انگریزی ادب

انگریزی ادب

اسپیشل فیچر

تحریر : یاسر جواد


انگریزی(انگلش) ادب سے مراد انگلینڈ میں لکھا گیا ادب ہے، جس کا آغاز پانچویں صدی عیسوی میں اینگلو ساکسنز کی جانب سے پرانی انگلش متعارف کروائے جانے کے ساتھ ہوا۔ پرانی انگلش کے ادب کا دور 450ء سے 1066 تک ہے جب نارمن فرانسیسیوں نے انگلینڈ کو فتح کیا۔ رومنوں کی پسپائی کے بعد پانچویں صدی میں یورپ پر چڑھائی کرنے والے جرمن قبائل اپنے ساتھ پرانی انگلش یا اینگلو ساکسن زبان لائے جو جدید انگلش کی بنیاد ہے۔ پرانی انگلش میں زیادہ تر شاعری کا مقصد حمدیں گانا تھا۔ یہ خوب صورت مگرا فسردہ شاعری زندگی کے دکھ اور فانی پن کے علاوہ تقدیر کے سامنے انسانوں کی لاچاری کا بھی رونا روتی ہے۔ ’’Beowulf‘‘ کی رزمیہ داستان اس کی ایک مثال ہے جو آٹھویں اور دسویں صدی کے درمیان لکھی گئی۔ اس کا آغاز اور اختتام ایک عظیم بادشاہ کے جنازے پر ہوتا ہے۔ مقدس حکایت اور کہانی نے بھی Beowulf جیسی ہیئت اختیار کر لی۔ پرانی انگلش میں نثر کی نمائندگی بہت سی مذہبی تصانیف کے ذریعہ ہوتی ہے۔ شمالی انگلینڈ میں ساتویں صدی عیسوی میں خانقاہوں کی متاثرکن دانشوری لاطینی کتاب ’’Historia Ecclesiastica Gentis Anglorum‘‘ (انگلش لوگوں کی کلیسیائی تاریخ) میں عروج کو پہنچی جس کا مصنف Bede تھا۔ 1066ء سے 1485ء تک وسطی انگلش کا عہد تھا جب مقامی انگلش انداز ہائے سخن اور موضوعات پر فرانسیسی ادب کا گہرا اثر پڑا۔ عام ادبی ترکیب میں فرانسیسی نے کافی حد تک انگلش کی جگہ لے لی اور لاطینی زبان نے علم وفضل کی زبان کے طور پر اپنی حیثیت قائم رکھی۔ چودہویں صدی میں جب انگلش دوبارہ حکمران طبقات کی پسندیدہ زبان بنی تو متعدد تبدیلیوں کے عمل سے گزر چکی تھی۔ وسطی انگلش میں بولے جانے والے مختلف لہجے جدید انگلش جیسے تھے اور انہیں آج بھی کسی بڑی مشکل کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔ چودہویں اور پندرہویں صدیوں کا وسطی انگلش کا ادب سابقہ پرانی انگلش کے ادب سے کافی مختلف ہے۔ فرانسیسی اور حتیٰ کہ اطالوی عناصر کے کئی رنگوں نے وسطی انگلش ادب کو متاثر کیا، بالخصوص جنوبی انگلینڈ میں۔ انگلش ادب کا عہد زریں 1485ء سے شروع ہوا اور 1660ء تک جاری رہا۔ ولیم کاکسٹن کی شائع کردہ اولین تصانیف میں Malory کی ’’Le morte d\'Arthur‘‘ بھی شامل تھی۔ 1476ء میں جب کاکسٹن نے انگلینڈ میں پرنٹنگ پریس متعارف کروایا تو کتب بینی میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ تاہم، سولہویں صدی کے آخری دو عشروں (ملکہ ایلزبتھ کا عہد) سے قبل نیا ادب پروان نہ چڑھ سکا۔ یورپی تحریک انسان دوستی میں انگلش حصہ بھی اسی عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان دوستی نے کلاسیکی ادب کے مطالعہ کو بہت زیادہ تقویت دی اور تعلیم میں اس طرح اصلاح کی کہ ادبی اظہار شائستہ افراد کی معراج بن گیا۔ جلد ہی انگلش شاعر اور نثر نگار قدیم انداز سخن کی طرز پر خود آگاہ ادیب بنے۔ تاہم، انسان دوستی کا نہایت براہ راست اثر شائستہ، واضح اور قابل فہم رویے کو رواج دینا تھا۔ اس کے پیروکاروں نے قرونِ وسطیٰ کی دینیاتی تعلیم اور توہمات کو مسترد کیا۔ ان مصنفین میں سر ٹامس مور ممتاز ترین ہے جس نے ’’یوٹوپیا‘‘ (1516ء) لکھی۔ انگلش ڈرامہ کا آئندہ انداز متشکل کرنے میں اہم ترین شخصیت بین جانسن تھا۔ اس کی کامیڈیز مثلاً ’’Volpone‘‘ (1606ء) اور ’’دی الکیمسٹ‘‘ (1610ء) نے ایک نیا انداز سخن متعارف کروایا۔ ڈرامہ نگاروں فرانسس بیومونٹ اور جان فلیچر نے اسے اپنا استاد مانتے ہوئے المیہ کامیڈیز لکھیں۔ نشاۃ ثانیہ میں نثر کا اہم ترین کام بائبل کا انگلش ترجمہ تھا جو 1611ء میں شائع ہوا اور کنگ جیمز کا متن کہلاتا ہے۔ اس نے بعد کے تمام انگلش مصنفین کو متاثر کیا۔ 1660ء میں چارلس دوم کی تخت پر بحالی سے لے کر 1789ء کا عہد ’’بحالی کا دور‘‘ کہلاتا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کے ادب میں شاعرانہ القا یا تخیل کا عنصر غالب تھا۔ مارلو، شیکسپیئر اور ملٹن کے القائی تخیلات، سپنسر کا اچھوتا پن اور جان ڈن کا بے باک شاعرانہ انداز اس عمومی رجحان کی حمایت کرتے ہیں۔ سترہویں صدی کی ابتدا میں ہی فرانسس بیکن نے استدلالیت پر زور دینا شروع کر دیا۔ اس نے ’’Advancement of Learning‘‘ (1605ء) اور ’’The New Atlantis‘‘ (1627ء) میں استدلال اور سائنسی طریقہ تفتیش کی حمایت کی۔ جان لاک کا ’’Essay Concerning Human Understanding‘‘ (1690ء) تجربے کو علم کی کسوٹی اور بنیاد بنا کر پیش کرتا ہے۔ ڈیوڈ ہیوم نے ’’An Enquiry Concerning Human Understanding‘‘ (1748ء) میں اس نکتۂ نظر کو آخری حد تک پہنچایا۔ ’’Leviathan‘‘ (1651ء) میں تھامس ہوبز نے سیاسی مطلق العنانیت کو عقلی طور پر اخذ کردہ تصور کے ساتھ تبدیل کیا۔ اس کے مطابق حکمران کو الوہی حق کے تحت نہیں بلکہ ایک حقیقی اور ناقابل تنسیخ عمرانی معاہدے کے ساتھ حکومت کرنی چاہیے تاکہ ہمہ گیر امن اور مادی تسکین حاصل ہو سکے۔ انگلش میں عظیم ترین تاریخی کام غالباً چھ جلدوں پر مشتمل ’’The History of the Decline and Fall of the Roman Empire‘‘ (1776-88ء) از ایڈورڈ گبن ہے۔ عہد بحالی کے دوران اور اٹھارہویں صدی میں ادبی ذوق کے دیگر مراحل کو ڈرائیڈن، پوپ اور جانسن کے عہد قرار دیا جاتا ہے۔ ان تین عظیم ادبی شخصیات نے ادب میں کلاسیکی روایت کو جاری رکھا۔ 1789ء سے 1837ء کا دور رومانوی عہد کہلاتا ہے جب وفور جذبات نے عقل پر فوقیت حاصل کر لی۔ انقلاب فرانس کا ایک مقصد پرانی مصنوعی بن چکی روایت کا خاتمہ کرنا اور انسانی نسل کی آزادی و اتحاد پر زور دینا تھا۔ رومانوی عہد کے بہت سے لکھاریوں کے لیے یہ مقصد انگلش علم وفضل کے میدان میں بھی اتنا ہی موزوں معلوم ہوا۔ اس کے علاوہ عقل یا استدلال پر وجدان اور جذبے کا غلبہ انگلش ادب میں رومانوی عہد کی پہچان تھا۔ رومانویت کا پہلا اہم اظہار ولیم ورڈزورتھ اور سیموئیل ٹیلر کالرج کے ’’Lyrical Ballads‘‘ (1798ء) میں ملتا ہے۔ دونوں نے انقلاب فرانس سے تحریک پائی اور پھر مایوس ہو گئے۔ ورڈزورتھ نے باتخصیص طور پر شاعرانہ زبان استعمال کرنے کے نظریے کو مسترد کیا اور اس کی بجائے روزمرہ زبان کی عام باتوں اور الفاظ کو اہمیت دی۔ سر والٹر سکاٹ نے سیموئیل ٹیلر کالرج کی طرح دور کے زمانوں میں مسرت تلاش کی، مثلاً ’’The Lady of the Lake‘‘ (1810ء) میں۔ رومانوی شاعروں کی دوسری نسل کالرج، ورڈزورتھ اور سکاٹ کے برعکس اپنے تمام کیریئرز کے دوران ایک لحاظ سے انقلابی رہے۔ جارج گورڈن لارڈ بائرن سماج کے خلاف المیہ بغاوت کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح چائلڈ ہیرلڈ کی نظموں کے مجموعے ’’Pilgrimage‘‘ (1812ء) اور ’’Don Juan‘‘ (1819-24ء) میں بھی یہ تاثر موجود ہے۔ اس عہد کا ایک اور انقلابی شاعر پی بی شیلے دیگر رومانویوں کی سنجیدگی کے بہت قریب نظر آتا ہے۔ شاید یہ خیالات ’’Prometheus Unbound‘‘ (1820ء) میں سب سے زیادہ کامل انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ کیٹس کی شاعری حسیاتی تاثرات کا ردعمل ہے۔ اسے اپنی شاعری میں ایک مکمل اخلاقی یا سماجی فلسفہ پیش کرنے کی مہلت اور نہ ہی تحریک ملی۔ 1837ء میں ملکہ وکٹوریا کی تاج پوشی سے شروع ہونے والا وکٹوریائی عہد 1901ء میں اس کی موت تک جاری رہا۔ یہ متعدد بے ترتیب سماجی ترقیوں کا عہد تھا جنہوں نے اہل قلم کو فوری نوعیت کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ انگلش ادب کی شاعری اور نثر میں رومانوی انداز ہائے سخن غالب رہے، لیکن بہت سے لکھاریوں نے انگلش جمہوریت، عوام کی تعلیم، صنعتی جستجو کی ترقی اور مادیت پسندانہ فلسفے پر بھی توجہ دی۔ انہوں نے صنعتی مزدوروں کی حالت زار کو بھی موضوع بنایا۔ بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں، ایک شدید معاشی بحران اور جنگوں کے بعد برطانیہ میں سخت گیر زندگی انگلش ادب کا معیار اور سمت متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ نئے ادیبوں نے وکٹوریائی عہد کی روایتی اقدار پر سوالات اٹھائے۔ روایتی ادبی انداز اکثر مسترد کیے اور ان کی جگہ یکایک نئے انداز اپنائے گئے کیونکہ ادیب تجربے کی نئی اقسام بیان کرنے کے لیے نئے انداز ہائے سخن کے متمنی تھے۔ ورجینیا وولف، آلڈس ہکسلے، ای ایم فارسٹر، ڈی ایچ لارنس، جیمز جوائس، گراہم گرین، جارج آرویل، جارج برنارڈ شا، کنگسلے ایمس،ڈورس لیسنگ، انیتا بروکنر، ولیم گولڈن، جان فاؤلز، جولیان بارنز، میگی سمتھ، مارٹن ایمس، وی ایس نیپال، انیتا ڈیسائی، ڈبلیو بی Yeats، رابرٹ گریوز، ایڈتھ سٹویل، ڈائلان تھامس، ڈبلیو ایچ آدن، کرسٹوفر ایشرووڈ، جان گلاسوردی، جان اوسبورن، سامرسیٹ ماہم، ہیرلڈ پنٹر، سیموئیل بیکٹ، اور کارلائل چرچل نے بیسویں صدی میں انگلش شاعری، ڈرامہ، ناول اور نثر کو مستحکم بنیادیں فراہم کیں۔(انسائیکلو پیڈیا ادبیاتِ عالم سے ماخوذ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند سکڑ رہا ہے!

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند کی سطح میں تبدیلیاں، مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹیاگر آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں اور محسوس کریں کہ چاند کچھ چھوٹا نظر آ رہا ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی تازہ تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں دراصل چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کا نتیجہ ہیں، جس سے اس کی بیرونی پرت میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلینیٹری اسٹڈیز کے سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد ایسی دراڑیں دریافت کی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں۔ماہرین کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ چاند سکڑ رہا ہے اور اپنی ساخت کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند کی سطح پر جانے یا وہاں رہنے والے خلا نورد تباہ کن قمری زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہاکہ ہم قمری سائنس اور تحقیق کے ایک نہایت سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکے ہیں۔آنے والے قمری تحقیقی پروگرام، جیسے آرٹیمس، ہمیں چاند کے بارے میں بے شمار نئی معلومات فراہم کریں گے۔قمری ارضیات اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کی بہتر سمجھ بوجھ ان اور مستقبل کے مشنز کی حفاظت اور سائنسی کامیابی کیلئے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگی۔2010ء سے سائنس دان یہ جانتے ہیں کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، کیونکہ اس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس کی سطح سمٹ رہی ہے۔ اس سکڑاؤ کے نتیجے میں قمری بلند علاقوں (لُونر ہائی لینڈز) میں مخصوص زمینی ساختیں پیدا ہوئیں، جنہیں ''لوبیٹ اسکارپس‘‘(lobate scarps) کہا جاتا ہے۔یہ ساختیں اس وقت بنتی ہیں جب چاند کی پرت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور پیدا ہونے والی قوتیں مادّے کو فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ اوپر اور قریبی پرت پر دھکیل دیتی ہیں، جس سے ایک ابھرا ہوا کنارہ وجود میں آتا ہے۔تاہم اپنی نئی تحقیق میں محققین نے ایک مختلف علاقے، جسے لونر ماریا(lunar maria) کہا جاتا ہے،یعنی چاند کی سطح پر پھیلے وسیع اور تاریک میدان میں عجیب و غریب دراڑیں دریافت کیں۔ انہوں نے ان دراڑوں کو ''سمال ماری رِجز‘‘ (SMRs) کا نام دیا ہے۔مطالعے کے مرکزی محقق نائپیور (Nypaver) نے کہا کہ اپولو دور سے ہم قمری بلند علاقوں میں لوبیٹ اسکارپس کی کثرت سے واقف ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے قمری ماریا میں بھی اسی نوعیت کی ساختوں کی وسیع موجودگی کو دستاویزی شکل دی ہے۔یہ تحقیق ہمیں چاند پر حالیہ زمینی حرکات (ٹیکٹونزم) کے بارے میں عالمی سطح پر مکمل تناظر فراہم کرتی ہے، جس سے اس کے اندرونی ڈھانچے، حرارتی اور زلزلہ جاتی تاریخ، اور مستقبل میں ممکنہ قمری زلزلوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔نئی تحقیق میں ٹیم نے 1,114 اسمال ماری رِجز دریافت کیں، جس سے چاند پر اب تک دریافت شدہ ایسی ساختوں کی مجموعی تعداد 2,634 ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل لاکھوں برسوں سے جاری ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں مستقبل کے خلائی مشنز، خصوصاً چاند کے جنوبی قطب پر منصوبہ بند سرگرمیوں کیلئے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ زمین کے برعکس چاند پر زلزلوں جیسی حرکات زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہیں، جو کسی بھی انسانی یا روبوٹک مشن کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ادارے، بالخصوص ناسا، ان جغرافیائی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مشنز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

'' آپریشن رد الفساد‘‘ کا آغاز22فروری2017ء کو ملک بھر میں ''آپریشن رد الفساد‘‘ شروع کیا گیا۔ جس کا مقصد دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس اداروں کی طرف سے چار لاکھ سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں چار سو زائد دہشت گرد جہنم واصل اور سیکڑوں گرفتار ہوئے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔دہشت گردوں کے 400 سے زائد مذموم منصوبے ناکام بنائے گئے۔سوچنے کا عالمی دنہر سال 22 فروری کو دنیا بھر میں ''ورلڈ تھنکنگ ڈے‘‘ یعنی ''سوچنے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1926ء میں چوتھی گرل گائیڈ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران امریکہ میں ہواتھا۔ اِس کانفرنس میں موجود لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص دن ہونا چاہیے جب گرل گائیڈز اور اسکاؤٹس پوری دنیا میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرسکیں اور ایک دوسرے کو سراہا جاسکے ۔ امریکہ نے فلوریڈاخریدا22جنوری1819 ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سپین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے ''ایڈمز،اونس معاہدہ‘‘ یا ''ٹرانس کانٹی نینٹل ٹریٹی‘‘ اور ''فلوریڈا پرچیز ٹریٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سپین کی جانب سے فلوریڈا کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل سرحدی تنازع حل ہو گیا۔ ''فلوریڈا معاہدے ‘‘کو امریکی سفارتکاری کی فتح کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

کنگفوروبوٹس

کنگفوروبوٹس

مصنوعی ذہانت کا نیا شاہکار دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مشینیں صرف احکامات پر عمل کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی حرکات و سکنات کی نقل بھی حیران کن مہارت سے کرنے لگی ہیں۔ حال ہی میں چین میں تیار کیے گئے انسانی شکل کے روبوٹس نے کنگفو کے پیچیدہ کرتب دکھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ روبوٹس نہ صرف ککس اور قلابازیاں لگاتے ہیں بلکہ ننچک جیسے روایتی ہتھیار کے ساتھ مہارت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔''سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا‘‘ میں درجنوں روبوٹس نے اسٹیج پر اپنے کرتب پیش کیے۔سرخ واسکٹ پہنے کنگفو روبوٹس ککس، قلابازیاں اور حتیٰ کہ ننچک، تلواریں اور چھڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہارت کے کرتب دکھاتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جرات مندانہ مظاہرہ انسانی بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ روبوٹس بنانے والی معروف کمپنی ''یونٹری‘‘ کی جانب سے شو کی شائع کردہ شاندار ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔یوٹیوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مداح نے لکھا: پانچ سال قبل یہ سب سائنس فکشن ہوتا۔ ایک اور نے کہا:اگر میں یہ براہِ راست یونٹری روبوٹکس کے چینل سے نہ دیکھ رہا ہوتا، تو کہتا یہ AI ہے۔ چین میں ہونے والے اس گالا میں انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹس بنانے والی چار کمپنیوں یونٹری روبوٹکس، گالبوٹ، نوئٹکس اور میجک لیب کے تیار کردہ روبوٹس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یونٹری کے درجنوں روبوٹس ''جی ون‘‘(G1)اسٹیج پر آئے، جو یونٹری کے بقول ''مَنکی کنگ کے ہتھیاروں‘‘ سے لیس تھے۔ لڑائی کے مناظر میں تکنیکی طور پر ایک منفرد سیکوئنس بھی شامل تھا، جس میں ''نشے میں مارشل آرٹس‘‘ کے انداز کی ڈگمگاتی حرکتوں اور پیچھے گرنے کے کرتب کی نقل کی گئی۔اس خاص سیکوئنس سے ''یونٹری ‘‘ نے متعدد روبوٹس کی ہم آہنگی اور فالٹ ریکوری کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا یعنی روبوٹ گرنے کے بعد خود اٹھ سکتا ہے۔یونٹری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کی تفصیل میں بتایاکہ درجنوں ''جی ون‘‘ روبوٹس نے دنیا کی پہلی مکمل خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹ کنگفو پرفارمنس انجام دی، جس میں تیز حرکات شامل تھیں۔ ان روبوٹس نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ''جی ون‘‘ ہیومنائیڈ روبوٹ کا وزن 35 کلوگرام (77 پاؤنڈ)، قد 1.32 میٹر (4.33 فٹ) اور جوڑوں میں 23 ڈگری کی آزادی ہے، جو اسے اوسط انسانی جسم سے زیادہ حرکت پذیر بناتی ہے۔ اپنے سادہ چہرے کے پیچھے، یہ روبوٹ ایک جدید سسٹم چھپا کر رکھتا ہے، جس میں 3D LiDAR سینسر اور ڈیپتھ سینسنگ کیمرا شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے دنیا کے سب سے جدید کمرشل دستیاب ہیومنائیڈ روبوٹس میں سے ایک بناتی ہیں۔گزشتہ سال کے گالا میں، 16 یونٹری روبوٹس نے ایک نسبتاً سادہ روٹین پیش کی تھی، جس میں وہ رومال گھما رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ ٹیکنالوجی کنسلٹنسی کمپنی Stieler کے ایشیاء میں منیجنگ ڈائریکٹر اور روبوٹکس و آٹومیشن کے سربراہ جورج اسٹیلر کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک سال میں ہوئی اوراس کے بعد ان روبوٹس کی پرفارمنس میں یہ فرق حیران کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹس کی متاثر کن موشن کنٹرول یونٹری کے اس مقصد کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ روبوٹ کے ''دماغ‘‘ یعنی AI سے چلنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو انہیں نفیس حرکی کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی فیکٹری سیٹنگز میں استعمال ہو سکتے ہیں۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی بہتری کو یوٹیوب پر بھی کئی ناظرین نے نوٹ کیا۔یونٹری کے ہیومنائیڈ روبوٹس پہلے بھی اپنی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے وائرل ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال، چینی روبوٹکس فرم نے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے کیلئے دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ باکسنگ ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا۔ ایک وائرل کلپ میں، دو حقیقی سائز کے روبوٹس، جنہوں نے باکسنگ گلوز اور حفاظتی ہیڈ گیئر پہنے ہوئے تھے، رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں جبکہ ایک انسانی ریفری انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑتے ہوئے روبوٹس کچھ ککس اور پنچ لگا پائے، لیکن اکثر انہیں اپنا مخالف تلاش کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آئی۔یہ مظاہرہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے، جو مستقبل میں صنعت، تعلیم اور تفریح سمیت کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا انسان اور مشین کا یہ قرب مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اپنی زبان، اپنی پہچان

اپنی زبان، اپنی پہچان

21 فروری کودنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہےانسان کی پہلی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ اپنی ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کا اظہار سیکھتا ہے اور اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ مادری زبان نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی امین بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کس قدر وابستگی رکھتی ہے۔عالمی سطح پر21فروری کو یونیسکو (UNESCO) کے تحت عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لسانی تنوع کا تحفظ اور مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان محض بول چال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، روایت اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے عالمی ادارہ یونیسکو نے 1999ء میں 21 فروری کو مادری زبان کاعالمی دن قرار دیاتھا،جو پوری دنیا میں منایا جاتاہے۔ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں،واک اور بینر ڈسپلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت ساری زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔جب تک حکومت، اخبارات، جرائد و رسائل اور خاص کر الیکٹرانک میڈیا مادری زبانوں کے تحفظ کیلئے بھر پور حصہ نہیں لیں گے، اس دن کو منانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔کثیر لسانی تعلیم میں نوجوانوں کی آواز:2026ء کا موضوعحالیہ برسوں میں لسانی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی ہجرت، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کثیر لسانیت کے ادراکی، سماجی اور معاشی فوائد کے بڑھتے ہوئے اعتراف نے شکل دی ہے۔ آج کثیر لسانیت کو صرف ایک سماجی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی خصوصیت اور ایک مؤثر تعلیمی طریقہ کار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس ارتقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ زبانوں کے تحفظ اور احیا کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی تنوع کو زیادہ نمایاں اور باوقار بناتے ہیں۔ یہ کوششیں زبان، شناخت، تعلیم، فلاح و بہبود اور سماجی شرکت کے درمیان گہرے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں جو طلبہ کی زبانوں کو تسلیم اور سہارا دے۔اس کے ساتھ ساتھ نمایاں چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اب بھی 40 فیصد طلبہ کو اس زبان میں تعلیم میسر نہیں جسے وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اور اس صورتحال سے مقامی، مہاجر اور اقلیتی نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایسی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کثیر لسانی تعلیم کو اپنی بنیاد بنائیں، تاکہ شمولیت، مساوات اور مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھا کر، کامیاب تجربات کو شیئر کر کے اور نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے کر عالمی اقدامات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ ہو اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو دنیا بھر کے اسکولوں اور معاشروں میں لسانی تنوع کو مضبوط کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں 742، نائیجیریا میں 516،بھارت میں425،امریکہ 311،آسٹریلیا میں 275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر میں تقریباً کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے ۔دوسرے نمبر پر ( اُردو یا ہندی) ہے۔ تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے ۔اس کے بعد ہسپانوی ،عربی ،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔پنجابی 11 او ر (صرف) اُردو، بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے ۔مادری زبان کا عالمی دن، جس کا اعلان پہلے یونیسکو نے کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیا، شمولیت کے فروغ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ کثیر لسانی تعلیم نہ صرف جامع معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر غالب، اقلیتی اور مقامی زبانوں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کیلئے مساوی تعلیمی رسائی اور تاحیات سیکھنے کے مواقع کے حصول کی ایک بنیادی ستون ہے۔

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

اجزاء : مرغی 250 گرام (صرف گوشت)، آلو (درمیانہ سائز) ایک عدد، انڈا ایک عدد پیاز (چھوٹی ) ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس (بڑے ) چھ عدد، کالی مرچ پاؤڈر آدھا ٹی سپون، مکھن ایک ٹیبل سپون، ہرا دھنیا، پو دینہ اور مرچ آدھا کپ، نمک حسب ذائقہ،آئل تلنے کیلئے۔ترکیب: مرغی، انڈے اور آلو ابال لیں۔ گوشت کے باریک ریشے کر لیں۔ انڈے اور آلو کو کچل کر گوشت میں شامل کر دیں۔ چوکور پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچ و پو دینہ بھی گوشت میں ملا دیں۔ اب اس میں مکھن، کالی مرچ اور نمک شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ سلائس کو ہلکا گیلا کر کے تھوڑا سا پھیلا لیں۔ بنا ہوا مصالحہ حسب انداز درمیان میں رکھ کر رول کی شکل میں بنا لیں۔ ایک گھنٹہ فریج میں رکھ کر آئل میں فرائی کر یں اور جاذب کاغذ پر رکھیں۔قیمے کے سموسے اجزاء: قیمہ 250 گرام، میدہ 500 گرام، میٹھا سوڈا 2 چٹکی، اناردانہ تھوڑا سا، گھی 90 گرام، ہری مرچ چار عدد، ہرا دھنیا ،نمک حسب ضرورت۔ترکیب:میدے کو گھی میں گوندھیں اور اس میں نمک اور سوڈا ملا دیں اور تھوڑا سا پانی بھی ملائیں مگر میدہ سخت ہونا چاہیے۔ اس کے پیڑے بنا کر بیلن سے بیل کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں بنا لیں اور ان کو درمیان سے کاٹ لیں پھر ان کو دوہرا کر کے ان میں قیمہ بھر لیں۔ یہ سموسوں کی شکل کے بن جائیں گے۔ انہیں گھی میں تل لیں اور تناول فرمائیں۔