علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

علامہ اقبال اور اسباب زوال ملت

اسپیشل فیچر

تحریر : خواجہ محمد زَکریا


شاعر ِمشرق ومفکرِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے ایک فکرانگیز تحریراقبال چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیااقبال کا انتقال ہوا ،تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیںاقبال نے تین زبانوں میں لکھا ہے۔ اُن کی نثر اُردو اور انگریزی میں ہے جب کہ شاعری، جو اُن کی جملہ صلاحیتوں میں سے اعلیٰ ترین صلاحیت ہے، اُردو اور فارسی میں ہے۔ میرے خیال میں فلسفہ اور علم الاقتصاد پر مستقل کتابیں تصنیف کرنے اور سیاسیات اور بعض دیگر علوم و فنون پر اظہار خیال کرنے کے باوجود اُن کا اصل میدان شاعری ہے۔ نثری کتابوں میں وہ جن حقائق کو دلائل و براہین سے کہتے ہیں، انھیں کو شاعری میں جب وجدانی اور تخیلی سطح پر پرزور اور پرُکشش اُسلوب میں پیش کرتے ہیں ،تو اُن کا اثر بہت بڑھ جاتا ہے جب کہ اُن کی نثری تصنیفات کا استدلال بعض جگہ اختلافی معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک شاعر اقبال، فلسفی اقبال سے زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔بہرحال اقبال کی نظم و نثر کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ملت ِاسلامیہ کے دین و دنیا کو سنوارنا اور پھر ملت ِ اسلامیہ کے توسط سے دنیا بھر کی اقوام و ملل کے افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا۔ انھوں نے جب آنکھ کھولی تو مغربی اقوام دنیا کے بیشتر ممالک پر بالواسطہ یا بلاواسطہ قابض ہو چکی تھیں۔ افریقا اور ایشیا کے بہت بڑے حصے پر متصرف ہونے کی وجہ سے انگریزی زبان اور مغربی اُن کی تہذیب محکوموں کے لیے قابلِ تقلید بن چکی تھی۔ بقول اکبر الہ آبادی:اپنی منقاروں سے حلقہ کس رہے ہیں جال کاطائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کایہ درست ہے کہ بعض اسلامی ممالک میں احیائی تحریکوں کا آغاز ہو چکا تھا، مگر اُن کے اثرات محدود تھے بل کہ اُن کی وجہ سے محکوم ملکوں کے تضادات اور بھی نمایاں ہو گئے تھے۔ مسلمان ممالک ایک ایک کر کے آزادی سے محروم ہو چکے تھے. ملت اسلامیہ کے مختلف طبقات یا تو حکمرانوں کے مقلد بن چکے تھے یا پدرم سلطان بود کے خواب میں مست پڑے تھے. ان حالات میں قوم کے کسی بہی خواہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ارد گرد کے حالات سے آنکھیں بند کر لے اور قوم کو ماضی کے سپنوں میں پڑا رہنے دے۔ سرسید احمد خاں، حالی، شبلی، نذیر احمد، اکبر الہ آبادی اور دوسرے بہت سے ادبا اور شعرا اپنے اپنے انداز میں ہندوستانی مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی سعی کر رہے تھے۔ علامہ اقبال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ وہ چونکہ مفکر شاعر تھے، اس لیے انھوں نے اس مسئلے پر مسلسل غور کیا کہ ملت ِاسلامیہ زوال کا شکار کیوں ہو گئی ہے۔ آخر وہ زوال کے اسباب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ملت ِاسلامیہ کی خرابیاں دُور کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ اقبال کا انتقال ہوا تو بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت سے مسلمان ممالک رفتہ رفتہ آزاد ہونے لگے تھے۔ اس وقت دنیا بھر میں متعدد آزاد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسیع زرعی رقبے بھی ہیں اور تیل و معدنیات کے ذخائر بھی، مگر ابھی تک مجموعی طور پر وہ دنیا میں غیر مؤثر ہیں۔ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر ملت اسلامیہ دنیا بھر میں بدستور غیر مؤثر کیوں ہے؟ اس سوال کے ایک یا ایک سے زیادہ جوابات تلاش کرنے چاہییں۔ ان پر عام بحث ہونی چاہیے اور پھر جس بات پر اجماع ِامت ہو اسے ملتِ اسلامیہ کا مشترکہ مقصد بنا کر بروئے کار لانے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر کوششیں اسی ایک سمت میں مرکوز کر دینی چاہییں۔علامہ اقبال نے اپنی نظم و نثر میں ملت کے زوال کے اسباب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور زوال سے اُبھرنے کا ایک واضح طریق کار متعین کیا ہے۔ یہ طریق کار ہے فرد کی اصلاح سے ملت کی اصلاح کی طرف جانا،لیکن علامہ اقبال اس بات سے واقف تھے کہ عام افراد کبھی اپنی اصلاح نہیں کر سکتے کیونکہ وہ زوال آمادہ معاشرے کے شیطانی چکر میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر کسی بددیانت معاشرے میں کوئی فرد دیانت دار بننے کی کوشش کرے تو وہ معاشرے کو بہت کم درست کر سکے گا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس کشمکش میں وہ خود ہی مٹ جائے۔ اس لیے اقبال کا نقطۂ نظر یہی رہا ہے کہ اصلاح اوپر سے نیچے آتی ہے، نیچے سے اوپر نہیں جاتی۔ نظریۂ خودی مردان ِکامل کو پیدا کرتا ہے اور مردانِ کامل دنیا کی اصلاح کرتے ہیں۔ علامہ اقبال مثنوی ’اسرارِ خودی‘ میں مردِ کامل سے اُن توقعات کا اظہار کرتے ہیں:اے سوارِ اشہب دوراں بیااے فروغِ دیدۂ امکاں بیاخیز و قانونِ اخوت ساز دہجامِ صہبائے محبت باز دہباز در عالم بیار ایّامِ صلحجنگجویاں را بدہ پیغامِ صلحریخت از جورِ خزاں برگِ شجرچوں بہاراں بر ریاضِ ما گذرنوعِ انساں مزرع و تو حاصلیکاروانِ زندگی را منزلیترجمہ:(اے زمانے کے گھوڑے کے سوار اور اے امکانات کی دنیا کو روشن کرنے والے، آ اور دنیا میں اخوت اور محبت کے جذبات پھر سے پیدا کر۔ دنیا میں صلح کا زمانہ واپس لا اور جنگجوؤں کو امن کا پیغام دے۔ دنیا کے باغ میں خزاں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تو اس میں بہار بن کر آ۔ بنی نوعِ انسان کی فصل کا حاصل اور زندگی کے کارواں کی منزل تو ہی ہے۔)جب کسی قوم میں ایسے افراد پیدا ہو جاتے ہیں ،تو اس قوم کا کارواں منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام رجائیت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ٹھیک ہو جائیں ،تو دنیا کی بہترین اقوام میں شمار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقبال ہر حال میں رجائیت کے پیغامبر ہیں۔ انھوں نے بار بار ملت کے مختلف افراد اور طبقات پر شدید تنقید کی ہے۔ خود انتقادی اور خود احتسابی کو لازمہ ترقی بتایا ہے اور یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ جب تک ہم اپنی خرابیوں کو تلاش نہیں کریں گے اس وقت تک اصلاح کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا۔ اس وجہ سے اقبال کے ہاں ملت کے مختلف طبقات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی خرابیوں کو طشت ازبان کر کے انھیں اصلاح کا پیغام دیا ہے۔ اقبال ملتِ اسلامیہ کے رہنماؤں سے ناامید تھے۔ نظم ’شمع اور شاعر‘ میں شاعر در حقیقت رہنمائے ملت کی علامت ہے اور پوری نظم ملت اسلامیہ کے زوال کا ایک خوفناک مرقع ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملت نے باصلاحیت رہنما پیدا کرنے بند کر دیے ہیں۔ اس نظم کے علاوہ بھی یہ خیال کلام اقبال میں آخر تک موجود ہے:کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سےکہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دلنوازیفلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیںخبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہےنشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کوترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیےنظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میںوہ شبانی کہ ہے تمہیدِ کلیم اُللّہٰیمیرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صفآہ وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفمنزلِ راہرواں دور بھی دشوار بھی ہےکوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی ہےنہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کیکہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھیمصطفی کمال پاشا اور رضا شاہ پہلوی نے اپنی اپنی قوم کے لیے بہت کام کیا، لیکن ان کی سعی کے وہ نتائج نہ نکلے جس کے متمنی اقبال تھے۔ یہ حضرات اور ملت اسلامیہ پر مسلط ہونے والے دیگر شہنشاہ، رہنما اور علما ان صلاحیتوں سے عاری تھے جو کسی ملت کو دنیا کی منتخب قوموں میں بدل سکتی ہیں اس وجہ سے اقبال اُن کے گلہ گزار رہے۔ جن رہنماؤں سے اقبال نے توقعات وابستہ کیں انھیں ان کی قوم نے یا مغرب کی سازشوں نے کام کرنے کا موقع نہ دیا۔ نتیجہ یہ کہ ملت فیض حاصل کرنے سے محروم رہی اور حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ رہنماؤں کی کمی کا ہے۔ اس وقت تک کسی اسلامی ملک کا کوئی رہنما اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کا حقیقی قائد تسلیم نہیں کرا سکا۔ وہ ایک دوسرے کو قریب لانے کی بجائے اختلافات پر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ملت کو مزید تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔رہنمایان ِملت میں علمائے دین اور سجادہ نشینان خانقاہ بھی نمایاں حیثیت کے حامل ہیں، جس طرح سیاسی رہنما انحطاط پذیر ہوئے اسی طرح صوفی و ملا بھی زوال کا شکار ہوئے۔ عالمِ اسلام میں مساجد اور خانقاہیں کثرت سے ہیں۔ خصوصاً ہندوستان اور پاکستان میں خانقاہی سلسلہ بے حد وسیع ہے۔ کروڑوں لوگ مسجدوں اور خانقاہوں میں جاتے ہیں اور علماء و صوفیاء سے فیض پانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں کے ائمہ اور خانقاہوں کے صوفیاء الا ماشاء اللہ ملت کے عام افراد سے بہتر نہیں ۔ اُن میں وہ تمام خرابیاں راہ پا چکی ہیں، جو عام لوگوں میں موجود ہیں۔ اُن کے ظاہر و باطن میں واضح تضادات موجود ہیں۔ مذہب اور تصوف نے اُن کے دل و دماغ کو روشن نہیں کیا۔ وہ روایتی طور پر چند رسوم و عبادات انجام دیتے ہیں اور پھر اُن تمام برائیوں میں عملی طور پر ملوث ہو جاتے ہیں، جو مذہب و تصوف کی ضد ہیں۔ پیروں نے ’نذرانوں‘ سے اپنے محل تعمیر کر لیے ہیں اور علمائے دین نے فرقوں کے اختلافات کو ابھار ابھار کر اپنی حیثیتیں بنا لیں ہیں۔ اس لیے مسجد و خانقاہ مردہ ادارے بن کر رہ گئے ہیں ،جہاں سے کوئی مرد مومن نہیں اُٹھتا۔ مسجد و خانقاہ کے وارثوں سے اختلاف رائے کرنا اپنی تکفیر کرانے کے مترادف ہے۔ فروعی مسائل میں قوم کو الجھا کر اس کی صلاحیتیں ضائع کی جا رہی ہیں۔ مختلف مسالک کے افراد ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور جو طاقت اغیار کے خلاف استعمال ہونی چاہیے، وہ آپس میں لڑ لڑ کر تقسیم ہو رہی ہے۔ اقبال اپنے دَور کے علمائے دین، مفتیان شرع اور صوفیا سے بہت بیزار تھا۔ شاید اس کے کلام میں سیاسی رہنماؤں سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ علماء و صوفیا کو بنایا گیا ہے:واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسمِ ازاں، روحِ بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہےمجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقیاس دور کے ملا ہیں کیوں ننگِ مسلمانییہ پیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوریصلہ ان کی کد و کاوش کا ہے سینوں کی بے نوریعلما و صلحا کے بعد اقبال کی تنقید کا نشانہ اہل مدرسہ بنے ہیں، جن میں اساتذہ اور طلبہ دونوں شامل ہیں۔ اقبال کو اساتذہ سے یہ گلہ ہے کہ وہ طلبہ کو نصابات پڑھاتے رہتے ہیں ،مگر اُن کے اذہان کی تربیت نہیں کرتے۔ طلبہ نصابات میں الجھے رہتے ہیں۔ مشاہیر کے اقتباسات رٹ کر امتحانات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، مگر ’صداقت‘ کی تلاش اُن کا مطمح نظر نہیں بنتی۔ چنانچہ اقبال کبھی تو ملا، صوفی، طالب علم اور استاد کو الگ الگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی اُن کو یکجا کر کے اُن کی خرابیوں کو واضح کرتے ہیں:اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقیخونِ دل مرداں ہو جس فقر کی دستاویزکسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنےفقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشیمیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیاتمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوریاٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناکنہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہمکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذتِ اسرار بھی ہے؟خراب کوشکِ سلطان و خانقاہِ فقیرفغاں کہ تخت و مصلٰی تمام زرّاقیباقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیریاے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیریمیں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گامسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیبملا کی نظر نورِ فراست سے ہے محرومبے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئے ناباقبال چاہتے ہیں کہ کورانہ تقلید کی بجائے ملت کے افراد سچائی کی تلاش کے لیے تحقیق و تدقیق کے راستے پر چلیں۔ یہ بڑا کٹھن راستہ ہے، پرُخار اور طویل، مگر اس کو اختیار کیے بغیر منزل پر پہنچنا ممکن نہیں، لیکن حالات یہ ہیں کہ صوفی، ملا اور اُستاد کسی کو آزادی اظہار دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کیفیت ہو تو تحقیق کیسے پنپ سکتی ہے۔ یہ بات بلاوجہ نہیں کہ اقبال کے ہاںتحقیق اور صداقت کی تلاش پر اتنا زور دیا گیا ہے:شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہیرہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقیفقیہہِ شہر کی تحقیر کیا مجال مریمگر یہ بات کہ میں ڈھونڈھتا ہوں دل کی کُشادکیے ہیں فاش رموزِ قلندری میں نےکہ فکرِ مدرسہ و خانقاہ ہو آزادحلقۂ شوق میں وہ جرأتِ رندانہ کہاںآہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیقہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےاور ایک دعائیہ نظم میں کہتے ہیں:بے لوث محبت ہو بیباک صداقت ہوسینوں میں اجالا کر دل صورتِ مینا دےاحساس عنایت کر آثارِ مصیبت کاامروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دےتحقیق کے ذریعے صداقت کی تلاش پر اقبال نے جب اتنا زور کلام صرف کیا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا اقبال کو خرد دشمن کہنا درست ہے یا محض غلط فہمی ہے؟ انھوں نے عشق کی توصیف میں بہت نغمے گائے ہیں اور قوت عمل کو اُبھارنے کے لیے عقل پر تنقید بھی کر دی ہے، مگر انھیں معروف معنوں میں عقل کا مخالف قرار دینا درست نہیں، جو شخص مردِ مومن کے بارے میں یہ لکھے وہ عقل کا مخالف نہیں ہو سکتا:عقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہجب وہ ہمیں بار بار تدبر اور تحقیق اور تلاش صداقت پر اکساتے ہیں تو یہ باتیں عقل کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اگر جہان تازہ کی افکار تازہ سے نمود ہوتی ہے، تو اقبال افکار تازہ کی دعوت دیتے ہوئے عقل کے مخالف ہو ہی نہیں سکتے کہ افکار کا تعلق عقل سے ہے۔ اب اقبالیات کے ماہرین کو چاہیے کہ ہماری جذباتی قوم کو نعروں پر زندہ رکھنے کی بجائے اسے غور و فکر کی دعوت دیں۔ جب کوئی قوم غور و فکر کے بعد اپنا ہدف متعین کر لیتی ہے ،تو عشق کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ جب آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ نے اپنے مقاصد کا تعین کر لیا ہے، اس وقت ان کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کا مرحلہ آتا ہے، اور اسی کا نام عشق ہے،مگر اس کے بغیر قوم میں جذباتیت پیدا کرنے کا مقصد محض اُن کو آپس میں لڑانا اور تقسیم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پاکستان کے فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی، اقتصادی، سیاسی مسائل پر جس قدر از سر نو غور کرنے کی آج ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی،لیکن اقبالیات کے جلسوں میں محض چند جذباتی یا روایتی باتیں کہہ کر لوگ رخصت ہو جاتے ہیں اور کسی ایک فرد کے دل میں تحقیق و اکتشاف کی ایک لہر بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال ملت ِاسلامیہ کے ایک بہت بڑے مفکر ہیں ،مگر اُن کی سوچ کو چند فرسودہ باتوں تک محدود کر دینا نہ تو اقبال کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی ملت ِاسلامیہ کی خدمت ہے۔اقبال ملت کے افراد کو ذاتی اغراض سے بلند ہو کر سب کی بھلائی کے لیے کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رہنماؤں اور مقتدر طبقات کی توجہ خود احتسابی اور خود انتقادی کی طرف دلاتے ہیں، جس کے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں۔ خوش فہمیوں میں مبتلا قومیں اپنی کمزوریوں کو دُور نہیں کر سکتیں۔ وہی قومیں عروج کی طرف سفر کرتی ہیں، جن کے افراد اس سلسلۂ روز و شب کے حالات و واقعات کو پرکھتے ہیں اور اس غور و فکر کے نتائج کو رُو بہ عمل لانے کے لیے اُن خصوصیات کو پیدا کرتے ہیں ،جن کی تلقین خضر راہ (بانگِ درا) کے مندرجہ ذیل بند میں کی گئی ہے:ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپپہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرےپھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعاراور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرےزندگی کی قوتِ پنہاں کو کر دے آشکارتا یہ چنگاری فروغِ جاوداں پیداکرےخاکِ مشرق پر چمک جائے مثالِ آفتابتا بدخشاں پھر وہی لعلِ گراں پیدا کرےسوئے گردوں نالۂ شبگیر کا بھیجے سفیررات کے تاروں میں اپنا راز داں پیدا کرےیہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہےپیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
فون کا استعمال کم کرنے کیلئے  ہدف مقرر کریں

فون کا استعمال کم کرنے کیلئے ہدف مقرر کریں

سمارٹ فون ہماری زندگی کا تقریباً ہر شعبہ اپنے اندر سمو چکا ہے۔ رابطے، خبریں، تعلیم، بینکنگ، خریداری، تفریح اور سوشل میڈیا،سب کچھ چند انگلیوں کی حرکت پر دستیاب ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ضرورت اور عادت کے درمیان فرق ختم ہونے لگتا ہے۔ انسان بار بار فون اٹھاتا ہے، سکرین دیکھتا ہے اور کئی مرتبہ اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ دن کا کتنا قیمتی وقت اس چھوٹی سی سکرین کے سامنے گزر گیا۔ایک حالیہ تحقیق نے فون کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک نہایت سادہ مگر دلچسپ طریقہ پیش کیا ہے: لوگوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ انہیں اپنے فون کا استعمال کتنا کم کرنا ہے۔ تحقیق کے مطابق اپنا ہدف خود مقرر کرنے والے افراد دوسروں کی طرف سے مقرر کردہ ہدف حاصل کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہے۔روزانہ کئی گھنٹے فون کے ساتھسمارٹ فون کا استعمال اب محض ایک تکنیکی عادت نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ ایک اوسط صارف دن میں تقریباً چھ گھنٹے فون پر گزارتا ہے اور ہر گھنٹے میں تقریباً دو مرتبہ فون کھولتا ہے۔ اگرچہ ہر فرد کا استعمال مختلف ہوتا ہے لیکن یہ اعداد اس بات کا اندازہ ضرور دیتے ہیں کہ موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی میں کس قدرسرایت کر چکا ہے۔مسئلہ صرف وقت کے ضیاع کا نہیں، مسلسل فون استعمال کرنے کی عادت ہماری توجہ، کام کرنے کی صلاحیت اور بعض صورتوں میں ذہنی سکون کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں محققین ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو اپنے سکرین ٹائم کو منظم کرنے میں مدد مل سکے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کیلئے شاید کسی مہنگی ایپ، پیچیدہ ٹیکنالوجی یا سخت پابندی کی ضرورت نہیں۔ انسان کو صرف یہ اختیار دینا کافی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک ایسا ہدف منتخب کرے جسے وہ حقیقتاً حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سپین کے مختلف اداروں سے وابستہ تحقیقی ٹیم نے 149 رضاکاروں پر 35 دن کا ایک تجربہ کیا۔شرکا کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔پہلے گروپ کے 55 افراد کو اختیار دیا گیا کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ اپنے فون کے استعمال میں 10، 20 یا 30 فیصد کمی کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے گروپ میں 62 افراد کو محققین کی جانب سے 14 فیصد کمی کا ہدف دیا گیا۔ تیسرے گروپ میں شامل 32 افراد کو کوئی مخصوص ہدف نہیں دیا گیا البتہ ان کے فون استعمال کی نگرانی جاری رہی۔نتائج میں سب سے نمایاں فرق ان افراد میں دیکھا گیا جنہوں نے اپنا ہدف خود مقرر کیا تھا۔ ان لوگوں نے اوسطاً روزانہ 49 منٹ فون کا استعمال کم کیا جبکہ محققین کی طرف سے مقرر کردہ ہدف والے گروپ میں کمی تقریباً 23 منٹ روزانہ رہی۔ یعنی خود ہدف مقرر کرنے والے گروپ میں کمی تقریباً دو گنا زیادہ تھی۔اختیار ملنے سے عزم مضبوط ہوتا ہےاس تحقیق کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر اپنا ہدف خود مقرر کرنے سے اتنا فرق کیوں پڑتا ہے؟محققین کے خیال میں اس کی ایک ممکنہ وجہ ذمہ داری اور اختیار کا احساس ہے۔ جب کوئی دوسرا شخص ہمارے لیے ہدف مقرر کرتا ہے تو وہ ہدف بسا اوقات غیر حقیقی، مشکل یا ہماری ذاتی ترجیحات سے مختلف محسوس ہو سکتا ہے لیکن جب انسان خود فیصلہ کرتا ہے کہ اسے 10، 20 یا 30 فیصد کمی کرنی ہے تو وہ اپنے حالات اور عادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔یہ اصول صرف فون کے استعمال تک محدود نہیں، ورزش، وزن کم کرنے، مطالعہ، بچت یا کسی نئی عادت کے معاملے میں بھی انسان اس وقت زیادہ سنجیدہ ہو سکتا ہے جب اسے اپنے مقصد کے انتخاب میں کچھ آزادی حاصل ہو۔یہ نتیجہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ایک مخصوص ہدف پر عمل کرنے سے نئی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔ چھوٹا تجربہ بڑا سبقاس تحقیق سے یہ سبق حاصل ہوتاہے کہ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ فون آپ کا بہت زیادہ وقت لے رہا ہے تو فوراً یہ فیصلہ کرنے کے بجائے کہ اب میں فون بہت کم استعمال کروں گا پہلے اپنا موجودہ استعمال دیکھیں اور پھر خود قابلِ حصول ہدف مقرر کریں مثلاً اگر آپ روزانہ چار گھنٹے فون استعمال کرتے ہیں تو پہلے مرحلے میں 20 فیصد کمی کا ہدف تقریباً 48 منٹ بنتا ہے۔ یہ ہدف نہ صرف واضح ہے بلکہ آسانی سے حاصل بھی کیا جاسکتا ہے۔ فون سے دور رہنے کا بہترین طریقہ فون کو دشمن سمجھنا نہیں بلکہ اپنے استعمال پر اختیار حاصل کرنا ہے۔ اس تحقیق کا پیغام بھی یہی ہے کہ جب مقصد آپ کا اپنا ہو تو اسے حاصل کرنے کا عزم بھی زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

نینسی گریس رومن

نینسی گریس رومن

کائنات کو دیکھنے والی ناسا کی نئی آنکھ30 اگست کو انسان ایک بار پھر کائنات کی طرف ایک غیر معمولی نظر ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ناسا کیNancy Grace Roman Space Telescope جسے مختصراً رومن سپیس ٹیلی سکوپ کہا جاتا ہے، شیڈول کے مطابق فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سنٹر سے SpaceX کے Falcon Heavy راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی جائے گی۔اس دوربین کا مقصدصرف دور دراز کہکشاؤں کی خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کائنات بنی کیسے، وقت کے ساتھ تبدیل کیسے ہوئی، اس کی توسیع تیز کیوں ہو رہی ہے اور ہماری کہکشاں میں کتنے ایسے سیارے موجود ہیں جو ہماری موجودہ تکنیکی نظروں سے چھپے ہوئے ہیں۔رومن کا سب سے بڑا کمال اس کی وسیع نظر ہے۔ اس کا بنیادی عدسہ2.4 میٹر کا ہے جو ہبل کے عدسے کے برابر ہے لیکن اس کا وائیڈ فیلڈ انسٹرومنت ایک ہی مشاہدے میں ہبل کے مقابلے میں کم از کم 100 گنا زیادہ آسمانی رقبہ دیکھ سکتا ہے۔ ناسا کے مطابق رومن ہبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے خلاؤں کا سروے کر سکے گی۔کائنات کو وسیع پیمانے پر دیکھنے والی آنکھ1990ء میں ہبل کی لانچ کے بعد انسان نے کائنات کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ہبل نے اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں کی پیدائش، نیبولا اور کہکشانی ارتقا کے بارے میں ہماری سوچ بدل دی۔ لیکن ہبل بنیادی طور پر انتہائی تفصیلی مگر نسبتاً محدود حصوں کا مشاہدہ کرتی ہے۔رومن قدرے مختلف ہے۔ یہ آسمان کے بہت بڑے حصے کو تیزی سے سکین کرے گی یوں سائنسدان صرف چند دلچسپ کہکشاؤں کا مطالعہ نہیں کریں گے بلکہ اربوں کہکشاؤں اور دیگر کائناتی اجسام کا وسیع ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ رومن اپنی زندگی کے دوران تقریباً ایک ارب کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ فرق ایسا ہی ہے جیسے ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ صرف ایک تاریخی عمارت کا انتہائی باریک مطالعہ کرے جبکہ دوسرا پورے شہر کا نقشہ تیار کر کے ہزاروں عمارتوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرے۔رومن کا مقصد یہی وسیع کائناتی نقشہ تیار کرنا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سائنسدان کہکشاؤں کی تقسیم، ان کے جھرمٹ، ان کے ارتقا اور کائنات کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ یوں رومن ہمیں صرف یہ نہیں بتائے گی کہ کائنات میں کیا موجود ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد دے گی کہ یہ سب ایک دوسرے سے کس طرح جڑا ہوا ہے۔ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کا رازرومن مشن کی سب سے بڑی سائنسی اہمیت شاید کائنات کے دو بڑے معموں، ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کو سمجھنے میں اس کا کردار ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس پھیلاؤ کی رفتار وقت کے ساتھ تیز ہو رہی ہے۔ اس تیز رفتار پھیلاؤ کو سمجھانے کے لیے سائنسدان ایک پراسرار عامل کو ''ڈارک انرجی‘‘ کہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ ڈارک انرجی حقیقت میں ہے کیا ۔رومن مختلف کائناتی مشاہدات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کائنات کی توسیع تاریخ میں کس طرح تبدیل ہوئی۔ اس کے وسیع سروے سائنسدانوں کو ایسے بڑے ڈیٹا سیٹ فراہم کریں گے جن سے کائنات کے پھیلاؤ اور اس کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کے درمیان تعلق کا زیادہ درست مطالعہ ممکن ہوگا۔نئے سیارے اور زندگی کی تلاش رومن کا ایک اور دلچسپ مشن ہماری اپنی کہکشاں یعنی ملکی وے میں نئے سیاروں کی تلاش ہے۔ناسا کے مطابق رومن ہزاروں نئے exoplanets دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہماری کہکشاں میں سیاروی نظاموں کا ایک وسیع شماریاتی جائزہ لے گی۔رومن کے پاس ایک کورنوگراف انسٹرومنٹ بھی ہوگا جو ستارے کی تیز روشنی کو روکنے کی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ اس کے قریب موجود نسبتاً مدھم سیاروں کا براہِ راست مشاہدہ ممکن ہو سکے۔ یہ مستقبل کی ان دوربینوں کے لیے ایک اہم تکنیکی قدم ہوسکتا ہے جو ممکنہ طور پر زمین جیسے سیاروں کے ماحول کا مطالعہ کریں گی۔ہبل کے بعد ایک نیا کائناتی بابرومن کو ہبل کا متبادل سمجھنا درست نہیں؛ بلکہ دونوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کو مکمل کریں گی۔ ہبل انتہائی تفصیلی مشاہدات کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، جبکہ رومن وسیع کائناتی سروے کرنے میں ایک نئی سطح پیدا کرے گی۔رومن زمین کے گرد نہیں بلکہ سورج اور زمین کے نظام کے L2 مقام کے قریب کام کرے گی جو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور ہے۔اس مشن کی اصل طاقت صرف اس کے لینز یا کیمروں میں نہیں بلکہ اس کے جمع کیے جانے والے ڈیٹا میں ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں کائناتی معلومات مستقبل کے سائنسدانوں کے لیے بھی خزانہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے رومن جس چیز کی تلاش کے لیے بنائی گئی ہے اس سے کہیں زیادہ اہم کوئی ایسی دریافت کر دے جس کا آج ہمیں اندازہ بھی نہ ہو۔

آج کا دن

آج کا دن

گلیلیو کی دوربین 25 اگست 1609ء کو اطالوی سائنسدان گلیلیو گلیلی کی دوربین سے متعلق سرگرمیوں نے یورپ میں سائنسی تحقیق کی سمت بدلنے والے نئے دور کی بنیادرکھی۔گلیلیو نے دوربین کو محض دور کی چیزیں دیکھنے کے آلے کے بجائے فلکیاتی تحقیق کا سائنسی ذریعہ بنا دیا۔ 1610ء میں اس نے مشتری کے چار بڑے چاند دریافت کیے جنہیں اس وقت میڈیسیئن سیارے کہا گیا۔ اس نے چاند کی سطح، سورج کے دھبوں اور دیگر آسمانی مظاہر کا بھی مشاہدہ کیا۔ اس طرح آسمان کے بارے میں قدیم تصورات کو براہِ راست مشاہدے کے ذریعے جانچنے کا راستہ کھلا۔ گلیلیو کے مشاہدات نے کوپرنیکس کے اس تصور کو مضبوط کیا کہ زمین کائنات کا ساکن مرکز نہیں بلکہ سورج کے گرد گردش کرنے والے اجرام میں سے ایک ہے۔یوراگوئے کی آزادی25 اگست 1825ء کو فلوریڈا میں منعقد ہونے والی نمائندہ اسمبلی نے اس علاقے کی برازیلی اقتدار سے آزادی کا اعلان کیا جو بعد میں یوراگوئے کے نام سے ایک آزاد ملک بنا۔ 1816ء میں پرتگالی افواج نے اس خطے پر حملہ کیا اور بالآخر یہ علاقہ پرتگالی برازیل کے زیرِ اقتدار آ گیا۔ برازیل نے 1822ء میں پرتگال سے آزادی حاصل کی تو یہ برازیلی سلطنت کا صوبہ بن گیا۔ 1825میں جان اینٹونیو لاوالیجا کی قیادت میں انقلابی تحریک شروع ہوئی اور1828ء کے ٹریٹی آف ماؤنٹو ڈیو کے ذریعے یوراگوئے کی آزاد ریاست تسلیم کر لیا گیا۔ 25 اگست یوراگوئے کی تاریخ میں محض ایک اعلان کی تاریخ نہیں بلکہ قومی خودمختاری کی جدوجہد کا بنیادی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔امریکی نیشنل پارک سروس25 اگست 1916ء کو امریکی صدر وڈرو ولسن نے نیشنل پارک سروس قائم کی جس کا مقصد نیشنل پارکوں، تاریخی مقامات، قدرتی علاقوں اور دیگر محفوظ مقامات کو محفوظ کرنا تھا۔یہ تصور اپنے وقت کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔ اس نے تحفظِ فطرت اور عوامی رسائی کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنے کے بجائے دونوں کو ایک مشترکہ مقصد کا حصہ بنایا۔بعد کے عشروں میں نیشنل پارک سروس نے اپنی ذمہ داریاں وسیع کیں۔ تاریخی مقامات، جنگی میدان، یادگاریں، ساحلی علاقے، قدرتی ذخائر اور ثقافتی ورثے کے متعدد مقامات اس نظام کا حصہ بنے۔ NPS کو امریکہ کے قدرتی اور تاریخی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کے جدید تصور کی تاریخ میں اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔پیرس کی آزادی25 اگست 1944ء دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا کیونکہ اسی روز اتحادی افواج اور فرانسیسی مزاحمتی قوتوں نے پیرس کو نازی جرمنی کے قبضے سے آزاد کرایا۔ پیرس جون 1940ء سے جرمن قبضے میں تھا اس لیے اس کی آزادی فرانسیسی عوام اور اتحادی افواج دونوں کے لیے بہت بڑی علامتی اور سیاسی اہمیت رکھتی تھی۔پیرس کی آزادی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف بیرونی اتحادی فوج کی فتح نہیں تھی فرانسیسی مزاحمت نے شہر کے اندر جرمن انتظامیہ اور فوجی قوت پر مسلسل دباؤ ڈالا۔25 اگست کی آزادی نے فرانس کی سیاسی بحالی کی بنیاد رکھی۔ اگلے دن چارلس ڈیگال نے پیرس میں ایک بڑے عوامی جلوس کی قیادت کی جو آزاد فرانس کی علامت بن گیا۔ وائجر 2 کا سفر25 اگست 1989ء کو انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خلائی جہاز نے نیپچون کے قریب سے پرواز کی۔ ناسا کاوائجر 2 خلائی جہاز اس روز نیپچون کے بادلوں کے اوپر سے تقریباً 4800 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا۔ یہ انسانی ساختہ کسی بھی خلائی جہاز کا نیپچون کاپہلا قریبی مشاہدہ تھا اور اس نے نظامِ شمسی کے اس دور دراز سیارے کے بارے میں ہماری معلومات کو یکسر تبدیل کر دیا۔وائجر 2 کو 1977ء میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس مشن کا ایک غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ خلائی جہاز نے مشتری، زحل، یورینس اور بالآخر نیپچون یعنی نظامِ شمسی کے چار بڑے بیرونی سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ ناسا کے مطابق نیپچون تک پہنچنے کے لیے وائجر 2 نے تقریباً 7 ارب کلومیٹر کا سفر کیا۔

’’سپیس ایکس‘‘نے چاند کو ’’داغدار‘‘ کر دیا

’’سپیس ایکس‘‘نے چاند کو ’’داغدار‘‘ کر دیا

راکٹ کی ٹکرسے 60 فٹ گہرا گڑھا، قبل اور بعد کی تصاویر جاریچاند کو ہمیشہ سے انسانی تہذیب میں حسن، اسرار اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر خلائی تحقیق کے بڑھتے ہوئے دور میں اس کی سطح پر انسانی سرگرمیوں کے نشانات بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ حالیہ تصاویر میں چاند کی سطح پر ایک بڑا گڑھا سامنے آنے کے بعد ماہرین کی توجہ ایک بار پھر خلائی مشنز کے ماحولیاتی اثرات کی جانب مبذول ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کے ایک راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے نتیجے میں تقریباً 60 فٹ چوڑا گڑھا بن گیا، جس نے یہ اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ انسان کی خلائی فتوحات کہیں چاند کے قدرتی حسن اور قدیم سطح کو مستقل طور پر متاثر تو نہیں کر رہیں۔ یہ واقعہ مستقبل کے چاند مشنز، خلائی ملبے اور دوسرے اجرامِ فلکی کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کوجنم دے رہا ہے۔ناسا نے چاند کی سطح پر اسپیس ایکس کے راکٹ کے ٹکرانے سے بننے والے ایک بہت بڑے گڑھے کی پہلی باضابطہ تصاویر جاری کر دی ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں اسپیس ایکس کا بے قابو فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرایا تھا۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 4,500 کلوگرام وزنی اور 39 فٹ لمبے راکٹ نے چاند سے ٹکراتے وقت اتنی شدید توانائی خارج کی جو تقریباً 15 ہزار ڈائنامائٹ یا تین ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔اب ناسا کے ایک سیٹلائٹ نے اس تصادم کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تصاویر حاصل کی ہیں، جن میں 60 فٹ چوڑا گڑھا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر لکھا: ''نشاندہی ہو گئی: فالکن 9 کے ٹکرانے کی جگہ‘‘۔ناسا کے مطابق اس کے ''لونر ریکونیسنس آربیٹر‘‘ نے چاند کی سطح پر بننے والے اس نئے گڑھے کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ناسا نے مزید بتایا کہ 5اگست 2026ء کو اسپیس ایکس کے ''فالکن 9‘‘ کے بالائی مرحلے کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کے نتیجے میں یہ گڑھا وجود میں آیا۔حیرت انگیز تصاویر میں نیا بننے والا گڑھا واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے، جس کے کنارے نسبتاً سیاہ نظر آتے ہیں، جبکہ اس کے مرکز سے مختلف سمتوں میں سیاہ دھاریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ دھاریاں اس مٹی اور چٹانی ذرات کی نشاندہی کرتی ہیں جو راکٹ کے ٹکرانے کے نتیجے میں دور تک پھیل گئے۔ناسا نے اپنے لونر ریکونیسنس آربیٹر کو استعمال کرتے ہوئے یہ تصاویر حاصل کیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں مدار کے دوران جب خلائی جہاز اس مقام کے اوپر سے گزرا تو اس نے چاند کی سطح پر بننے والے گڑھے کی تصاویر کھینچیں۔اس دوران سیٹلائٹ چاند کی سطح سے تقریباً 97 کلومیٹر کی بلندی پر تھا اور ایک میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔گڑھے کی چوڑائی معلوم کرنے کے علاوہ سائنس دانوں نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ اس کی گہرائی 10 فٹ سے کم ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی کوریا کے ایک قمری سیٹلائٹ نے بھی اس مقام کی تصاویر حاصل کی تھیں، جن میں چاند کی سطح پر سیاہ پڑ جانے والا گڑھا واضح طور پر دکھائی دیا۔کوریا ایرو اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا خلائی جہاز ''دانوری‘‘ (Danuri) صبح 7 بج کر 34 منٹ پر (برطانوی وقت کے مطابق) اس مقام کے اوپر سے گزرا، جو اسپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے کچھ ہی دیر بعد کا وقت تھا۔ اس سیٹلائٹ نے تصادم سے 30 منٹ قبل بھی اسی مقام کی تصاویر حاصل کی تھیں، جن میں چاند کی سطح کی قبل اور بعد کی حیرت انگیز صورتِ حال واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔دریں اثنا، اسپین کے محققین کے ایک گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے عین وقت کی واحد ویڈیو فوٹیج ریکارڈ کی ہے۔تصادم کی روشنی زمین سے کیوں نہیں دکھائی دی؟یہ تصادم چاند کے شمال مغربی کنارے پر واقع آئن اسٹائن گڑھے کے قریب پیش آیا۔ تصادم کے وقت چاند کا یہ حصہ سورج کی جانب رخ کیے ہوئے تھا۔نتیجتاً راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے وقت پیدا ہونے والی ابتدائی چمک یا شعلہ زمین سے دکھائی نہیں دے سکا۔''فالکن 9 راکٹ کا مقصد چاند سے ٹکرانا نہیں تھا‘‘اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ گزشتہ سال جنوری میں لانچ کیا گیا تھا۔راکٹ اپنے ساتھ دو نجی قمری لینڈرز، فائر فلائی ایرو اسپیس کا ''بلیو گھوسٹ‘‘ اور آئی اسپیس کا ''ریزِلینس‘‘ لے کر چاند کے مدار کی جانب روانہ ہوا تھا۔فالکن 9 کا بنیادی بوسٹر دوبارہ استعمال کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ راکٹ کے بالائی حصوں کو خلا میں پہنچانے کے بعد یہ بوسٹر محفوظ طریقے سے دوبارہ زمین پر واپس آ جاتا ہے۔تاہم یہ حصے کئی برس تک خلا میں گردش کرنے کے بعد اکثر زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہی جل کر تباہ ہو جاتے ہیں۔اگرچہ اس راکٹ کا چاند سے ٹکرانا کبھی بھی مقصد نہیں تھا، تاہم چاند کی کششِ ثقل اور غیر متوقع شمسی موسمی حالات کے امتزاج نے بالآخر فالکن 9 کے راکٹ کا رخ تبدیل کر دیا اور وہ چاند سے ٹکرانے کے راستے پر آ گیا۔ ابتدائی طور پر آزاد ماہرین فلکیات نے راکٹ کے چاند کی جانب بڑھتے ہوئے خطرناک راستے کی نشاندہی کی۔ بعدازاں ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کی۔سوشل میڈیا پر صارفین کے تبصرے''ایکس‘‘ پر شیئر کی گئی اس نئی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک شخص نے طنزیہ انداز میں لکھا: ''اسپیس ایکس چاند پر گرافٹی بنا رہا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: ''ایکس نے مقام کی نشاندہی کر دی‘‘۔ایک اور شخص نے لکھا: ''کیا چاند پر بننے والا یہ نیا گڑھا واقعی بری بات نہیں؟ ہم نے زمین کے ساتھ پہلے ہی اچھا سلوک نہیں کیا، اب چاند سے بھی ٹکرانا شروع کر دیا ہے‘‘

ال نینو:بدلتا مون سون اور سیلابی خطرات

ال نینو:بدلتا مون سون اور سیلابی خطرات

مون سون کی حالیہ بارشوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات ایک بار پھر نمایاں کر دیئے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش کے بعد نشیبی علاقے زیرآب آئے، نالے بپھر گئے اور گھروں میں پانی داخل ہوا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی شدید بارش، شہری سیلاب اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ رہا، جبکہ سندھ کے کئی شہروں میں بھی اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ پاکستان اب قابلِ پیش گوئی مون سون کے بجائے موسم کی شدت اور بے یقینی کا سامنا کررہا ہے۔ کہیں مختصر وقت میں شدید بارشیں ہوتی ہیں، کہیں طویل خشک وقفے آتے ہیں۔ یہی بدلتا موسمی رجحان پاکستان کیلئے اصل چیلنج ہے۔ ال نینو کو صرف خشک سالی کی علامت سمجھنا درست نہیں۔ یہ عالمی موسمی نظام میں خلل ڈالنے والا اہم عنصر ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق 2026 ء میں استوائی بحرالکاہل کے پانی غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے '' ال نینو‘‘ کے امکانات بڑھے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوا۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ مون سون ملک کے آبی، زرعی اور معاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔مون سون بارشیں دریائوں، ڈیموں، زیر زمین پانی اور زرعی زمینوں کو پانی فراہم کرتی ہیں۔ اگر مون سون کے دن کم ہوجائیں لیکن بارش چند گھنٹوں میں انتہائی شدت سے برسنے لگے تو مجموعی بارش کم ہونے کے باوجود تباہی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ رواں مون سون میں راولپنڈی اور اسلام آباد اس خطرے کی واضح مثال بن کر سامنے آئے۔17 اگست کو شدید بارش کے باعث جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوا، سڑکیں زیرآب آئیں اور برساتی نالوں میں طغیانی سے شہری زندگی متاثر ہوئی۔ پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی شدید بارشوں کے باعث شہری سیلاب کا خطرہ رہا۔ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں کے نشیبی علاقوں کو خطرات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ سندھ بھی بدلتے موسمی نظام سے محفوظ نہیں۔ رواں مون سون میں حیدرآباد، سکھر، شہید بینظیرآباد، میرپورخاص، عمرکوٹ اور بدین سمیت مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہوا۔ اس صورتحال نے واضح کردیا کہ موسمیاتی خطرات اب کسی ایک صوبے یا علاقے تک محدود نہیں رہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بیک وقت سیلاب اور خشک سالی دونوں خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار ہے؟ بعض علاقوں میں پانی کی قلت، خشک سالی اور گرمی فصلوں کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ تباہی مچا سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے دونوں خطرات کو بیک وقت ممکن بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ دبائو زراعت پر پڑتا ہے۔ کسان کیلئے بارش کا وقت اس کی مقدار جتنا ہی اہم ہے۔ بارش دیر سے ہو تو بوائی متاثر ہوتی ہے، زیادہ شدت سے ہو تو کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں جبکہ شدید گرمی پیداوار کم کرسکتی ہے۔ خشک وقفہ طویل ہونے کی صورت میں زیرِ زمین پانی پر انحصار بڑھتا ہے، جس سے اخراجات اور پانی کی کمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی آفات کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے2025-26ء کے مطابق 2025 ء کے سیلاب سے 822 ارب روپے کے نقصانات ہوئے، ایک ہزار 39 سے زائد افراد جاں بحق، 40 لاکھ سے زیادہ بے گھر اور تقریباً65لاکھ متاثر ہوئے جبکہ زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔اس پس منظر میں پاکستان کو پیشگی تیاری پر مبنی موسمیاتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو کسانوں، شہریوں اور مقامی انتظامیہ تک بروقت پہنچانا ضروری ہے۔پانی کے بہتر انتظام پر بھی فوری توجہ درکار ہے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیر زمین پانی ری چارج کرنے، چھوٹے ذخائر بنانے اور سیلابی پانی کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے منصوبے ضلعی سطح پر بنائے جائیں۔ بڑے شہروں میں برساتی پانی کی نکاسی بہتر بنانے کے ساتھ قدرتی نالوں پر تجاوزات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ کسانوں کو خشک سالی اور گرمی برداشت کرنے والے بیج، جدید آبپاشی، فصلوں کی انشورنس اور موسمیاتی مشاورت فراہم کی جائے۔ انہیں فصل کے انتخاب کے ساتھ بوائی کے مناسب وقت، پانی کی ضرورت اور متوقع موسمی خطرات سے بھی آگاہ کیا جائے۔ شدید گرمی، بارش، سیلاب اور بیماریوں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط موسمیاتی چیلنج کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ محکمہ موسمیات، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، آبپاشی، زراعت، بلدیاتی اداروں اور محکمہ صحت کے درمیان بہتر رابطہ وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اداروں کی کمی نہیں، اصل ضرورت بروقت معلومات، مشترکہ منصوبہ بندی اور فوری کارروائی کی ہے۔ ''ال نینو‘‘ کا آغاز بحرالکاہل میں ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستان کے کھیتوں، شہروں اور گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور خصوصاً راولپنڈی اسلام آباد میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف کم یا زیادہ بارش نہیں بلکہ بارشوں کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور شدت ہے۔ موسمیاتی پالیسی کو اب ہنگامی ردعمل سے آگے بڑھانا ہوگا۔ پاکستان کو ایسے مستقبل کیلئے تیار ہونا ہوگا جہاں شدید بارش، اچانک سیلاب، طویل خشک وقفے اور بڑھتی ہوئی گرمی ایک ہی موسم میں مختلف علاقوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ ''ال نینو‘‘ محض بحرالکاہل کا موسمی واقعہ نہیں، پاکستان کیلئے بدلتے موسم کے ساتھ بدلتی پالیسی کی واضح وارننگ ہے۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا!

ہوئے مر کے ہم جو رسوا!

اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیزوتکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کو ضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کوبلکہ خود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ لیکن مرزا نے چپ ہونا سیکھا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح بات کوغلط موقع پربے دغدغہ کہنے کی جو خداداد صلاحیت انہیں ودیعت ہوئی ہے وہ کچھ ایسی ہی تقریبوں میں گل کھلاتی ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں سررہگزر چراغ نہیں جلاتے، پھلجھڑی چھوڑتے ہیں، جس سے بس ان کا اپنا چہرہ رات کے سیاہ فریم میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگتا ہے۔ اور پھلجھڑی کا لفظ تو یونہی مروّت میں قلم سے نکل گیا، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ''جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کراٹھے‘‘۔اس کے باوصف، وہ خدا کے ان حاضرو ناظر بندوں میں سے ہیں جو محلّے کی ہرچھوٹی بڑی تقریب میں، شادی ہو یا غمی، موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص دعوتوں میں سب سے پہلے پہنچتے اورسب کے بعد اٹھتے ہیں۔ اِس اندازِنشست و برخاست میں ایک کھلا فائدہ یہ ہے کہ وہ باری باری سب کی غیبت کرڈالتے ہیں۔ ان کی کوئی نہیں کرپاتا۔چنانچہ اس سنیچر کی شام کو بھی میوہ شاہ قبرستان میں وہ میرے ساتھ تھے۔ سورج اس شہر خموشاں کو جسے ہزاروں بندگانِ خدا نے مرمر کے بسایا تھا۔ سامنے بیری کے درخت کے نیچے ایک ڈھانچہ قبربدرپڑا تھا۔ چاروں طرف موت کی عمل داری تھی اور ساراقبرستان ایسا اداس اوراجاڑ تھا جیسے کسی بڑے شہر کا بازار اتوار کو۔ سبھی رنجیدہ تھے۔ (بقول مرزا، دفن کے وقت میّت کے سوا سب رنجیدہ ہوتے ہیں) مگر مرزا سب سے الگ تھلگ ایک پرانے کتبے پر نظریں گاڑے مسکرا رہے تھے۔ چند لمحوں بعد میرے پاس آئے اور میری پسلیوں میں اپنی کْہنی سے آنکس لگاتے ہوئے اس کتبے تک لے گئے، جس پر منجملہ تاریخ پیدائش و پنشن، مولد و مسکن، ولدیّت و عہدہ (اعزازی مجسٹریٹ درجہ سوم) آسودہ لحد کی تمام ڈگریاں مع ڈویژن اور یونیورسٹی کے نام کے کندہ تھیں اورآخرمیں، نہایت جلی حروف میں، منہ پھیر کر جانے والے کو بذریعہ قطعہ بشارت دی گئی تھی کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد اس کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے۔میں نے مرزاسے کہا، ''یہ لوحِ مزار ہے یا ملازمت کی درخواست؟بھلا ڈگریاں، عہدہ اورولدیت وغیرہ لکھنے کا کیا تک تھا؟‘‘انھوں نے حسب عادت بس ایک لفظ پکڑ لیا۔ کہنے لگے ''ٹھیک کہتے ہو۔ جس طرح آج کل کسی کی عمر یا تنخواہ دریافت کرنا بری بات سمجھی جاتی ہے، اِسی طرح، بالکل اِسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیت پوچھنا بداخلاقی سمجھی جائے گی‘‘۔اب مجھے مرزا کی چونچال طبیعت سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انھیں ولدیت کے مستقبل پر مسکراتا چھوڑ کر میں آٹھ دس قبردور ایک ٹکڑی میں شامل ہوگیا، جہاں ایک صاحب جنت مکانی کے حالاتِ زندگی مزے لے لے کر بیان کررہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ خداغریق رحمت کرے، مرحوم نے اِتنی لمبی عمر پائی کہ ان کے قریبی اعزّہ دس پندرہ سال سے ان کی اِنشورنس پالیسی کی امید میں جی رہے تھے۔ ان امیدواروں میں سے بیشتر کو مرحوم خود اپنے ہاتھ سے مٹی دے چکے تھے۔ بقیہ کو یقین ہو گیا تھا کہ مرحوم نے آبِ حیات نہ صرف چکھا ہے بلکہ ڈگڈگا کے پی چکے ہیں۔ راوی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ ازبسکہ مرحوم شروع سے رکھ رکھاؤ کے حد درجہ قائل تھے، لہٰذا آخر تک اس صحت بخش عقیدے پر قائم رہے کہ چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مرنا چاہیے۔ البتہ اِدھر چند برسوں سے ان کو فلکِ کج رفتار سے یہ شکایت ہوچلی تھی کہ افسوس اب کوئی دشمن ایسا باقی نہیں رہا، جسے وہ مرنے کی بددعا دے سکیں۔ان سے کٹ کر میں ایک دوسری ٹولی میں جا ملا۔ یہاں مرحوم کے ایک شناسا اور میرے پڑوسی ان کے لڑکے کو صبرِجمیل کی تلقین اور گول مول الفاظ میں نعم البدل کی دعا دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ برخودار! یہ مرحوم کے مرنے کے دن نہیں تھے۔ حالانکہ پانچ منٹ پہلے یہی صاحب، جی ہاں، یہی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مرحوم نے پانچ سال قبل دونوں بیویوں کو اپنے تیسرے سہرے کی بہاریں دکھائی تھیں اور یہ ان کے مرنے کے نہیں، ڈوب مرنے کے دن تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے انگلیوں پرحساب لگا کر کانا پھوسی کے انداز میں یہ تک بتایا کہ تیسری بیوی کی عمرمرحوم کی پنشن کے برابر ہے۔ مگر ہے بالکل سیدھی اور بے زبان۔ اس اللہ کی بندی نے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کے دانت نہیں ہیں۔ مگر مرحوم اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے محض اپنی دعاؤں کے زور سے موصوفہ کا چال چلن قابو میں کررکھا ہے۔ البتہ بیاہتا بیوی سے ان کی کبھی نہیں بنی۔ بھری جوانی میں بھی میاں بیوی 62 کے ہند سے کی طرح ایک دوسرے سے منہ پھیرے رہے اور جب تک جیے، ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہے۔میں نے گفتگو کا رخ موڑنے کی خاطر گنجان قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہی چپّہ چپّہ آباد ہوگیا۔ مرزا حسب معمول پھر بیچ میں کود پڑے۔ کہنے لگے، دیکھ لینا، وہ دن زیادہ دور نہیں جب کراچی میں مردے کو کھڑا گاڑنا پڑے گا اور نائیلون کے ریڈی میڈ کفن میں اوپر زِپ لگے گی تاکہ منہ دیکھنے دکھانے میں آسانی رہے۔