عمل سے خداوند کریم کے سامنے شرمسار اورنگوں کردیا ہے ۔ جبریل کا انداز الزام عائد کرنے والا ہے ۔ اس شعر سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انکار سے پہلے ابلیس جس مقام و مرتبہ پر فائز تھا ، وہ جبریل کے لیے بھی مقام رشک ہے ۔ جبریل بھی اس مقام پر فائز نہیں ہوااور وہ مقام جبر یل کے لیے بھی مقام بلند ہے ۔ جبریل کی اس بات کے جواب میں ابلیس جو کچھ کہتاہے، اس سے پتاچلتا ہے کہ زندگی ، کائنات اور منشا ے خدا وندی تینوں کو ابلیس جبریل سے زیادہ بہتر جا نتا ہے ۔ا س شعر میں بھی اقبا ل کے ہاں ابلیس کا کردار بہت طاقتور نظر آتاہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اقبال سمجھتے ہیں کہ ابلیس کا کردار اس کارخانہ خداوندی کو چلانے کے لیے سب سے اہم ہے حتیٰ کہ نائب خدااور اشرف المخلوقات حضرت انسان کا ہر عمل ابلیس کا مرہون منت نظر آتاہے :ہے مری جرأت سے مشتِ خاک میں ذوق نمو میرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تاروپو ابلیس کی آخری گفتگو پر مشتمل یہ مکالمہ مطلع سے شروع ہوتاہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ ہئیتی اعتبار سے یہ غز ل کے بجائے دو غزلہ ہے ۔ اقبال چاہتے تو غزل کی ہئیت برقرار بھی رکھ سکتے تھے، لیکن اس حصے کو مطلع سے آغاز کرکے انھوں نے اس مکالمے کی اہمیت اور مرکز یت قائم کی ہے ۔ گویا ہئیت نے اس کی معنویت میں اضافہ کیا ہے :دیکھتا ہے تُو فقط ساحل سے رزم خیر و شر کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے، میَں کہ تُو؟اس بند کے دوسرے شعر میں ابلیس نے اپنا موازنہ جبر یل سے کیاہے ۔ یہاں بھی اقبال نے وہ استعاراتی زبان استعمال کی ہے جس کی وجہ سے اقبال کی شاعری اعلیٰ مقام پر فائز ہوجاتی ہے ۔انھوںنے اس نظم کو تخلیق کرتے وقت جو قصہ منتخب کیا ہے وہ ان کا اپنا تخلیق کردہ نہیں ہے بل کہ یہ ان تک مختلف مذاہب کے ذریعے اور خاص طورپر قرآن کے ذریعے سے پہنچا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اے جبریل تو ساحل پر کھڑے ہوکر طوفان خیروشر کو محض دور سے دیکھتا ہے ۔ تو طوفان خیر وشر نہ پیدا کرسکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے ۔ یہ میں ہی ہوں جو اس طوفان میںمردانہ وار کود پڑتاہوں ۔ اس طوفان کومیں نے ہی پیدا کیا ہے اور میں ہی اس کی سختیاں اور مصیبتیں برداشت کر رہا ہوں ۔ اس شعر میں بھی ابلیس کے لب ولہجہ میں بڑے فرشتے جبریل کے لیے حددرجہ حقارت پائی جاتی ہے ۔ یہاں بھی ابلیس کا کردار غالب نظر آتاہے : خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا میرے طوفان یم بہ یم، دریا بہ دریا، جوُ بہ حُویہاںابلیس نے دو پیغمبروں سے اپنا موازنہ کیاہے ۔ اقبال کے بیان سے صاف محسوس ہوتاہے کہ ابلیس کا کردار اُن دونوں سے بڑا ہے ۔ جب اقبال نے خضر ؑو الیاسؑ کے لیے بے دست وپا کا لفظ استعمال کیا ،تو اس کے سامنے پورا کائناتی منظر تھا۔ کائنات کوان دو شعروں میں اقبال نے ایسے دیکھا ہے جیسے اس کے ذرّے ذرّے میں طوفان خیروشر برپاہے ۔ جبریل اس طوفان میںپاؤں دھرنے کے قابل نہیں ۔ خضرؑ والیاسؑ اس طوفان میںکودے ضرور،لیکن تنکے کی طرح بہہ گئے اور ابلیس یہ طوفان پید ا کررہا ہے ۔ وہ کہتا ہے کائنات کا کوئی گوشہ ایسانہیں، جو میرے طوفانوں سے بچا ہوا ہو۔ گویا ابلیس پوری دنیا پر اپنے چھا جانے کا ثبوت دیتا ہے : گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے قصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو اس شعر کا لب ولہجہ تباتا ہے کہ ابلیس جبر یل کو فہم سے عاری مخلوق سمجھتا ہے، جسے صرف اتنا ہی معلوم ہوتا ہے جتنا اُسے بتا یا جاتاہے ۔ ہ کہتا ہے کہ تمھیں میرے بارے میں کئی باتیں بتائی گئی ہیں لیکن یہ نہیں بتا یا گیا کہ قصہ آدم میں رنگینی میرے ہی لہو سے پیدا کی گئی ہے ۔ گویا ابلیس یہ کہتاہے کہ میرالہو یعنی میرا انکار شامل نہ ہوتا تو قصہ آدم بے رنگ رہتا۔ اس میں حسن ، کشش اور گہرائی نہ ہوتی ، اس کے کوئی معنی نہ ہوتے ۔ اس شعرکی اس ترکیب کہ ’’گرکبھی خلوت میسر ہو ‘‘ کا ٹکڑا ظاہر کرتا ہے کہ ابلیس جبریل کو کس کم تر درجے پر فائز سمجھتا ہے کہ اُسے خدا سے خلوت میسر ہوتی ہی نہیں ، اگرچہ اُسے خدا کا مقرب سمجھا جاتاہے : میَں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح تُو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو اس شعر میں بھی اقبال نے جبریل وابلیس کا موازنہ کیاہے ۔ یہاں جبریل ایک ٹیپ ریکارڈر نظرآتا ہے جس میں اللہ ہو، اللہ ہو، ریکارڈ کردیا گیا ہے اور وہ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیںکہنے کی طاقت صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اس کے مقابل ابلیس وہ ہے ،جو خدا سے انکار بھی کرسکتا ہے اور حکم عدولی بھی ۔اس مقام بلند پر ابلیس کے علاوہ کوئی متمکن نہیں ۔ جب وہ کہتاہے کہ میَں دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہوں ،تواس اس سے اپنی عظمت کا اظہار مقصود ہے ۔ شعر کا لب ولہجہ طنزیہ ہے اور طنز کا ہدف جبریل ہے جسے اقبال نے عبادت ِمحض کا استعارہ بنایا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جہاں کانٹے کی طرح کھٹکنے کی بات ہے وہاں اقبال نے یزداں کا لفظ استعمال کیاہے ۔ یزداں ایرانی فکر میں خدا ئے خیر ہے ، گویا یہاں اقبال خدا وند کائنات کی با ت نہیں کررہے بل کہ خدائے خیر کی بات کر رہے ہیں ۔ اقبال نے جس جگہ ’’یزداں بہ کمند آور‘‘ لکھا ،وہاں بھی اُن کی یہی احتیاط پسند ی نظر آتی ہے ۔٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’بوئنگ بی29‘‘

’’بوئنگ بی29‘‘

وہ طیارہ جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگی تاریخ بدل دیدوسری جنگ عظیم انسانی تاریخ کی ان جنگوں میں شمار ہوتی ہے جس نے نہ صرف دنیا کا سیاسی نقشہ تبدیل کیا بلکہ عسکری ٹیکنالوجی کو بھی نئی سمت عطا کی۔ اس دور میں فضائی طاقت کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی تھی اور جنگی طیاروں کی رفتار، پرواز کی بلندی، بم برداری کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک کارروائی کی استعداد پر خصوصی توجہ دی جا رہی تھی۔ انہی حالات میں امریکا نے ایک ایسے جدید بمبار طیارے کی تیاری کا منصوبہ بنایا جو دشمن کے علاقوں میں دور تک پہنچ کر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس منصوبے کا نتیجہ ''بوئنگ بی29 سپرفورٹریس‘‘ کی صورت میں سامنے آیا، جس نے بعدازاں فضائی جنگ کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔1942ء میں بوئنگ ''بی29 سپرفورٹریس‘‘ نے اپنی پہلی پرواز کی۔ یہ محض ایک نئے طیارے کی آزمائشی پرواز نہیں تھی بلکہ عسکری ہوا بازی میں ایک نئے دور کا آغاز بھی تھا۔ ''بی29‘‘ کو اس زمانے کے دیگر بمبار طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور طاقتور بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد طویل فاصلے تک پرواز کرتے ہوئے بھاری بم لے جانا اور دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔''بی29‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کی غیر معمولی پرواز کی بلندی اور طویل فاصلے تک پہنچنے کی صلاحیت شامل تھی۔ زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی وجہ سے یہ طیارہ دشمن کے بعض زمینی دفاعی نظام سے نسبتاً محفوظ رہ سکتا تھا۔ اس میں جدید نوعیت کے دفاعی ہتھیار، پریشرائزڈ عملہ کیبن اور مختلف تکنیکی سہولیات بھی شامل کی گئی تھیں۔ اس زمانے میں طیارے کے اندر عملے کیلئے پریشرائزڈ ماحول فراہم کرنا ایک غیر معمولی تکنیکی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔''بی29‘‘ کی تیاری آسان کام نہیں تھا۔ اس منصوبے میں بڑی تعداد میں انجینئرز، سائنسدانوں، صنعتی ماہرین اور کارکنوں نے حصہ لیا۔ طیارے کے طاقتور انجن، بڑے حجم، پیچیدہ ساخت اور جدید آلات نے اسے ایک مہنگا اور مشکل منصوبہ بنا دیا تھا، تاہم امریکی قیادت اسے جنگی حکمت عملی کیلئے انتہائی اہم سمجھتی تھی۔ بالآخر یہ طیارہ امریکی فضائی طاقت کی علامت بن گیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران بی29 نے خصوصاً بحرالکاہل کے محاذ پر اہم کردار ادا کیا۔ امریکی فضائیہ نے اس کے ذریعے جاپانی علاقوں میں طویل فاصلے کی بمباری کی۔ اس طیارے کی مدد سے ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا جو امریکی اڈوں سے بہت دور واقع تھے۔ اس صلاحیت نے جنگی منصوبہ بندی میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی اور طویل فاصلے کے بمبار طیاروں کی اہمیت مزید واضح کردی۔''بی29‘‘ کا نام تاریخ میں ایک اور وجہ سے بھی انتہائی نمایاں ہے۔ اگست 1945ء میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے گئے، ان دونوں کارروائیوں میں استعمال ہونے والے امریکی طیارے بی29 ہی تھے۔ ہیروشیما پر جوہری بم گرانے والے طیارے کا نام ''اینولا گے‘‘ تھا، جبکہ ناگاساکی پر بمباری کرنے والا ''بی29 باکس کار‘‘ تھا۔ ان واقعات نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کو تیز کیا، تاہم جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے انسانی، اخلاقی اور تاریخی اثرات آج بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہیں۔''بی29‘‘ کی اہمیت صرف دوسری جنگ عظیم تک محدود نہیں رہی۔ جنگ کے بعد بھی اس طیارے نے مختلف فوجی مقاصد کیلئے خدمات انجام دیں اور اس کی ٹیکنالوجی نے بعد میں آنے والے بمبار طیاروں کی تیاری پر اثر ڈالا۔ اس نے ثابت کیا کہ مستقبل کی فضائی جنگ صرف رفتار اور ہتھیاروں تک محدود نہیں ہو گی بلکہ طویل فاصلے، بلندی، جدید الیکٹرانکس، عملے کے تحفظ اور درست نشانہ بندی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہوں گے۔''بوئنگ بی29 سپرفورٹریس‘‘ دراصل اس دور کی سائنسی اور صنعتی ترقی کا ایک نمایاں نمونہ تھا۔ 1942ء کی پہلی پرواز سے شروع ہونے والا اس طیارے کا سفر جنگی تاریخ کے ایک انتہائی اہم باب سے جڑا ہوا ہے۔ اس نے فضائی طاقت کے تصور کو وسعت دی اور دنیا کو دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجی جنگ کے انداز، حکمت عملی اور نتائج پر کس قدر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ آج بھی '' بی29‘‘ کا ذکر عسکری ہوا بازی کی تاریخ میں ایک ایسے طیارے کے طور پر کیا جاتا ہے جس نے بمبار طیاروں کی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح تک پہنچایا۔

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

گوند میں پیدا ہونے والے خوردبینی جانداربینائی کو متاثرکرنے کا سبب بنتے ہیں:ماہرینآنکھیں انسانی جسم کا نہایت نازک اور حساس عضو ہیں، اس لیے آنکھوں کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے اختیار کیے جانے والے طریقے بعض اوقات صحت کیلئے غیر متوقع خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ مصنوعی پلکوں کا استعمال آج کل حسن و آرائش کا ایک مقبول رجحان بن چکا ہے، مگر ایک حالیہ تحقیق نے اس کے ممکنہ نقصانات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی پلکوں کے باعث پلکوں کے قریب مائٹس (انتہائی باریک کیڑے) کی افزائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو آنکھوں میں خارش، جلن اور سوزش سمیت بعض صورتوں میں نظر دھندلا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق جو افراد باقاعدگی سے یہ حسن افزا طریقہ اختیار کرتے ہیں، ان میں سے 96 فیصد ایسے افراد میں یہ خوردبینی جاندار پائے گئے۔جو پلکوں کے کناروں میں گھس کر بینائی کو متاثر اور دھندلا کرسکتے ہیں۔طبی زبان میں ڈیموڈیکس (Demodex) کہلانے والے یہ مائٹس مردہ جلد کے ان خلیوں کو غذا بناتے ہیں جو مصنوعی پلکیں چپکانے کیلئے استعمال ہونے والے خشک گوند میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اس ماحول میں یہ کیڑے تیزی سے افزائش پانے لگتے ہیں۔مصنوعی پلکیں مردہ مائٹس کو بھی پھنسائے رکھ سکتی ہیں، جس کے باعث وہ قدرتی طور پر جھڑ کر الگ نہیں ہو پاتے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ناخوشگوار مسئلہ ممکنہ طور پر سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے، جن میں پلکوں کے گرد خارش، چھلکے دار جلد اور دھندلا نظر آنا شامل ہیں۔برطانیہ میں ہر ہفتے تقریباً 1 لاکھ 29 ہزار مصنوعی پلکیں لگوانے کے طریقۂ علاج یا حسن افزا سیشنز کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں ماہرین حسن مصنوعی ریشوں کے باریک تار پلکوں کے ساتھ گوند کی مدد سے چپکاتے ہیں، جس سے پلکیں زیادہ گھنی اور لمبی دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم، اب ماہرین امراض چشم نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کے باعث مسائل پیدا ہونے کے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ طریقہ آنکھوں کی صحت کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹیو سرجنز (ESCRS) کی 44ویں کانگریس میں مصنوعی پلکوں کے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے اہم شواہد پیش کیے۔ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر ٹیٹیانا ژمد(Dr Tetiana Zhmud) اور ان کی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں 16 سے 28 سال کی عمر کی 345 خواتین سے سروے کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگواتی ہیں۔ تقریباً نصف خواتین نے بتایا کہ وہ ہر تین سے چار ہفتے بعد یہ عمل کرواتی ہیں، یعنی سال میں تقریباً 17 مرتبہ۔ تقریباً 48 فیصد خواتین نے بتایا کہ مصنوعی پلکیں لگوانے کے بعد انہیں کسی نہ کسی قسم کی بے آرامی، آنکھوں میں سرخی یا خارش کا سامنا کرنا پڑا۔ ان شکایات کا مزید تفصیلی جائزہ لینے کیلئے محققین نے میبوگرافی (Meibography) نامی تکنیک استعمال کی۔ اس طریقے میں پلکوں کے نیچے موجود غدود کا انفراریڈ روشنی کی مدد سے جائزہ لیا جاتا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن 85 فیصد خواتین نے کم از کم 10 مرتبہ مصنوعی پلکیں لگوائی تھیں، ان میں آنکھوں کے وہ غدود بند ہوچکے تھے یا مناسب مقدار میں تیل پیدا نہیں کر رہے تھے جو آنکھوں کو نم رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگوانے والی 25 خواتین کی پلکوں کے نمونوں کا خوردبین کے ذریعے جائزہ لیا۔محققین کو ان میں سے 24 خواتین کی پلکوں میں مائٹس موجود ملے، جو 96 فیصد بنتی ہیں۔ ان میں سے 18 خواتین میں خارش، جلن، سرخی، سوجن، جلد پر چھلکے بننے اور پلکوں کے آپس میں چپکنے جیسی علامات بھی پائی گئیں۔اگرچہ ڈیموڈیکس مائٹس بالغ افراد میں بہت عام پائے جاتے ہیں، لیکن عموماً یہ قدرتی طور پر جھڑ کر ختم ہو جاتے ہیں اور نقصان کا باعث نہیں بنتے۔ تاہم، جب ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جائے عام طور پر اس وقت جب یہ جلد کے ذرات میں پھنس جائیں یا غیر معمولی طور پر تیزی سے افزائش پانے لگیں تو یہ آنکھوں میں تکلیف دہ انفیکشن پیدا کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ مصنوعی پلکیں نہ صرف اس مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ ان طفیلی مائٹس کو تلاش کرنا بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ''عام طور پر اگر یہ مائٹس پلکوں پر موجود ہوں تو ہم ان کی موجودگی کا اندازہ ان کے چھوڑے ہوئے کالرٹس (Collarettes) سے لگاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مومی حلقے مردہ مائٹس، ان کے فضلے اور انڈوں کے ساتھ جلد کے ذرات اور تیل کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مصنوعی پلکیں لگانے کے دوران استعمال ہونے والا گوند قدرتی پلکوں کی جڑ کے قریب لگایا جاتا ہے، جہاں عام طور پر یہ کالرٹس موجود ہوتے ہیں، اس لیے مصنوعی پلکیں استعمال کرنے والی خواتین میں ان مائٹس کی موجودگی کا پتا لگانا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر ژمد کے مطابقحالیہ نتائج اچھی صفائی، خطرے کی علامات سے آگاہی اور مسائل یا علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بروقت طبی معائنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ماہر نے مصنوعی پلکیں لگوانے والی خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ دن میں دو مرتبہ کسی نرم کلینزر اور پلکوں کی صفائی کیلئے مخصوص برش کی مدد سے پلکوں کو باقاعدگی کے ساتھ احتیاط سے صاف کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

بیت المقدس فتح ہوا1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ بیت المقدس 583ھ بمطابق 1187ء میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا تھا اور کئہ روز تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کر لیا۔پرتگالی مہم جو کی روانگی1519ء میں آج کے روز پرتگالی مہم جو فرڈیننڈ میگلن (Ferdinand Magellan) نے دنیا کا پہلا بحری چکر لگانے کیلئے سپین سے روانگی اختیار کی۔ فرڈیننڈ میگلن پانچ جہازوں پر مشتمل ایک بیڑے کے ساتھ اسپین کے بندرگاہ شہر سیویلے (Seville) سے روانہ ہوا۔یہ مہم دنیا کے گرد پہلا مکمل بحری سفر بن گئی۔اس مہم نے ثابت کیا کہ زمین گول ہے اور سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔برطانوی خفیہ ایجنسی پر حملہ20ستمبر2000ء کو آئرش ریپبلکن آرمی نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کی ایک عمارت پر حملہ کیا۔اس حملے میں روسی ساختہ اینٹی ٹینک راکٹ استعمال کیا گیا۔ راکٹ300میٹر دور سے فائر کیاگیا اور یہ جنوب کی جانب ایک عمارت سے ٹکرایا۔یہ پہلا موقع تھا جب برطانیہ میں راکٹ لانچر استعمال کیا گیا۔''ایم آئی 6‘‘کی عمارت بلٹ اور بم پروف تھی جس کی وجہ سے بہت کم نقصان ہوا۔جرمنی ،سوویت معاہدہ20ستمبر1955ء کو سوویت یونین اور جرمن ڈیمو کریٹک ریپبلک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ۔جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کو عام طور پر مشرقی جرمنی بھی کہا جاتا تھا۔یہ معاہدہ جرمنی میں سوویت افواج کے گروپ کی قانونی بنیاد بن گیا اور اسی معاہدے کے تحت اس کا جانشین گروہ مغربی گروپ آف فورسز سوویت قبضے کے خاتمے کے بعد جرمنی میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا۔چکماؤگا کی جنگچکماؤگا کی جنگ،20 ستمبر1863ء کو امریکی اور کنفیڈریٹ افواج کے درمیان لڑی گئی ۔یہ جارجیا میں لڑی جانے والی سب سے بڑی جنگ تھی ۔اس لڑائی کو گیٹسبرگ میں ہونے والی لڑائی کے بعد سب سے زیادہ مہلک شمار کیا جاتا ہے۔اس جنگ میں میجر جنرل ولیم روزکرینز نے امریکی فوج اور جنرل بریکسٹن بریگ نے کنفیڈریٹ آرمی کی قیادت کی، اس جنگ کوچکماؤگا کریک کا نام دیا گیا۔ریزوک مذاکراتریز وک امن معاہدے پر 1697ء میں دستخط کئے گئے۔جس سے فرانس اور گرینڈ الائنس کے درمیان 1688ء سے 1697ء تک جاری رہنے والی نو سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ہزاروں افراد ہلاک ہوئے لیکن کوئی بھی اس جنگ میں فتح یا علاقائی برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا۔اس معاہدے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ اس نے ایک ایسی جنگ کا خاتمہ کیا جس کا کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔

فائر فائٹر روبوٹ

فائر فائٹر روبوٹ

آگ کے شعلوں میں دو منٹ تک ڈٹا رہنے والاٹیکنالوجی کی دنیا میں روبوٹس کو مسلسل ایسے کاموں کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جو انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک حیرت انگیز مثال چین میں سامنے آئی ہے، جہاں ''تیان لانگ‘‘ (Tianlang) نامی چار ٹانگوں والے روبوٹ نے کھلی آگ اور شدید گرمی کے سامنے ایک خصوصی آزمائشی مشق کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ''تیان لانگ‘‘ کا مطلب ''آسمانی بھیڑیا‘‘ یا ''اسکائی وولف‘‘ ہے۔ اس روبوٹ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایسے ماحول میں بھی کام کر سکے جہاں انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہوں۔آزمائشی مشق کے دوران تیان لانگ نے حرارت برداشت کرنے والا خصوصی حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ اسے کھلی آگ اور شدید درجہ حرارت کا سامنا کروایا گیا اور روبوٹ نے 500 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 932 ڈگری فارن ہائیٹ تک کی گرمی میں تقریباً دو منٹ تک اپنی فعالیت برقرار رکھی۔ عام انسان کیلئے ایسا ماحول چند لمحوں میں ہی ناقابل برداشت اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس روبوٹ نے انتہائی بلند درجہ حرارت میں ثابت قدم رہ کر یہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں روبوٹک ٹیکنالوجی فائر فائٹنگ جیسے خطرناک شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ روبوٹ ''ووبا انٹیلی جنٹ‘‘ (Wuba Intelligent)نامی چینی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا مقصد محض ایک ایسا روبوٹ بنانا نہیں جو آگ برداشت کر سکے بلکہ اسے مستقبل میں فائر فائٹرز کیلئے ایک ابتدائی امدادی اور نگرانی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس تصور کے مطابق جب کسی عمارت، فیکٹری، گودام یا دوسرے مقام پر شدید آگ بھڑک اٹھے تو فائر فائٹرز کو فوری طور پر اندر داخل کرنے کے بجائے پہلے تیان لانگ جیسے روبوٹ کو آگ کے علاقے میں بھیجا جا سکے گا۔آگ لگنے کے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ صرف شعلے اور بلند درجہ حرارت نہیں ہوتے بلکہ عمارت کے اندر موجود مختلف خطرناک گیسیں بھی انسانی زندگی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث فائر فائٹرز کو سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی اور دیگر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹ انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر آگ سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔تیان لانگ کے ممکنہ فرائض میں آگ کے شعلوں کا مقام معلوم کرنا، نقصان دہ گیسوں کا سراغ لگانا اور پھنسے ہوئے افراد کی تلاش شامل ہیں۔ اگر کسی عمارت میں لوگ آگ کے باعث مختلف کمروں یا منزلوں میں پھنس جائیں تو روبوٹ وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح امدادی کارکنوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ عمارت کے اندر کہاں خطرہ زیادہ ہے، آگ کس سمت میں پھیل رہی ہے اور ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کہاں موجود ہیں۔چار ٹانگوں والا ڈیزائن بھی اس روبوٹ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ پہیوں والے روبوٹس کے مقابلے میں چار ٹانگوں والے روبوٹس دشوار گزار اور غیر ہموار سطحوں پر نسبتاً بہتر انداز میں حرکت کر سکتے ہیں۔ آگ سے متاثرہ عمارتوں میں فرش پر ملبہ، ٹوٹی ہوئی اشیا، سیڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں روبوٹ کا متوازن انداز میں چلنا امدادی کارروائیوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا بھر میں روبوٹکس کے شعبے میں ایسے روبوٹس کی تیاری پر توجہ بڑھ رہی ہے جو انسانوں کی جگہ خطرناک مقامات پر بھیجے جا سکیں۔ فیکٹریوں میں کیمیائی حادثات، زہریلی گیسوں کا اخراج، آتش زدگی، قدرتی آفات اور منہدم عمارتوں میں امدادی کارروائیاں ایسے شعبے ہیں جہاں روبوٹس انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی روبوٹ کو صرف بلند درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بنانا کافی نہیں، اسے مشکل ماحول میں درست فیصلے کرنے، راستہ تلاش کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور قابل اعتماد طریقے سے واپس آنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔تیان لانگ کا حالیہ تجربہ اسی بڑے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی میں دو منٹ تک رہنے کا تجربہ اس امر کی جانچ بھی ہے کہ روبوٹ کا حفاظتی نظام شدید حرارت میں کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔ مستقبل میں ایسے روبوٹس کو مزید جدید سینسرز، کیمروں اور مواصلاتی نظام سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ فائر فائٹرز دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے آگ کے اندرونی حالات کا مشاہدہ کر سکیں۔اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو انسانی جان کا تحفظ ہے۔ فائر فائٹرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچاتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی انہیں ایسے کاموں میں مدد فراہم کر سکتی ہے جن میں غیر ضروری طور پر انسانی زندگی داؤ پر لگتی ہے۔ اگر روبوٹ پہلے ہی خطرناک علاقے کا جائزہ لے لے تو امدادی ٹیم زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی شروع کر سکتی ہے۔تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ روبوٹ فی الحال مکمل طور پر انسانوں کا متبادل نہیں ہیں۔ ہنگامی حالات میں پیچیدہ فیصلے، متاثرین سے براہ راست رابطہ اور بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری حکمت عملی اب بھی تربیت یافتہ انسانی ماہرین کی ضرورت رکھتی ہے۔ روبوٹ بنیادی طور پر انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطرات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چین کا تیان لانگ اس مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جس میں فائر فائٹرز اکیلے آگ کا سامنا نہیں کریں گے بلکہ ان کے ساتھ ایسے روبوٹ بھی موجود ہوں گے جو شعلوں، دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے درمیان جا کر ضروری معلومات فراہم کریں گے۔ آج جو مشق ایک تجربہ معلوم ہوتی ہے، ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں آگ بجھانے اور انسانی جانیں بچانے کے طریقہ کار کو بدل دے۔

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

افریقہ کے وسیع و عریض خطے میں قدرت نے ایسے بے شمار مناظر تخلیق کیے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی قدرتی شاہکاروں میں جھیل وکٹوریہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نیلگوں پانی کا یہ وسیع ذخیرہ نہ صرف افریقہ کی عظیم جھیلوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ رقبے کے اعتبار سے براعظم افریقہ کی سب سے بڑی جھیل بھی ہے۔ اپنی وسعت، قدرتی حسن، آبی حیات اور جغرافیائی اہمیت کے باعث جھیل وکٹوریہ دنیا بھر کے ماہرین، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔جھیل وکٹوریہ تقریباً 59 ہزار 947 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا پھیلاؤ کئی چھوٹے ممالک کے مجموعی رقبے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی استوائی جھیل بھی ہے۔ سطحی رقبے کے اعتبار سے یہ شمالی امریکا کی جھیل سپیریئر کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل قرار دی جاتی ہے۔ یوں جھیل وکٹوریہ کو بیک وقت افریقہ کی سب سے بڑی، دنیا کی سب سے بڑی استوائی اور دنیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جھیل کی وسعت کا اندازہ اس میں موجود پانی کے ذخیرے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں تقریباً 2,424 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے اور حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی نویں بڑی براعظمی جھیل ہے۔ تاہم اس قدر وسیع رقبے کے باوجود جھیل وکٹوریہ غیر معمولی طور پر گہری نہیں۔ اس کی اوسط گہرائی تقریباً 40 میٹر ہے، جبکہ بعض مقامات پر زیادہ سے زیادہ گہرائی 80 سے 81 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ جھیل کا زیادہ تر حصہ ایک نسبتاً کم گہرے قدرتی نشیبی علاقے میں واقع ہے۔جھیل وکٹوریہ کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا وسیع آبی نکاسی کا علاقہ ہے، جو تقریباً 169,858 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس وسیع خطے سے پانی مختلف راستوں کے ذریعے جھیل میں پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھیل صرف ایک آبی ذخیرے کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ اپنے اردگرد کے وسیع جغرافیائی اور ماحولیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔اس عظیم جھیل کا ساحلی علاقہ بھی حیران کن حد تک وسیع ہے۔ اس کی ساحلی پٹی تقریباً 7,142 کلومیٹر طویل ہے۔ جھیل کے اندر متعدد جزائر بھی موجود ہیں، جو اس کے حسن اور جغرافیائی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں۔ مجموعی ساحلی طوالت میں جزائر کا حصہ تقریباً 3.7 فیصد بنتا ہے۔ ان جزائر اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کے پودے، پرندے اور آبی جانور پائے جاتے ہیں، جس سے یہ خطہ حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے بھی اہم بن جاتا ہے۔جھیل وکٹوریہ کا تعلق صرف قدرتی حسن سے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے بھی گہرا ہے۔ اس کے آس پاس آباد لوگوں کیلئے جھیل پانی، خوراک اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مقامی آبادی جھیل سے حاصل ہونے والی مچھلی اور دیگر آبی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جھیل اور اس کے گردونواح میں زراعت، تجارت اور نقل و حمل کی سرگرمیاں بھی صدیوں سے انسانی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔وسیع آبی سطح کی وجہ سے جھیل وکٹوریہ مقامی موسم اور ماحول پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ جھیل کے آس پاس کا خطہ نسبتاً مرطوب رہتا ہے اور یہاں کا قدرتی ماحول مختلف جانداروں کیلئے موزوں مسکن فراہم کرتا ہے۔ جھیل کے پانی اور اس سے وابستہ ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنا نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کیلئے اہم ہے۔تاہم جدید دور میں جھیل وکٹوریہ کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ آبادی میں اضافے، آبی آلودگی، قدرتی وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بعض علاقوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے جھیل کے قدرتی نظام کیلئے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس عظیم قدرتی ورثے کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب جھیل کے پانی، آبی حیات اور ساحلی ماحول کی حفاظت کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔جھیل وکٹوریہ دراصل قدرت کی اس عظمت کی ایک خوبصورت مثال ہے جس میں پانی، زمین، آسمان، جزائر، حیاتیاتی تنوع اور انسانی زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی غیر معمولی وسعت اور قدرتی اہمیت اسے صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا قیمتی قدرتی سرمایہ بناتی ہے۔ اس عظیم جھیل کی حفاظت دراصل آنے والی نسلوں کیلئے قدرت کے ایک شاندار تحفے کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میکسیکو زلزلہ19ستمبر1985ء کو میکسیکو شہر میں شدید زلزلہ آیا جس کی شدت8.0ریکارڈ کی گئی۔زلزلے نے گریٹر میکسیکو شہر کے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا، تقریباً5ہزار افراد لقمہ اجمل بنے۔ بعدازاں دو بڑے آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔دونوں آفٹر شاکس کی شدت بھی 7.0 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی ۔ اس واقعے میں تین سے چار بلین امریکی ڈالر کے درمیان نقصان ہوا، 412 عمارتیں گر گئیں اور ہزاروں افراد کا جانی و مالی نقصان ہوا۔پیرس کا محاصرہ1870ء میں فرانکوپروشیائی جنگ کے دوران 19ستمبر کو پیرس کا محاصرہ شروع ہوا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس نے دشمن کی افواج کے شدید دباؤ اور مسلسل حملوں کے باوجود تقریباً چار ماہ تک مزاحمت جاری رکھی۔ شہر کے باشندوں اور دفاعی دستوں نے مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، تاہم طویل محاصرے، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی قلت نے حالات انتہائی دشوار بنا دیے۔ بالآخر چار ماہ سے زائد عرصے تک مزاحمت کے بعد پیرس کو دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ یو ٹی اے پرواز 772 کا سانحہ 19ستمبر 1989ء کو فرانسیسی فضائی کمپنی یو ٹی اے کی پرواز 772 نائجر کے صحرائے تنورو کے اوپر محوِ پرواز تھی کہ اچانک ایک بم دھماکے کے نتیجے میں طیارہ فضا میں تباہ ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعہ ہوا بازی کی تاریخ کے المناک ترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ حادثے کے بعد تحقیقات میں بم دھماکے کو طیارے کی تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ماسکو معاہدہ19 ستمبر 1944ء کو فن لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان ماسکو جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہوگیا۔ یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فن لینڈ اور سوویت یونین کے مابین ہونے والی جنگ کے اختتام کا باعث بنا۔ معاہدے کے تحت فن لینڈ نے سوویت یونین کے ساتھ جنگ بندی قبول کی اور اپنے فوجی اقدامات روک دیے۔ یوں ایک طویل اور تباہ کن تنازع اختتام پذیر ہوا اور خطے میں امن کی نئی صورتِ حال پیدا ہوئی۔آتش فشاں کا خوفناک دھماکاجزیرے لا پالما پر واقع کومبرے ویئیخا آتش فشاں 19 ستمبر 2021ء کو پھٹ پڑا۔ اس کے نتیجے میں لاوا، راکھ اور آتش فشانی مواد بڑی مقدار میں خارج ہوا، جس سے علاقے میں شدید تباہی پھیلی اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ آتش فشاں تقریباً تین ماہ تک سرگرم رہا اور بالآخر 13 دسمبر 2021ء کو اس کا اخراج رک گیا۔ یہ لا پالما کی تاریخ کے اہم ترین آتش فشانی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔تھائی لینڈبغاوت 19 ستمبر 2006ء کو تھائی لینڈ کی فوج نے حکومت کے خلاف اچانک بغاوت کرتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا۔ فوج نے ملک کا آئین منسوخ کردیا اور مارشل لا نافذ کردیا۔ اس کارروائی کے دوران وزیراعظم تھاکسن شیناواترا بیرونِ ملک تھے۔ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر سیاسی نظام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور ملک میں جمہوری نظام کو شدید دھچکا پہنچا۔