علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

اسپیشل فیچر

تحریر : خواجہ محمد زَکریا


شاعر ِمشرق ومفکرِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے ایک فکرانگیز تحریراقبال چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیااقبال کا انتقال ہوا ،تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیںاقبال نے تین زبانوں میں لکھا ہے۔ اُن کی نثر اُردو اور انگریزی میں ہے جب کہ شاعری، جو اُن کی جملہ صلاحیتوں میں سے اعلیٰ ترین صلاحیت ہے، اُردو اور فارسی میں ہے۔ میرے خیال میں فلسفہ اور علم الاقتصاد پر مستقل کتابیں تصنیف کرنے اور سیاسیات اور بعض دیگر علوم و فنون پر اظہار خیال کرنے کے باوجود اُن کا اصل میدان شاعری ہے۔ نثری کتابوں میں وہ جن حقائق کو دلائل و براہین سے کہتے ہیں، انھیں کو شاعری میں جب وجدانی اور تخیلی سطح پر پرزور اور پرُکشش اُسلوب میں پیش کرتے ہیں ،تو اُن کا اثر بہت بڑھ جاتا ہے جب کہ اُن کی نثری تصنیفات کا استدلال بعض جگہ اختلافی معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک شاعر اقبال، فلسفی اقبال سے زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔بہرحال اقبال کی نظم و نثر کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ملت ِاسلامیہ کے دین و دنیا کو سنوارنا اور پھر ملت ِ اسلامیہ کے توسط سے دنیا بھر کی اقوام و ملل کے افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا۔ انھوں نے جب آنکھ کھولی تو مغربی اقوام دنیا کے بیشتر ممالک پر بالواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہو چکی تھیں۔ افریقا اور ایشیا کے بہت بڑے حصے پر متصرف ہونے کی وجہ سے انگریزی زبان اور مغربی اُن کی تہذیب محکوموں کے لیے قابلِ تقلید بن چکی تھی۔ بقول اکبر الہ آبادی:اپنی منقاروں سے حلقہ کس رہے ہیں جال کاطائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کایہ درست ہے کہ بعض اسلامی ممالک میں احیائی تحریکوں کا آغاز ہو چکا تھا، مگر اُن کے اثرات محدود تھے بل کہ اُن کی وجہ سے محکوم ملکوں کے تضادات اور بھی نمایاں ہو گئے تھے۔ مسلمان ممالک ایک ایک کر کے آزادی سے محروم ہو چکے تھے. ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات یا تو حکمرانوں کے مقلد بن چکے تھے یا پدرم سلطان بود کے خواب میں مست پڑے تھے. ان حالات میں قوم کے کسی بہی خواہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ارد گرد کے حالات سے آنکھیں بند کر لے اور قوم کو ماضی کے سپنوں میں پڑا رہنے دے۔ سرسید احمد خاں، حالی، شبلی، نذیر احمد، اکبر الہ آبادی اور دوسرے بہت سے ادبا اور شعرا اپنے اپنے انداز میں ہندوستانی مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی سعی کر رہے تھے۔ علامہ اقبال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ وہ چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ اقبال کا انتقال ہوا تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت سے مسلمان ممالک رفتہ رفتہ آزاد ہونے لگے تھے۔ اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیں۔ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر ملت اسلامیہ دنیا بھر میں بدستور غیر مؤثر کیوں ہے؟ اس سوال کے ایک یا ایک سے زیادہ جوابات تلاش کرنے چاہییں۔ ان پر عام بحث ہونی چاہیے اور پھر جس بات پر اجماع ِامت ہو اسے ملتِ اسلامیہ کا مشترکہ مقصد بنا کر بروئے کار لانے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اسی ایک سمت میں مرکوز کر دینی چاہییں۔علامہ اقبال نے اپنی نظم و نثر میں ملت کے زوال کے اسباب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور زوال سے اُبھرنے کا ایک واضح طریق کار متعین کیا ہے۔ یہ طریق کار ہے فرد کی اصلاح سے ملت کی اصلاح کی طرف جانا،لیکن علامہ اقبال اس بات سے واقف تھے کہ عام افراد کبھی اپنی اصلاح نہیں کر سکتے کیونکہ وہ زوال آمادہ معاشرے کے شیطانی چکر میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر کسی بددیانت معاشرے میں کوئی فرد دیانت دار بننے کی کوشش کرے تو وہ معاشرے کو بہت کم درست کر سکے گا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس کشمکش میں وہ خود ہی مٹ جائے۔ اس لیے اقبال کا نقطۂ نظر یہی رہا ہے کہ اصلاح اوپر سے نیچے آتی ہے، نیچے سے اوپر نہیں جاتی۔ نظریۂ خودی مردان ِکامل کو پیدا کرتا ہے اور مردانِ کامل دنیا کی اصلاح کرتے ہیں۔ علامہ اقبال مثنوی ’اسرارِ خودی‘ میں مردِ کامل سے اُن توقعات کا اظہار کرتے ہیں:اے سوارِ اشہب دوراں بیااے فروغِ دیدۂ امکاں بیاخیز و قانونِ اخوت ساز دہجامِ صہبائے محبت باز دہباز در عالم بیار ایّامِ صلحجنگجویاں را بدہ پیغامِ صلحریخت از جورِ خزاں برگِ شجرچوں بہاراں بر ریاضِ ما گذرنوعِ انساں مزرع و تو حاصلیکاروانِ زندگی را منزلیترجمہ:(اے زمانے کے گھوڑے کے سوار اور اے امکانات کی دنیا کو روشن کرنے والے، آ اور دنیا میں اخوت اور محبت کے جذبات پھر سے پیدا کر۔ دنیا میں صلح کا زمانہ واپس لا اور جنگجوؤں کو امن کا پیغام دے۔ دنیا کے باغ میں خزاں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تو اس میں بہار بن کر آ۔ بنی نوعِ انسان کی فصل کا حاصل اور زندگی کے کارواں کی منزل تو ہی ہے۔)جب کسی قوم میں ایسے افراد پیدا ہو جاتے ہیں ،تو اس قوم کا کارواں منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام رجائیت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ٹھیک ہو جائیں ،تو دنیا کی بہترین اقوام میں شمار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقبال ہر حال میں رجائیت کے پیغامبر ہیں۔ انھوں نے بار بار ملت کے مختلف افراد اور طبقات پر شدید تنقید کی ہے۔ خود انتقادی اور خود احتسابی کو لازمہ ترقی بتایا ہے اور یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ جب تک ہم اپنی خرابیوں کو تلاش نہیں کریں گے اس وقت تک اصلاح کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا۔ اس وجہ سے اقبال کے ہاں ملت کے مختلف طبقات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی خرابیوں کو طشت ازبان کر کے انھیں اصلاح کا پیغام دیا ہے۔ اقبال ملتِ اسلامیہ کے رہنماؤں سے ناامید تھے۔ نظم ’شمع اور شاعر‘ میں شاعر در حقیقت رہنمائے ملت کی علامت ہے اور پوری نظم ملت اسلامیہ کے زوال کا ایک خوفناک مرقع ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملت نے باصلاحیت رہنما پیدا کرنے بند کر دیے ہیں۔ اس نظم کے علاوہ بھی یہ خیال کلام اقبال میں آخر تک موجود ہے:کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سےکہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دلنوازیفلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیںخبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہےنشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کوترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیےنظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میںوہ شبانی کہ ہے تمہیدِ کلیم اُللّہٰیمیرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صفآہ وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفمنزلِ راہرواں دور بھی دشوار بھی ہےکوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہےنہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کیکہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھیمصطفی کمال پاشا اور رضا شاہ پہلوی نے اپنی اپنی قوم کے لیے بہت کام کیا، لیکن ان کی سعی کے وہ نتائج نہ نکلے جس کے متمنی اقبال تھے۔ یہ حضرات اور ملت اسلامیہ پر مسلط ہونے والے دیگر شہنشاہ، رہنما اور علما ان صلاحیتوں سے عاری تھے جو کسی ملت کو دنیا کی منتخب قوموں میں بدل سکتی ہیں اس وجہ سے اقبال اُن کے گلہ گزار رہے۔ جن رہنماؤں سے اقبال نے توقعات وابستہ کیں انھیں ان کی قوم نے یا مغرب کی سازشوں نے کام کرنے کا موقع نہ دیا۔ نتیجہ یہ کہ ملت فیض حاصل کرنے سے محروم رہی اور حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ رہنماؤں کی کمی کا ہے۔ اس وقت تک کسی اسلامی ملک کا کوئی رہنما اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کا حقیقی قائد تسلیم نہیں کرا سکا۔ وہ ایک دوسرے کو قریب لانے کی بجائے اختلافات پر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ملت کو مزید تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔رہنمایان ِملت میں علمائے دین اور سجادہ نشینان خانقاہ بھی نمایاں حیثیت کے حامل ہیں، جس طرح سیاسی رہنما انحطاط پذیر ہوئے اسی طرح صوفی و ملا بھی زوال کا شکار ہوئے۔ عالمِ اسلام میں مساجد اور خانقاہیں کثرت سے ہیں۔ خصوصاً ہندوستان اور پاکستان میں خانقاہی سلسلہ بے حد وسیع ہے۔ کروڑوں لوگ مسجدوں اور خانقاہوں میں جاتے ہیں اور علماء و صوفیاء سے فیض پانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں کے ائمہ اور خانقاہوں کے صوفیاء الا ماشاء اللہ ملت کے عام افراد سے بہتر نہیں ۔ اُن میں وہ تمام خرابیاں راہ پا چکی ہیں، جو عام لوگوں میں موجود ہیں۔ اُن کے ظاہر و باطن میں واضح تضادات موجود ہیں۔ مذہب اور تصوف نے اُن کے دل و دماغ کو روشن نہیں کیا۔ وہ روایتی طور پر چند رسوم و عبادات انجام دیتے ہیں اور پھر اُن تمام برائیوں میں عملی طور پر ملوث ہو جاتے ہیں، جو مذہب و تصوف کی ضد ہیں۔ پیروں نے ’نذرانوں‘ سے اپنے محل تعمیر کر لیے ہیں اور علمائے دین نے فرقوں کے اختلافات کو ابھار ابھار کر اپنی حیثیتیں بنا لیں ہیں۔ اس لیے مسجد و خانقاہ مردہ ادارے بن کر رہ گئے ہیں ،جہاں سے کوئی مرد مومن نہیں اُٹھتا۔ مسجد و خانقاہ کے وارثوں سے اختلاف رائے کرنا اپنی تکفیر کرانے کے مترادف ہے۔ فروعی مسائل میں قوم کو الجھا کر اس کی صلاحیتیں ضائع کی جا رہی ہیں۔ مختلف مسالک کے افراد ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور جو طاقت اغیار کے خلاف استعمال ہونی چاہیے، وہ آپس میں لڑ لڑ کر تقسیم ہو رہی ہے۔ اقبال اپنے دَور کے علمائے دین، مفتیان شرع اور صوفیا سے بہت بیزار تھا۔ شاید اس کے کلام میں سیاسی رہنماؤں سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ علماء و صوفیا کو بنایا گیا ہے:واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسمِ ازاں، روحِ بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہےمجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقیاس دور کے ملا ہیں کیوں ننگِ مسلمانییہ پیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوریصلہ ان کی کد و کاوش کا ہے سینوں کی بے نوریعلما و صلحا کے بعد اقبال کی تنقید کا نشانہ اہل مدرسہ بنے ہیں، جن میں اساتذہ اور طلبہ دونوں شامل ہیں۔ اقبال کو اساتذہ سے یہ گلہ ہے کہ وہ طلبہ کو نصابات پڑھاتے رہتے ہیں ،مگر اُن کے اذہان کی تربیت نہیں کرتے۔ طلبہ نصابات میں الجھے رہتے ہیں۔ مشاہیر کے اقتباسات رٹ کر امتحانات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، مگر ’صداقت‘ کی تلاش اُن کا مطمح نظر نہیں بنتی۔ چنانچہ اقبال کبھی تو ملا، صوفی، طالب علم اور استاد کو الگ الگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی اُن کو یکجا کر کے اُن کی خرابیوں کو واضح کرتے ہیں:اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقیخونِ دل مرداں ہو جس فقر کی دستاویزکسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنےفقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشیمیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیاتمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوریاٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناکنہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہمکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذتِ اسرار بھی ہے؟خراب کوشکِ سلطان و خانقاہِ فقیرفغاں کہ تخت و مصلٰی تمام زرّاقیباقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیریاے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیریمیں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گامسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیبملا کی نظر نورِ فراست سے ہے محرومبے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئے ناباقبال چاہتے ہیں کہ کورانہ تقلید کی بجائے ملت کے افراد سچائی کی تلاش کے لیے تحقیق و تدقیق کے راستے پر چلیں۔ یہ بڑا کٹھن راستہ ہے، پرُخار اور طویل، مگر اس کو اختیار کیے بغیر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں، لیکن حالات یہ ہیں کہ صوفی، ملا اور اُستاد کسی کو آزادی اظہار دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کیفیت ہو تو تحقیق کیسے پنپ سکتی ہے۔ یہ بات بلاوجہ نہیں کہ اقبال کے ہاںتحقیق اور صداقت کی تلاش پر اتنا زور دیا گیا ہے:شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہیرہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقیفقیہہِ شہر کی تحقیر کیا مجال مریمگر یہ بات کہ میں ڈھونڈھتا ہوں دل کی کُشادکیے ہیں فاش رموزِ قلندری میں نےکہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزادحلقۂ شوق میں وہ جرأتِ رندانہ کہاںآہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیقہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےاور ایک دعائیہ نظم میں کہتے ہیں:بے لوث محبت ہو بیباک صداقت ہوسینوں میں اجالا کر دل صورتِ مینا دےاحساس عنایت کر آثارِ مصیبت کاامروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دےتحقیق کے ذریعے صداقت کی تلاش پر اقبال نے جب اتنا زور کلام صرف کیا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا اقبال کو خرد دشمن کہنا درست ہے یا محض غلط فہمی ہے؟ انھوں نے عشق کی توصیف میں بہت نغمے گائے ہیں اور قوت عمل کو اُبھارنے کے لیے عقل پر تنقید بھی کر دی ہے، مگر انھیں معروف معنوں میں عقل کا مخالف قرار دینا درست نہیں، جو شخص مردِ مومن کے بارے میں یہ لکھے وہ عقل کا مخالف نہیں ہو سکتا:عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہجب وہ ہمیں بار بار تدبر اور تحقیق اور تلاش صداقت پر اکساتے ہیں تو یہ باتیں عقل کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اگر جہان تازہ کی افکار تازہ سے نمود ہوتی ہے، تو اقبال افکار تازہ کی دعوت دیتے ہوئے عقل کے مخالف ہو ہی نہیں سکتے کہ افکار کا تعلق عقل سے ہے۔ اب اقبالیات کے ماہرین کو چاہیے کہ ہماری جذباتی قوم کو نعروں پر زندہ رکھنے کی بجائے اسے غور و فکر کی دعوت دیں۔ جب کوئی قوم غور و فکر کے بعد اپنا ہدف متعین کر لیتی ہے ،تو عشق کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ جب آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ نے اپنے مقاصد کا تعین کر لیا ہے، اس وقت ان کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا مرحلہ آتا ہے، اور اسی کا نام عشق ہے،مگر اس کے بغیر قوم میں جذباتیت پیدا کرنے کا مقصد محض اُن کو آپس میں لڑانا اور تقسیم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان کے فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی، اقتصادی، سیاسی مسائل پر جس قدر از سر نو غور کرنے کی آج ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی،لیکن اقبالیات کے جلسوں میں محض چند جذباتی یا روایتی باتیں کہہ کر لوگ رخصت ہو جاتے ہیں اور کسی ایک فرد کے دل میں تحقیق و اکتشاف کی ایک لہر بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال ملت ِاسلامیہ کے ایک بہت بڑے مفکر ہیں ،مگر اُن کی سوچ کو چند فرسودہ باتوں تک محدود کر دینا نہ تو اقبال کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی ملت ِاسلامیہ کی خدمت ہے۔اقبال ملت کے افراد کو ذاتی اغراض سے بلند ہو کر سب کی بھلائی کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رہنماؤں اور مقتدر طبقات کی توجہ خود احتسابی اور خود انتقادی کی طرف دلاتے ہیں، جس کے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں۔ خوش فہمیوں میں مبتلا قومیں اپنی کمزوریوں کو دُور نہیں کر سکتیں۔ وہی قومیں عروج کی طرف سفر کرتی ہیں، جن کے افراد اس سلسلۂ روز و شب کے حالات و واقعات کو پرکھتے ہیں اور اس غور و فکر کے نتائج کو رُو بہ عمل لانے کے لیے اُن خصوصیات کو پیدا کرتے ہیں ،جن کی تلقین خضر راہ (بانگِ درا) کے مندرجہ ذیل بند میں کی گئی ہے:ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیداکرےخاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے سفیررات کے تاروں میں اپنا راز داں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’بوئنگ بی29‘‘

’’بوئنگ بی29‘‘

وہ طیارہ جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگی تاریخ بدل دیدوسری جنگ عظیم انسانی تاریخ کی ان جنگوں میں شمار ہوتی ہے جس نے نہ صرف دنیا کا سیاسی نقشہ تبدیل کیا بلکہ عسکری ٹیکنالوجی کو بھی نئی سمت عطا کی۔ اس دور میں فضائی طاقت کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی تھی اور جنگی طیاروں کی رفتار، پرواز کی بلندی، بم برداری کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک کارروائی کی استعداد پر خصوصی توجہ دی جا رہی تھی۔ انہی حالات میں امریکا نے ایک ایسے جدید بمبار طیارے کی تیاری کا منصوبہ بنایا جو دشمن کے علاقوں میں دور تک پہنچ کر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس منصوبے کا نتیجہ ''بوئنگ بی29 سپرفورٹریس‘‘ کی صورت میں سامنے آیا، جس نے بعدازاں فضائی جنگ کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔1942ء میں بوئنگ ''بی29 سپرفورٹریس‘‘ نے اپنی پہلی پرواز کی۔ یہ محض ایک نئے طیارے کی آزمائشی پرواز نہیں تھی بلکہ عسکری ہوا بازی میں ایک نئے دور کا آغاز بھی تھا۔ ''بی29‘‘ کو اس زمانے کے دیگر بمبار طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور طاقتور بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد طویل فاصلے تک پرواز کرتے ہوئے بھاری بم لے جانا اور دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔''بی29‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کی غیر معمولی پرواز کی بلندی اور طویل فاصلے تک پہنچنے کی صلاحیت شامل تھی۔ زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی وجہ سے یہ طیارہ دشمن کے بعض زمینی دفاعی نظام سے نسبتاً محفوظ رہ سکتا تھا۔ اس میں جدید نوعیت کے دفاعی ہتھیار، پریشرائزڈ عملہ کیبن اور مختلف تکنیکی سہولیات بھی شامل کی گئی تھیں۔ اس زمانے میں طیارے کے اندر عملے کیلئے پریشرائزڈ ماحول فراہم کرنا ایک غیر معمولی تکنیکی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔''بی29‘‘ کی تیاری آسان کام نہیں تھا۔ اس منصوبے میں بڑی تعداد میں انجینئرز، سائنسدانوں، صنعتی ماہرین اور کارکنوں نے حصہ لیا۔ طیارے کے طاقتور انجن، بڑے حجم، پیچیدہ ساخت اور جدید آلات نے اسے ایک مہنگا اور مشکل منصوبہ بنا دیا تھا، تاہم امریکی قیادت اسے جنگی حکمت عملی کیلئے انتہائی اہم سمجھتی تھی۔ بالآخر یہ طیارہ امریکی فضائی طاقت کی علامت بن گیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران بی29 نے خصوصاً بحرالکاہل کے محاذ پر اہم کردار ادا کیا۔ امریکی فضائیہ نے اس کے ذریعے جاپانی علاقوں میں طویل فاصلے کی بمباری کی۔ اس طیارے کی مدد سے ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا جو امریکی اڈوں سے بہت دور واقع تھے۔ اس صلاحیت نے جنگی منصوبہ بندی میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی اور طویل فاصلے کے بمبار طیاروں کی اہمیت مزید واضح کردی۔''بی29‘‘ کا نام تاریخ میں ایک اور وجہ سے بھی انتہائی نمایاں ہے۔ اگست 1945ء میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے گئے، ان دونوں کارروائیوں میں استعمال ہونے والے امریکی طیارے بی29 ہی تھے۔ ہیروشیما پر جوہری بم گرانے والے طیارے کا نام ''اینولا گے‘‘ تھا، جبکہ ناگاساکی پر بمباری کرنے والا ''بی29 باکس کار‘‘ تھا۔ ان واقعات نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کو تیز کیا، تاہم جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے انسانی، اخلاقی اور تاریخی اثرات آج بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہیں۔''بی29‘‘ کی اہمیت صرف دوسری جنگ عظیم تک محدود نہیں رہی۔ جنگ کے بعد بھی اس طیارے نے مختلف فوجی مقاصد کیلئے خدمات انجام دیں اور اس کی ٹیکنالوجی نے بعد میں آنے والے بمبار طیاروں کی تیاری پر اثر ڈالا۔ اس نے ثابت کیا کہ مستقبل کی فضائی جنگ صرف رفتار اور ہتھیاروں تک محدود نہیں ہو گی بلکہ طویل فاصلے، بلندی، جدید الیکٹرانکس، عملے کے تحفظ اور درست نشانہ بندی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہوں گے۔''بوئنگ بی29 سپرفورٹریس‘‘ دراصل اس دور کی سائنسی اور صنعتی ترقی کا ایک نمایاں نمونہ تھا۔ 1942ء کی پہلی پرواز سے شروع ہونے والا اس طیارے کا سفر جنگی تاریخ کے ایک انتہائی اہم باب سے جڑا ہوا ہے۔ اس نے فضائی طاقت کے تصور کو وسعت دی اور دنیا کو دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجی جنگ کے انداز، حکمت عملی اور نتائج پر کس قدر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ آج بھی '' بی29‘‘ کا ذکر عسکری ہوا بازی کی تاریخ میں ایک ایسے طیارے کے طور پر کیا جاتا ہے جس نے بمبار طیاروں کی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح تک پہنچایا۔

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

گوند میں پیدا ہونے والے خوردبینی جانداربینائی کو متاثرکرنے کا سبب بنتے ہیں:ماہرینآنکھیں انسانی جسم کا نہایت نازک اور حساس عضو ہیں، اس لیے آنکھوں کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے اختیار کیے جانے والے طریقے بعض اوقات صحت کیلئے غیر متوقع خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ مصنوعی پلکوں کا استعمال آج کل حسن و آرائش کا ایک مقبول رجحان بن چکا ہے، مگر ایک حالیہ تحقیق نے اس کے ممکنہ نقصانات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی پلکوں کے باعث پلکوں کے قریب مائٹس (انتہائی باریک کیڑے) کی افزائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو آنکھوں میں خارش، جلن اور سوزش سمیت بعض صورتوں میں نظر دھندلا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق جو افراد باقاعدگی سے یہ حسن افزا طریقہ اختیار کرتے ہیں، ان میں سے 96 فیصد ایسے افراد میں یہ خوردبینی جاندار پائے گئے۔جو پلکوں کے کناروں میں گھس کر بینائی کو متاثر اور دھندلا کرسکتے ہیں۔طبی زبان میں ڈیموڈیکس (Demodex) کہلانے والے یہ مائٹس مردہ جلد کے ان خلیوں کو غذا بناتے ہیں جو مصنوعی پلکیں چپکانے کیلئے استعمال ہونے والے خشک گوند میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اس ماحول میں یہ کیڑے تیزی سے افزائش پانے لگتے ہیں۔مصنوعی پلکیں مردہ مائٹس کو بھی پھنسائے رکھ سکتی ہیں، جس کے باعث وہ قدرتی طور پر جھڑ کر الگ نہیں ہو پاتے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ناخوشگوار مسئلہ ممکنہ طور پر سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے، جن میں پلکوں کے گرد خارش، چھلکے دار جلد اور دھندلا نظر آنا شامل ہیں۔برطانیہ میں ہر ہفتے تقریباً 1 لاکھ 29 ہزار مصنوعی پلکیں لگوانے کے طریقۂ علاج یا حسن افزا سیشنز کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں ماہرین حسن مصنوعی ریشوں کے باریک تار پلکوں کے ساتھ گوند کی مدد سے چپکاتے ہیں، جس سے پلکیں زیادہ گھنی اور لمبی دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم، اب ماہرین امراض چشم نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کے باعث مسائل پیدا ہونے کے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ طریقہ آنکھوں کی صحت کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹیو سرجنز (ESCRS) کی 44ویں کانگریس میں مصنوعی پلکوں کے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے اہم شواہد پیش کیے۔ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر ٹیٹیانا ژمد(Dr Tetiana Zhmud) اور ان کی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں 16 سے 28 سال کی عمر کی 345 خواتین سے سروے کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگواتی ہیں۔ تقریباً نصف خواتین نے بتایا کہ وہ ہر تین سے چار ہفتے بعد یہ عمل کرواتی ہیں، یعنی سال میں تقریباً 17 مرتبہ۔ تقریباً 48 فیصد خواتین نے بتایا کہ مصنوعی پلکیں لگوانے کے بعد انہیں کسی نہ کسی قسم کی بے آرامی، آنکھوں میں سرخی یا خارش کا سامنا کرنا پڑا۔ ان شکایات کا مزید تفصیلی جائزہ لینے کیلئے محققین نے میبوگرافی (Meibography) نامی تکنیک استعمال کی۔ اس طریقے میں پلکوں کے نیچے موجود غدود کا انفراریڈ روشنی کی مدد سے جائزہ لیا جاتا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن 85 فیصد خواتین نے کم از کم 10 مرتبہ مصنوعی پلکیں لگوائی تھیں، ان میں آنکھوں کے وہ غدود بند ہوچکے تھے یا مناسب مقدار میں تیل پیدا نہیں کر رہے تھے جو آنکھوں کو نم رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگوانے والی 25 خواتین کی پلکوں کے نمونوں کا خوردبین کے ذریعے جائزہ لیا۔محققین کو ان میں سے 24 خواتین کی پلکوں میں مائٹس موجود ملے، جو 96 فیصد بنتی ہیں۔ ان میں سے 18 خواتین میں خارش، جلن، سرخی، سوجن، جلد پر چھلکے بننے اور پلکوں کے آپس میں چپکنے جیسی علامات بھی پائی گئیں۔اگرچہ ڈیموڈیکس مائٹس بالغ افراد میں بہت عام پائے جاتے ہیں، لیکن عموماً یہ قدرتی طور پر جھڑ کر ختم ہو جاتے ہیں اور نقصان کا باعث نہیں بنتے۔ تاہم، جب ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جائے عام طور پر اس وقت جب یہ جلد کے ذرات میں پھنس جائیں یا غیر معمولی طور پر تیزی سے افزائش پانے لگیں تو یہ آنکھوں میں تکلیف دہ انفیکشن پیدا کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ مصنوعی پلکیں نہ صرف اس مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ ان طفیلی مائٹس کو تلاش کرنا بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ''عام طور پر اگر یہ مائٹس پلکوں پر موجود ہوں تو ہم ان کی موجودگی کا اندازہ ان کے چھوڑے ہوئے کالرٹس (Collarettes) سے لگاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مومی حلقے مردہ مائٹس، ان کے فضلے اور انڈوں کے ساتھ جلد کے ذرات اور تیل کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مصنوعی پلکیں لگانے کے دوران استعمال ہونے والا گوند قدرتی پلکوں کی جڑ کے قریب لگایا جاتا ہے، جہاں عام طور پر یہ کالرٹس موجود ہوتے ہیں، اس لیے مصنوعی پلکیں استعمال کرنے والی خواتین میں ان مائٹس کی موجودگی کا پتا لگانا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر ژمد کے مطابقحالیہ نتائج اچھی صفائی، خطرے کی علامات سے آگاہی اور مسائل یا علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بروقت طبی معائنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ماہر نے مصنوعی پلکیں لگوانے والی خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ دن میں دو مرتبہ کسی نرم کلینزر اور پلکوں کی صفائی کیلئے مخصوص برش کی مدد سے پلکوں کو باقاعدگی کے ساتھ احتیاط سے صاف کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

بیت المقدس فتح ہوا1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ بیت المقدس 583ھ بمطابق 1187ء میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا تھا اور کئہ روز تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کر لیا۔پرتگالی مہم جو کی روانگی1519ء میں آج کے روز پرتگالی مہم جو فرڈیننڈ میگلن (Ferdinand Magellan) نے دنیا کا پہلا بحری چکر لگانے کیلئے سپین سے روانگی اختیار کی۔ فرڈیننڈ میگلن پانچ جہازوں پر مشتمل ایک بیڑے کے ساتھ اسپین کے بندرگاہ شہر سیویلے (Seville) سے روانہ ہوا۔یہ مہم دنیا کے گرد پہلا مکمل بحری سفر بن گئی۔اس مہم نے ثابت کیا کہ زمین گول ہے اور سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔برطانوی خفیہ ایجنسی پر حملہ20ستمبر2000ء کو آئرش ریپبلکن آرمی نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کی ایک عمارت پر حملہ کیا۔اس حملے میں روسی ساختہ اینٹی ٹینک راکٹ استعمال کیا گیا۔ راکٹ300میٹر دور سے فائر کیاگیا اور یہ جنوب کی جانب ایک عمارت سے ٹکرایا۔یہ پہلا موقع تھا جب برطانیہ میں راکٹ لانچر استعمال کیا گیا۔''ایم آئی 6‘‘کی عمارت بلٹ اور بم پروف تھی جس کی وجہ سے بہت کم نقصان ہوا۔جرمنی ،سوویت معاہدہ20ستمبر1955ء کو سوویت یونین اور جرمن ڈیمو کریٹک ریپبلک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ۔جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کو عام طور پر مشرقی جرمنی بھی کہا جاتا تھا۔یہ معاہدہ جرمنی میں سوویت افواج کے گروپ کی قانونی بنیاد بن گیا اور اسی معاہدے کے تحت اس کا جانشین گروہ مغربی گروپ آف فورسز سوویت قبضے کے خاتمے کے بعد جرمنی میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا۔چکماؤگا کی جنگچکماؤگا کی جنگ،20 ستمبر1863ء کو امریکی اور کنفیڈریٹ افواج کے درمیان لڑی گئی ۔یہ جارجیا میں لڑی جانے والی سب سے بڑی جنگ تھی ۔اس لڑائی کو گیٹسبرگ میں ہونے والی لڑائی کے بعد سب سے زیادہ مہلک شمار کیا جاتا ہے۔اس جنگ میں میجر جنرل ولیم روزکرینز نے امریکی فوج اور جنرل بریکسٹن بریگ نے کنفیڈریٹ آرمی کی قیادت کی، اس جنگ کوچکماؤگا کریک کا نام دیا گیا۔ریزوک مذاکراتریز وک امن معاہدے پر 1697ء میں دستخط کئے گئے۔جس سے فرانس اور گرینڈ الائنس کے درمیان 1688ء سے 1697ء تک جاری رہنے والی نو سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ہزاروں افراد ہلاک ہوئے لیکن کوئی بھی اس جنگ میں فتح یا علاقائی برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا۔اس معاہدے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ اس نے ایک ایسی جنگ کا خاتمہ کیا جس کا کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔

فائر فائٹر روبوٹ

فائر فائٹر روبوٹ

آگ کے شعلوں میں دو منٹ تک ڈٹا رہنے والاٹیکنالوجی کی دنیا میں روبوٹس کو مسلسل ایسے کاموں کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جو انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک حیرت انگیز مثال چین میں سامنے آئی ہے، جہاں ''تیان لانگ‘‘ (Tianlang) نامی چار ٹانگوں والے روبوٹ نے کھلی آگ اور شدید گرمی کے سامنے ایک خصوصی آزمائشی مشق کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ''تیان لانگ‘‘ کا مطلب ''آسمانی بھیڑیا‘‘ یا ''اسکائی وولف‘‘ ہے۔ اس روبوٹ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایسے ماحول میں بھی کام کر سکے جہاں انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہوں۔آزمائشی مشق کے دوران تیان لانگ نے حرارت برداشت کرنے والا خصوصی حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ اسے کھلی آگ اور شدید درجہ حرارت کا سامنا کروایا گیا اور روبوٹ نے 500 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 932 ڈگری فارن ہائیٹ تک کی گرمی میں تقریباً دو منٹ تک اپنی فعالیت برقرار رکھی۔ عام انسان کیلئے ایسا ماحول چند لمحوں میں ہی ناقابل برداشت اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس روبوٹ نے انتہائی بلند درجہ حرارت میں ثابت قدم رہ کر یہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں روبوٹک ٹیکنالوجی فائر فائٹنگ جیسے خطرناک شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ روبوٹ ''ووبا انٹیلی جنٹ‘‘ (Wuba Intelligent)نامی چینی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا مقصد محض ایک ایسا روبوٹ بنانا نہیں جو آگ برداشت کر سکے بلکہ اسے مستقبل میں فائر فائٹرز کیلئے ایک ابتدائی امدادی اور نگرانی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس تصور کے مطابق جب کسی عمارت، فیکٹری، گودام یا دوسرے مقام پر شدید آگ بھڑک اٹھے تو فائر فائٹرز کو فوری طور پر اندر داخل کرنے کے بجائے پہلے تیان لانگ جیسے روبوٹ کو آگ کے علاقے میں بھیجا جا سکے گا۔آگ لگنے کے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ صرف شعلے اور بلند درجہ حرارت نہیں ہوتے بلکہ عمارت کے اندر موجود مختلف خطرناک گیسیں بھی انسانی زندگی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث فائر فائٹرز کو سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی اور دیگر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹ انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر آگ سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔تیان لانگ کے ممکنہ فرائض میں آگ کے شعلوں کا مقام معلوم کرنا، نقصان دہ گیسوں کا سراغ لگانا اور پھنسے ہوئے افراد کی تلاش شامل ہیں۔ اگر کسی عمارت میں لوگ آگ کے باعث مختلف کمروں یا منزلوں میں پھنس جائیں تو روبوٹ وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح امدادی کارکنوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ عمارت کے اندر کہاں خطرہ زیادہ ہے، آگ کس سمت میں پھیل رہی ہے اور ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کہاں موجود ہیں۔چار ٹانگوں والا ڈیزائن بھی اس روبوٹ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ پہیوں والے روبوٹس کے مقابلے میں چار ٹانگوں والے روبوٹس دشوار گزار اور غیر ہموار سطحوں پر نسبتاً بہتر انداز میں حرکت کر سکتے ہیں۔ آگ سے متاثرہ عمارتوں میں فرش پر ملبہ، ٹوٹی ہوئی اشیا، سیڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں روبوٹ کا متوازن انداز میں چلنا امدادی کارروائیوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا بھر میں روبوٹکس کے شعبے میں ایسے روبوٹس کی تیاری پر توجہ بڑھ رہی ہے جو انسانوں کی جگہ خطرناک مقامات پر بھیجے جا سکیں۔ فیکٹریوں میں کیمیائی حادثات، زہریلی گیسوں کا اخراج، آتش زدگی، قدرتی آفات اور منہدم عمارتوں میں امدادی کارروائیاں ایسے شعبے ہیں جہاں روبوٹس انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی روبوٹ کو صرف بلند درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بنانا کافی نہیں، اسے مشکل ماحول میں درست فیصلے کرنے، راستہ تلاش کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور قابل اعتماد طریقے سے واپس آنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔تیان لانگ کا حالیہ تجربہ اسی بڑے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی میں دو منٹ تک رہنے کا تجربہ اس امر کی جانچ بھی ہے کہ روبوٹ کا حفاظتی نظام شدید حرارت میں کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔ مستقبل میں ایسے روبوٹس کو مزید جدید سینسرز، کیمروں اور مواصلاتی نظام سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ فائر فائٹرز دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے آگ کے اندرونی حالات کا مشاہدہ کر سکیں۔اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو انسانی جان کا تحفظ ہے۔ فائر فائٹرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچاتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی انہیں ایسے کاموں میں مدد فراہم کر سکتی ہے جن میں غیر ضروری طور پر انسانی زندگی داؤ پر لگتی ہے۔ اگر روبوٹ پہلے ہی خطرناک علاقے کا جائزہ لے لے تو امدادی ٹیم زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی شروع کر سکتی ہے۔تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ روبوٹ فی الحال مکمل طور پر انسانوں کا متبادل نہیں ہیں۔ ہنگامی حالات میں پیچیدہ فیصلے، متاثرین سے براہ راست رابطہ اور بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری حکمت عملی اب بھی تربیت یافتہ انسانی ماہرین کی ضرورت رکھتی ہے۔ روبوٹ بنیادی طور پر انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطرات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چین کا تیان لانگ اس مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جس میں فائر فائٹرز اکیلے آگ کا سامنا نہیں کریں گے بلکہ ان کے ساتھ ایسے روبوٹ بھی موجود ہوں گے جو شعلوں، دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے درمیان جا کر ضروری معلومات فراہم کریں گے۔ آج جو مشق ایک تجربہ معلوم ہوتی ہے، ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں آگ بجھانے اور انسانی جانیں بچانے کے طریقہ کار کو بدل دے۔

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

افریقہ کے وسیع و عریض خطے میں قدرت نے ایسے بے شمار مناظر تخلیق کیے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی قدرتی شاہکاروں میں جھیل وکٹوریہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نیلگوں پانی کا یہ وسیع ذخیرہ نہ صرف افریقہ کی عظیم جھیلوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ رقبے کے اعتبار سے براعظم افریقہ کی سب سے بڑی جھیل بھی ہے۔ اپنی وسعت، قدرتی حسن، آبی حیات اور جغرافیائی اہمیت کے باعث جھیل وکٹوریہ دنیا بھر کے ماہرین، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔جھیل وکٹوریہ تقریباً 59 ہزار 947 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا پھیلاؤ کئی چھوٹے ممالک کے مجموعی رقبے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی استوائی جھیل بھی ہے۔ سطحی رقبے کے اعتبار سے یہ شمالی امریکا کی جھیل سپیریئر کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل قرار دی جاتی ہے۔ یوں جھیل وکٹوریہ کو بیک وقت افریقہ کی سب سے بڑی، دنیا کی سب سے بڑی استوائی اور دنیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جھیل کی وسعت کا اندازہ اس میں موجود پانی کے ذخیرے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں تقریباً 2,424 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے اور حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی نویں بڑی براعظمی جھیل ہے۔ تاہم اس قدر وسیع رقبے کے باوجود جھیل وکٹوریہ غیر معمولی طور پر گہری نہیں۔ اس کی اوسط گہرائی تقریباً 40 میٹر ہے، جبکہ بعض مقامات پر زیادہ سے زیادہ گہرائی 80 سے 81 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ جھیل کا زیادہ تر حصہ ایک نسبتاً کم گہرے قدرتی نشیبی علاقے میں واقع ہے۔جھیل وکٹوریہ کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا وسیع آبی نکاسی کا علاقہ ہے، جو تقریباً 169,858 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس وسیع خطے سے پانی مختلف راستوں کے ذریعے جھیل میں پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھیل صرف ایک آبی ذخیرے کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ اپنے اردگرد کے وسیع جغرافیائی اور ماحولیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔اس عظیم جھیل کا ساحلی علاقہ بھی حیران کن حد تک وسیع ہے۔ اس کی ساحلی پٹی تقریباً 7,142 کلومیٹر طویل ہے۔ جھیل کے اندر متعدد جزائر بھی موجود ہیں، جو اس کے حسن اور جغرافیائی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں۔ مجموعی ساحلی طوالت میں جزائر کا حصہ تقریباً 3.7 فیصد بنتا ہے۔ ان جزائر اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کے پودے، پرندے اور آبی جانور پائے جاتے ہیں، جس سے یہ خطہ حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے بھی اہم بن جاتا ہے۔جھیل وکٹوریہ کا تعلق صرف قدرتی حسن سے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے بھی گہرا ہے۔ اس کے آس پاس آباد لوگوں کیلئے جھیل پانی، خوراک اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مقامی آبادی جھیل سے حاصل ہونے والی مچھلی اور دیگر آبی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جھیل اور اس کے گردونواح میں زراعت، تجارت اور نقل و حمل کی سرگرمیاں بھی صدیوں سے انسانی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔وسیع آبی سطح کی وجہ سے جھیل وکٹوریہ مقامی موسم اور ماحول پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ جھیل کے آس پاس کا خطہ نسبتاً مرطوب رہتا ہے اور یہاں کا قدرتی ماحول مختلف جانداروں کیلئے موزوں مسکن فراہم کرتا ہے۔ جھیل کے پانی اور اس سے وابستہ ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنا نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کیلئے اہم ہے۔تاہم جدید دور میں جھیل وکٹوریہ کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ آبادی میں اضافے، آبی آلودگی، قدرتی وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بعض علاقوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے جھیل کے قدرتی نظام کیلئے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس عظیم قدرتی ورثے کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب جھیل کے پانی، آبی حیات اور ساحلی ماحول کی حفاظت کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔جھیل وکٹوریہ دراصل قدرت کی اس عظمت کی ایک خوبصورت مثال ہے جس میں پانی، زمین، آسمان، جزائر، حیاتیاتی تنوع اور انسانی زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی غیر معمولی وسعت اور قدرتی اہمیت اسے صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا قیمتی قدرتی سرمایہ بناتی ہے۔ اس عظیم جھیل کی حفاظت دراصل آنے والی نسلوں کیلئے قدرت کے ایک شاندار تحفے کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میکسیکو زلزلہ19ستمبر1985ء کو میکسیکو شہر میں شدید زلزلہ آیا جس کی شدت8.0ریکارڈ کی گئی۔زلزلے نے گریٹر میکسیکو شہر کے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا، تقریباً5ہزار افراد لقمہ اجمل بنے۔ بعدازاں دو بڑے آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔دونوں آفٹر شاکس کی شدت بھی 7.0 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی ۔ اس واقعے میں تین سے چار بلین امریکی ڈالر کے درمیان نقصان ہوا، 412 عمارتیں گر گئیں اور ہزاروں افراد کا جانی و مالی نقصان ہوا۔پیرس کا محاصرہ1870ء میں فرانکوپروشیائی جنگ کے دوران 19ستمبر کو پیرس کا محاصرہ شروع ہوا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس نے دشمن کی افواج کے شدید دباؤ اور مسلسل حملوں کے باوجود تقریباً چار ماہ تک مزاحمت جاری رکھی۔ شہر کے باشندوں اور دفاعی دستوں نے مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، تاہم طویل محاصرے، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی قلت نے حالات انتہائی دشوار بنا دیے۔ بالآخر چار ماہ سے زائد عرصے تک مزاحمت کے بعد پیرس کو دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ یو ٹی اے پرواز 772 کا سانحہ 19ستمبر 1989ء کو فرانسیسی فضائی کمپنی یو ٹی اے کی پرواز 772 نائجر کے صحرائے تنورو کے اوپر محوِ پرواز تھی کہ اچانک ایک بم دھماکے کے نتیجے میں طیارہ فضا میں تباہ ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعہ ہوا بازی کی تاریخ کے المناک ترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ حادثے کے بعد تحقیقات میں بم دھماکے کو طیارے کی تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ماسکو معاہدہ19 ستمبر 1944ء کو فن لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان ماسکو جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہوگیا۔ یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فن لینڈ اور سوویت یونین کے مابین ہونے والی جنگ کے اختتام کا باعث بنا۔ معاہدے کے تحت فن لینڈ نے سوویت یونین کے ساتھ جنگ بندی قبول کی اور اپنے فوجی اقدامات روک دیے۔ یوں ایک طویل اور تباہ کن تنازع اختتام پذیر ہوا اور خطے میں امن کی نئی صورتِ حال پیدا ہوئی۔آتش فشاں کا خوفناک دھماکاجزیرے لا پالما پر واقع کومبرے ویئیخا آتش فشاں 19 ستمبر 2021ء کو پھٹ پڑا۔ اس کے نتیجے میں لاوا، راکھ اور آتش فشانی مواد بڑی مقدار میں خارج ہوا، جس سے علاقے میں شدید تباہی پھیلی اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ آتش فشاں تقریباً تین ماہ تک سرگرم رہا اور بالآخر 13 دسمبر 2021ء کو اس کا اخراج رک گیا۔ یہ لا پالما کی تاریخ کے اہم ترین آتش فشانی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔تھائی لینڈبغاوت 19 ستمبر 2006ء کو تھائی لینڈ کی فوج نے حکومت کے خلاف اچانک بغاوت کرتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا۔ فوج نے ملک کا آئین منسوخ کردیا اور مارشل لا نافذ کردیا۔ اس کارروائی کے دوران وزیراعظم تھاکسن شیناواترا بیرونِ ملک تھے۔ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر سیاسی نظام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور ملک میں جمہوری نظام کو شدید دھچکا پہنچا۔