50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد علی


ناسا کےArtemis IIمشن کی حتمی تیاریاں
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 1972ء کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو چاند کے قریب لے جانے والے تاریخی مشن کی عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ناسا نےArtemis II مشن کے لیے باقاعدہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انسانوں کی چاند کی جانب واپسی اب محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے۔یہ مشن نہ صرف امریکی خلائی تاریخ بلکہ پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اپالو پروگرام کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے مدار سے نکل کر چاند کے قریب پہنچیں گے۔ اپالو 17 کے بعد 1972ء میں چاند پر انسانی قدموں کا سلسلہ رک گیا تھا اور اب نصف صدی سے زائد عرصے بعد Artemis پروگرام اس خواب کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔
پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن کیوں ضروری ہے؟
ناسا کی جانب سے شروع کیا گیا یہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن دراصل ایک مکمل ویٹ ڈریس ریہرسل ہے جس میں لانچ کے تمام مراحل کو اصل مشن کی طرح انجام دیا جاتا ہے۔ راکٹ کو انتہائی سرد ایندھن سے بھرا جاتا ہے، کاؤنٹ ڈاؤن گھڑی چلتی ہے اور صرف چند سیکنڈ پہلے اسے روکا جاتا ہے۔اس مشق کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ راکٹ اور سپیس کرافٹ کے تمام نظام درست کام کر رہے ہیں یا نہیں،عملہ، کنٹرول روم اور زمینی ٹیم میں ہم آہنگی موجود ہے یا نہیں،نیز یہ کہ کسی ممکنہ تکنیکی یا موسمی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ ناسا کے مطابق یہی مشقیں کسی بھی بڑے خلائی حادثے سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
Artemis پروگرام: چاند سے مریخ تک
Artemis پروگرام دراصل ناسا کا وہ طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے مقاصد یہ ہیں کہ انسانوں کو چاند تک لے جایا جائے، وہاں مستقل انسانی موجودگی کی بنیاد رکھی جائے،اور پھر اسی تجربے کی بنیاد پر مریخ تک انسانی سفر ممکن بنایا جائے۔
Artemis I ایک غیر انسانی مشن تھا جو 2022 ء میں کامیابی سے مکمل ہوا۔Artemis II پہلا مشن ہے جس میں انسان شامل ہوں گے، جبکہArtemis III میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔
Artemis II مشن کیا کرے گا؟
یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا بلکہ چار خلا باز Orion سپیس کرافٹ میں سوار ہوں گے،چاند کے گرد مخصوص مدار میں سفر کریں گے،خلامیں انسانی جسم، نظام اور آلات کی کارکردگی کو جانچا جائے گااور پھر زمین پر بحفاظت واپس آئیں گے۔ یہ مرحلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ چاند پر اترنے سے پہلے تمام خطرات اور تکنیکی چیلنجز کو سمجھا جا سکے۔
عملہ اور بین الاقوامی تعاون
Artemis II کے عملے میں چار خلا باز شامل ہیں جن میں ایک کینیڈین خلا باز بھی ہے۔ یہ مشن بین الاقوامی خلائی تعاون کی علامت ہے جو مستقبل میں مزید عالمی شراکت داری کی راہیں ہموار کرے گا۔لانچ سے قبل خلا بازوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ کسی بیماری یا انفیکشن سے محفوظ رہیں کیونکہ خلامیں معمولی صحت کا مسئلہ بھی بڑے خطرے میں بدل سکتا ہے۔
موسمی چیلنجز اور ممکنہ تاخیر
ناسا نے واضح کیا ہے کہ فلوریڈا میں سرد موسم کے باعث لانچ شیڈول میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ خلائی مشنز میں موسم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ تیز ہوائیں، درجہ حرارت یا نمی لانچ کو خطرناک بنا سکتی ہے۔ اسی لیے ناساکسی بھی صورت میں جلد بازی کے بجائے محفوظ لانچ کو ترجیح دے رہا ہے۔
دنیا کیلئے اس مشن کی اہمیت
یہ مشن صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے۔یہ جدید خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت،سائنسی تحقیق کے نئے مواقع،چاند پر وسائل (پانی، معدنیات) کی تلاش اورمستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مشن اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسان اب خلاء￿ کو صرف تحقیق نہیں بلکہ مستقبل کی بقا کے ایک راستے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Artemis II مشن انسانیت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کے اپالو مشنز کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ مستقبل کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کے قریب لاتا ہے جن میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ پر قدم رکھنا شامل ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو آنے والی دہائیوں میں خلاانسان کے لیے ایک نیا گھر بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

حیدرآباد شہر سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میانی کا جنگل سندھ کی تاریخ، فطری حسن اور نوآبادیاتی عہد کی یادوں کا ایک منفرد استعارہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1843ء میں تالپرمیروں اور انگریزوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جو دوبے کی جنگ کے نام سے معروف ہے۔ یہ جنگ17 فروری سے 24مارچ تک جاری رہی۔ اس معرکے میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کے ساتھ ہوش محمد شیدی اور دیگر سپاہیوں کی شہادت ہوئی ۔میجر جنرل سر چارلس نیپیئر نے یہاں بائیس فٹ بلند مینار بطورِ یادگار تعمیر کروایا جس پر جنگ میں مارے جانے والے برطانوی افسران اور سپاہیوں کے نام کی تفصیل بھی درج کروائی گئیں۔اس یادگار سے کچھ دور وہ قبرستان واقع ہے جہاں میر مسجد کے پاس میانی جنگ کے شہداآرام فرما ہیں۔ ان میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کی قبر کے کتبہ پر شہادت کا سال 1843ء درج ہے۔ جنرل میر جان محمد خان تالپر کی شہادت کا دن 16 فروری کو بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ہوش محمد شیدی کی اصل قبر جنرل میر جان محمد خان تالپر کے پہلو میں ہے اور اس پر کتبہ بھی لگا ہوا تھا ۔ نیپیئر نے اس علاقے میں ''جنگل میں گوشۂ نشینی‘‘ کے تصور کے تحت ایک پُرسکون مقام کی بنیاد رکھی جس کا مقصد فطرت سے قربت اور تنہائی میں سکون میسر آنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ میانی کا جنگل برطانوی دورِ حکومت کا خاموش گواہ بن گیا۔ تقریباً ایک صدی تک یہ جنگل نوآبادیاتی اقتدار کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا رہا۔ پھر 1947ء آیا جب برصغیر کی تاریخ نے نیا رخ لیا، یونین جیک اتار دیا گیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ مگر میانی کا جنگل ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اپنے اندر بیتے ہوئے وقت کی داستانیں سموئے آج بھی قائم ہے۔یہ جنگل آج بھی سرکاری ملکیت ہے جہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویران کواٹر اور دفتر بیتے وقتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ میانی کا جنگل نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قدرتی حیات کے اعتبار سے بھی ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ یہاں آبی حیات کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ یہ علاقہ نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کی ایک اہم آماجگاہ بھی ہے۔میانی کے جنگل میں موجود جھیلیں اور ان کے اطراف پھیلے سبزہ زار قدرتی حسن کی دلکش مثال ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں آتا ہے وہ بار بار آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جنگل کے اطراف موجود چراگاہیں مقامی مویشیوں کے لیے چارے کا ذریعہ ہیں اور یہی مویشی اس قدرتی منظرنامے میں دیہی زندگی کی خوبصورت جھلک شامل کر دیتے ہیں۔ یہاں قائم واچ ٹاور سے جنگل اور اطراف کے مناظر کا مشاہدہ ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے فطرت کی وسعت اور خاموشی کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی جنگل میں شہداء کی قبریں اور یادگاریں سندھ کی تاریخ میں رقم ہونے والی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔یوں میانی کا جنگل محض ایک سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ تاریخ فطرت اور انسانی یادداشت کا سنگم ہے جہاں ماضی کی بازگشت اور حال کی زندگی ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ملکہ پکھراج وہ باتیں تیری،وہ فسانے تیرے (2004-1912)

آج تم یاد بے حساب آئے!ملکہ پکھراج وہ باتیں تیری،وہ فسانے تیرے (2004-1912)

٭...ملکہ پکھراج 1912ء میں جموں کشمیر کے ایک گائوں ہمیرپور میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام حمیدہ تھا۔٭...تین برس کی عمر میں انہیں موسیقی کی تربیت کیلئے استاد علی بخش قصوریہ جو استاد بڑے علی خان کے والد تھے کے سپرد کیا گیا۔ ٭... رقص اور موسیقی کی تعلیم دلی میں استاد مومن خان، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی خان سے حاصل کی۔٭...9 برس کی عمر میں مہاراجہ ہری سنگھ والی جموں کشمیر کی تاجپوشی میں شرکت کی اور فن کا مظاہرہ کیا۔٭... ملکہ پکھراج کی گائیکی کا بنیادی اسلوب غزل کو مختلف راگ راگنیوں میں پیش کرنے کا خاص انداز تھا۔٭...ان کی گائی ہوئی حفیظ جالندھری کی غزل 'ابھی تو میں جوان ہوں‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔٭... عبدالحمید عدم کی غزل 'وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے‘ بھی ملکہ پکھراج کی آواز میں بہت مقبول ہوئی ۔٭... لوک گیتوں کے حوالے سے بھی ملکہ پکھراج کی منفرد پہچان تھی۔پہاڑی اور ڈوگری گیتوں کی ماہر تھیں۔٭...بطور فلمسازچار فلمیں '' چاردن‘‘ (1947)، ''ڈاک بنگلہ‘‘( 1947ء)، ''کاجل‘‘( 1948ء) اور'' شمی‘‘ (1950ء) بنائیں۔٭... بطور اداکارہ بھی ایک فلم ''سول میرج‘‘ میں کام کیا ۔٭...بطور پلے بیک سنگردو فلموں ''آزادی وطن‘‘( 1946ء) اور ''شمی‘‘( 1950ء)کے گیت گائے۔٭...ریڈیو پاکستان اور بعدازاں پی ٹی وی لاہور سے بھی یادگار گانے گائے۔٭...انہیں 1982ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔٭...ملکہ پکھراج کے شوہر سید شبیر حسین شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر تھے اور ادب کے حوالے سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔ان کا ایک ناول ''جھوک سیال‘‘ بہت مشہور ہے۔٭...ملکہ پکھراج کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کی جانشین بیٹی طاہرہ سید نے ان کے نام اور کام کو آگے بڑھایا ۔ ٭... 4 فروری 2004ء کو ملکہ پکھراج کا 90 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا ۔

آج کا دن

آج کا دن

جارج واشنگٹن امریکہ کا پہلا صدر4 فروری 1789ء کو جارج واشنگٹن کو متفقہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب اس نوآزاد امریکی ریاست میں پہلی صدارتی انتخابی کارروائی کے نتیجے میں عمل میں آیا جو امریکی آئین کی توثیق کے بعد منعقد ہوئی تھی۔ جارج واشنگٹن امریکی جنگِ آزادی میں برطانوی افواج کے خلاف کانٹی نینٹل آرمی کے کمانڈر انچیف رہ چکے تھے اور قوم کے ہیرو کے طور پر جانے جاتے تھے۔یالٹا کانفرنس کا آغاز 4 فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے اختتامی مرحلے میں یالٹا کانفرنس کا آغاز ہوا جو جدید عالمی تاریخ کے سب سے اہم سفارتی اجتماعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس سوویت یونین کے شہر یالٹا (کریمیا) میں منعقد ہوئی جس میں اتحادی طاقتوں کے تین بڑے رہنما شامل تھے، امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ، برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اور سوویت رہنما جوزف سٹالن۔اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جنگ کے بعد کی دنیا کی تشکیل، یورپ کی سیاسی سرحدوں کا تعین، جرمنی کے مستقبل اور اقوامِ متحدہ کے قیام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔ یہاں یہ طے پایا کہ جرمنی کو شکست کے بعد چار حصوں (امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور سوویت) میں تقسیم کیا جائے گا۔ سری لنکا میں آزادی کی تقریبات 4 فروری 1948ء کو سری لنکا (اُس وقت سیلون) نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ یہ دن سری لنکن تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور آج بھی وہاں ہر سال یومِ آزادی کے طور پر قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔تقریباً ڈیڑھ سو سال تک برطانوی راج کے زیرِ تسلط رہنے کے بعد سری لنکا کو پرامن سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آزادی ملی۔ اس آزادی کے حصول میں مقامی سیاسی رہنماؤں، خاص طور پر ڈی ایس سینانائیکے نے اہم کردار ادا کیا جو بعد میں ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔فیس بک کا قیام4 فروری 2004ء کو جدید ڈیجیٹل دنیا کا ایک انقلابی باب کھلا جب فیس بک کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امریکی طالب علم مارک زکربرگ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ہاسٹل روم میں شروع کیا۔ ابتدا میں اس کا نام TheFacebook تھا اور یہ صرف ہارورڈ کے طلبہ کے لیے محدود تھا مگر بہت جلد یہ دیگر جامعات اور پھر پوری دنیا تک پھیل گیا۔فیس بک نے انسانی رابطوں کے انداز کو یکسر بدل دیا۔ لوگوں کو تصاویر، خیالات، خبریں اور ذاتی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا نیا پلیٹ فارم ملا۔

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

حیران کن مماثلت اور نئے سوالاتگزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خصوصاً لینگویج ماڈلز نے انسانی سوچ، زبان اور فہم کے بارے میں ہمارے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ ابتدا میں یہ خیال عام تھا کہ کمپیوٹر اور انسانی دماغ کے درمیان کوئی گہری مماثلت ممکن نہیں مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے اس تصور کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم کی تازہ تحقیق جو ' Nature Communications‘میں شائع ہوئی ہے، اس کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی دماغ زبان کو سمجھنے کے عمل میں حیرت انگیز طور پر ویسے ہی کام کرتا ہے جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے زبان پر مبنی ماڈلز، مثلاً GPT اور LLaMA۔یہ تحقیق بنیادی طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ انسان بولی گئی زبان کو کس طرح سمجھتا ہے۔ کیا دماغ الفاظ کے معنی کو فوراً مکمل طور پر سمجھ لیتا ہے یا یہ عمل بتدریج انجام پاتا ہے؟ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے چند رضاکاروں کے دماغی سگنلز کا مشاہدہ کیا جب وہ تقریباً تیس منٹ پر مشتمل ایک کہانی سن رہے تھے۔تحقیق میں الیکٹروکارٹیکوگرافی (ECoG) نامی جدید طریقہ استعمال کیا گیا جس کے ذریعے دماغ کی سطح پر پیدا ہونے والی برقی سرگرمی کو انتہائی باریکی سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے محققین کو یہ جاننے کا موقع دیا کہ دماغ زبان کے مختلف مراحل پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔لفظ سے معنی تکاس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ تھا کہ انسانی دماغ زبان کو ایک ہی لمحے میں مکمل طور پر نہیں سمجھتا بلکہ یہ عمل مرحلہ وار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے دماغ آوازوں اور الفاظ کی بنیادی ساخت پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ان الفاظ کو جملوں کے سیاق و سباق میں جوڑ کر معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان مماثلت نمایاں ہوتی ہے۔ جدید AI لینگویج ماڈلز بھی متن یا گفتگو کو تہہ در تہہ پراسیس کرتے ہیں۔ ابتدائی تہیں الفاظ اور ساخت کو دیکھتی ہیں جبکہ بعد کی تہیں مفہوم، سیاق اور معنوی ربط کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دماغی حصے اور AI کی تہیںتحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دماغ کے مختلف حصے زبان کے مختلف پہلوؤں کو سنبھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر بروکا ایریا جیسے حصے جو زبان کی تیاری اور فہم سے وابستہ ہیں اس وقت زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جب جملے کا گہرا مطلب سامنے آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کردار AI ماڈلز کی آخری تہیں ادا کرتی ہیں جہاں محض الفاظ نہیں بلکہ پورے خیال اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دماغ کے حیاتیاتی نیورونز اور AI کے مصنوعی نیورل نیٹ ورکس دونوں کا طرزِ عمل حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔روایتی نظریات کو چیلنجیہ نتائج لسانیات اور دماغی سائنس کے کئی روایتی نظریات کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ زبان کے لیے دماغ میں سخت اور واضح قواعد پر مبنی نظام موجود ہے جہاں ہر لفظ اور جملہ ایک طے شدہ اصول کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ مگر نئی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زبان کی فہم ایک لچکدار عمل ہے جو سیاق و سباق، تجربے اور تسلسل پر منحصر ہے۔یہی طریقہ کار مصنوعی ذہانت میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں ماڈلز کسی جامد لغت یا قواعد کے بجائے بڑی مقدار میں ڈیٹا سے سیکھ کر معنی اخذ کرتے ہیں۔انسان اور مشین ، فرق کے باوجود مماثلتاگرچہ یہ کہنا درست نہیں کہ انسانی دماغ اور AI ایک جیسے ہیں۔ دماغ ایک حیاتیاتی نظام ہے جس میں احساسات، شعور اور جذبات شامل ہیں جبکہ AI محض ریاضیاتی ماڈلز اور الگورتھمز پر مشتمل ہے۔ تاہم یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دونوں میں فنکشنل سطح پر کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں خاص طور پر زبان کے حوالے سے۔یہ مماثلتیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ شاید انسانی فہم اور ذہانت کے کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جو چاہے حیاتیاتی نظام میں ہوں یا مصنوعی، دونوں میں یکساں طور پر کارفرما رہتے ہیں۔مستقبل کے امکاناتاس تحقیق کے اثرات نہ صرف مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر AI ماڈلز واقعی انسانی دماغ کے عمل کی عکاسی کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں دماغی بیماریوں، زبان کی خرابیوں اور یادداشت کے مسائل کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ محققین نے اس تحقیق کا ڈیٹا اوپن سورس کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان اس پر مزید کام کر سکیں۔ یہ قدم علم کے اشتراک اور سائنسی ترقی کی ایک عمدہ مثال ہے۔یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلق محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ زبان، جو انسان کی شناخت کا بنیادی عنصر ہے، اس میدان میں دونوں کے درمیان سب سے مضبوط پل ثابت ہو رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ تحقیق نہ صرف AI کو مزید انسانی بنانے میں مدد دے گی بلکہ ہمیں خود اپنے دماغ کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔

خلا میں ’دوسرا گھر‘  ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

خلا میں ’دوسرا گھر‘ ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

انسان ہمیشہ سے اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ کیا ہماری زمین جیسی کوئی دوسری دنیا بھی ہے جہاں زندگی ممکن ہو؟ جدید دور کے خلائی مشنز اور طاقتور دوربینوں نے ہمیں اس سوال کے قریب پہنچا دیا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسے سیارے کا پتہ لگایا ہے جو بہت زیادہ حد تک زمین سے ملتی ہوئی خصوصیات کا حامل ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شعبے میں نئی امیدیں جگا دی ہیں۔ زمین جیسا سیارہ؟سائنسدانوں نے دور دراز ستاروں کے ڈیٹاکا دوبارہ جائزہ لیا ہے اور ایک کم روشنی والے سگنل کی بنیاد پر ایک ممکنہ سیارے کی موجودگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ سیارہ ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے جو ہمارے سورج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ زمین سے کچھ فیصد ہی بڑا ہے اور اس کا مدار بھی زمین کے مدار کے بہت قریب ہے ، یعنی اس کے سال کی لمبائی تقریباً ہماری طرح ہے۔ اس سیارے کی دوری تقریباً 146 نوری سال ہے، یعنی یہ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور واقع ہے ،لیکن فلکیاتی پیمانے پر قریب ہی سمجھا جاتا ہے۔ کس طرح معلوم ہوا؟یہ دریافت بظاہر پرانے دوربین ڈیٹا کے دوبارہ تجزیے سے سامنے آئی۔ ناسا کے کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ نے ہزاروں ستاروں کا مسلسل مشاہدہ کیا اور ان کی روشنی میں وقتاً فوقتاً ہونے والی معمولی کمی کو نوٹ کیا۔ جب کسی ستارے کی روشنی میں بار بار معمولی کمی آتی ہے تو یہ ایک سیارے کے اس کے سامنے سے گزرنے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس طریقے کو ٹرانزٹ میتھڈ کہا جاتا ہے جو اَب تک کی موزوں ترین تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ اس نئے سیارے کے معاملے میں اسی پرانے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کیا گیا تو اس سے اس نئے سیارے کی پہلی جھلک ملی۔ البتہ ابھی تک اسے مکمل طور پر تصدیق شدہ دریافت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مزید مشاہدات اور مطالعے کی ضرورت ہے۔ زمین جیسا سیارہ،کیوں یہ اہم ہے؟ سائنسدان سیاروں کو ' زمین جیسا‘ تب کہتے ہیں جب وہ زمین کے سائز، ستارے کے گرد مدار اور روشنی کی مقدار میں مماثلت رکھتے ہوں۔ اس نئے سیارے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس کا سائز تقریباً زمین جتنا یا تھوڑا بڑا ہے ۔ اس کا مدارزمین جیسا ہے جو ستارے کے گرد تقریباً ایک سال کی مدت میں گردش کرتا ہے۔ یہ ستارہ سورج کی طرح ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیارے کو ملنے والی توانائی بھی زمین جیسی ہو سکتی ہے۔ یہ مماثلتیں سب سے اہم ہیں کیونکہ زمین پر زندگی کا قیام پانی، درجہ حرارت اور روشنی کے مناسب امتزاج پر منحصر ہے۔ اگر کوئی سیارہ صحیح مقدار میں روشنی اور توانائی حاصل کرتا ہے تو وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہی زندگی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ کیا یہ واقعی قابلِ حیات ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابھی تک معلوم نہیں۔ اگرچہ مدار، حجم اور ستارے کی نوعیت زمین جیسی ہے لیکن ماحول یا زندگی کے بارے میں ابھی کوئی براہِ راست معلومات نہیں ۔اس کے لیے سائنسدانوں کو یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ کیا وہاں کوئی مستقل ماحول ہے؟ صرف کسی سیارے کے وجود سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں گیسوں کا ماحول موجود ہے جو زندگی کو ممکن بنا سکے۔ درجہ حرارت کیا ہے؟ اگر سیارہ بہت ٹھنڈا یا بہت گرم ہو تو مائع پانی موجود رہنا ناممکن ہوگا۔ کئی دوسرے سیارے جیسے HD 137010 b بھی ممکنہ طور پر شدید سرد ہیں۔یہ بھی جاننا ہو گا کہ مذکورہ سیارے کی سطح پرپانی موجود ہے تو وہ مائع کے طور پر موجود ہے یا برف کی شکل میں۔اس سیارے پر زمین جیسے ماحول یا حیات کے شواہد حاصل کرنا بہت پیچیدہ مرحلہ ہے، اس کے لیے مستقبل کی طاقتور خلائی دوربینوں اور مشنز کی ضرورت ہوگی۔بہرکیف یہ نئی دریافت اپنے آپ میں بہت اہم ہے مگر گزشتہ برسوں میں سائنسدانوں نے متعدد ایسے سیاروں کی نشاندہی کی ہے جنہیں ''زمین نما‘‘ سمجھا جاتا ہے:کیپلر 452 بی:سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والا ایک بڑا سیارہ جو زمین کے مدار کے قریب ہے۔ جے جی 1002بی : 16 نوری سال دور ایک ممکنہ قابلِ حیات زمین جیسا سیارہ۔ وولف 1069 بی:جو اپنے ستارے کے مناسب فاصلے پر گردش کرتا ہے اور ممکنہ طور پر یہاں مائع پانی موجودہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کہکشاں میں زمین جیسے سیارے کثرت سے موجود ہو سکتے ہیں البتہ ان کی حیات یا قابلِ رہائش خصوصیات کا فیصلہ مزید تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ سائنس اور مستقبلہر نئی دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات بے پناہ وسیع ہے اور شاید اس میں بے شمار ایسے دنیائیں ہیں جو ہماری زمین سے میل کھاتی ہیں۔ اگر سائنسدان کسی سیارے پر بائیوسگنیچرز یعنی ایسی نشانیاں جو حیاتیاتی عمل کی طرف اشارہ کریں ، دریافت کر لیں تو یہ کہیں زیادہ اہم ہوگا۔ موجودہ دور میں ہم جس سطح پر ہیں وہاں زمین ایسے دیگر سیاروں پر زندگی کی موجودگی یا عدمِ موجودگی کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنابہت مشکل ہے۔ پھر بھی ہر نئی دریافت ہمارے سوالات کے دائرے کو وسیع کر دیتی ہے اور ہمیں حیران کر دیتی ہے کہ شاید ایک دن ہم واقعی ''دوسری زمین‘‘تلاش بھی کر لیں۔

آج کا دن

آج کا دن

جوہانس گٹن برگ کا انتقالیورپ میں علمی انقلاب کی بنیاد رکھنے والے عظیم موجد جوہانس گٹن برگ 3 فروری 1468ء کو جرمنی کے شہر مائنز میں انتقال کر گیا۔ گٹن برگ کی اصل پہچان پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہے جس نے دنیا میں علم کی ترسیل کا پورا نظام بدل کر رکھ دیا۔گٹن برگ نے دھاتی متحرک حروف (Movable Type)، تیل پر مبنی سیاہی اور مکینیکل پریس کو یکجا کر کے ایک ایسا نظام بنایا جس سے کم وقت میں زیادہ اور معیاری نقول تیار ہونا ممکن ہو گیا۔اگرچہ گٹن برگ کو اپنی زندگی میں مالی مشکلات اور قانونی تنازعات کا سامنا رہا مگر ان کی ایجاد نے بعد ازاں نشاۃ ثانیہ، سائنسی انقلاب اور اصلاحِ مذہب جیسی تحریکوں کو تقویت دی۔ فیلکس مینڈلسون کی پیدائش3 فروری 1809ء کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں فیلکس مینڈلسون پیدا ہوا جو بعد میں کلاسیکی موسیقی کے عظیم ترین موسیقاروں اور کنڈکٹرز میں شمار ہوا۔ مینڈلسون بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل تھا اور کم عمری میں ہی موسیقی کے پیچیدہ شاہکار تخلیق کرنے لگا۔اس نے کلاسیکی روایت کو رومانوی دور کی حساسیت کے ساتھ جوڑا جس کی جھلک ان کی سمفنیز، اوورچرز اور کنسرٹوز میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔مینڈلسون کا ایک بڑا کارنامہ یوان سباسچین باخ کی موسیقی کو دوبارہ زندہ کرنا بھی ہے۔ امریکہ میں انکم ٹیکس3 فروری 1913ء کو امریکہ میں آئین کی سولہویں ترمیم کی توثیق کی گئی جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو انکم ٹیکس عائد کرنے کا مستقل آئینی اختیار حاصل ہو گیا۔ اس سے پہلے امریکی حکومت زیادہ تر محصولات ٹیرف اور بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کرتی تھی جو غیر مستحکم اور ناکافی تھے۔ صنعتی ترقی، بڑھتی آبادی اور عالمی ذمہ داریوں کے باعث حکومت کو مستقل آمدنی کے ایک منصفانہ نظام کی ضرورت تھی۔ انکم ٹیکس کو اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا۔ دی ڈے دی میوزک ڈائیڈ3 فروری 1959ء کو امریکی موسیقی کی تاریخ کا ایک افسوسناک دن پیش آیا جسے بعد میں'The Day the Music Died ‘کہا گیا۔ اس دن ایک چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس میں مشہور راک اینڈ رول گلوکار بڈی ہولی، رچی ویلنس اور جے پی دی بگ باپر رچرڈسن ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ آئیووا میں خراب موسم کے باعث پیش آیا۔ تینوں فنکار ایک کنسرٹ ٹور پر تھے کہ ان طیارہ پرواز کے چند ہی منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا3 فروری 1974ء کو پاکستان نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 1971ء کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار تھے تاہم لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بنگلہ دیش کی شرکت کیلئے پاکستان کی جانب سے اسے تسلیم کیا جانا ضروری تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے، قیدیوں کی واپسی اور دیگر تصفیہ طلب امور پر پیش رفت ممکن ہوئی۔