علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

اسپیشل فیچر

تحریر : خواجہ محمد زَکریا


شاعر ِمشرق ومفکرِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے ایک فکرانگیز تحریراقبال چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیااقبال کا انتقال ہوا ،تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیںاقبال نے تین زبانوں میں لکھا ہے۔ اُن کی نثر اُردو اور انگریزی میں ہے جب کہ شاعری، جو اُن کی جملہ صلاحیتوں میں سے اعلیٰ ترین صلاحیت ہے، اُردو اور فارسی میں ہے۔ میرے خیال میں فلسفہ اور علم الاقتصاد پر مستقل کتابیں تصنیف کرنے اور سیاسیات اور بعض دیگر علوم و فنون پر اظہار خیال کرنے کے باوجود اُن کا اصل میدان شاعری ہے۔ نثری کتابوں میں وہ جن حقائق کو دلائل و براہین سے کہتے ہیں، انھیں کو شاعری میں جب وجدانی اور تخیلی سطح پر پرزور اور پرُکشش اُسلوب میں پیش کرتے ہیں ،تو اُن کا اثر بہت بڑھ جاتا ہے جب کہ اُن کی نثری تصنیفات کا استدلال بعض جگہ اختلافی معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک شاعر اقبال، فلسفی اقبال سے زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔بہرحال اقبال کی نظم و نثر کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ملت ِاسلامیہ کے دین و دنیا کو سنوارنا اور پھر ملت ِ اسلامیہ کے توسط سے دنیا بھر کی اقوام و ملل کے افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا۔ انھوں نے جب آنکھ کھولی تو مغربی اقوام دنیا کے بیشتر ممالک پر بالواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہو چکی تھیں۔ افریقا اور ایشیا کے بہت بڑے حصے پر متصرف ہونے کی وجہ سے انگریزی زبان اور مغربی اُن کی تہذیب محکوموں کے لیے قابلِ تقلید بن چکی تھی۔ بقول اکبر الہ آبادی:اپنی منقاروں سے حلقہ کس رہے ہیں جال کاطائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کایہ درست ہے کہ بعض اسلامی ممالک میں احیائی تحریکوں کا آغاز ہو چکا تھا، مگر اُن کے اثرات محدود تھے بل کہ اُن کی وجہ سے محکوم ملکوں کے تضادات اور بھی نمایاں ہو گئے تھے۔ مسلمان ممالک ایک ایک کر کے آزادی سے محروم ہو چکے تھے. ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات یا تو حکمرانوں کے مقلد بن چکے تھے یا پدرم سلطان بود کے خواب میں مست پڑے تھے. ان حالات میں قوم کے کسی بہی خواہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ارد گرد کے حالات سے آنکھیں بند کر لے اور قوم کو ماضی کے سپنوں میں پڑا رہنے دے۔ سرسید احمد خاں، حالی، شبلی، نذیر احمد، اکبر الہ آبادی اور دوسرے بہت سے ادبا اور شعرا اپنے اپنے انداز میں ہندوستانی مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی سعی کر رہے تھے۔ علامہ اقبال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ وہ چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ اقبال کا انتقال ہوا تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت سے مسلمان ممالک رفتہ رفتہ آزاد ہونے لگے تھے۔ اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیں۔ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر ملت اسلامیہ دنیا بھر میں بدستور غیر مؤثر کیوں ہے؟ اس سوال کے ایک یا ایک سے زیادہ جوابات تلاش کرنے چاہییں۔ ان پر عام بحث ہونی چاہیے اور پھر جس بات پر اجماع ِامت ہو اسے ملتِ اسلامیہ کا مشترکہ مقصد بنا کر بروئے کار لانے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اسی ایک سمت میں مرکوز کر دینی چاہییں۔علامہ اقبال نے اپنی نظم و نثر میں ملت کے زوال کے اسباب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور زوال سے اُبھرنے کا ایک واضح طریق کار متعین کیا ہے۔ یہ طریق کار ہے فرد کی اصلاح سے ملت کی اصلاح کی طرف جانا،لیکن علامہ اقبال اس بات سے واقف تھے کہ عام افراد کبھی اپنی اصلاح نہیں کر سکتے کیونکہ وہ زوال آمادہ معاشرے کے شیطانی چکر میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر کسی بددیانت معاشرے میں کوئی فرد دیانت دار بننے کی کوشش کرے تو وہ معاشرے کو بہت کم درست کر سکے گا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس کشمکش میں وہ خود ہی مٹ جائے۔ اس لیے اقبال کا نقطۂ نظر یہی رہا ہے کہ اصلاح اوپر سے نیچے آتی ہے، نیچے سے اوپر نہیں جاتی۔ نظریۂ خودی مردان ِکامل کو پیدا کرتا ہے اور مردانِ کامل دنیا کی اصلاح کرتے ہیں۔ علامہ اقبال مثنوی ’اسرارِ خودی‘ میں مردِ کامل سے اُن توقعات کا اظہار کرتے ہیں:اے سوارِ اشہب دوراں بیااے فروغِ دیدۂ امکاں بیاخیز و قانونِ اخوت ساز دہجامِ صہبائے محبت باز دہباز در عالم بیار ایّامِ صلحجنگجویاں را بدہ پیغامِ صلحریخت از جورِ خزاں برگِ شجرچوں بہاراں بر ریاضِ ما گذرنوعِ انساں مزرع و تو حاصلیکاروانِ زندگی را منزلیترجمہ:(اے زمانے کے گھوڑے کے سوار اور اے امکانات کی دنیا کو روشن کرنے والے، آ اور دنیا میں اخوت اور محبت کے جذبات پھر سے پیدا کر۔ دنیا میں صلح کا زمانہ واپس لا اور جنگجوؤں کو امن کا پیغام دے۔ دنیا کے باغ میں خزاں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تو اس میں بہار بن کر آ۔ بنی نوعِ انسان کی فصل کا حاصل اور زندگی کے کارواں کی منزل تو ہی ہے۔)جب کسی قوم میں ایسے افراد پیدا ہو جاتے ہیں ،تو اس قوم کا کارواں منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام رجائیت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ٹھیک ہو جائیں ،تو دنیا کی بہترین اقوام میں شمار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقبال ہر حال میں رجائیت کے پیغامبر ہیں۔ انھوں نے بار بار ملت کے مختلف افراد اور طبقات پر شدید تنقید کی ہے۔ خود انتقادی اور خود احتسابی کو لازمہ ترقی بتایا ہے اور یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ جب تک ہم اپنی خرابیوں کو تلاش نہیں کریں گے اس وقت تک اصلاح کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا۔ اس وجہ سے اقبال کے ہاں ملت کے مختلف طبقات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی خرابیوں کو طشت ازبان کر کے انھیں اصلاح کا پیغام دیا ہے۔ اقبال ملتِ اسلامیہ کے رہنماؤں سے ناامید تھے۔ نظم ’شمع اور شاعر‘ میں شاعر در حقیقت رہنمائے ملت کی علامت ہے اور پوری نظم ملت اسلامیہ کے زوال کا ایک خوفناک مرقع ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملت نے باصلاحیت رہنما پیدا کرنے بند کر دیے ہیں۔ اس نظم کے علاوہ بھی یہ خیال کلام اقبال میں آخر تک موجود ہے:کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سےکہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دلنوازیفلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیںخبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہےنشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کوترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیےنظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میںوہ شبانی کہ ہے تمہیدِ کلیم اُللّہٰیمیرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صفآہ وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفمنزلِ راہرواں دور بھی دشوار بھی ہےکوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہےنہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کیکہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھیمصطفی کمال پاشا اور رضا شاہ پہلوی نے اپنی اپنی قوم کے لیے بہت کام کیا، لیکن ان کی سعی کے وہ نتائج نہ نکلے جس کے متمنی اقبال تھے۔ یہ حضرات اور ملت اسلامیہ پر مسلط ہونے والے دیگر شہنشاہ، رہنما اور علما ان صلاحیتوں سے عاری تھے جو کسی ملت کو دنیا کی منتخب قوموں میں بدل سکتی ہیں اس وجہ سے اقبال اُن کے گلہ گزار رہے۔ جن رہنماؤں سے اقبال نے توقعات وابستہ کیں انھیں ان کی قوم نے یا مغرب کی سازشوں نے کام کرنے کا موقع نہ دیا۔ نتیجہ یہ کہ ملت فیض حاصل کرنے سے محروم رہی اور حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ رہنماؤں کی کمی کا ہے۔ اس وقت تک کسی اسلامی ملک کا کوئی رہنما اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کا حقیقی قائد تسلیم نہیں کرا سکا۔ وہ ایک دوسرے کو قریب لانے کی بجائے اختلافات پر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ملت کو مزید تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔رہنمایان ِملت میں علمائے دین اور سجادہ نشینان خانقاہ بھی نمایاں حیثیت کے حامل ہیں، جس طرح سیاسی رہنما انحطاط پذیر ہوئے اسی طرح صوفی و ملا بھی زوال کا شکار ہوئے۔ عالمِ اسلام میں مساجد اور خانقاہیں کثرت سے ہیں۔ خصوصاً ہندوستان اور پاکستان میں خانقاہی سلسلہ بے حد وسیع ہے۔ کروڑوں لوگ مسجدوں اور خانقاہوں میں جاتے ہیں اور علماء و صوفیاء سے فیض پانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں کے ائمہ اور خانقاہوں کے صوفیاء الا ماشاء اللہ ملت کے عام افراد سے بہتر نہیں ۔ اُن میں وہ تمام خرابیاں راہ پا چکی ہیں، جو عام لوگوں میں موجود ہیں۔ اُن کے ظاہر و باطن میں واضح تضادات موجود ہیں۔ مذہب اور تصوف نے اُن کے دل و دماغ کو روشن نہیں کیا۔ وہ روایتی طور پر چند رسوم و عبادات انجام دیتے ہیں اور پھر اُن تمام برائیوں میں عملی طور پر ملوث ہو جاتے ہیں، جو مذہب و تصوف کی ضد ہیں۔ پیروں نے ’نذرانوں‘ سے اپنے محل تعمیر کر لیے ہیں اور علمائے دین نے فرقوں کے اختلافات کو ابھار ابھار کر اپنی حیثیتیں بنا لیں ہیں۔ اس لیے مسجد و خانقاہ مردہ ادارے بن کر رہ گئے ہیں ،جہاں سے کوئی مرد مومن نہیں اُٹھتا۔ مسجد و خانقاہ کے وارثوں سے اختلاف رائے کرنا اپنی تکفیر کرانے کے مترادف ہے۔ فروعی مسائل میں قوم کو الجھا کر اس کی صلاحیتیں ضائع کی جا رہی ہیں۔ مختلف مسالک کے افراد ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور جو طاقت اغیار کے خلاف استعمال ہونی چاہیے، وہ آپس میں لڑ لڑ کر تقسیم ہو رہی ہے۔ اقبال اپنے دَور کے علمائے دین، مفتیان شرع اور صوفیا سے بہت بیزار تھا۔ شاید اس کے کلام میں سیاسی رہنماؤں سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ علماء و صوفیا کو بنایا گیا ہے:واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسمِ ازاں، روحِ بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہےمجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقیاس دور کے ملا ہیں کیوں ننگِ مسلمانییہ پیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوریصلہ ان کی کد و کاوش کا ہے سینوں کی بے نوریعلما و صلحا کے بعد اقبال کی تنقید کا نشانہ اہل مدرسہ بنے ہیں، جن میں اساتذہ اور طلبہ دونوں شامل ہیں۔ اقبال کو اساتذہ سے یہ گلہ ہے کہ وہ طلبہ کو نصابات پڑھاتے رہتے ہیں ،مگر اُن کے اذہان کی تربیت نہیں کرتے۔ طلبہ نصابات میں الجھے رہتے ہیں۔ مشاہیر کے اقتباسات رٹ کر امتحانات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، مگر ’صداقت‘ کی تلاش اُن کا مطمح نظر نہیں بنتی۔ چنانچہ اقبال کبھی تو ملا، صوفی، طالب علم اور استاد کو الگ الگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی اُن کو یکجا کر کے اُن کی خرابیوں کو واضح کرتے ہیں:اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقیخونِ دل مرداں ہو جس فقر کی دستاویزکسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنےفقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشیمیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیاتمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوریاٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناکنہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہمکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذتِ اسرار بھی ہے؟خراب کوشکِ سلطان و خانقاہِ فقیرفغاں کہ تخت و مصلٰی تمام زرّاقیباقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیریاے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیریمیں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گامسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیبملا کی نظر نورِ فراست سے ہے محرومبے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئے ناباقبال چاہتے ہیں کہ کورانہ تقلید کی بجائے ملت کے افراد سچائی کی تلاش کے لیے تحقیق و تدقیق کے راستے پر چلیں۔ یہ بڑا کٹھن راستہ ہے، پرُخار اور طویل، مگر اس کو اختیار کیے بغیر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں، لیکن حالات یہ ہیں کہ صوفی، ملا اور اُستاد کسی کو آزادی اظہار دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کیفیت ہو تو تحقیق کیسے پنپ سکتی ہے۔ یہ بات بلاوجہ نہیں کہ اقبال کے ہاںتحقیق اور صداقت کی تلاش پر اتنا زور دیا گیا ہے:شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہیرہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقیفقیہہِ شہر کی تحقیر کیا مجال مریمگر یہ بات کہ میں ڈھونڈھتا ہوں دل کی کُشادکیے ہیں فاش رموزِ قلندری میں نےکہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزادحلقۂ شوق میں وہ جرأتِ رندانہ کہاںآہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیقہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےاور ایک دعائیہ نظم میں کہتے ہیں:بے لوث محبت ہو بیباک صداقت ہوسینوں میں اجالا کر دل صورتِ مینا دےاحساس عنایت کر آثارِ مصیبت کاامروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دےتحقیق کے ذریعے صداقت کی تلاش پر اقبال نے جب اتنا زور کلام صرف کیا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا اقبال کو خرد دشمن کہنا درست ہے یا محض غلط فہمی ہے؟ انھوں نے عشق کی توصیف میں بہت نغمے گائے ہیں اور قوت عمل کو اُبھارنے کے لیے عقل پر تنقید بھی کر دی ہے، مگر انھیں معروف معنوں میں عقل کا مخالف قرار دینا درست نہیں، جو شخص مردِ مومن کے بارے میں یہ لکھے وہ عقل کا مخالف نہیں ہو سکتا:عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہجب وہ ہمیں بار بار تدبر اور تحقیق اور تلاش صداقت پر اکساتے ہیں تو یہ باتیں عقل کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اگر جہان تازہ کی افکار تازہ سے نمود ہوتی ہے، تو اقبال افکار تازہ کی دعوت دیتے ہوئے عقل کے مخالف ہو ہی نہیں سکتے کہ افکار کا تعلق عقل سے ہے۔ اب اقبالیات کے ماہرین کو چاہیے کہ ہماری جذباتی قوم کو نعروں پر زندہ رکھنے کی بجائے اسے غور و فکر کی دعوت دیں۔ جب کوئی قوم غور و فکر کے بعد اپنا ہدف متعین کر لیتی ہے ،تو عشق کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ جب آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ نے اپنے مقاصد کا تعین کر لیا ہے، اس وقت ان کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا مرحلہ آتا ہے، اور اسی کا نام عشق ہے،مگر اس کے بغیر قوم میں جذباتیت پیدا کرنے کا مقصد محض اُن کو آپس میں لڑانا اور تقسیم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان کے فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی، اقتصادی، سیاسی مسائل پر جس قدر از سر نو غور کرنے کی آج ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی،لیکن اقبالیات کے جلسوں میں محض چند جذباتی یا روایتی باتیں کہہ کر لوگ رخصت ہو جاتے ہیں اور کسی ایک فرد کے دل میں تحقیق و اکتشاف کی ایک لہر بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال ملت ِاسلامیہ کے ایک بہت بڑے مفکر ہیں ،مگر اُن کی سوچ کو چند فرسودہ باتوں تک محدود کر دینا نہ تو اقبال کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی ملت ِاسلامیہ کی خدمت ہے۔اقبال ملت کے افراد کو ذاتی اغراض سے بلند ہو کر سب کی بھلائی کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رہنماؤں اور مقتدر طبقات کی توجہ خود احتسابی اور خود انتقادی کی طرف دلاتے ہیں، جس کے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں۔ خوش فہمیوں میں مبتلا قومیں اپنی کمزوریوں کو دُور نہیں کر سکتیں۔ وہی قومیں عروج کی طرف سفر کرتی ہیں، جن کے افراد اس سلسلۂ روز و شب کے حالات و واقعات کو پرکھتے ہیں اور اس غور و فکر کے نتائج کو رُو بہ عمل لانے کے لیے اُن خصوصیات کو پیدا کرتے ہیں ،جن کی تلقین خضر راہ (بانگِ درا) کے مندرجہ ذیل بند میں کی گئی ہے:ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیداکرےخاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے سفیررات کے تاروں میں اپنا راز داں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بچوں کو ریاضی سیکھنے میں دشواری کیوں؟

بچوں کو ریاضی سیکھنے میں دشواری کیوں؟

دماغی تحقیق نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیاریاضی کو ایک مشکل مضمون سمجھا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو زبان، مطالعہ یا دیگر مضامین میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن ریاضی کے سوالات حل کرتے وقت مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بچے کی توجہ کم ہے، مشق ناکافی ہے یا اس کی ذہانت مطلوبہ سطح کی نہیں تاہم ایک جدید تحقیق اس حوالے سے ایک نئی حقیقت سامنے لائی ہے کہ ریاضی میں مشکلات کا تعلق صرف محنت یا ذہانت سے نہیں بلکہ دماغ کے مخصوص حصوں کے کام کرنے کے انداز سے بھی ہو سکتا ہے۔امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی اور سان ہوزے سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس موضوع پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین نے بچوں کے دماغی سکینز اور ان کی ریاضیاتی کارکردگی کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ بعض بچے ریاضی کے سوال حل کرنے میں دوسروں کی نسبت زیادہ دشواری کیوں محسوس کرتے ہیں۔نمبروں کو سمجھنے کا دماغی عملتحقیق میں 7 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کو مختلف قسم کے عددی سوالات حل کرنے کے لیے دیے گئے۔ بعض سوالات میں عام ہندسے یعنی 3، 5 اور 8 جیسے اعداد استعمال کیے گئے جبکہ بعض میں انہی ہندسوں کو نقطوں کی شکل میں ظاہر کیا گیا۔ مثال کے طور پر تین نقطے یا پانچ نقطے دکھا کر بچوں سے ان کا موازنہ کرنے کو کہا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ ریاضی میں کمزور سمجھے جانے والے بچے سوال کو سمجھنے کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ان کے سامنے نقطوں کی شکل میں سوال پیش کیا گیا تو ان کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی اور وہ دوسرے بچوں کی طرح درست جواب دے سکے لیکن جب یہی سوال عددی علامات یا ہندسوں کی شکل میں پیش کیا گیاتو ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔اس سے پتا چلتا ہے کہ اصل مسئلہ سوال کو سمجھنے میں نہیں بلکہ عددی علامات کو حقیقی مقدار سے جوڑنے میں ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بچے جانتے ہیں کہ پانچ چیزیں کیا ہوتی ہیں لیکن دماغ بعض اوقات 5کے ہندسے کو اسی تصور سے فوری طور پر جوڑنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔دماغ کے کون سے حصے کردار ادا کرتے ہیں؟محققین نے بچوں کے دماغ کا ایم آر آئی سکین بھی کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ سوالات حل کرتے وقت کون سے حصے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دو اہم دماغی حصے ریاضیاتی صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔پہلا حصہ مڈل فرنٹل جائرس کہلاتا ہے۔ یہ حصہ توجہ مرکوز رکھنے، معلومات کو یاد رکھنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسرا حصہ انٹیریئر سنگولیٹ کورٹیکس ہے جو غلطیوں کی نشاندہی، فیصلہ سازی اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تحقیق میں دیکھا گیا کہ ریاضی میں دشواری کا شکار بچوں میں ان دونوں حصوں کی سرگرمی نسبتاً کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوال حل کرتے وقت اپنی غلطیوں کو کم محسوس کرتے ہیں اور جواب دیتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں لاتے۔جلدبازی بھی ایک مسئلہتحقیق کا ایک اور دلچسپ پہلو بچوں کے رویے سے متعلق تھا۔ ماہرین نے دیکھا کہ ریاضی میں کمزور بچے اکثر سوالات کے جواب جلدی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ان سے غلطی ہو جائے تو وہ اس پر زیادہ غور نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی سوچ کے انداز میں کوئی خاص تبدیلی لاتے ہیں۔اس کے برعکس ریاضی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بچے غلط جواب کے بعد زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کا جائزہ لیتے ہیں اور اگلے سوال میں زیادہ توجہ کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی عادت انہیں بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔والدین اور اساتذہ کیا کر سکتے ہیں؟اس تحقیق کے نتائج تعلیمی میدان میں کئی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاضی میں کمزوری کا مطلب ذہانت کی کمی نہیں۔ بعض بچوں کو صرف ہندسوں کے درمیان تعلق قائم کرنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو صرف کتابی سوالات تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں ریاضی کے استعمال کے مواقع پیدا کریں۔ خریداری کے دوران قیمتوں کا حساب لگوانا، کھلونوں کی گنتی کروانا، یا اشیا کو گروپوں میں تقسیم کروانا مفید سرگرمیاں ثابت ہو سکتی ہیں۔اسی طرح رنگین بلاکس، چارٹس اور تصویری مواد کے ذریعے بچوں کو مقدار کا تصور سمجھانا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب بچے حقیقی اشیا کے ذریعے اعداد کو محسوس کرتے ہیں تو ان کے دماغ میں نمبروں اور مقداروں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ریاضی سکھانے کا نیا زاویہیہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روایتی تدریسی طریقوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے دماغی عمل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی بچے کو ریاضی میں دشواری پیش آ رہی ہو تو اسے محض زیادہ مشق یا ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ اس کی سوچ کے انداز کو سمجھا جائے اور ایسے طریقے اپنائے جائیں جو اعداد کو زیادہ واضح اور قابلِ فہم بنا سکیں۔ریاضی صرف نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ سوچنے، تجزیہ کرنے اور مسائل حل کرنے کی تربیت بھی ہے۔ اس لیے بچوں کی حوصلہ افزائی، مناسب رہنمائی اور سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ تدریسی حکمت عملی مستقبل کی نسلوں کو بہتر سیکھنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

رومن گلیڈی ایٹر اور شیر

رومن گلیڈی ایٹر اور شیر

1800 سال پرانا معمہ کیسے حل ہوا؟انسانی تاریخ میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو صدیوں تک افسانہ اور حقیقت کے درمیان معلق رہتی ہیں۔ رومن سلطنت کے گلیڈی ایٹرز اور خونریز مقابلوں کی داستانیں بھی انہی میں شامل ہیں۔ فلموں، ناولوں اور تاریخی تحریروں میں اکثر دکھایا گیا ہے کہ گلیڈی ایٹر میدانِ جنگ میں شیروں اور دوسرے خطرناک جانوروں کا سامنا کرتے تھے لیکن اس دعوے کے حق میں براہِ راست جسمانی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اب برطانیہ میں آثارِ قدیمہ کی ایک تحقیق نے تقریباً دو ہزار سال پرانے اس راز پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو شمالی انگلینڈ کے شہر یارک میں ایک انسانی ڈھانچہ ملا ہے جس کی ہڈیوں پر شیر کے دانتوں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا پہلا براہِ راست ثبوت سمجھی جا رہی ہے کہ رومن دور میں انسانوں اور بڑے شکاری جانوروں کے درمیان جان لیوا مقابلے واقعی منعقد ہوتے تھے۔یارک میں ملنے والا حیران کن ڈھانچہیہ ڈھانچہ یارک کے ایک قدیم قبرستان سے دریافت ہوا جو رومن دور میں اہم فوجی اور انتظامی مرکز تھا۔ اس زمانے میں یارک کو ایبوراکم (Eboracum) کہا جاتا تھا اور یہ برطانیہ میں رومن اقتدار کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ماہرین نے جس شخص کا ڈھانچہ دریافت کیا اس کی عمر موت کے وقت تقریباً 26 سے 35 سال کے درمیان تھی۔ ہڈیوں کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ وہ جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور انسان تھا۔ اس کے جسم پر پرانی چوٹوں اور زخموں کے آثار بھی موجود تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اکثر پرتشدد سرگرمیوں یا لڑائیوں میں حصہ لیتا رہا تھا۔تحقیق کے دوران سب سے حیران کن بات اس کی کولہے کی ہڈی پر موجود مخصوص نشانات تھے۔ ابتدا میں یہ واضح نہیں تھا کہ یہ نشانات کس جانور کے دانتوں سے بنے ہیں، لیکن جدید سائنسی تکنیکوں نے اس معمہ کو حل کر دیا۔ ماہرین نے ہڈی پر موجود نشانات کے تھری ڈی سکین تیار کیے اور ان کا موازنہ مختلف بڑے گوشت خور جانوروں مثلاً شیر، چیتے اور دوسرے شکاری جانوروں کے دانتوں کے نشانات سے کیا۔نتائج حیران کن تھے۔ نشانات کی ساخت اور گہرائی سب سے زیادہ شیر کے دانتوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ مزید دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ زخم غالباً اس وقت لگے جب انسان مر چکا تھا یا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیر نے اس کے جسم کو نوچا یا کاٹا تھا۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی انسانی ڈھانچے پر ایسے نشانات دریافت ہوئے ہیں جو براہِ راست رومن دور کے شیر اور انسان کے تصادم کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔گلیڈی ایٹرز کے خونریز کھیلرومن ایمپائر میں عوامی تفریح کے لیے بڑے بڑے میدان بنائے جاتے تھے جہاں گلیڈی ایٹرز ایک دوسرے سے یا خطرناک جانوروں سے لڑتے تھے۔ ان مقابلوں کا مقصد عوام کو تفریح فراہم کرنا اور سلطنت کی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔قدیم رومن مصنفین نے اپنی تحریروں میں ان کھیلوں کا ذکر کیا ہے۔ تاریخی تصاویر، موزیکس اور مجسمے بھی ایسے مناظر دکھاتے ہیں جن میں انسان شیر، ریچھ یا دوسرے جنگلی جانوروں کے مقابلے میں نظر آتے ہیں۔ تاہم مورخین کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی براہِ راست جسمانی ثبوت موجود نہیں تھا کہ ایسے مقابلے حقیقت میں ہوتے تھے۔یارک میں ملنے والی یہ دریافت اب ان تاریخی بیانات کی سائنسی تصدیق کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رومن ایمپائر کے شمالی علاقوں تک بھی ایسے خونریز کھیل منعقد کیے جاتے تھے۔شیر برطانیہ تک کیسے پہنچا؟اس دریافت نے ایک اور دلچسپ سوال کو جنم دیا ہے۔ برطانیہ میں تو قدرتی طور پر شیر موجود نہیں تھے پھر وہ وہاں کیسے پہنچے؟ماہرین کے مطابق رومن ایمپائر کا تجارتی اور فوجی نیٹ ورک بہت وسیع تھا۔ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور دوسرے دور دراز علاقوں سے جنگلی جانور پکڑ کر سلطنت کے مختلف شہروں میں لائے جاتے تھے۔ ان جانوروں میں شیر، چیتے، ہاتھی اور دوسرے جانور شامل تھے۔یہ جانور سمندری اور زمینی راستوں کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر دور منتقل کیے جاتے تھے۔ پھر انہیں عوامی تماشوں اور مقابلوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ یارک میں ملنے والا ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ رومن ایمپائر کی رسائی اور انتظامی صلاحیت کتنی وسیع تھی کہ وہ افریقی شیروں کو بھی برطانیہ تک لے آنے میں کامیاب تھی۔تاریخ اور سائنس کا امتزاجیہ دریافت صرف ایک ہڈی یا ایک زخم کی کہانی نہیں بلکہ تاریخ اور سائنس کے اشتراک کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔ جدید تھری ڈی سکیننگ، حیاتیاتی تجزیے اور آثارِ قدیمہ کی تکنیکوں نے ایک ایسا معمہ حل کیا ہے جو تقریباً اٹھارہ سو برس سے پوشیدہ تھا۔ماضی میں جو باتیں صرف تحریری روایات یا فن پاروں میں موجود تھیں، اب ان کی تصدیق حقیقی جسمانی شواہد سے ہو رہی ہے۔ اس طرح انسانی تاریخ کے ان گوشوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو صدیوں سے دھند میں چھپے ہوئے تھے۔یارک میں ملنے والی یہ ہڈی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رومن تفریحی کھیل محض ڈرامائی کہانیاں نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے حقیقی انسانوں کی زندگیاں، ان کی قربانیاں اور بعض اوقات ان کی ہولناک اموات بھی شامل تھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

جان کیبوٹ کی شمالی امریکہ آمد24 جون 1497ء کو اطالوی ملاح جان کیبوٹ شمالی امریکہ کے ساحل پر پہنچا۔ وہ انگلستان کے بادشاہ ہنری ہفتم کی سرپرستی میں بحرِ اوقیانوس کے پار نئی تجارتی راہوں کی تلاش کے لیے روانہ ہوا تھا۔ مؤرخین کے مطابق وہ موجودہ کینیڈا کے علاقے نیوفاؤنڈ لینڈ یا اس کے قریبی ساحل تک پہنچا۔ جان کیبوٹ نے اپنے جہاز ''میتھیو‘‘ کے ذریعے بحرِ اوقیانوس عبور کیا اور ایک ایسے خطے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جس کے بارے میں یورپ میں بہت کم معلومات موجود تھیں۔ بعد کی صدیوں میں برطانیہ نے کینیڈا اور شمالی امریکہ کے دیگر علاقوں میں جو نوآبادیاں قائم کیں ان کے دعوؤں کی تاریخی بنیاد جان کیبوٹ کی دریافت کو قرار دیا گیا۔ نپولین کا روس پر حملہ24 جون 1812ء کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ نے روس پر حملہ شروع کیا۔ تقریباً چھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل یہ لشکر اس وقت یورپ کی سب سے بڑی فوجی قوت سمجھا جاتا تھا۔ نپولین نے دریائے نیمن عبور کرکے روسی سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا اور یوں تاریخ کی ایک عظیم ترین فوجی مہم کا آغاز ہوا۔ابتدائی طور پر فرانسیسی فوج تیزی سے روس کے اندر داخل ہوئی لیکن روسیوں نے پسپائی اختیار کی اور راستے میں موجود خوراک اور وسائل تباہ کرتے گئے۔ جب فرانسیسی فوج ماسکو پہنچی تو شہر تقریباً خالی اور آگ کی لپیٹ میں تھا۔ شدید سردی، بھوک اور بیماری نے فرانسیسی فوج کو تباہ کر دیا۔روس سے واپسی کے دوران نپولین کی فوج کا بیشتر حصہ ختم ہو گیا۔ جنگِ سولفیرینو24 جون 1859ء کو شمالی اٹلی کے مقام سولفیرینو میں ایک عظیم جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں تقریباً تین لاکھ فوجیوں نے حصہ لیا اور ایک ہی دن میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انیسویں صدی کی یہ خونریز ترین لڑائیوں میں سے ایک تھی۔جنگ کے بعد سوئس تاجر ہنری ڈونانٹ میدانِ جنگ سے گزرا اور زخمی فوجیوں کی حالت دیکھ کر شدید متاثر ہوا۔ اس نے زخمیوں کی امداد کے لیے رضاکارانہ خدمات کے تصور کو فروغ دیا اور بعد ازاں اپنی مشہور کتاب ''اے میموری آف سولفیرینو‘‘ تحریر کی۔ہنری ڈونانٹ کی انہی کوششوں کے نتیجے میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی وجود میں آئی اور جنیوا کنونشنز کی بنیاد پڑی۔ماسکو وکٹری پریڈ24 جون 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کے بعد سوویت یونین نے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں ایک عظیم الشان وکٹری پریڈ کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب جنگ کے اختتام کے بعد سوویت افواج کی کامیابی اور لاکھوں قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس پریڈ کا سب سے یادگار منظر وہ تھا جب جرمن فوج کے قبضے میں لیے گئے جھنڈے اور فوجی نشانات لینن کے مزار کے سامنے پھینکے گئے۔ اس عمل کو نازی جرمنی کی مکمل شکست اور سوویت فتح کی علامت سمجھا گیا۔یہ تقریب نہ صرف جنگ کے خاتمے کی یادگار بنی بلکہ اس نے سوویت یونین کی عالمی طاقت کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کو بھی نمایاں کیا۔

مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے

مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے

سائنسدانوں اور محققین کی وارننگمصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر میں تحقیق، تعلیم، صحافت اور کاروبار کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔ آج طلبہ اپنی اسائنمنٹس کی تیاری سے لے کر محققین تحقیقی مواد جمع کرنے تک، ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ChatGPT، Gemini، Copilot اور دیگر جدید پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن ماہرین اب خبردار کر رہے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز پر مکمل انحصار سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً جب بات حوالہ جات اور تحقیقی ذرائع کی ہو۔حالیہ دنوں میں امریکہ میں منعقد ہونے والے مختلف سائنس میلوں اور تحقیقی مقابلوں کے ججوں نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق متعدد طلبہ اپنے پراجیکٹس میں ایسے حوالہ جات پیش کر رہے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتے یا جن میں مصنف، جرنل، اشاعت کی تاریخ اور دیگر تفصیلات غلط درج ہوتی ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ حوالہ جات پر مشتمل تھی۔جعلی حوالہ جات کا بڑھتا ہوا مسئلہماہرین کے مطابق اے آئی کے چیٹ بوٹس بظاہر انتہائی اعتماد کے ساتھ معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ ایسی معلومات بھی تخلیق کر دیتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ ٹیکنالوجی کی زبان میں اس رجحان کو Hallucination کہا جاتا ہے۔جب کوئی صارف کسی مخصوص موضوع پر تحقیقی حوالہ جات طلب کرتا ہے تو بعض اوقات AI ایسے تحقیقی مقالوں کے نام، مصنفین اور جرائد تخلیق کر دیتا ہے جو حقیقت میں کبھی شائع ہی نہیں ہوئے۔ چونکہ یہ معلومات بظاہر مستند انداز میں پیش کی جاتی ہیں اس لیے بہت سے طلبہ اور نئے محققین انہیں درست سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں۔سائنس فیئر کے ججوں نے متعدد ایسے پراجیکٹس دیکھے ہیں جن میں حوالہ جات کی فہرست تو موجود تھی لیکن ان میں شامل کئی تحقیقی مقالے آن لائن تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل سکے۔ مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ حوالہ جات مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔صرف طلبہ ہی نہیں محققین بھی متاثریہ مسئلہ صرف سکول یا کالج کے طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ پیشہ ور محققین بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے بعض مقالات میں بھی ایسے حوالہ جات پائے گئے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں تھے۔ ان جعلی حوالہ جات کو Ghost References کا نام دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی محقق غیر مصدقہ AI مواد کو براہ راست اپنے تحقیقی کام میں شامل کر لیتا ہے تو اس سے پورے تحقیقی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔تحقیق کی دنیا میں حوالہ جات کی حیثیت بنیاد کی مانند ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی غلط معلومات پر قائم ہو تو تحقیق کے نتائج بھی مشکوک ہو جاتے ہیں؛چنانچہ تحقیقی ادارے اور جامعات اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کہاں غلطی کرتی ہے؟مصنوعی ذہانت دراصل معلومات کو سمجھنے کے بجائے زبان کےPatterns کی بنیاد پر جواب تیار کرتی ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ حقیقی ڈیٹا بیس سے منسلک نہیں ہوتی نتیجتاً بعض مواقع پر یہ ممکنہ طور پر درست دکھائی دینے والی لیکن حقیقت میں غلط معلومات تیار کر دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تجربات میں ماہرین نے مصنوعی ذہانت کو درست حوالہ جات فراہم کیے اور صرف ان کی فارمیٹنگ درست کرنے کا کہا۔ اس عمل کے دوران بھی AI نے بعض حوالوں میں مصنفین کے نام، جلد نمبر یا اشاعتی تفصیلات تبدیل کر دیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف نئے حوالہ جات گھڑنے تک محدود نہیں بلکہ موجودہ معلومات میں غیر ارادی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ تعلیم وتحقیق کیلئے خطرے کی گھنٹی تعلیم اور تحقیق درست معلومات پر قائم ہوتی ہے۔ اگر طالب علم مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات کو تصدیق کے بغیر استعمال کرنے لگیں تو غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس طرح طلبہ کے تحقیقی مقالے، تھیسس اور اسائنمنٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ماہرین مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اسے ایک مفید معاون ٹیکنالوجی قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ AI کا استعمال نہیں بلکہ اس پر اندھا اعتماد ہے۔تحقیقی کام کے دوران ہر حوالہ، ہر دعوے اوراعدادوشمار کی اصل ماخذ سے تصدیق ضروری ہے۔ اگر AI کسی تحقیقی مقالے کا حوالہ فراہم کرے تو محقق کو چاہیے کہ اس مقالے کو جرنل کی ویب سائٹ یا ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے خود تلاش کرے۔ طلبہ کو بھی سکھایا جانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت تحقیق میں معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کی فراہم کردہ معلومات کو حتمی سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔مستقبل کا چیلنجمصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں روز بروز بہتر ہو رہی ہیں اور آنے والے برسوں میں اس کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم جوں جوں یہ ٹیکنالوجی طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے۔تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکزکو ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیں۔ مصنوعی ذہانت یقیناً علم اور تحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب ہے لیکن کوئی بھی مشین انسانی تحقیق، تنقیدی جائزے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی لیے AI سے مدد ضرور لیں مگر اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کریں۔

منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟

منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟

تاریخ انسانی میں دولت مند افراد کی کمی نہیں رہی۔ قدیم مصر کے فرعون ہوں، روم کے شہنشاہ یا جدید دور کے ارب پتی سرمایہ دار، ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے جن کی دولت نے دنیا کو حیران کیا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ تاریخ کا سب سے امیر آدمی کون تھا تو بیشتر مؤرخین کی انگلی مغربی افریقہ کے چودہویں صدی کے ایک حکمران، منسا موسیٰ، کی جانب اٹھتی ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کی دولت کا درست اندازہ آج بھی ممکن نہیں اور جس کے سفرِ حج نے مصر کی معیشت تک کو متاثر کر دیا تھا۔سونے کی کانوں سے شاہی خزانے تکچودہویں صدی عیسوی میں جب یورپ کے بیشتر حصے سیاسی انتشار اور معاشی مسائل کا شکار تھے، مغربی افریقہ میں سلطنت مالی خوشحالی اور ترقی کی علامت تھی۔اور اس سلطنت کا وحکمران تھا ، منسا موسیٰ تھا، جس کا نام آج بھی دولت، اقتدار اور فیاضی کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔منسا موسیٰ 1312ء میں مالی سلطنت کا حکمران بنا۔ منسا دراصل شاہی لقب تھا جس کے معنی بادشاہ یا شہنشاہ کے ہیں۔ اُس کے دور میں مالی سلطنت موجودہ مالی، سینیگال، گنی، نائیجر اور موریطانیہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال تھا خصوصاً سونے کی کانیں اس کی اصل طاقت تھیں۔مؤرخین کے مطابق اس زمانے میں دنیا کے معلوم سونے کا ایک بڑا حصہ مالی سے حاصل ہوتا تھا۔ بامبوک(Bambouk) اور بری(Bure) کے علاقے سونے کی پیداوار کے اہم مراکز تھے۔ یہی سونا منسا موسیٰ کی بے مثال دولت کی بنیاد بنا۔ اس کے علاوہ مالی کی سلطنت صحارا کے پار تجارت کے اہم راستوں پر قابض تھی۔ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ جانے والے قافلے مالی سے گزرتے تھے، جس سے خزانے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تھا۔منسا موسیٰ کا سفر حجمنسا موسیٰ کی شہرت صرف دولت کی وجہ سے نہیں پھیلی، اس کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ 1324ء میں مکہ مکرمہ کے لیے کیا جانے والا حج کا سفر ہے۔یہ سفر اتنا پرشکوہ تھا کہ اس کی وجہ سے منسا موسیٰ کی شہرت نہ صرف اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئی بلکہ تاجروں کے ذریعے یورپ تک اس کے نام کا چرچا ہوا۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ حج کے اس سفر میں موسیٰ کے ہمراہ 60 ہزار فوجی اور 12 ہزار غلام تھے جنہوں نے چار چار پاؤنڈ سونا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ 80 اونٹوں پر بھی سونا لدا ہوا تھا۔ اندازہ ہے کہ موسیٰ نے 125 ٹن سونا اس سفر میں خرچ کیا۔ اس سفر کے دوران وہ جہاں سے بھی گزرا، غربا اور مساکین کی مدد کرتا رہا اور ہر جمعہ کو ایک نئی مسجد بنواتا رہا۔ اس حج کے بعد منسا موسیٰ کا نام اسلامی دنیا کے بڑے حکمرانوں میں شمار ہونے لگا۔ عرب مؤرخین نے اس کے بارے میں تفصیل سے لکھا اور یورپی نقشہ سازوں نے اپنے نقشوں میں مالی کو نمایاں مقام دینا شروع کر دیا۔ چودہویں صدی کے بعض نقشوں میں منسا موسیٰ کو تاج پہنے اور ہاتھ میں سونے کا ڈلا تھامے دکھایا گیا ہے جو اس کی دولت کی عالمی شہرت کا ثبوت ہے۔دولت سے بڑھ کر علم و ثقافت کا سرپرستمنسا موسیٰ صرف دولت مند بادشاہ نہیں تھا بلکہ علم دوست حکمران بھی تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کسی سلطنت کی اصل طاقت صرف خزانے میں نہیں بلکہ علم و دانش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے ٹمبکٹو کو علمی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ٹمبکٹو اُس کے دور میں دنیا کے اہم علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ مصر، مراکش اور اندلس سے علما ، فقہااور معمار یہاں آنے لگے۔ مدارس، مساجد اور کتب خانے قائم کیے گئے۔ فقہ، ریاضی، فلکیات، تاریخ اور ادب کی تعلیم دی جانے لگی اور ٹمبکٹو کی شہرت بغداد، قاہرہ اور قرطبہ جیسے علمی مراکز کے ہم پلہ سمجھی جانے لگی۔منسا موسیٰ کے روزمرہ معمولات کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں تاہم تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ دربار میں مختلف علاقوں کے نمائندوں اور تاجروں سے ملاقاتیں کرتا، مشیروں سے مشورے کرتا اور سلطنت کے انتظامی امور کی نگرانی کرتا تھا۔ مذہبی رجحان کی وجہ سے عبادات اور اسلامی تعلیمات بھی اس کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔اس کی شخصیت میں شاہانہ وقار اور مذہبی وابستگی کا دلچسپ امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ بے پناہ دولت کا مالک تھا دوسری طرف مساجد اور تعلیمی اداروں کی تعمیر پر خطیر سرمایہ خرچ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک امیر حکمران نہیں بلکہ ایک دور اندیش ریاست ساز کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔1337ء کے قریب منسا موسیٰ کا انتقال ہوگیا اور اس عظیم حکمران کے بعد مالی کا علمی، ثقافتی اور مالیاتی مقام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ منسا موسیٰ کے بعد مالی کی سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ ایک ایک کرکے تمام علاقے ہاتھ سے نکل گئے اور 1854ء میں شہر گاد کے سونگھائی حکمران نے مالی کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔لیکن اس سلطنت کے نامور حکمران کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ آج جب دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست مرتب کی جاتی ہے تو جدید دور کے ارب پتی بھی اس کے سامنے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

بیناک برن کی جنگ23 جون 1314 ء کو سکاٹ لینڈ کی تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا جسے بیناک برن کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں آزادی کی جدوجہد کا اہم مرحلہ تھی۔ سکاٹ فوج کی قیادت رابرٹ دی بروس کر رہے تھے جبکہ انگریز فوج کی قیادت ایڈورڈدوم کے ہاتھ میں تھی۔ سکاٹ لینڈ کئی برسوں سے انگریزی تسلط کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔ رابرٹ دی بروس نے سکاٹ قوم کو متحد کیا اور انگریز افواج کے خلاف مزاحمت کو منظم کیا۔ اس جنگ کے نتائج دور رس ثابت ہوئے۔ سکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک کو زبردست تقویت ملی اور رابرٹ دی بروس کی حیثیت ایک قومی ہیرو اور بادشاہ کے طور پر مستحکم ہوئی۔ بعد ازاں 1328ء میں انگلستان نے سکاٹ لینڈ کی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ ٹائپ رائٹر پیٹنٹ کا اجرا 23 جون 1868ء کو امریکی موجدکرسٹوفر لیتھم شولز اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے آلے کا پیٹنٹ ملا جس نے تحریری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ یہ آلہ ٹائپ رائٹر تھا جسے جدید کمپیوٹر کی بورڈ کا پیشرو سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں سرکاری اور تجارتی امور میں تحریری ریکارڈ کی اہمیت بڑھ رہی تھی لیکن تمام کام ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ شولز نے ایک ایسی مشین تیار کی جو حروف کو کاغذ پر تیزی اور یکسانیت کے ساتھ منتقل کر سکتی تھی۔ بعد ازاں اسی مشین کی بنیاد پر QWERTY کی بورڈ لے آؤٹ متعارف ہوا جو آج بھی دنیا بھر کے کمپیوٹروں اور موبائل آلات میں استعمال ہو رہا ہے۔ٹائپ رائٹر نے صحافت، کاروبار، عدالتی نظام، سرکاری دفاتر اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اولمپک کمیٹی کا قیام 23 جون 1894 کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کا قیام فرانس کے شہر پیرس میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام میں فرانسیسی ماہرِ تعلیم کوبرٹین نے مرکزی کردار ادا کیا۔ان کا خیال تھا کہ کھیل مختلف قوموں کے درمیان امن، دوستی اور صحت مند مقابلے کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں جدید اولمپک تحریک وجود میں آئی۔ 23 جون کو پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں ہونے والی کانفرنس میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی قائم کی گئی۔IOC کا بنیادی مقصد اولمپک کھیلوں کا انعقاد، ان کے اصولوں کی نگرانی اور عالمی سطح پر کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔ اس ادارے کے قیام کے دو سال بعد 1896 ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں جدید دور کے پہلے اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔ انٹارکٹک معاہدے کا نفاذ 23 جون 1961ء کوانٹارکٹک ٹریٹی باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا۔ یہ معاہدہ سرد جنگ کے دور میں بین الاقوامی تعاون کی ایک غیر معمولی مثال سمجھا جاتا ہے۔انٹارکٹکا زمین کا سب سے جنوبی اور انتہائی سرد براعظم ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک کئی ممالک اس خطے پر دعوے کر رہے تھے جس سے مستقبل میں تنازعات کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک نے ایک معاہدہ تشکیل دیا جس کے تحت انٹارکٹکا کو صرف سائنسی تحقیق اور پرامن مقاصد کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔اس معاہدے نے براعظم میں فوجی سرگرمیوں، ہتھیاروں کی آزمائش اور جوہری دھماکوں پر پابندی عائد کی۔ سائنسدانوں کو تحقیق کے لیے آزادانہ رسائی دی گئی اور مختلف ممالک کے درمیان سائنسی معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔بریگزٹ ریفرنڈم23 جون 2016ء کو بریگزٹ ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں برطانیہ کے عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً 51.9 فیصد ووٹرز نے یورپی یونین چھوڑنے جبکہ 48.1 فیصد نے اس میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔یہ ریفرنڈم کئی برسوں سے جاری سیاسی اور عوامی بحث کا نتیجہ تھا۔ یورپی یونین کے مخالفین کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کو اپنی سرحدوں، قوانین اور اقتصادی پالیسیوں پر مکمل خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حامیوں کا خیال تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے لیے فائدہ مند ہے۔نتائج سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور ملک کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔