ساختیات کے ماہر : ڈاکٹر گوپی چند نارنگ

ساختیات کے ماہر : ڈاکٹر گوپی چند نارنگ

اسپیشل فیچر

تحریر :


ہندوستان سے ہمارے سیاسی تعلقات کیسے ہی ہوں، ادبی مراسم نہایت خوشگوار ہیں۔ یہاں کے ادیب اوروہاں کے ادیب یہاں کثرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ادب ، ادب نہیں رہا، سیروسیاحت کا وسیلہ بن گیاہے ۔ اس صورت حال سے بہت سے جعلی ادیبوں نے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ جنھیں اپنے ملک میں کوئی نہیں پوچھتا، وہ دوسرے ملک میں جاکر ’’مشاہیر‘‘ میں اپنا شمار کراتے ہیں۔ وہاں ریڈیو کی اردو سروس میں خارج از آہنگ انٹرویو دیتے ہیں، یہاں مشاعروں میں خارج از وزن ومعنی شعر سنا کر سامعین کا مذاق اور اپنا گلا خراب کرتے ہیں۔ بعض ’’مشاہیر‘‘ سفر نامے بھی لکھتے ہیں جنھیں لکھنے کے لیے صرف ارادے کی اور پڑھنے کے لیے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہندوستان سے آنے والے ادیب کئی طرح کے ہوتے ہیں ۔ کچھ تووہ ہیں جنھیں تفریحی مقاصد کے لیے بلایا جاتا ہے۔ وہ ’’اسی مے خانے کی مٹی اسی مے خانے میں‘‘ کے مصداق مشاعروں میں صرف یا خرچ ہوجاتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو ’’تبادلے‘‘ کی اسکیم کے تحت تشریف لاتے ہیں ۔ جس طرح بعض ممالک میں قیدیوں کا تبادلہ ہوتا ہے، اسی طرح پاک وہند کے درمیان غیر سرکاری سطح پر ادیبوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ کچھ پاکستانی ادیب اپنے وسائل یا اثرات سے کچھ ایسے ہندوستانی ادیبوں کو ادبی جلسوں میں مدعو کرتے ہیں جو اپنے ملک میں باوسیلہ اور با اثر ہوتے ہیں۔ پھر وہ جوابی کاروائی کے طور پر اپنے پاکستانی دوستوں کو ہندوستان بلا کر حساب برابر کردیتے ہیں۔ کچھ ہندوستانی اہل قلم ایسے ہیں جو صرف علمی وادبی مقاصد کے تحت تشریف لاتے ہیں۔ وہ علمی وادبی مجالس میں شرکت کرتے ہیں، اہل علم سے ملاقاتیں کرتے ہیں، پاکستان کی ادبی صورت حال کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہایت خوش گوار اثر چھوڑ کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ ایسے ادیبوں میں جگن ناتھ آزاد، علی سردار جعفری، ڈاکٹر نثار احمد فاروقی، ڈاکٹر خلیق انجم، جیلانی بانو، علی جواد زیدی، شمس الرحمان فاروقی، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور دوسرے کئی اہل قلم شامل ہیں۔ اس فہرست میں ڈاکٹر نارنگ کا نام دیکھ کر ممکن ہے بعد لوگ زیر لب مسکرائیں اور یہ کہیںکہ وہ تو ادب سے زیادہ تعلقات عامہ کے حوالے سے سفر کرتے ہیں۔ ہمیں اس سے اتفاق نہیںہے۔ ڈاکٹر نارنگ علم کا سمندر ہیں۔ اس سمندر میں تعلقات عامہ کی حیثیت محض ایک گلیشیر کی سی ہے۔ گلیشیر کا کام صرف اتنا ہے کہ بھولے بھٹکے جہاز اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتے رہیں۔ ڈاکٹر نارنگ اپنے علم سے لوگوں کو فیض یاب کرتے ہیں، تعلقات عامہ سے حریفوں کو نیچا دکھاتے ہیں۔ڈاکٹر نارنگ جب پاکستان تشریف لاتے ہیں تو یہاں کی ادبی دنیا میں زلزلہ آجاتا ہے۔ عام زلزلے سے زیر زمین سطح پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نارنگ قصہ زمین برسر زمین کے قائل ہیں۔ ان سے ملنے کے لیے لوگ بے تاب ہوتے ہیں اور وہ خودبھی سراپا اشتیاق بن جاتے ہیں۔ ہرایک سے اس طرح ملتے ہیں جیسے صرف اسی سے ملنے کے لیے انھوں نے زحمت سفر اٹھائی ہو۔ پچھلے ہفتے کراچی میں ایک مرتبہ پھرڈاکٹر نارنگ کے حوالے سے خلوص و محبت کے بے مثال مناظر دیکھنے میں آئے۔ اس مرتبہ موصوف کی آمد کا سبب عالی صاحب تھے۔ اس ابہام کی توضیح یہ ہے کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں کسی عرب امارات میں عالی صاحب کا جشن منایا گیا۔ نارنگ صاحب نے اس جشن طرب میں شرکت کی اور ان کی شان میں ایک خوبصورت مقالہ پڑھا۔ اس مقالے میں عالی صاحب کی اتنی تعریف تھی کہ ان کے لیے اکیلے واپس آنا مشکل ہوگیا، لہٰذا نارنگ صاحب انھیں کراچی چھوڑنے آئے۔کراچی میں نارنگ صاحب کا قیام ایک ایسے علاقے میں تھا جو شہر سے بہت دور ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ وہ ہجوم عاشقاں سے محفوظ رہیں گے اور عالی صاحب کے بارے میں مقالہ لکھنے سے جو تھکن ہوئی ہے، اس کا ازالہ کریں گے۔ لیکن سننے میں آیا کہ صبح کاذب ہی سے عشاق ان کے ہاں پہنچ جاتے تھے، کوئی اخبار کے لیے انٹرویو لیتا تھا، کوئی اپنی کتاب رائے کے لیے پیش کرتا تھا اور کوئی اپنے ہاں مدعو کرنے کے لیے تحریری درخواست سامنے رکھتا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عالیہ امام نے بھی انھیں اپنے ہاں مدعو کیا حالاں کہ ترقی پسند مصنفین ڈاکٹر نارنگ سے اتنا ہی پرہیز کرتے ہیں جتنا خالص ادب سے۔ لیکن ڈاکٹر عالیہ امام بہت فراخ دل ہیں، وہ خا ص خاص رجعت پسندوں کو بھی شایان توجہ سمجھتی ہیں۔ خود ڈاکٹر نارنگ بھی فراخ دلی میں کچھ کم نہیں ۔ ترقی پسندوں سے وہ ایسی محبت سے ملتے ہیں جیسے ساتھ کے کھیلے ہوں۔ ایک محفل میں انھوں نے پروفیسر ممتاز حسین کو اپنا معنوی استاد بھی کہہ دیا۔ اس پر استاد لاغر مرادآبادی نے فرمایا: ’’ساختیات کے ماہر ہیں، ساختیات میں لفظوں سے بحث ہوتی ہے، معنوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس لیے معنوی استاد کا مطلب ہے لفظی استاد‘‘۔نارنگ صاحب کے اعزاز میں یوں تو کئی جلسے ہوئے او ر بے شمار نجی دعوتوں میں انھوں نے شرکت کی لیکن انجمن ترقی اردو کا جلسہ بہت شان دار تھا (انجمن اب جلسے کرنے ہی کے لائق رہ گئی ہے) وسیع ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی بلکہ بقول شخصے، تل تو بڑی چیز ہے ڈاکٹر نارنگ جیسے ماہرلسانیات کے جلسے میں کوئی مصوتہ یا مصمتہ دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی۔ موصوف کی تقریر کا موضوع ساختیات تھا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ان کی ساری تحریروں کا موضوع یہی تھا۔ ساختیات عام دلچسپی کی چیز نہیں، اس لیے عام لوگوں نے’’ساختیات ‘‘ کو ’’خودساختیات‘‘ قسم کی چیز سمجھا۔ بعض اہل علم نے نارنگ صاحب پر اعتراضات بھی کیے۔ نارنگ صاحب نے ہر اعتراض کا مدلل جواب دے دیااور جہاں کوئی دلیل نہ ملی وہاں وہ طلاقت لسانی سے غالب آگئے۔ نارنگ صاحب تحریر ہی میں نہیں، تقریر میں بھی بے مثال ہیں۔ وہ ایسے خوب صورت انداز میں تقریر کرتے ہیں کہ سننے والے مسحور ہوجاتے ہیں۔ سامعین کی اس حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نارنگ صاحب جو جی میں آتا ہے کہہ جاتے ہیں اور اس طرح ثابت کردیتے ہیں کہ وہ ساختیات ہی کے نہیں ’’خودساختیات‘‘ کے بھی ماہر ہیں۔محمد حسین آزاد نے ’’شہرت عام اور بقائے دوام کا دربار‘‘ میںغالبؔکے بارے میں لکھا ہے:’’بڑی دھوم دھام سے آئے اور ایک نقارہ اس زور سے بجایا کہ سب کے کان گنگ کردیے۔ کوئی سمجھا اور کوئی نہ سمجھا مگر سب واہ وا اور سبحان اللہ کرتے رہ گئے‘‘۔ ڈاکٹر نارنگ نے بھی ساختیات کا نقارہ اس زور سے بجایا ہے کہ سننے والوں کے کان گنگ اور دماغ مائوف کردیے ہیں۔سمجھنے والے خاموش ہیں اور نہ سمجھنے والے واہ وا اور سبحان اللہ کا شور مچا رہے ہیں۔نارنگ صاحب کی کراچی میں موجودگی کے دوران انتظار حسین نے بھی لندن جاتے ہوئے چندگھنٹو ں کے لیے کراچی میں قیام کیا۔ لندن کے اردو مرکز میں ان کے ساتھ ایک شام منائی جارہی ہے ۔ کراچی کی ایک دعوت میں ڈاکٹر نارنگ اور انتظار حسین کی ملاقات ہوئی۔ کسی نے انتظار حسین سے پوچھا: ’’آپ لندن اکیلے جارہے ہیں یا آپ کے ساتھ کوئی مقالہ نگار بھی جارہا ہے‘‘؟ انھوں نے ڈاکٹر نارنگ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا:’’میں جمیل الدین عالی کی طرح صاحب مقدور نہیں ہوں کہ نوحہ گر کو ساتھ رکھوں‘‘۔نارنگ صاحب کا نیا تنقیدی مجموعہ’’ادبی تنقید اور اسلوبیات‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ یہ نہایت فکر انگیز مقالات کا مجموعہ ہے ۔ اردو میں ایسے تنقیدی مجموعے کم شائع ہوئے ہیں جن میں روایتی تنقید سے ہٹ کر بات کی گئی ہو۔ اس میں میر ، انیس اور اقبال کے اسلوبیاتی تجزیے ہیں۔ فیض وعالی کے معنیانی نظام کے جائزے ہیں۔ شہریار، بانی، ساقی، فاروقی اور افتخار عارف کی شاعری کے توصیفیے ہیں۔ نثری نظم کی شناخت بتائی ہے ۔ خواجہ حسن نظامی اور ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کی نثر کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو خصوصا ساقی فاروقی اور افتخار عارف کو یہ مجموعہ ضرور پڑھنا چاہیے کہ ان کی شاعری کی اتنی تعریف کسی دوسری جگہ نہیں ملے گی۔ ڈاکٹر نارنگ نے ان دونوں پر لکھتے ہوئے قلم توڑ دیا ہے۔انھوں نے یہ اچھا ہی کیا اگر وہ خود قلم نہ توڑتے تو اس کتاب کے پڑھنے والے توڑ دیتے۔(کتاب ’’خامہ بگوش کے قلم سے ‘‘ مقتبس ، مرتبہ مظفر علی سیّد، مزید پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک دیکھیں )rekhta.org/ebooks/

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند سکڑ رہا ہے!

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند کی سطح میں تبدیلیاں، مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹیاگر آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں اور محسوس کریں کہ چاند کچھ چھوٹا نظر آ رہا ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی تازہ تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں دراصل چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کا نتیجہ ہیں، جس سے اس کی بیرونی پرت میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلینیٹری اسٹڈیز کے سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد ایسی دراڑیں دریافت کی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں۔ماہرین کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ چاند سکڑ رہا ہے اور اپنی ساخت کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند کی سطح پر جانے یا وہاں رہنے والے خلا نورد تباہ کن قمری زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہاکہ ہم قمری سائنس اور تحقیق کے ایک نہایت سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکے ہیں۔آنے والے قمری تحقیقی پروگرام، جیسے آرٹیمس، ہمیں چاند کے بارے میں بے شمار نئی معلومات فراہم کریں گے۔قمری ارضیات اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کی بہتر سمجھ بوجھ ان اور مستقبل کے مشنز کی حفاظت اور سائنسی کامیابی کیلئے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگی۔2010ء سے سائنس دان یہ جانتے ہیں کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، کیونکہ اس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس کی سطح سمٹ رہی ہے۔ اس سکڑاؤ کے نتیجے میں قمری بلند علاقوں (لُونر ہائی لینڈز) میں مخصوص زمینی ساختیں پیدا ہوئیں، جنہیں ''لوبیٹ اسکارپس‘‘(lobate scarps) کہا جاتا ہے۔یہ ساختیں اس وقت بنتی ہیں جب چاند کی پرت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور پیدا ہونے والی قوتیں مادّے کو فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ اوپر اور قریبی پرت پر دھکیل دیتی ہیں، جس سے ایک ابھرا ہوا کنارہ وجود میں آتا ہے۔تاہم اپنی نئی تحقیق میں محققین نے ایک مختلف علاقے، جسے لونر ماریا(lunar maria) کہا جاتا ہے،یعنی چاند کی سطح پر پھیلے وسیع اور تاریک میدان میں عجیب و غریب دراڑیں دریافت کیں۔ انہوں نے ان دراڑوں کو ''سمال ماری رِجز‘‘ (SMRs) کا نام دیا ہے۔مطالعے کے مرکزی محقق نائپیور (Nypaver) نے کہا کہ اپولو دور سے ہم قمری بلند علاقوں میں لوبیٹ اسکارپس کی کثرت سے واقف ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے قمری ماریا میں بھی اسی نوعیت کی ساختوں کی وسیع موجودگی کو دستاویزی شکل دی ہے۔یہ تحقیق ہمیں چاند پر حالیہ زمینی حرکات (ٹیکٹونزم) کے بارے میں عالمی سطح پر مکمل تناظر فراہم کرتی ہے، جس سے اس کے اندرونی ڈھانچے، حرارتی اور زلزلہ جاتی تاریخ، اور مستقبل میں ممکنہ قمری زلزلوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔نئی تحقیق میں ٹیم نے 1,114 اسمال ماری رِجز دریافت کیں، جس سے چاند پر اب تک دریافت شدہ ایسی ساختوں کی مجموعی تعداد 2,634 ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل لاکھوں برسوں سے جاری ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں مستقبل کے خلائی مشنز، خصوصاً چاند کے جنوبی قطب پر منصوبہ بند سرگرمیوں کیلئے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ زمین کے برعکس چاند پر زلزلوں جیسی حرکات زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہیں، جو کسی بھی انسانی یا روبوٹک مشن کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ادارے، بالخصوص ناسا، ان جغرافیائی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مشنز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

'' آپریشن رد الفساد‘‘ کا آغاز22فروری2017ء کو ملک بھر میں ''آپریشن رد الفساد‘‘ شروع کیا گیا۔ جس کا مقصد دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس اداروں کی طرف سے چار لاکھ سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں چار سو زائد دہشت گرد جہنم واصل اور سیکڑوں گرفتار ہوئے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔دہشت گردوں کے 400 سے زائد مذموم منصوبے ناکام بنائے گئے۔سوچنے کا عالمی دنہر سال 22 فروری کو دنیا بھر میں ''ورلڈ تھنکنگ ڈے‘‘ یعنی ''سوچنے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1926ء میں چوتھی گرل گائیڈ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران امریکہ میں ہواتھا۔ اِس کانفرنس میں موجود لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص دن ہونا چاہیے جب گرل گائیڈز اور اسکاؤٹس پوری دنیا میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرسکیں اور ایک دوسرے کو سراہا جاسکے ۔ امریکہ نے فلوریڈاخریدا22جنوری1819 ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سپین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے ''ایڈمز،اونس معاہدہ‘‘ یا ''ٹرانس کانٹی نینٹل ٹریٹی‘‘ اور ''فلوریڈا پرچیز ٹریٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سپین کی جانب سے فلوریڈا کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل سرحدی تنازع حل ہو گیا۔ ''فلوریڈا معاہدے ‘‘کو امریکی سفارتکاری کی فتح کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

کنگفوروبوٹس

کنگفوروبوٹس

مصنوعی ذہانت کا نیا شاہکار دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مشینیں صرف احکامات پر عمل کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی حرکات و سکنات کی نقل بھی حیران کن مہارت سے کرنے لگی ہیں۔ حال ہی میں چین میں تیار کیے گئے انسانی شکل کے روبوٹس نے کنگفو کے پیچیدہ کرتب دکھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ روبوٹس نہ صرف ککس اور قلابازیاں لگاتے ہیں بلکہ ننچک جیسے روایتی ہتھیار کے ساتھ مہارت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔''سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا‘‘ میں درجنوں روبوٹس نے اسٹیج پر اپنے کرتب پیش کیے۔سرخ واسکٹ پہنے کنگفو روبوٹس ککس، قلابازیاں اور حتیٰ کہ ننچک، تلواریں اور چھڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہارت کے کرتب دکھاتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جرات مندانہ مظاہرہ انسانی بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ روبوٹس بنانے والی معروف کمپنی ''یونٹری‘‘ کی جانب سے شو کی شائع کردہ شاندار ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔یوٹیوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مداح نے لکھا: پانچ سال قبل یہ سب سائنس فکشن ہوتا۔ ایک اور نے کہا:اگر میں یہ براہِ راست یونٹری روبوٹکس کے چینل سے نہ دیکھ رہا ہوتا، تو کہتا یہ AI ہے۔ چین میں ہونے والے اس گالا میں انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹس بنانے والی چار کمپنیوں یونٹری روبوٹکس، گالبوٹ، نوئٹکس اور میجک لیب کے تیار کردہ روبوٹس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یونٹری کے درجنوں روبوٹس ''جی ون‘‘(G1)اسٹیج پر آئے، جو یونٹری کے بقول ''مَنکی کنگ کے ہتھیاروں‘‘ سے لیس تھے۔ لڑائی کے مناظر میں تکنیکی طور پر ایک منفرد سیکوئنس بھی شامل تھا، جس میں ''نشے میں مارشل آرٹس‘‘ کے انداز کی ڈگمگاتی حرکتوں اور پیچھے گرنے کے کرتب کی نقل کی گئی۔اس خاص سیکوئنس سے ''یونٹری ‘‘ نے متعدد روبوٹس کی ہم آہنگی اور فالٹ ریکوری کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا یعنی روبوٹ گرنے کے بعد خود اٹھ سکتا ہے۔یونٹری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کی تفصیل میں بتایاکہ درجنوں ''جی ون‘‘ روبوٹس نے دنیا کی پہلی مکمل خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹ کنگفو پرفارمنس انجام دی، جس میں تیز حرکات شامل تھیں۔ ان روبوٹس نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ''جی ون‘‘ ہیومنائیڈ روبوٹ کا وزن 35 کلوگرام (77 پاؤنڈ)، قد 1.32 میٹر (4.33 فٹ) اور جوڑوں میں 23 ڈگری کی آزادی ہے، جو اسے اوسط انسانی جسم سے زیادہ حرکت پذیر بناتی ہے۔ اپنے سادہ چہرے کے پیچھے، یہ روبوٹ ایک جدید سسٹم چھپا کر رکھتا ہے، جس میں 3D LiDAR سینسر اور ڈیپتھ سینسنگ کیمرا شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے دنیا کے سب سے جدید کمرشل دستیاب ہیومنائیڈ روبوٹس میں سے ایک بناتی ہیں۔گزشتہ سال کے گالا میں، 16 یونٹری روبوٹس نے ایک نسبتاً سادہ روٹین پیش کی تھی، جس میں وہ رومال گھما رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ ٹیکنالوجی کنسلٹنسی کمپنی Stieler کے ایشیاء میں منیجنگ ڈائریکٹر اور روبوٹکس و آٹومیشن کے سربراہ جورج اسٹیلر کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک سال میں ہوئی اوراس کے بعد ان روبوٹس کی پرفارمنس میں یہ فرق حیران کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹس کی متاثر کن موشن کنٹرول یونٹری کے اس مقصد کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ روبوٹ کے ''دماغ‘‘ یعنی AI سے چلنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو انہیں نفیس حرکی کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی فیکٹری سیٹنگز میں استعمال ہو سکتے ہیں۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی بہتری کو یوٹیوب پر بھی کئی ناظرین نے نوٹ کیا۔یونٹری کے ہیومنائیڈ روبوٹس پہلے بھی اپنی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے وائرل ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال، چینی روبوٹکس فرم نے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے کیلئے دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ باکسنگ ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا۔ ایک وائرل کلپ میں، دو حقیقی سائز کے روبوٹس، جنہوں نے باکسنگ گلوز اور حفاظتی ہیڈ گیئر پہنے ہوئے تھے، رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں جبکہ ایک انسانی ریفری انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑتے ہوئے روبوٹس کچھ ککس اور پنچ لگا پائے، لیکن اکثر انہیں اپنا مخالف تلاش کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آئی۔یہ مظاہرہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے، جو مستقبل میں صنعت، تعلیم اور تفریح سمیت کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا انسان اور مشین کا یہ قرب مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اپنی زبان، اپنی پہچان

اپنی زبان، اپنی پہچان

21 فروری کودنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہےانسان کی پہلی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ اپنی ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کا اظہار سیکھتا ہے اور اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ مادری زبان نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی امین بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کس قدر وابستگی رکھتی ہے۔عالمی سطح پر21فروری کو یونیسکو (UNESCO) کے تحت عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لسانی تنوع کا تحفظ اور مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان محض بول چال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، روایت اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے عالمی ادارہ یونیسکو نے 1999ء میں 21 فروری کو مادری زبان کاعالمی دن قرار دیاتھا،جو پوری دنیا میں منایا جاتاہے۔ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں،واک اور بینر ڈسپلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت ساری زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔جب تک حکومت، اخبارات، جرائد و رسائل اور خاص کر الیکٹرانک میڈیا مادری زبانوں کے تحفظ کیلئے بھر پور حصہ نہیں لیں گے، اس دن کو منانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔کثیر لسانی تعلیم میں نوجوانوں کی آواز:2026ء کا موضوعحالیہ برسوں میں لسانی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی ہجرت، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کثیر لسانیت کے ادراکی، سماجی اور معاشی فوائد کے بڑھتے ہوئے اعتراف نے شکل دی ہے۔ آج کثیر لسانیت کو صرف ایک سماجی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی خصوصیت اور ایک مؤثر تعلیمی طریقہ کار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس ارتقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ زبانوں کے تحفظ اور احیا کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی تنوع کو زیادہ نمایاں اور باوقار بناتے ہیں۔ یہ کوششیں زبان، شناخت، تعلیم، فلاح و بہبود اور سماجی شرکت کے درمیان گہرے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں جو طلبہ کی زبانوں کو تسلیم اور سہارا دے۔اس کے ساتھ ساتھ نمایاں چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اب بھی 40 فیصد طلبہ کو اس زبان میں تعلیم میسر نہیں جسے وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اور اس صورتحال سے مقامی، مہاجر اور اقلیتی نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایسی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کثیر لسانی تعلیم کو اپنی بنیاد بنائیں، تاکہ شمولیت، مساوات اور مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھا کر، کامیاب تجربات کو شیئر کر کے اور نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے کر عالمی اقدامات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ ہو اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو دنیا بھر کے اسکولوں اور معاشروں میں لسانی تنوع کو مضبوط کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں 742، نائیجیریا میں 516،بھارت میں425،امریکہ 311،آسٹریلیا میں 275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر میں تقریباً کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے ۔دوسرے نمبر پر ( اُردو یا ہندی) ہے۔ تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے ۔اس کے بعد ہسپانوی ،عربی ،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔پنجابی 11 او ر (صرف) اُردو، بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے ۔مادری زبان کا عالمی دن، جس کا اعلان پہلے یونیسکو نے کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیا، شمولیت کے فروغ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ کثیر لسانی تعلیم نہ صرف جامع معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر غالب، اقلیتی اور مقامی زبانوں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کیلئے مساوی تعلیمی رسائی اور تاحیات سیکھنے کے مواقع کے حصول کی ایک بنیادی ستون ہے۔

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

اجزاء : مرغی 250 گرام (صرف گوشت)، آلو (درمیانہ سائز) ایک عدد، انڈا ایک عدد پیاز (چھوٹی ) ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس (بڑے ) چھ عدد، کالی مرچ پاؤڈر آدھا ٹی سپون، مکھن ایک ٹیبل سپون، ہرا دھنیا، پو دینہ اور مرچ آدھا کپ، نمک حسب ذائقہ،آئل تلنے کیلئے۔ترکیب: مرغی، انڈے اور آلو ابال لیں۔ گوشت کے باریک ریشے کر لیں۔ انڈے اور آلو کو کچل کر گوشت میں شامل کر دیں۔ چوکور پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچ و پو دینہ بھی گوشت میں ملا دیں۔ اب اس میں مکھن، کالی مرچ اور نمک شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ سلائس کو ہلکا گیلا کر کے تھوڑا سا پھیلا لیں۔ بنا ہوا مصالحہ حسب انداز درمیان میں رکھ کر رول کی شکل میں بنا لیں۔ ایک گھنٹہ فریج میں رکھ کر آئل میں فرائی کر یں اور جاذب کاغذ پر رکھیں۔قیمے کے سموسے اجزاء: قیمہ 250 گرام، میدہ 500 گرام، میٹھا سوڈا 2 چٹکی، اناردانہ تھوڑا سا، گھی 90 گرام، ہری مرچ چار عدد، ہرا دھنیا ،نمک حسب ضرورت۔ترکیب:میدے کو گھی میں گوندھیں اور اس میں نمک اور سوڈا ملا دیں اور تھوڑا سا پانی بھی ملائیں مگر میدہ سخت ہونا چاہیے۔ اس کے پیڑے بنا کر بیلن سے بیل کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں بنا لیں اور ان کو درمیان سے کاٹ لیں پھر ان کو دوہرا کر کے ان میں قیمہ بھر لیں۔ یہ سموسوں کی شکل کے بن جائیں گے۔ انہیں گھی میں تل لیں اور تناول فرمائیں۔