علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

اسپیشل فیچر

تحریر : خواجہ محمد زَکریا


شاعر ِمشرق ومفکرِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے ایک فکرانگیز تحریراقبال چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیااقبال کا انتقال ہوا ،تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیںاقبال نے تین زبانوں میں لکھا ہے۔ اُن کی نثر اُردو اور انگریزی میں ہے جب کہ شاعری، جو اُن کی جملہ صلاحیتوں میں سے اعلیٰ ترین صلاحیت ہے، اُردو اور فارسی میں ہے۔ میرے خیال میں فلسفہ اور علم الاقتصاد پر مستقل کتابیں تصنیف کرنے اور سیاسیات اور بعض دیگر علوم و فنون پر اظہار خیال کرنے کے باوجود اُن کا اصل میدان شاعری ہے۔ نثری کتابوں میں وہ جن حقائق کو دلائل و براہین سے کہتے ہیں، انھیں کو شاعری میں جب وجدانی اور تخیلی سطح پر پرزور اور پرُکشش اُسلوب میں پیش کرتے ہیں ،تو اُن کا اثر بہت بڑھ جاتا ہے جب کہ اُن کی نثری تصنیفات کا استدلال بعض جگہ اختلافی معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک شاعر اقبال، فلسفی اقبال سے زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔بہرحال اقبال کی نظم و نثر کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ملت ِاسلامیہ کے دین و دنیا کو سنوارنا اور پھر ملت ِ اسلامیہ کے توسط سے دنیا بھر کی اقوام و ملل کے افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا۔ انھوں نے جب آنکھ کھولی تو مغربی اقوام دنیا کے بیشتر ممالک پر بالواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہو چکی تھیں۔ افریقا اور ایشیا کے بہت بڑے حصے پر متصرف ہونے کی وجہ سے انگریزی زبان اور مغربی اُن کی تہذیب محکوموں کے لیے قابلِ تقلید بن چکی تھی۔ بقول اکبر الہ آبادی:اپنی منقاروں سے حلقہ کس رہے ہیں جال کاطائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کایہ درست ہے کہ بعض اسلامی ممالک میں احیائی تحریکوں کا آغاز ہو چکا تھا، مگر اُن کے اثرات محدود تھے بل کہ اُن کی وجہ سے محکوم ملکوں کے تضادات اور بھی نمایاں ہو گئے تھے۔ مسلمان ممالک ایک ایک کر کے آزادی سے محروم ہو چکے تھے. ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات یا تو حکمرانوں کے مقلد بن چکے تھے یا پدرم سلطان بود کے خواب میں مست پڑے تھے. ان حالات میں قوم کے کسی بہی خواہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ارد گرد کے حالات سے آنکھیں بند کر لے اور قوم کو ماضی کے سپنوں میں پڑا رہنے دے۔ سرسید احمد خاں، حالی، شبلی، نذیر احمد، اکبر الہ آبادی اور دوسرے بہت سے ادبا اور شعرا اپنے اپنے انداز میں ہندوستانی مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی سعی کر رہے تھے۔ علامہ اقبال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ وہ چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ اقبال کا انتقال ہوا تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت سے مسلمان ممالک رفتہ رفتہ آزاد ہونے لگے تھے۔ اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیں۔ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر ملت اسلامیہ دنیا بھر میں بدستور غیر مؤثر کیوں ہے؟ اس سوال کے ایک یا ایک سے زیادہ جوابات تلاش کرنے چاہییں۔ ان پر عام بحث ہونی چاہیے اور پھر جس بات پر اجماع ِامت ہو اسے ملتِ اسلامیہ کا مشترکہ مقصد بنا کر بروئے کار لانے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اسی ایک سمت میں مرکوز کر دینی چاہییں۔علامہ اقبال نے اپنی نظم و نثر میں ملت کے زوال کے اسباب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور زوال سے اُبھرنے کا ایک واضح طریق کار متعین کیا ہے۔ یہ طریق کار ہے فرد کی اصلاح سے ملت کی اصلاح کی طرف جانا،لیکن علامہ اقبال اس بات سے واقف تھے کہ عام افراد کبھی اپنی اصلاح نہیں کر سکتے کیونکہ وہ زوال آمادہ معاشرے کے شیطانی چکر میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر کسی بددیانت معاشرے میں کوئی فرد دیانت دار بننے کی کوشش کرے تو وہ معاشرے کو بہت کم درست کر سکے گا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس کشمکش میں وہ خود ہی مٹ جائے۔ اس لیے اقبال کا نقطۂ نظر یہی رہا ہے کہ اصلاح اوپر سے نیچے آتی ہے، نیچے سے اوپر نہیں جاتی۔ نظریۂ خودی مردان ِکامل کو پیدا کرتا ہے اور مردانِ کامل دنیا کی اصلاح کرتے ہیں۔ علامہ اقبال مثنوی ’اسرارِ خودی‘ میں مردِ کامل سے اُن توقعات کا اظہار کرتے ہیں:اے سوارِ اشہب دوراں بیااے فروغِ دیدۂ امکاں بیاخیز و قانونِ اخوت ساز دہجامِ صہبائے محبت باز دہباز در عالم بیار ایّامِ صلحجنگجویاں را بدہ پیغامِ صلحریخت از جورِ خزاں برگِ شجرچوں بہاراں بر ریاضِ ما گذرنوعِ انساں مزرع و تو حاصلیکاروانِ زندگی را منزلیترجمہ:(اے زمانے کے گھوڑے کے سوار اور اے امکانات کی دنیا کو روشن کرنے والے، آ اور دنیا میں اخوت اور محبت کے جذبات پھر سے پیدا کر۔ دنیا میں صلح کا زمانہ واپس لا اور جنگجوؤں کو امن کا پیغام دے۔ دنیا کے باغ میں خزاں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تو اس میں بہار بن کر آ۔ بنی نوعِ انسان کی فصل کا حاصل اور زندگی کے کارواں کی منزل تو ہی ہے۔)جب کسی قوم میں ایسے افراد پیدا ہو جاتے ہیں ،تو اس قوم کا کارواں منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام رجائیت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ٹھیک ہو جائیں ،تو دنیا کی بہترین اقوام میں شمار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقبال ہر حال میں رجائیت کے پیغامبر ہیں۔ انھوں نے بار بار ملت کے مختلف افراد اور طبقات پر شدید تنقید کی ہے۔ خود انتقادی اور خود احتسابی کو لازمہ ترقی بتایا ہے اور یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ جب تک ہم اپنی خرابیوں کو تلاش نہیں کریں گے اس وقت تک اصلاح کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا۔ اس وجہ سے اقبال کے ہاں ملت کے مختلف طبقات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی خرابیوں کو طشت ازبان کر کے انھیں اصلاح کا پیغام دیا ہے۔ اقبال ملتِ اسلامیہ کے رہنماؤں سے ناامید تھے۔ نظم ’شمع اور شاعر‘ میں شاعر در حقیقت رہنمائے ملت کی علامت ہے اور پوری نظم ملت اسلامیہ کے زوال کا ایک خوفناک مرقع ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملت نے باصلاحیت رہنما پیدا کرنے بند کر دیے ہیں۔ اس نظم کے علاوہ بھی یہ خیال کلام اقبال میں آخر تک موجود ہے:کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سےکہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دلنوازیفلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیںخبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہےنشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کوترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیےنظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میںوہ شبانی کہ ہے تمہیدِ کلیم اُللّہٰیمیرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صفآہ وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفمنزلِ راہرواں دور بھی دشوار بھی ہےکوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہےنہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کیکہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھیمصطفی کمال پاشا اور رضا شاہ پہلوی نے اپنی اپنی قوم کے لیے بہت کام کیا، لیکن ان کی سعی کے وہ نتائج نہ نکلے جس کے متمنی اقبال تھے۔ یہ حضرات اور ملت اسلامیہ پر مسلط ہونے والے دیگر شہنشاہ، رہنما اور علما ان صلاحیتوں سے عاری تھے جو کسی ملت کو دنیا کی منتخب قوموں میں بدل سکتی ہیں اس وجہ سے اقبال اُن کے گلہ گزار رہے۔ جن رہنماؤں سے اقبال نے توقعات وابستہ کیں انھیں ان کی قوم نے یا مغرب کی سازشوں نے کام کرنے کا موقع نہ دیا۔ نتیجہ یہ کہ ملت فیض حاصل کرنے سے محروم رہی اور حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ رہنماؤں کی کمی کا ہے۔ اس وقت تک کسی اسلامی ملک کا کوئی رہنما اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کا حقیقی قائد تسلیم نہیں کرا سکا۔ وہ ایک دوسرے کو قریب لانے کی بجائے اختلافات پر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ملت کو مزید تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔رہنمایان ِملت میں علمائے دین اور سجادہ نشینان خانقاہ بھی نمایاں حیثیت کے حامل ہیں، جس طرح سیاسی رہنما انحطاط پذیر ہوئے اسی طرح صوفی و ملا بھی زوال کا شکار ہوئے۔ عالمِ اسلام میں مساجد اور خانقاہیں کثرت سے ہیں۔ خصوصاً ہندوستان اور پاکستان میں خانقاہی سلسلہ بے حد وسیع ہے۔ کروڑوں لوگ مسجدوں اور خانقاہوں میں جاتے ہیں اور علماء و صوفیاء سے فیض پانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں کے ائمہ اور خانقاہوں کے صوفیاء الا ماشاء اللہ ملت کے عام افراد سے بہتر نہیں ۔ اُن میں وہ تمام خرابیاں راہ پا چکی ہیں، جو عام لوگوں میں موجود ہیں۔ اُن کے ظاہر و باطن میں واضح تضادات موجود ہیں۔ مذہب اور تصوف نے اُن کے دل و دماغ کو روشن نہیں کیا۔ وہ روایتی طور پر چند رسوم و عبادات انجام دیتے ہیں اور پھر اُن تمام برائیوں میں عملی طور پر ملوث ہو جاتے ہیں، جو مذہب و تصوف کی ضد ہیں۔ پیروں نے ’نذرانوں‘ سے اپنے محل تعمیر کر لیے ہیں اور علمائے دین نے فرقوں کے اختلافات کو ابھار ابھار کر اپنی حیثیتیں بنا لیں ہیں۔ اس لیے مسجد و خانقاہ مردہ ادارے بن کر رہ گئے ہیں ،جہاں سے کوئی مرد مومن نہیں اُٹھتا۔ مسجد و خانقاہ کے وارثوں سے اختلاف رائے کرنا اپنی تکفیر کرانے کے مترادف ہے۔ فروعی مسائل میں قوم کو الجھا کر اس کی صلاحیتیں ضائع کی جا رہی ہیں۔ مختلف مسالک کے افراد ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور جو طاقت اغیار کے خلاف استعمال ہونی چاہیے، وہ آپس میں لڑ لڑ کر تقسیم ہو رہی ہے۔ اقبال اپنے دَور کے علمائے دین، مفتیان شرع اور صوفیا سے بہت بیزار تھا۔ شاید اس کے کلام میں سیاسی رہنماؤں سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ علماء و صوفیا کو بنایا گیا ہے:واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسمِ ازاں، روحِ بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہےمجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقیاس دور کے ملا ہیں کیوں ننگِ مسلمانییہ پیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوریصلہ ان کی کد و کاوش کا ہے سینوں کی بے نوریعلما و صلحا کے بعد اقبال کی تنقید کا نشانہ اہل مدرسہ بنے ہیں، جن میں اساتذہ اور طلبہ دونوں شامل ہیں۔ اقبال کو اساتذہ سے یہ گلہ ہے کہ وہ طلبہ کو نصابات پڑھاتے رہتے ہیں ،مگر اُن کے اذہان کی تربیت نہیں کرتے۔ طلبہ نصابات میں الجھے رہتے ہیں۔ مشاہیر کے اقتباسات رٹ کر امتحانات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، مگر ’صداقت‘ کی تلاش اُن کا مطمح نظر نہیں بنتی۔ چنانچہ اقبال کبھی تو ملا، صوفی، طالب علم اور استاد کو الگ الگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی اُن کو یکجا کر کے اُن کی خرابیوں کو واضح کرتے ہیں:اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقیخونِ دل مرداں ہو جس فقر کی دستاویزکسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنےفقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشیمیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیاتمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوریاٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناکنہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہمکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذتِ اسرار بھی ہے؟خراب کوشکِ سلطان و خانقاہِ فقیرفغاں کہ تخت و مصلٰی تمام زرّاقیباقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیریاے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیریمیں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گامسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیبملا کی نظر نورِ فراست سے ہے محرومبے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئے ناباقبال چاہتے ہیں کہ کورانہ تقلید کی بجائے ملت کے افراد سچائی کی تلاش کے لیے تحقیق و تدقیق کے راستے پر چلیں۔ یہ بڑا کٹھن راستہ ہے، پرُخار اور طویل، مگر اس کو اختیار کیے بغیر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں، لیکن حالات یہ ہیں کہ صوفی، ملا اور اُستاد کسی کو آزادی اظہار دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کیفیت ہو تو تحقیق کیسے پنپ سکتی ہے۔ یہ بات بلاوجہ نہیں کہ اقبال کے ہاںتحقیق اور صداقت کی تلاش پر اتنا زور دیا گیا ہے:شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہیرہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقیفقیہہِ شہر کی تحقیر کیا مجال مریمگر یہ بات کہ میں ڈھونڈھتا ہوں دل کی کُشادکیے ہیں فاش رموزِ قلندری میں نےکہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزادحلقۂ شوق میں وہ جرأتِ رندانہ کہاںآہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیقہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےاور ایک دعائیہ نظم میں کہتے ہیں:بے لوث محبت ہو بیباک صداقت ہوسینوں میں اجالا کر دل صورتِ مینا دےاحساس عنایت کر آثارِ مصیبت کاامروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دےتحقیق کے ذریعے صداقت کی تلاش پر اقبال نے جب اتنا زور کلام صرف کیا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا اقبال کو خرد دشمن کہنا درست ہے یا محض غلط فہمی ہے؟ انھوں نے عشق کی توصیف میں بہت نغمے گائے ہیں اور قوت عمل کو اُبھارنے کے لیے عقل پر تنقید بھی کر دی ہے، مگر انھیں معروف معنوں میں عقل کا مخالف قرار دینا درست نہیں، جو شخص مردِ مومن کے بارے میں یہ لکھے وہ عقل کا مخالف نہیں ہو سکتا:عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہجب وہ ہمیں بار بار تدبر اور تحقیق اور تلاش صداقت پر اکساتے ہیں تو یہ باتیں عقل کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اگر جہان تازہ کی افکار تازہ سے نمود ہوتی ہے، تو اقبال افکار تازہ کی دعوت دیتے ہوئے عقل کے مخالف ہو ہی نہیں سکتے کہ افکار کا تعلق عقل سے ہے۔ اب اقبالیات کے ماہرین کو چاہیے کہ ہماری جذباتی قوم کو نعروں پر زندہ رکھنے کی بجائے اسے غور و فکر کی دعوت دیں۔ جب کوئی قوم غور و فکر کے بعد اپنا ہدف متعین کر لیتی ہے ،تو عشق کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ جب آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ نے اپنے مقاصد کا تعین کر لیا ہے، اس وقت ان کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا مرحلہ آتا ہے، اور اسی کا نام عشق ہے،مگر اس کے بغیر قوم میں جذباتیت پیدا کرنے کا مقصد محض اُن کو آپس میں لڑانا اور تقسیم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان کے فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی، اقتصادی، سیاسی مسائل پر جس قدر از سر نو غور کرنے کی آج ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی،لیکن اقبالیات کے جلسوں میں محض چند جذباتی یا روایتی باتیں کہہ کر لوگ رخصت ہو جاتے ہیں اور کسی ایک فرد کے دل میں تحقیق و اکتشاف کی ایک لہر بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال ملت ِاسلامیہ کے ایک بہت بڑے مفکر ہیں ،مگر اُن کی سوچ کو چند فرسودہ باتوں تک محدود کر دینا نہ تو اقبال کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی ملت ِاسلامیہ کی خدمت ہے۔اقبال ملت کے افراد کو ذاتی اغراض سے بلند ہو کر سب کی بھلائی کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رہنماؤں اور مقتدر طبقات کی توجہ خود احتسابی اور خود انتقادی کی طرف دلاتے ہیں، جس کے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں۔ خوش فہمیوں میں مبتلا قومیں اپنی کمزوریوں کو دُور نہیں کر سکتیں۔ وہی قومیں عروج کی طرف سفر کرتی ہیں، جن کے افراد اس سلسلۂ روز و شب کے حالات و واقعات کو پرکھتے ہیں اور اس غور و فکر کے نتائج کو رُو بہ عمل لانے کے لیے اُن خصوصیات کو پیدا کرتے ہیں ،جن کی تلقین خضر راہ (بانگِ درا) کے مندرجہ ذیل بند میں کی گئی ہے:ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیداکرےخاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے سفیررات کے تاروں میں اپنا راز داں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نئی ایپ نئی سہولت:گمشدہ سامان ہوا دھونڈنا آسان

نئی ایپ نئی سہولت:گمشدہ سامان ہوا دھونڈنا آسان

ڈیجیٹل دور میں جہاں جدید ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہے، وہیں قیمتی اشیاء کا گم ہو جانا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ موبائل فون، اسمارٹ واچ، وائرلیس ایئربڈز اور دیگر چھوٹے گیجٹس اکثر لاپرواہی یا مصروفیات کے باعث کہیں رکھ کر بھلا دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک نئی ایپ متعارف ہوئی ہے جو صارفین کو اپنے گم شدہ گیجٹس کو باآسانی تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ ایپ جدید ٹریکنگ سسٹم اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف اشیاء کا سراغ لگاتی ہے بلکہ صارفین کی پریشانی کو بھی کم کرتی ہے، جس سے روزمرہ زندگی مزید سہل ہو جاتی ہے۔کسی قیمتی چیز کے گم ہو جانے کا احساس، اور یہ نہ معلوم ہونا کہ وہ کہاں ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ پریشان کن اور کچھ نہیں ہوتا۔ میرے ساتھ بھی حال ہی میں یہی ہوا، جب اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری ''اورا‘‘ (Oura) رنگ کسی طرح میری انگلی سے پھسل کر کہیں گم ہوگئی ہے۔ اس وقت میں گھر پر ہی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ میں نے اسے آخری بار چند گھنٹے پہلے بیڈ روم میں چارج کرنے کے بعد پہنا تھا۔ اس کے بعد میری پوری شام اسے تلاش کرنے میں گزری اور یہاں تک کہ میں نے کچرے کے ڈبے کو بھی ایک ایک چیز نکال کر چیک کیا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، میں نے پورا فلیٹ الٹ پلٹ کر رکھ دیا اور ٹارچ کی مدد سے ہر چھوٹے سے چھوٹے کونے کا جائزہ لیا۔ میری ''Oura ایپ‘‘ مجھے تسلی دیتی رہی کہ رنگ واقعی گھر میں ہی ہے، مگر وہ اس کی درست جگہ بتانے سے قاصر تھی۔ جب میری رنگ کی بیٹری ختم ہونے کے قریب پہنچی تو میں نے بے بسی کے عالم میں آن لائن کوئی ایسا طریقہ تلاش کرنا شروع کیا جو میری رہنمائی کر سکے۔ تب مجھے ایک مفت ایپ ''Wunderfind‘‘ کے بارے میں معلوم ہوا، جس نے مجھے سیدھا میری رنگ تک پہنچا دیا، جو میری گرم پانی کی بوتل اور اس کے کور کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔یہ ایپ بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ''ڈیوائس ریڈار‘‘ استعمال کرتی ہے، جو آپ کے آس پاس موجود تمام ڈیوائسز کی فہرست فراہم کرتا ہے۔ اس میں ایپل مصنوعات، پورٹیبل اسپیکرز اور فٹنس ٹریکرز بھی شامل ہوتے ہیں۔ جب آپ کسی مخصوص ڈیوائس پر کلک کرتے ہیں تو یہ ایک فیصدی اسکور دکھاتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ اس کے کتنے قریب ہیں۔ آپ کو بس آہستہ آہستہ ادھر اُدھر حرکت کرنا ہوتی ہے تاکہ دیکھ سکیں کہ اسکور بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے۔ یہ ایپ مجھے آہستہ آہستہ کمرے کے ایک کونے کی طرف لے گئی جہاں ہم گرم پانی کی بوتلیں رکھتے ہیں۔ جیسے ہی میں نے اپنا فون قریب کیا، اسکور اچانک 100 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ میں گم شدہ ڈیوائس کے بالکل قریب ہوں۔ جب میں نے اپنی گرم پانی کی بوتل اٹھائی تو مجھے اس کے نچلے حصے میں رنگ محسوس ہوئی۔ جب میں نے کور کھولا تو بالآخر میری گمشدہ ہیلتھ ٹریکر سامنے آ گئی، جو گرم پانی کی بوتل اور اس کے اندرونی کپڑے کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔یہ ایپ آپ کو اپنے گمشدہ ایئر پوڈز، ایپل پنسل، آئی فون، آئی پیڈ، ایپل واچ اور دیگر ڈیوائسز تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔یہ ایپ چند ہی سیکنڈز میں آپ کی گمشدہ چیز کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔اب تک ایک لاکھ 15ہزار صارفین اس ایپ کو ریٹنگ دے چکے ہیں، اور اسے اوسطاً 5 میں سے 4.5 اسٹارز ملے ہیں۔ زیادہ تر صارفین نے خوشی کا اظہار کیا کہ اس ایپ نے ان کی گمشدہ اشیاء ڈھونڈنے میں مدد دی۔ ایک صارف کے مطابق، اس ایپ نے ان کے سماعت کے آلے کو گاڑی میں مڑی ہوئی نیپکن کے اندر تلاش کرنے میں مدد دی، جبکہ ایک اور شخص نے بتایا کہ اس نے صرف دو ہفتے پہلے اپنے ہیڈفونز اسی ایپ کی مدد سے ڈھونڈ لیے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے چند ہی منٹوں میں اپنی گمشدہ ایپل پنسل کو کپڑوں کی ٹوکری میں تلاش کر لیا، جبکہ ایک اور صارف نے اسے اپنے گدے اور بیڈ فریم کے درمیان دراڑ میں پایا۔ایک صارف نے لکھا کہ میں نے حال ہی میں پہلی بار سماعت کے جدید اور چھوٹے آلات حاصل کیے۔ ان کا نقصان یہ ہے کہ اگر وہ کہیں رکھ کر بھول جائیں تو ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے یہ بلیوٹوتھ سے منسلک تھے، اس لیے میں نے ایپ کے ذریعے گمشدہ ڈیوائس کو تلاش کر لیا۔ تاہم کچھ صارفین نے شکایت کی کہ اسکور اپڈیٹ ہونے میں تھوڑی تاخیر ہوتی ہے، اس لیے آہستہ حرکت کرنا اور صبر سے کام لینا ضروری ہے۔اپنی انگوٹھی کو اس ایپ کی مدد سے ڈھونڈنے کے بعد، میں نے اپنے تمام اہلِ خانہ اور دوستوں کو اس کے بارے میں بتایا۔ سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی اپنی رنگ تلاش کر پاتی، اگر اس ایپ کی مدد نہ ملتی۔یہ ایپ صرف ان ڈیوائسز پر کام کرتی ہے جو اس وقت بلوٹوتھ سگنل خارج کر رہی ہوں، اس لیے تیزی ضروری ہے تاکہ بیٹری ختم ہونے سے پہلے آپ اپنی چیز تلاش کر سکیں۔ ''Wunderfind‘‘ایپ، ایپ سٹور اور گوگل پلے سٹور دونوں پر دستیاب ہے۔

منفرد کلیکشن، منفرد اعزاز

منفرد کلیکشن، منفرد اعزاز

3,482 بیئر برکس کھلونے جمع کرنے کا ریکارڈدنیا بھر میں شوق اور جنون کی بے شمار کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، مگر بعض افراد اپنے ذوق کو اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ وہ ایک نئی تاریخ رقم کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں بیئر برکس (Bearbricks) کے ایک کلیکٹر نے تقریباً 3,500 مختلف ڈیزائنر کے کھلونوں کا نایاب مجموعہ اکٹھا کر کے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جاپانی کمپنی ''میڈیکم ٹوائے‘‘ (Medicom Toy) کے تیار کردہ یہ کھلونے محض کھیل کی اشیاء نہیں بلکہ جدید آرٹ، ثقافت اور تخلیقی اظہار کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ نہ صرف ذاتی شوق کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں کلکشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے۔جو چیز ایک شوق کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ بالآخر بیئر برکس (Bearbricks) کے پرجوش امریکی مداح ڈینیئل پارک کیلئے گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز بن گئی، جنہوں نے اس مقبول برانڈ کی کل 3,482 اشیاء کا حیرت انگیز مجموعہ جمع کر لیا ہے۔اس مارچ، فخر کے ساتھ ریکارڈ رکھنے والے جو سوشل میڈیا پر ''برک شکاگو‘‘ (BrickChicago) کے نام سے جانے جاتے ہیں نے رنگ برنگی پینٹ شدہ پلاسٹک مجسموں سے سجی اپنی وسیع شیلفس کے ساتھ بیئر برک (Bearbrick) ریچھوں کے سب سے بڑے مجموعے کا اعزاز حاصل کر لیا۔پانچ سال پہلے انہوں نے اپنی اس مہم کا آغاز ایک واحد ''بلائنڈ باکس‘‘ کھولنے سے کیا تھا اور اسی یادگار دن کے بعد سے وہ اپنے ہوم آفس کو نہایت احتیاط سے ایک ایسے عجائب گھر کی شکل دیتے آئے ہیں جو ان ریچھوں کی مشہور سیریز کیلئے وقف ہے۔بیئر برکس (Bearbricks) پہلی بار 2001ء میں جاپان سے تعلق رکھنے والے تاتسوہیکو آکاشی نے تخلیق کیے، جو کھلونا ساز کمپنی ''میڈیکم ٹوائے‘‘ کے بانی ہیں۔ آکاشی کو 2001ء میں ٹوکیو میں ہونے والے ''ورلڈ کریکٹر کنونشن 2001ء ‘‘ کے شرکاء کو دینے کیلئے ایک تحفہ ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اور ٹیڈی بیئر کی 100ویں سالگرہ کی مناسبت سے انہوں نے اپنے کھلونوں کے سروں کو مشہور ریچھ کے سر سے تبدیل کر دیا یوں ایک نئی قسم کے جمع کی جانے والی آئٹم نے جنم لیا، جن میں مختلف رنگوں اور ڈیزائنز کی بھرمار ہے۔آج بیئر برکس کھلونوں اور فن کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں، کیونکہ ہر چھ ماہ بعد آنے والی نئی کلیکشن میں مشہور شخصیات، فنکاروں، ڈیزائنرز اور موسیقاروں کی جانب سے تیار کردہ منفرد اور قیمتی ڈیزائن شامل ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیئر برکس کے مجموعے کا ابتدائی ریکارڈ 2020ء میں چینی کلیکٹر کیگائو (Gao Ke )کے پاس تھا، جن کے پاس 1,008 ریچھوں کا مجموعہ تھا، لیکن ڈینیئل پارک نے اپنے 3,482 کھلونوں کے ساتھ اس ریکارڈ کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ڈینیئل پارک نے گنیز ورلڈ ریکارڈ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جس چیز نے اُس وقت مجھے متاثر کیا تھا اور آج بھی مجھے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے، وہ اس معیاری پلیٹ فارم کی شاندار روایت ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کینوس ہے جو لامحدود تخلیقی اظہار کی اجازت دیتا ہے، جبکہ اپنی ایک جیسی اور منفرد پہچان رکھنے والی ساخت کو برقرار رکھتا ہے۔ڈینیئل پارک نے بتایا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل کرنے کی ترغیب اُس وقت ملی جب وہ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب دیکھ رہے تھے، اور اُس نے پوچھا کہ بیئر برکس کے مجموعے کا ریکارڈ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اگر آپ میں جذبہ، محنت اور نظم و ضبط ہو تو آپ اپنے ذاتی شوق کو عالمی سطح کی کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ تصدیقی عمل وقت طلب تھا، مگر وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ یہ اعزاز اپنے خاندان کے نام کر سکے۔ اگرچہ یہ کام تھکا دینے والا تھا، لیکن یہ محبت سے کیا گیا ایک ایسا سفر تھا جسے میں اپنی بیٹی اور عالمی کلیکٹر کمیونٹی کے سامنے پیش کرنے پر بے حد فخر محسوس کرتا ہوں۔ڈینیئل پارک نے مزید کہا کہ بیئر برکس کے ڈیزائن کی ہمہ جہتی اور لچک نے اُن کے گھر کے ہر فرد کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس کی وجہ سے سب لوگ اُن کے اس کلیکشن کے مشن سے خود کو جوڑ پاتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

آسٹریلیا :پہلی قومی پارلیمنٹ9مئی1901ء کو آسٹریلیا نے میلبورن میں اپنی پہلی قومی پارلیمنٹ کا افتتاح کیا، جو اس کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس کے ساتھ ہی آسٹریلیا کی نوآبادیاتی ریاستوں نے ایک وفاقی نظام کے تحت متحد ہو کر ایک خودمختار قوم کی شکل اختیار کی۔ پارلیمنٹ کے قیام نے ملک میں جمہوری نظام کی بنیاد رکھی اور عوام کو نمائندگی کا حق فراہم کیا۔ اس تاریخی موقع پر مختلف ریاستوں کے نمائندے جمع ہوئے اور نئے آئینی ڈھانچے کے مطابق قانون سازی کے عمل کا آغاز کیا۔ گھانا فٹ بال بھگدڑٓٓٓٓٓٓ آج کے دن 2001ء میں گھانا کے شہر اکرا میں واقع اکرا اسپورٹس اسٹیڈیم میں ایک افسوسناک سانحہ پیش آیا جس میں 129 فٹ بال شائقین ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ بعد ازاں ''اکرا اسپورٹس اسٹیڈیم ڈیزاسٹر‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب میچ کے دوران ریفری کے ایک متنازع فیصلے پر تماشائی مشتعل ہو گئے۔ صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔ اسی بھگدڑ کے باعث درجنوں افراد کچلے گئے اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ کئی دیگر زخمی بھی ہوئے۔دوسری جنگ ارتوا1915ء میں جنگ عظیم اوّل کے دوران دوسری جنگ ارتوا جرمن اور فرانسیسی افواج کے درمیان لڑی گئی۔ یہ معرکہ فرانس کے علاقے ارتوا میں پیش آیا اور مغربی محاذ کی اہم جھڑپوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جنگ کا مقصد فرانسیسی افواج کی جانب سے جرمن دفاعی لائنوں کو توڑنا تھا، تاہم شدید مزاحمت اور خندقوں کی جنگ نے پیش قدمی کو مشکل بنا دیا۔ اس لڑائی میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا اور یہ جنگ خندقوں میں لڑی جانے والی طویل اور خونریز لڑائیوں کی ایک نمایاں مثال بن گئی۔یوم یورپیوم یورپ ''یورپ میں امن اور اتحاد‘‘کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن 5 مئی کو یورپی کونسل جبکہ 9 مئی کو یورپی یونین کی جانب سے منایا جاتا ہے۔یومِ یورپ پہلی مرتبہ کونسل آف یورپ کی جانب سے 1964ء میں منایا گیا تھا اور اسی برس اس دن کو بین الاقوامی شہر ت بھی حاصل ہوئی۔ یورپی یونین نے بعد میں 1950ء کے شومن اعلامیہ کی یاد میں اپنا یوم یورپ منانا شروع کیا۔ کچھ لوگ اسے ''یوم متحدہ یورپ‘‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔اس دن کو شومن علامیہ کی برسی کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ یہ وہی علامیہ تھا جسے پورا یورپ متحد ہوا اور یورپی اقوام کے درمیان ہمیشہ کیلئے جنگوں کا خاتمہ ہو گیا۔اسی علامیہ نے یورپی یونین کی بنیاد رکھی۔ویسٹری مائن حادثہویسٹری مائن کینیڈا میں کوئلے کی کان تھی۔یہ کان ستمبر 1991ء میں کھولی گئی، لیکن آٹھ ماہ بعد بند ہو گئی۔ یہ اس وقت بند کی گئی جب 9 مئی 1992ء کو زیر زمین میتھین کی وجہ سے ہونے والے دھماکے کی وجہ سے 26کان کن ہلاک ہو گئے۔ کان کنوں کو بچانے کی ہفتہ بھر کوشش کی گئی لیکن مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آسکا۔ 1997ء کے آخر میں انکوائری رپورٹ شائع کی گئی،رپورٹ میں بتایا گیا کہ کان کا انتظام غلط تھا، کان کنوں کی حفاظت کو نظر انداز کیا گیا تھا اور ناقص حکومتی ریگولیٹرز کی نگرانی اس تباہی کا باعث بنی۔

نئی ویڈیو انکرپشن ٹیکنالوجی

نئی ویڈیو انکرپشن ٹیکنالوجی

کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرے سے محفوظٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پیش رفت ہو رہی ہے لیکن اسی کے ساتھ سکیورٹی کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی ہے جو مستقبل میں موجودہ انکرپشن سسٹمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں سائنسدانوں نے ایک نئی اور جدید انکرپشن تکنیک تیار کی ہے جو خاص طور پر ویڈیو فائلز کو کوانٹم حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔یہ تحقیق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی سے سکیورٹی کے نئے حل تلاش کرنا کتنا ضروری ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ کیا ہے؟روایتی کمپیوٹرز ڈیٹا کو 0 اور 1 کی صورت میں پراسیس کرتے ہیں لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کوانٹم بِٹس (qubits) استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت متعدد حالتوں میں رہ سکتے ہیں۔ اس صلاحیت کی وجہ سے یہ کمپیوٹرز بہت پیچیدہ حساب کو چند سیکنڈز میں حل کر سکتے ہیں۔یہی طاقت انکرپشن کے لیے خطرہ ہے۔ آج کی زیادہ تر سکیورٹی جیسا کہ بینکنگ سسٹمز،واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپس،آن لائن ویڈیو سٹریمز،کلاؤڈ سٹوریج سب RSA اور دیگر روایتی انکرپشن الگوردمز پر چلتے ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں ان کو توڑنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں جس سے ڈیٹا چوری کا خطرہ بڑھ جائے گا۔نئی تحقیق کیا ہے؟حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کی انکرپشن تیار کی ہے جو خاص طور پر ویڈیو فائلز کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ ویڈیوز عام فائلوں سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں کیونکہ ان میں ہزاروں فریمز ہوتے ہیں جو مسلسل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔اس نئے طریقے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو کو ایک مکمل فائل کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ویڈیو کو الگ الگ فریمز میں تقسیم کرتا ہے،ہر فریم کو الگ الگ انکرپٹ کیا جاتا ہے،ہر فریم کے لیے مختلف اور غیر متوقع cryptographic keys استعمال کی جاتی ہیں،ڈیٹا میں موجود پیٹرنز کو ختم کر دیا جاتا ہے۔اس طریقے سے کوئی ہیکر اگر ایک فریم تک رسائی حاصل کر بھی لے تو وہ پوری ویڈیو کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔اس طریقے کی اہم جدتعام ویڈیو انکرپشن میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ویڈیو کمپریشن کی وجہ سے کچھ پیٹرنز باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ پیٹرنز ہیکرز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔نئی تکنیک ان پیٹرنز کو ختم کرنے کے لیے Randomization بڑھاتی ہے اورہر فریم کو الگ الگ غیر متوقع کوڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ Entropy کو بڑھاتی ہے یعنی ڈیٹا کو زیادہ بے ترتیب بنا دیا جاتا ہے تاکہ اس میں کوئی شناختی پیٹرن نہ رہے۔یوں ہر فریم ایک علیحدہ سکیورٹی لیئر کے ساتھ محفوظ ہوتا ہے۔یہ تحقیق کیوں اہم ہے؟آج کے دور میں ویڈیو ڈیٹا انتہائی حساس ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پرسکیورٹی کیمرہ فوٹیج،آن لائن ویڈیو کالز،طبی ریکارڈز، فوجی یا حکومتی نگرانی کے نظام۔اگر یہ ڈیٹا لیک ہو جائے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ایسا نظام جو مستقبل کے خطرات سے پہلے ہی محفوظ ہو بہت ضروری ہے۔اس تحقیق کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹرز کے لیے نہیں بلکہ آج کے عام کمپیوٹرز پر بھی چل سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مکمل تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ مستقبل کے لیے کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیاری بھی ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔تحقیقی تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ نئی انکرپشن تکنیک نے روایتی ویڈیو انکرپشن کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 15 فیصد بہتر سکیورٹی فراہم کی۔اگرچہ یہ بہت بڑا اضافہ نہیں لگتا لیکن کرپٹو گرافی میں اتنا بھی بہت ہے کیونکہ یہ حملہ آوروں کے لیے کامیابی کو کئی گنا مشکل بنا دے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے مستقبل میں کئی ممکنہ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس سے آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارمز کی حفاظت ہو گی۔کلاؤڈ بیسڈ ویڈیو سٹوریج ہو گی۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اپنائی گئی تو یہ فوجی اور دفاعی نظام،ہائی سکیورٹی ویڈیو کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سکیورٹی کے مستقبل کو مضبوط بنا سکتی ہے۔بہرحال یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی انکرپشن مکمل طور پر ناقابلِ شکست نہیں، لیکن یہ محفوظ مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ضرور ہے جو خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔خاص طور پر جب کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو جائیں گے تو ایسے سسٹمز ہی ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کا بنیادی ذریعہ بنیں گے۔یہ نئی ویڈیو انکرپشن تکنیک اس بات کی علامت ہے کہ سائنسدان مستقبل کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔بلا شبہ کوانٹم کمپیوٹنگ جہاں ایک طرف بے پناہ طاقت رکھتی ہے وہیں یہ موجودہ سکیورٹی سسٹمز کے لیے خطرہ بھی ہے،مگراس تحقیق نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جو ویڈیو ڈیٹا کو زیادہ محفوظ بنا کر مستقبل کے ممکنہ حملوں سے بچا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف آج کی ضرورت ہے بلکہ کل کی حفاظت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

مینٹل میتھ

مینٹل میتھ

بچوں کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتوں پر اثراتآج کے جدید اور تیز رفتار دور میں تعلیم صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہی بلکہ ذہنی صلاحیتوں کی مضبوطی بھی اتنی ہی ضروری ہو گئی ہے۔ انہی اہم صلاحیتوں میں سے ایک مینٹل میتھ (Mental math) ہے۔ مینٹل میتھ سے مراد بغیر کاغذ، قلم یا کیلکولیٹر کے صرف دماغ کی مدد سے حساب کرنا ہے۔ یہ مہارت بچوں کی ذہنی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور روزمرہ زندگی میں کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔مینٹل میتھ کی اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ بچوں کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ دماغی نشوونما اور ذہنی طاقتماہرین کے مطابق مینٹل میتھ بچوں کے دماغ کو زیادہ فعال بناتا ہے۔ جب بچہ ذہنی طور پر حساب کرتا ہے تو اس کا دماغ مسلسل سوچنے، تجزیہ کرنے اور حل تلاش کرنے کی مشق کرتا ہے۔ یہ عمل دماغی خلیوں کو مضبوط کرتا ہے اور بچوں میں منطقی سوچ ( Logical Thinking) پیدا کرتا ہے۔ یادداشت اور توجہ میں بہتریمینٹل میتھ بچوں کی یاد رکھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتا ہے کیونکہ انہیں نمبرز اور گنتی کو ذہن میں رکھ کر حل نکالنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ان کی توجہ اورذہنی ارتکاز کو بھی بڑھاتا ہے کیونکہ ذہنی حساب کے دوران بچہ مکمل طور پر مسئلے پر فوکس کرتا ہے۔ خود اعتمادی میں اضافہجب بچہ بغیر کسی مدد کے صحیح جواب دیتا ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہ اعتماد نہ صرف ریاضی بلکہ دیگر مضامین اور زندگی کے فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تعلیمی کارکردگی میں بہتریمینٹل میتھ بچوں کو امتحانات میں تیزی اور درستگی کے ساتھ سوال حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر ریاضی میں یہ مہارت بچوں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر کرتی ہے اور انہیں وقت کے اندر زیادہ سوال حل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں استعمالیہ مہارت صرف سکول تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی بہت اہم ہے۔ خریداری کے دوران بل کا حساب، رقم کی تقسیم، یا وقت کا اندازہ لگانا، یہ سب کام ذہنی حساب سے آسان ہو جاتے ہیں۔ قوت فیصلہ کی تیزیمینٹل میتھ بچوں کو تیزی سے سوچنے اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں وقت بہت قیمتی ہے یہ مہارت بچوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ریاضی سے خوف کم کرنااکثر بچے ریاضی کو مشکل سمجھتے ہیں لیکن جب وہ مینٹل میتھ کی مشق کرتے ہیں تو ان کا ریاضی سے خوف کم ہو جاتا ہے اور یہ ان کے لیے ایک دلچسپ سرگرمی بن جاتی ہے۔مینٹل میتھ کی صلاحیت کیسے بڑھائیں؟بچوں میں مینٹل میتھ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مستقل مشق اور دلچسپ طریقے اپنانا بہت ضروری ہے۔بچوں کو روزانہ چھوٹے چھوٹے حسابی سوالات دیے جائیں۔ ابتدا میں آسان سوالات رکھیں اور آہستہ آہستہ مشکل سطح بڑھائیں۔نمبرز کو توڑ کر حل کرنا سیکھیں مثلاً 58 36 کو حل کرنے کے لیے پہلے 50 30 اور پھر 8 6 الگ الگ کریں۔ اس طریقے سے حساب کرنا آسان ہو جاتا ہے اور دماغ زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔ نمبر گیمز، میتھ پزلز اور تعلیمی ایپس بچوں کے لیے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ بناتے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیت بڑھاتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں استعمالوالدین بچوں کو روزمرہ کاموں میں شامل کریں جیسے خریداری کے دوران حساب لگوانا یا بچت کا اندازہ کروانا۔ اس سے عملی سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔بچوں کو محدود وقت میں سوال حل کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ ان کی رفتار اور ذہنی چستی بڑھے۔جب بچہ درست جواب دے تو اس کی تعریف کریں۔ حوصلہ افزائی بچوں میں مزید سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔والدین اور اساتذہ کا کردارمینٹل میتھ کی ترقی میں والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں دلچسپ طریقوں سے سکھائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ کلاس میں سرگرمیاں، گروپ ورک اور ذہنی کھیل شامل کریں تاکہ بچے سیکھنے کے عمل میں دلچسپی لیں۔مینٹل میتھ بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور عملی زندگی کے لیے ایک انتہائی اہم مہارت ہے۔ یہ نہ صرف ان کی ریاضی کی سمجھ کو بہتر بناتی ہے بلکہ ان کی یادداشت، توجہ، خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ بچوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں دلچسپ طریقوں سے سکھائیں تو ہر بچہ اس مہارت میں مہارت حاصل کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ہنڈنبرگ حادثہ 6 مئی 1937ء کو جرمنی کا مشہور ہوائی جہاز (ایئرشپ) ہنڈنبرگ امریکہ کے شہر لیکہرسٹ، نیو جرسی میں لینڈنگ کے دوران آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔ یہ ایئرشپ اُس وقت دنیا کی سب سے بڑی ہوائی سواریوں میں شمار ہوتا تھا اور اس میں مسافر اور عملہ سوار تھا۔ جیسے ہی یہ زمین کے قریب پہنچا زور دار دھماکہ ہوا اور پورا جہاز شعلوں میں گھِر گیا۔ اس حادثے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔یہ واقعہ اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے بعد ایئرشپ کے ذریعے مسافروں کی نقل و حمل تقریباً ختم ہو گئی۔ اس واقعے نے ہوابازی کی صنعت کو زیادہ محفوظ ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا اور جدید ہوائی جہازوں کی ترقی کو تیز کیا۔ انگلش چینل ٹنل کا افتتاح6 مئی 1994ء کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان زیر سمندر ریلوے سرنگ ''چینل ٹنل‘‘ کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ اس عظیم منصوبے کا افتتاح برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور فرانس کے صدر فرانسوا میتران نے کیا۔ یہ سرنگ تقریباً 50 کلومیٹر لمبی ہے اور انگلینڈ کو فرانس سے براہِ راست جوڑتی ہے۔یہ انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا جس پر کئی دہائیوں تک کام ہوتا رہا۔ اس سرنگ نے یورپ میں سفر اور تجارت کو بہت آسان بنا دیا۔ اب لوگ ٹرین کے ذریعے چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکتے ہیں۔ راجر بینسٹرکا ریکارڈ6 مئی 1954ء کو برطانیہ کے ایتھلیٹ راجر بینسٹر نے ایک میل (تقریباً 1.6 کلومیٹر) کی دوڑ چار منٹ سے کم وقت میں مکمل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 منٹ 59.4 سیکنڈ میں طے کیا جو اُس وقت ناممکن سمجھا جانے والا کارنامہ تھا۔اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ انسان کے لیے چار منٹ سے کم وقت میں ایک میل دوڑنا جسمانی طور پر ممکن نہیں۔ لیکن بینسٹر نے اپنی محنت، تربیت اور عزم سے اس تصور کو غلط ثابت کیا۔ ان کے کارنامے نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو نئی ہمت دی اور کھیلوں میں نئی سوچ کو جنم دیا۔ روم کی لوٹ مار6 مئی 1527ء کو یورپ کی تاریخ کا ایک اہم اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جب رومی سلطنت کی فوجوں نے اٹلی کے شہر روم پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے کوSack of Rome کہا جاتا ہے۔ حملہ آور فوجیوں نے شہر میں داخل ہو کر لوٹ مار، قتل و غارت اور تباہی مچائی۔اس حملے میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور بے شمار تاریخی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ پوپ کلیمنٹ ہفتم کو بھی جان بچانے کے لیے قلعہ بند ہونا پڑا۔ یہ واقعہ نشاۃ ثانیہ کے دور کے خاتمے کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد روم کی ثقافتی اور سیاسی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا۔ پہلا ڈاک ٹکٹ جاری6 مئی 1840ء کو برطانیہ میں دنیا کا پہلا باقاعدہ ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ اس ٹکٹ پر ملکہ وکٹوریہ کی تصویر بنی ہوئی تھی اور اس کی قیمت ایک پینی تھی۔ اس سے پہلے خطوط بھیجنے کا نظام مختلف اور پیچیدہ تھا لیکن اس ٹکٹ نے ڈاک کے نظام کو آسان اور منظم بنا دیا۔یہ ایجاد دنیا بھر میں ڈاک کے نظام کے لیے ایک انقلاب ثابت ہوئی۔ اس کے بعد مختلف ممالک نے بھی اپنے ڈاک ٹکٹ جاری کرنا شروع کیے۔ ڈاک ٹکٹ نے نہ صرف مواصلات کو بہتر بنایا بلکہ تجارت، تعلیم اور سماجی روابط کو بھی فروغ دیا۔