ہندوستانی ادب

ہندوستانی ادب

اسپیشل فیچر

تحریر : یاسر جواد


برصغیر پاک وہند کی زبانوں اور ادبی روایات میں لکھی گئی تحریریں۔ برصغیر میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی تقسیم بیسویں صدی میں ہوئی؛ اس سے قبل سارا خطہ ہندوستان ہی کہلاتا تھا۔ صدیوں تک ہندوستانی معاشرہ تنوع سے عبارت رہا۔ جدید ہندوستان کے لوگ 18 بڑی زبانیں اور کئی چھوٹی زبانیں بھی بولتے ہیں۔ پاکستان کی سرکاری زبان اُردو جبکہ بنگلہ دیش کی بنگالی ہے۔ ساری تاریخ کے دوران مسلسل بیرونی لوگوں کو اپنے اندر جذب کرنے کے باعث ہندوستانی ادب دنیا کا بھرپور ترین ادب بن گیا۔ قدیم ہندوستان میں سنسکرت ہی غالب رہی اور فلسفیانہ و ادبی تحریروں میں استعمال ہوئی۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بدھ مت اور جین مت کے مقبول ہونے پر پالی زبان میں ادب کو فروغ ملا اور سنسکرت کے متعدد لہجے (پراکرت) بھی پیدا ہوئے۔ دریں اثناء دراوڑی زبان تامل جنوب کے علاقے میں اہم ترین زبان بنی۔ تامل زبان میں ریکارڈ شدہ ادب پہلی صدی عیسوی کا ہے۔ تامل، تیلگو، کناڈا اور ملیالم میں بھی ادب لکھا گیا۔ دسویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران قدیم زبانوں کے نئے لہجے وجود میں آئے اور ہندوستان کی جدید زبانیں تشکیل پائیں۔ اس کے ساتھ ادبی اصناف اور موضوعات میں بھی تنوع پیدا ہوا،نیز فارسی زبان و ادب نے بھی ہندوستانی ادب کو متاثر کیا۔ اسلامی فلسفہ و روایات کا رنگ بھی موجود ہے۔ہندوستان کا تیسرا اہم مذہب جین مت تھا جس کی بنیاد مہاویر نے رکھی۔ ابتدائی جین ادب پراکرت لہجوں میں پروان چڑھا۔ بودھی اور جین مصنفین نے سنسکرت زبان میں بھی کئی کتب تصنیف کیں۔ اس کے بعد ہیروئی یا سورمائی ادب کا دور آتا ہے۔ ہندوستان کی مشہور ترین قدیم رزمیہ داستانیں ’’مہا بھارت‘‘ اور ’‘رامائن‘‘ ہیں جو کئی صدیوں کے دوران سنسکرت زبان میں لکھی گئیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آریاؤں نے ہندوستان پر کیسے کنٹرول حاصل کیا۔ مہابھارت کی تحریری صورت کو افسانوی شاعر و مؤلف ویاس سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن اس نے 400 قبل مسیح اور 400 عیسوی کے دوران اپنی شکل اختیار کی۔ مہابھارت اصل میں بھارت یا بھرت قبیلے کی دو شاخوں کے درمیان تنازع کی کہانی ہے۔چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں جنم لینے والا شاعر کالی داس ممتاز ترین کلاسیکی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی رزمیہ داستانوں میں ’’رگھووامس‘‘ اور ’’میگھ دوت‘‘ شامل ہیں۔ البتہ اس کا لکھا ہوا کھیل ’’شکنتلا‘‘ (ابھیجان شکنتلا) سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ اس ڈرامے میں ایک بادشاہ اور جنگل باسی دوشیزہ شکنتلا کی محبت کی کہانی سنائی گئی ہے۔ جرمن مصنف گوئٹے اور دیگر یورپی اہل قلم پر بھی اس ڈرامے نے گہرا اثر ڈالا۔ سنسکرت ڈرامہ رقص، موسیقی اور شاعری سے بھرپور تھا۔ کالی داس نے مشہور ڈراموں کے علاوہ قابل ذکر کلاسیکی ڈراموں میں ’’مرچھ کٹکا‘‘ از شدرک اور ’’ملاتی مادھو‘‘ از بھوبھوتی شامل ہیں۔ کلاسیکی سنسکرت فکشن میں ’’پنچ تنتر‘‘از وشنو شرمن سر فہرست ہے۔ گیارہویں صدی کے مصنف سوم دیو کی ’’کتھاسرت ساگر‘‘ تاجروں، بادشاہوں وغیرہ کے عشقیہ قصوں کا مجموعہ ہے۔ پنچ تنتر اور کتھا سرت ساگر نے الف لیلہ ولیلہ کے لیے بنیاد مہیا کی۔ سنسکرت شاعروں نے قطعات (مکتک) بھی لکھے۔ ساتویں صدی میں بھرتری ہری اور امارو نے مکتک کا استعمال کیا۔ سنسکرت نے درباری ادب کے ساتھ ساتھ ’’پرانوں‘‘ کی روایت کو بھی پروان چڑھایا۔ اٹھارہویں صدی کے سندھی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اور پنجابی شاعر بلھے شاہ نے کافی کی صنف کو فروغ دیا۔ البتہ مغل شہنشاہوں اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب نے فارسی زبان کو انتظامی، تعلیمی اور ثقافتی سطح پر متعارف کروایا اور متعدد فارسی اصناف سخن کو ہندوستان میں مقبولیت ملی۔ اس کی ایک اہم مثال اکبر کے درباری ابوالفضل کی لکھی ہوئی ’’اکبرنامہ‘‘ ہے۔ داستان کے انداز کو بھی اپنایا گیا۔ ہندوستانی سیاق و سباق میں فارسی ادب کی اہم ترین صنف غزل ہے جس پر الگ سے بات کی گئی ہے۔ مرزا غالب کی کلاسیکی غزلوں کو اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ انگریز 1700ء کی دہائی میں ہندوستان آئے اور 1800ء کی دہائی کے اوائل میں زیادہ تر ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ 1835ء میں انگریزوں نے بالائی طبقہ کے ہندوستانیوں کے لیے انگریزی تعلیم متعارف کروائی جس کے باعث ہندوستانیوں کو مغربی خیالات، نظریات، ادبی تحریروں اور اقدار کا علم ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ ہندوستانیوں کو اپنا ادبی اور ثقافتی ورثہ نئے زاویوں سے دیکھنے کی تحریک ملی۔ اس قسم کا ایک ترجمہ 1789ء میں سر ولیم جونز نے شکنتلا کا کیا۔ ہندوستان میں پرنٹنگ پریس کے تعارف نے اخبارات و جرائد کی اشاعت ممکن بنائی۔ ان ذرائع ابلاغ کی بدولت ہندوستانیوں کو لکھنے اور تحریریں چھپوانے کے نئے مواقع ملے۔ بنگالی نشاۃ ثانیہ اسی عہد کی پیداوار ہے۔ ہندوستان میں جدید تحریر کی اولین مثال شاعری تھی۔ مشہور اور نوبیل انعام برائے ادب یافتہ شاعر و ادیب رابندرناتھ ٹیگور نے شاعری کی روایتی اصناف سے کام لیا، مگر جدت طرازی کے ساتھ۔ دو بنگالی نژاد خواتین شعرا تورو دت اور سروجنی نائیڈو نے انگلش زبان میں خود کو ممتاز کیا۔ تورو دت اکیس برس کی عمر میں ہی مر گئی، لیکن نائیڈو نے سیاست و ادب میں طویل شاندار کیریئر جاری رکھا۔ تامل زبان میں جدید شاعری اور نثر لکھنے والا ابتدائی ترین شاعر سبرامنیم بھارتی ہے۔ دیگر مشہور شعرا سچدآنند واتسیاین، سوریہ کانت ترپاٹھی اور مہادیوی ورما ہیں۔ ہندوستان ادب میں ناول اور افسانہ دونوں ہی نئی اصناف تھے اور انیسویں صدی کے زیادہ تر ہندوستانی ادیبوں نے انہی میں طبع آزمائی کی۔ نئے اہل قلم کا تعلق انگریزی تعلیم کے حامل ہندوستانی طبقے سے تھا اور بنگالی نشاۃ ثانیہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ شاعر رابندرناتھ ٹیگور نے شاعری کے علاوہ بنگالی ناول اور افسانے میں بھی نام کمایا۔ اس کے ہم عصر بنکم چندر چیٹرجی نے انگلش میں ایک ناول ’’Rajmohan’s Wife‘‘ (1864ء) لکھنے کے بعد بنگالی زبان کو ذریعۂ اظہار بنایا۔ دیگر علاقوں کے مصنفین بھی 1800ء کی دہائی کے آخر میں سرگرم ہونے لگے۔ گجراتی زبان میں گوور دھنرم کا ناول ’’سرسوتی چندر‘‘ (1887ء) اور چندو میمن کی ملیالم ’’اندو لیکھا‘‘ (1889ء) قابل ذکر ہیں۔ ان تحریروں کے مرکزی کردار عموماً عورتیں ہیں۔ خانگی زندگی کے مسائل بنگالی ناول نگاروں، مثلاً شرت چندر چیٹری اور اشاپورن دیوی کی تحریروں کا مرکزی موضوع بنے۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستانی متوسط طبقے کی خواتین بھی سامنے آئیں، مثلاً پنڈتا راما بائی سرسوتی اور رقیہ سخاوت حسین۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے درمیانی دور میں تین تحریکوں نے ہندوستانی تحریر کو مہمیز دلائی اور متاثر کیا۔ موہن داس گاندھی کی شروع کی ہوئی عدم تعاون، مارکسزم اور سوشل ازم۔ راجا راؤ نے انگریزی ناول ’’کنٹھ پور‘‘ (1938ء) لکھا، جبکہ ملک راج آنند کے دو ناولوں ’’اچھوت‘‘ اور ’’قلی‘‘ کو شہرت ملی۔ منشی پریم چند کا ناول ’’گئو دان‘‘ (36ء) اور بنگالی بندیوپادھیائے کا ’’پتلی کی کہانی‘‘ (57ء) سماجی حقیقت پسندی اور ناانصافی پر تنقید پر زور دیتے ہیں۔ اسی دور میں سر محمد اقبال نے بطور شاعر اور مفکر مقبولیت حاصل کی۔ آر کے نارائن نے اپنے انگریزی ناول ’’Swami and Friends‘‘ (35ء) کے ساتھ کیریئر شروع کیا اور اس کے ناول اپنے کرداروں کے سماجی پن اور انسانی تعلقات پر زور دینے کی وجہ سے معاصر تحریروں میں الگ مقام رکھتے ہیں۔ 1947ء میں ہندوستان مشرقی و مغربی پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم ہوا اور ان علاقوں کے ادب کی تاریخ موزوں عنوانات کے تحت دی گئی ہے، جیسے ’’پاکستانی ادب‘‘ اور ’’بنگالی ادب۔‘‘ آزادی کے بعد ایک طرف جوش وخروش اور ولولہ تھا تو دوسری طرف تقسیم کے فسادات کا دکھ۔ بالخصوص پنجاب اور بنگال تقسیم سے متاثر ہوئے۔ 1947ء سے بعد کا زیادہ تر پاکستانی اور ہندوستانی ادب تقسیم پر ہی مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامیت نے بھی برصغیر پر اثر ڈالا۔ بیسویں صدی کے وسط اور نصف آخر میں بہت سے خواتین اہل قلم سامنے آئیں۔ ہندوستان کی اکادمی ادبیات (ساہتیہ اکیڈمی) نے تراجم کے ذریعے عوام کو علاقائی ادب پاروں سے روشناس کروایا۔ خوشونت سنگھ کا ناول ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ (56ء) تقسیم کے فسادات کے حوالے سے اولین تحریروں میں شمار ہوتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی جاندار تحریروں میں بھی تقسیم ہند ایک رستا ہوا زخم ہے۔ بھیشم ساہنی کا ناول ’’تمس‘‘ تقسیم کا ایک اور روزنامچہ ہے۔ کناڈا زبان میں یو آر آننت مرتھی کا ناول ’’سمسکار‘‘ (65ء)، ہندو مصنف شری لال شکلا کا ’’راگ درباری‘‘ (68ء)، ملیالم میں شیوشنگر پلائی کا مشہور ناول ’’چیمین‘‘ (62ء) اور وینکٹیش مدگولکر کا مراٹھی ناول ’’بنگر وادی‘‘ (58ء) سماجی حقیقت پسندی کی چلی آرہی رو کے نمائندہ ہیں۔ 60ء اور 70ء کی دہائیوں کے درمیان شاعری اور ڈرامہ دونوں اصناف میں نئے تجربات کیے گئے۔ ہندوستانی اردو ادب میں عصمت چغتائی اور بنگالی ادب میں مہاسویتا دیوی نے شہرت حاصل کی۔ 50ء اور 80ء کی دہائیوں کے درمیان آر کے نارائن نے اپنے انگریزی ناولوں کے ذریعے اہل مغرب کو ہندوستانی رنگ سے متعارف کروایا۔ جدید انگریزی ہندوستانی لکھاریوں کے گروپ میں امیتاو گھوش کا نام نمایاں ہے۔ ناول ’’The Shadow Lines‘‘ (88ء) اس کی وجۂ شہرت ہے۔ ارون دھتی رائے 90ء کی دہائی کے دوران ایک ادبی شخصیت بن کر ابھری جس کے ناول ’’The God of Small Things‘‘ (97ء) کو بکر پرائز مل چکا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا ادبیات ِ عالم سے ماخوذ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
پراسرار ’’کائناتی لہریں‘‘

پراسرار ’’کائناتی لہریں‘‘

چینی ماہرین فلکیات کی اہم دریافت،کہکشاں کے پوشیدہ راز کھلنے کی امیدہم جس وسیع و عریض کائنات کا حصہ ہیں، اس میں ہماری زمین ایک معمولی سے سیارے اور سورج ایک عام سے ستارے کی حیثیت رکھتا ہے، مگر ہمارا نظامِ شمسی جس کہکشاں میں واقع ہے وہ اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔ ملکی وے کہکشاں میں ستاروں، گیس، گردوغبار اور دیگر اجرامِ فلکی کی اربوں سال پر محیط حرکات نے اسے ایک انتہائی پیچیدہ اور متحرک نظام بنا دیا ہے۔ اب چینی ماہرین فلکیات نے اس کہکشاں کے بارے میں ایک اہم دریافت کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی لہروں کا سراغ لگایا ہے، جو ملکی وے کی سہ جہتی ساخت اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔یہ اہم دریافت چینی اکیڈمی آف سائنسز کے زیر انتظام ''پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری‘‘ (PMO) سے وابستہ محققین کی ایک ٹیم نے کی ہے۔سائنسی جریدے '' نیچر آسٹرونومی‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدات اس بات کے نئے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ ملکی وے کی بیرونی ساخت محض ایک ہموار ڈسک پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر عمودی اتار چڑھاؤ اور لہریلی ساختیں بھی موجود ہیں۔ملکی وے کی غیر معمولی ساختفلکیاتی مشاہدات سے پہلے ہی یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ملکی وے ایک مکمل طور پر ہموار کہکشاں نہیں۔ اس کی مجموعی شکل کسی قدر ایسی خمیدہ پلیٹ یا ریکارڈ سے مشابہ ہے جس کے ایک جانب کا کنارہ اوپر اور دوسری جانب کا کنارہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے۔ اس بڑے پیمانے کی بگاڑ کو فلکیات کی زبان میں ''وارپ‘‘ (Warp) کہا جاتا ہے۔ کہکشاں کے بڑے پیمانے کے اس خم کے علاوہ اس کے اندر چھوٹی اور نسبتاً باریک عمودی ساختوں کے بارے میں معلومات محدود تھیں۔ سائنسدانوں کیلئے یہ جاننا ہمیشہ ایک اہم سوال رہا ہے کہ ملکی وے کی ڈسک میں یہ اتار چڑھاؤ کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیا ان کا تعلق کہکشاں کے گرد موجود دیگر اجرام یا چھوٹی کہکشاؤں کی کششِ ثقل سے ہے۔چینی محققین کی حالیہ تحقیق نے اسی سوال کا ایک ممکنہ جواب پیش کیا ہے۔''وارپ‘‘ کو الگ کیا تو نئی حقیقت سامنے آگئیاس تحقیق میںسائنسدانوں نے پہلے ملکی وے کی بیرونی ڈسک میں موجود بڑے پیمانے کے ''وارپ‘‘ کو ماڈل کی صورت میں پیش کیا۔ اس کے بعد اس بڑے خم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کیا،تاکہ اس کے پیچھے چھپی نسبتاً باریک ساختوں کا مشاہدہ کیا جا سکے۔یہیں سے تحقیق نے ایک دلچسپ رخ اختیار کیا۔بڑے پیمانے کے خم کو نکالنے کے بعد باقی ماندہ ساخت میں واضح لہریلے عمودی اتار چڑھاؤ نظر آئے۔ یہ ساختیں کسی حد تک پانی کی سطح پر پھیلنے والی لہروں سے مشابہ دکھائی دیتی ہیں۔ سائنسدانوں نے انہیں ''کورگیشنز‘‘ (Corrugations) قرار دیا ہے۔ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ ملکی وے کی بیرونی ڈسک میں ان لہریلی ساختوں کے بڑے پیمانے پر پھیلے ہونے کے مشاہداتی شواہد سامنے آئے ہیں۔کہکشاں میں لہریں کیسے بنتی ہیں؟اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ملکی وے میں یہ لہریں پیدا کیسے ہوئیں؟محققین کے مطابق ان ساختوں کے پیچھے ممکنہ طور پر ثقلی خلل یا بیرونی کششِ ثقل کارفرما ہے۔ جب کسی بڑی یا چھوٹی کہکشاں کی کششِ ثقل ملکی وے پر اثر انداز ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری کہکشاں کی ڈسک میں ارتعاش پیدا ہوسکتا ہے۔چینی محققین کا خیال ہے کہ یہ عمودی لہریں ممکنہ طور پر ایسی ہی بینڈنگ ویوز (Bending Waves)کا نتیجہ ہیں۔ یہ لہریں کہکشاں کی گیس، ستاروں اور دیگر مادے کی وسیع پیمانے پر ہونے والی عمودی حرکات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔سائنسدانوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ بونی کہکشاؤں (Dwarf Galaxies)جیسی چھوٹی سیٹلائٹ کہکشائیں جب ملکی وے کے قریب سے گزرتی ہیں تو ان کی کششِ ثقل ہماری کہکشاں کی بیرونی ڈسک کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس ثقلی مداخلت کے نتیجے میں ملکی وے کی ڈسک میں لہریں پیدا ہوسکتی ہیں جو وقت کے ساتھ بیرونی حصوں میں پھیلتی رہتی ہیں۔کائناتی ماضی کے سراغماہرین فلکیات کیلئے کہکشاؤں میں موجود ایسی ساختیں دراصل ماضی کے واقعات کے نشان بھی ہوسکتی ہیں۔ جس طرح زمین پر کسی قدیم واقعے کے آثار ہمیں اس کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں، اسی طرح کہکشاں کی موجودہ ساخت میں موجود لہریں اور بگاڑ اس کے ماضی میں ہونے والے ثقلی تعاملات کی یادگار ہوسکتے ہیں۔اگر سائنسدان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ملکی وے میں یہ لہریں کس وقت اور کس بیرونی اثر کے نتیجے میں پیدا ہوئیں تو اس سے ہماری کہکشاں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان لہروں کے ذریعے ماضی میں ملکی وے کے قریب سے گزرنے والی کسی بونی کہکشاں یا دوسرے بڑے فلکیاتی جسم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاسکیں۔کائنات کو سمجھنے کی ایک نئی کھڑکیچینی سائنسدانوں کی یہ تحقیق اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ جدید دور میں فلکیات صرف دور دراز کہکشاؤں کے مشاہدے تک محدود نہیں رہی بلکہ سائنس دان ہماری اپنی کہکشاں کی انتہائی پیچیدہ اندرونی ساخت کو بھی تین جہتی نقشوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔30 ہزار سے زائد سالماتی بادلوں کے تفصیلی جائزے سے حاصل ہونے والے نتائج نے ملکی وے کی بیرونی ڈسک کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ آنے والے برسوں میں مزید حساس دوربینوں اور جدید کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ان لہریلی ساختوں کا زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ممکن ہے مستقبل کی تحقیقات یہ واضح کردیں کہ ملکی وے میں ایسی لہریں کتنی وسیع ہیں، وہ کس رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور ان کے پیچھے کون سے ثقلی واقعات کارفرما رہے ہیں۔یوں چینی محققین کی یہ دریافت بظاہر کہکشاں میں موجود چند لہریلی ساختوں کا مشاہدہ ہے، لیکن اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ ملکی وے کے ''کائناتی ارتعاشات‘‘ دراصل ہماری کہکشاں کی ایک ایسی داستان سنا رہے ہیں جو اربوں سال سے جاری ہے۔ ان لہروں کا مطالعہ نہ صرف ملکی وے کی سہ جہتی ساخت اور حرکیات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ اس بات پر بھی نئی روشنی ڈال سکتا ہے کہ کہکشائیں کس طرح ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتی ہیں۔

ویپنگ

ویپنگ

نوجوان نسل کی صحت کیلئے بڑھتا ہوا خطرہجدید دور میں ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے نسبتاً کم نقصان دہ متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے مضر صحت اثرات سے متعلق تشویشناک حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ پھیپھڑوں کے مسائل، ڈپریشن اور آنکھوں کی مختلف بیماریوں سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ اس عادت میں مبتلا نوجوانوں کے مستقبل میں روایتی سگریٹ نوشی کی جانب مائل ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال بالخصوص نوجوان نسل کی صحت اور مستقبل کے حوالے سے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپنگ کے آلات نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی مہلک عادت سے دور رکھنے کے بجائے اس کی جانب لے جانے کیلئے ''گیٹ وے‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگ برنگی پیکنگ اور مٹھائی جیسے ذائقوں نے نوجوانوں کو اس عادت کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ (RCPCH) کے محققین نے اپنے نتائج جریدے آرکائیوز آف ڈیزیز اِن چائلڈہڈ میں شائع کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد ''تشویشناک‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ویپنگ سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے، تاہم اسے کسی صورت بے ضرر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ویپنگ کا تعلق سانس کے مختلف مسائل، جن میں گھرگھراہٹ اور کھانسی شامل ہیں کے علاوہ بے چینی، ڈپریشن اور پینک ڈس آرڈر سے بھی پایا گیا۔محققین نے ویپنگ اور نیند کی خرابی، آنکھوں کی بیماریوں اور منہ کی صحت کے مسائل کے درمیان بھی تعلق دریافت کیا، جن میں سوزش، منہ کے چھالے اور منہ کا خشک ہونا شامل ہیں۔مزید برآں، تحقیقی ٹیم نے ان بچوں کے حوالے سے بھی تشویشناک علامات کا مشاہدہ کیا جن کی ماؤں نے حمل کے دوران ویپنگ کی تھی۔ان بچوں میں غیر معمولی اضطراری حرکات (Reflexes) کی زیادہ تعداد اور حرکی نشوؤنما میں کمی دیکھی گئی۔ حرکی نشوؤنما سے مراد بچے کی جسمانی حرکات اور جسم کے ردعمل کی پختگی ہے۔ رحم مادر میں ویپنگ کے اثرات کا سامنا کرنے والے بچوں میں وزن بڑھنے کی رفتار بھی کم پائی گئی۔تحقیق کے مصنفین نے لکھا کہ یہ جامع جائزہ بچوں اور نوجوانوں پر ویپنگ اور ای سگریٹ کے استعمال سے پیدا ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ول کیرول نے کہاکہ ویپنگ کو جوانی یا بڑے ہونے کے عمل کا بے ضرر حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تحقیق میں نوجوانوں کے ویپنگ کرنے اور بعد ازاں روایتی سگریٹ نوشی شروع کرنے کے درمیان ''واضح تعلق‘‘ سامنے آیا۔ اگرچہ سگریٹ اور زیادہ تر ویپس دونوں میں نکوٹین موجود ہوتی ہے، تاہم ان کا طریقہ کار ایک دوسرے سے خاصا مختلف ہے۔سگریٹ میں تمباکو کو جلایا جاتا ہے، جس سے ہزاروں کیمیکلز خارج ہوتے ہیں، جن میں تار اور کاربن مونو آکسائیڈ بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے کیمیکلز سرطان کا باعث بننے کیلئے معروف ہیں۔ پھیپھڑوں کے سرطان کے 60 فیصد سے زیادہ کیسز سگریٹ نوشی سے منسلک ہیں، جبکہ یہ بیماری ہر سال تقریباً 33 ہزار افراد کی جان لے لیتی ہے۔اس کے برعکس ویپنگ میں بیٹری سے چلنے والے ایک آلے کے ذریعے ایک مائع کو، جس میں عموماً نکوٹین شامل ہوتی ہے، گرم کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے بخارات نما مادہ پیدا ہوتا ہے، جسے صارف سانس کے ذریعے اندر کھینچتا ہے۔ ویپنگ کے ذریعے صارفین کو سگریٹ کے مقابلے میں نقصان دہ کیمیکلز کی نسبتاً کم مقدار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے مقابلے میں خاصا کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین زور دیتے ہیں کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ویپنگ بے ضرر ہے۔تمباکو نوشی اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ (ASH) کے مطابق برطانیہ میں 11 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 19 فیصد بچے اور نوجوان، یعنی لگ بھگ 10 لاکھ افراد ویپنگ آزما چکے ہیں۔ وزراء نے بچوں میں ویپنگ کی کشش کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اشتہارات، پیکنگ اور مختلف ذائقوں کی تشہیر سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔جولائی میں حکومت نے سادہ پیکنگ متعارف کرانے اور ویپ تیار کرنے والی کمپنیوں کو میٹھے پکوانوں اور الکحل سے متاثر دلکش ناموں کے بجائے سادہ نام استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔پروفیسر کیرول نے حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کیا، تاہم وزراء پر زور دیا کہ وہ مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے صرف ذائقوں کے ناموں ہی نہیں بلکہ خود دستیاب ذائقوں کی اقسام کو بھی محدود کریں۔ ایکشن آن اسموکنگ اینڈ ہیلتھ کی چیف ایگزیکٹو ہیزل چیزمین نے کہا کہ ویپنگ اب بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مند بالغ افراد کیلئے ایک اہم مددگار ذریعہ ہے، تاہم نوجوانوں میں ویپنگ کے رجحان کو کم کرنے کیلئے اس کی مارکیٹنگ اور تشہیر پر سخت پابندیاں ضروری ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا دن1791ء میں 22 اور 23 اگست کی درمیانی شب سینٹو ڈومینگو میں غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا آغاز ہوا جو آج کل ڈومینین ری پبلک اور ہیٹی کہلاتا ہے، جس کی یاد میں ہر سال 23 اگست کے روز غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی دن منانے کا مقصد تمام انسانوں کے ذہن میں غلاموں کی تجارت ، انسانوں کو غلام بنانے کے طریقہ کار، اِس تکلیف دہ عمل کے نتائج کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔قمری مشن ''لونا 11‘‘23اگست 1966ء کو سوویت یونین نے اپنے خلائی پروگرام کے تحت قمری مشن ''لونا 11‘‘ روانہ کیا۔ جس کا مقصد چاند کی سطح اور اس کے مدار کا مطالعہ کرنا تھا۔ ''لونا 11‘‘ نے چاند کے مدار میں داخل ہو کر وہاں سے تصاویر، شعاعوں اور سطحی ساخت کے بارے میں قیمتی ڈیٹا زمین پر ارسال کیا۔ یہ مشن سوویت خلائی دوڑ کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا ۔ جنگ چالدیران: عثمانیوں کی فتح23 اگست 1514ء کو یورپ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا جب عثمانی سلطنت اور صفوی سلطنت کے درمیان جنگ چالدیران لڑی گئی۔ عثمانی فوج نے اپنی جدید توپ خانے اور بہتر عسکری تنظیم کے باعث صفوی فوج کو شکست دی۔ اس معرکے کے نتیجے میں اناطولیہ اور مشرق وسطیٰ میں عثمانی اقتدار مزید مضبوط ہوا اور صفوی سلطنت کی وسعت کو بڑا دھچکا لگا۔ سلووینیابیلون حادثہ2012ء میں آج کے روز سلووینیا کے دارالحکومت لبلیانا کے قریب ایک گرم ہوا کا غبارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس المناک حادثے میں چھ افراد ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوئے۔ غبارہ لبلیانا کے نواحی دلدلی علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔ یہ حادثہ سلووینیا کی فضائی تاریخ کے المناک واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔گلف ائیر کی پروازکو حادثہگلف ایئر کی ''پرواز 072‘‘ 23 اگست 2000ء کو ایئر پورٹ سے 5 کلومیٹر دور خلیج فارس کے گہرے پانیوں میں گر کر تباہ ہوگئی۔ طیارے میں سوار تمام 143 افراد ہلاک ہو گئے۔فلائٹ 072 کا حادثہ بحرین کے علاقے میں ہوا بازی کا بدترین حادثہ تھا اور ایئربس A320 کا بھی سب سے مہلک حادثہ تھا۔آرمینیا کا آزادی کا اعلان23 اگست 1990ء کو آرمینیا نے سوویت یونین سے اپنی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ یہ اعلان ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا جس نے آزادی کی تحریک کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ بالآخر 21 ستمبر 1991ء کو آرمینیا نے ریفرنڈم کے ذریعے باضابطہ آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاماسولا جیل ہنگامہ23اگست2013ء کو بولیویا کے سانتا کروز کی ایک بہترین سکیورٹی والی جیل پاماسولا میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے پروپین ٹینکوں کو شعلے پھینکنے کیلئے استعمال کیا گیا۔اس ہنگامہ آرائی میں 31 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک18ماہ کا بچہ بھی شامل تھاجبکہ 37افراد شدید زخمی ہوئے۔

روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا

روبوٹ نے دنیا کو حیران کردیا

28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار، روبوٹ نے یوسین بولٹ کو پیچھے چھوڑ دیاروبوٹکس کی دنیا میں انسان نما مشینوں کو تیز، ذہین اور زیادہ باصلاحیت بنانے کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ''سپر مین‘‘ نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے حیران کن رفتار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اس روبوٹ نے دوڑتے ہوئے 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو تقریباً 45.5 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ رفتار عام انسان کیلئے حیران کن ہے اور روبوٹکس کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ایسی پیشرفت مستقبل میں روبوٹس کی نقل و حرکت، صنعتی کاموں اور مختلف مشکل حالات میں ان کے استعمال کے امکانات کو مزید وسیع کرسکتی ہے۔ایک حیرت انگیز ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چینی سائنس دانوں کا تیار کردہ روبوٹ ''سپر مین‘‘ ٹریک پر دوڑتے ہوئے 12.66 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 28.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرلیتا ہے۔اس کے مقابلے میں سپرنٹ کے عالمی چیمپئن یوسین بولٹ نے 2009ء میں عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 12.42 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 27.78 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔اس روبوٹ کو چین کے شہر ہانگژو میں قائم روبوٹکس کمپنی یونٹری (Unitree) نے تیار کیا ہے، جو جدید اور تیز رفتار روبوٹک کتوں اور انسان نما روبوٹس کی تیاری کے حوالے سے مشہور ہے۔ویڈیو کے ایک اور حصے میں یہ مشین کھڑے کھڑے دو میٹر عمودی بلندی تک ہوا میں چھلانگ لگاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کارکردگی بھی موجودہ انسانی عالمی ریکارڈ سے بہتر ہے۔ امریکا کے کرسٹوفر اسپیل نے 2021ء میں کھڑے ہوکر 1.7 میٹر (5 فٹ 7 انچ) بلند چھلانگ لگا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔کمپنی نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یونٹری کا نیا روبوٹ ''سپر مین‘‘ انسانی صلاحیتوں کی حدود توڑ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نئی مشین کی تیاری کو ابھی صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔یہ شاندار مظاہرے بظاہر کسی عملی کام کے بجائے روبوٹ کی خالص جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ ویڈیو محض کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا ایک مظاہرہ ہے اور روبوٹ کی تیز رفتار دوڑ اور بلند چھلانگ سے متعلق دعوؤں کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس کی ٹانگوں کی لمبائی مبینہ طور پر صرف 0.85 میٹر (2.8 فٹ) ہے۔ نسبتاً چھوٹے قدموں کے باوجود اس قدر زیادہ رفتار حاصل کرنا اس کی کارکردگی کو خاص طور پر حیران کن بنا دیتا ہے۔یونٹری نے ابھی تک ''سپر مین‘‘ روبوٹ کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ ان تفصیلات میں روبوٹ کا قد، وزن، بیٹری کی گنجائش اور یہ معلومات بھی شامل نہیں کہ رفتار اور چھلانگ کے تجربات کتنی مرتبہ دہرائے گئے۔ یہ نئی مشین یونٹری کے اس سے قبل تیار کیے گئے انسان نما روبوٹ ''H1‘‘ کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے بھی دوڑنے کی صلاحیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ ایک سابقہ مظاہرے میں H1 نے 10 میٹر فی سیکنڈ، یعنی 22.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی۔ اس روبوٹ کی موجودہ قیمت 13,500 امریکی ڈالر (تقریباً 9,980 برطانوی پاؤنڈ) بتائی جاتی ہے۔ٹیکنالوجی کے شعبے کے تجربہ کار تجزیہ کار ما جیہوا نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ اس نوعیت کے انتہائی کارکردگی والے تجربات بنیادی طور پر روبوٹ کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے باہمی تال میل کے ''اسٹریس ٹیسٹ‘‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان تجربات سے یہ جانچنے میں مدد ملتی ہے کہ روبوٹ کے مختلف نظام انتہائی جسمانی دباؤ کے دوران کس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں۔یہ تجربات روبوٹ کی دوڑنے، چھلانگ لگانے، دھماکہ خیز طاقت، توازن برقرار رکھنے اور انتہائی متحرک حرکات جیسی صلاحیتوں کو ان کی آخری حدود تک آزمانے کیلئے کیے جاتے ہیں، تاکہ نظام کی کارکردگی کی حقیقی حد کا تعین کیا جاسکے۔ما جیہوا کے مطابق، جس طرح گاڑیوں یا طیاروں کی تیاری کے دوران انتہائی حالات میں ان کی آزمائش کی جاتی ہے، اسی طرح روبوٹ کی حدود کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ کسی روبوٹ کو حقیقی دنیا کے کاموں میں قابلِ اعتماد طریقے سے استعمال کیا جائے، یہ جاننا ناگزیر ہے کہ وہ کس حد تک دباؤ برداشت کرسکتا ہے۔ماہر کے مطابق، انتہائی متحرک حرکات میں مہارت حاصل کرنے سے مستقبل میں ہیومنائیڈ روبوٹس دشوار گزار علاقوں، قدرتی آفات کے مقامات اور دیگر خطرناک یا مشکل حالات میں کام کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں یونٹری نے بتایا تھا کہ وہ دیگر انسان نما ڈیزائنز اور پہیوں والے ماڈلز کو چھوڑ کر اب تک تقریباً 18 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرچکی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرےاگرچہ ویڈیو نے لوگوں کو متاثر کیا، تاہم بعض افراد نے اس کے دوڑنے کے انداز کو مزاحیہ بھی قرار دیا۔ ایک شخص نے تبصرہ کیا: ''شاید یہ سب سے مضحکہ خیز دوڑ ہے جو میں نے کبھی دیکھی ہے‘‘ ۔ایک اور صارف نے لکھا: ''یہ تو عجیب انداز میں دوڑتا ہے۔‘‘ کسی نے مزاحاً کہا: ''اس کے بعد اسکول کے کھیلوں کے مقابلے پہلے جیسے نہیں رہیں گے‘‘۔تاہم کئی افراد روبوٹ کی کارکردگی سے بے حد متاثر بھی ہوئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر روبوٹ کا ہارڈویئر اسی رفتار سے بہتر ہوتا رہا تو ہیومنائیڈ روبوٹس بہت جلد انتہائی حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل ہوجائیں گے۔

کتابوں کی دیوانی خاتون

کتابوں کی دیوانی خاتون

مصنفین کے دستخط شدہ 2,652 کتابوں کا خزانہکتاب سے محبت انسان کو محض مطالعے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ کبھی کبھی یہی شوق زندگی بھر کی ایک منفرد داستان بن جاتا ہے۔ دنیا میں ایسے کتاب دوست افراد بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی پسندیدہ کتابوں کو جمع کرنے کا شوق غیر معمولی حد تک پہنچا دیا۔ ایسی ہی ایک خاتون نے معروف مصنفین کے دستخط شدہ ناول جمع کرتے کرتے 2,652 کتابوں کا حیرت انگیز مجموعہ تیار کر لیا۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک کہانی سمیٹے ہوئے ہے، لیکن مصنف کے دستخط اسے ایک منفرد یادگار بنا دیتے ہیں۔ یہ غیر معمولی مجموعہ نہ صرف کتابوں سے گہری وابستگی کی مثال ہے بلکہ ادب، مصنفین اور مطالعے سے محبت کی ایک ایسی داستان بھی ہے جو قارئین کو حیرت اور تحسین دونوں میں مبتلا کرتی ہے۔کتاب جمع کرنے والی ایک پرجوش خاتون نے ادب سے اپنی گہری محبت کو گنیز ورلڈ ریکارڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے پاس معروف مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کی حیرت انگیز تعداد موجود ہے۔ پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ویولیٹا سادوفسکا (Wioleta Sadowksa) مطالعے کے فروغ کیلئے کام کرنے والی شخصیت اور بک بلاگر ہیں۔ وہ اپنی نوعمری کے زمانے سے کتابیں جمع کرنے کا شوق رکھتی ہیں، جبکہ 2011ء سے مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کے نسخے بھی باقاعدگی سے اپنے مجموعے میں شامل کر رہی ہیں۔3 جولائی کو پولینڈ کے شہر زوفیوفکا میں ان کے کتابوں کے مجموعے کی باقاعدہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد ویولیٹا سادوفسکا کو سب سے زیادہ دستخط شدہ کتابوں کے مجموعے کا عالمی ریکارڈ رکھنے والی شخصیت قرار دیا گیا۔ ان کے مجموعے میں مصنفین کے دستخط شدہ کتابوں کی مجموعی تعداد 2,652 ہے۔کتابوں کی صنعت سے وابستہ رہتے ہوئے 15 سال سے زائد عرصہ گزارنے اور بے شمار کتب میلوں اور ادبی میلوں میں شرکت کرنے کے بعد ویولیٹا کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ کتابوں سے ان کی گہری محبت اور شوق کا نقط عروج ہے۔ان کے مجموعے میں شامل ہونے والی پہلی دستخط شدہ کتاب پولینڈ کی مصنفہ مالگورژاتا موسے رووِچ کی تصنیف'' Noelka‘‘ تھی۔ اس کے بعد ان کا ذاتی کتب خانہ مسلسل وسعت اختیار کرتا گیا اور وقت کے ساتھ دستخط شدہ کتابوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ ویولیٹا کا کہنا ہے کہ ''میرے مجموعے میں گراہم ماسٹرٹن، سیسیلیا آہرن، رابن کک اور میلیسا ڈارووڈ جیسے معروف مصنفین کے دستخط شدہ کتب کے علاوہ اداکار ژاں رینو کے دستخط بھی شامل ہیں۔ میرے پاس نکولس اسپارکس کے دستخط شدہ کتاب بھی موجود ہے، جن سے مجھے 2017ء کے کراکوف بک فیئر میں ملاقات کا موقع ملا تھا‘‘۔ان کی پسندیدہ کتاب زبیگنیو نیناکی(Zbigniew Nienacki) کی ''Nowe przygody Pana Samochodzika‘‘ ہے، جس نے ادب سے ان کی دلچسپی کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے سب سے قیمتی اثاثوں میں بھی اسی مرحوم پولش مصنف کی دستخط شدہ کتاب شامل ہے۔ یہ کتاب تلاش کرنا خاصا مشکل تھا، تاہم ان کے بلاگ کے ایک قاری نے یہ نایاب کتاب انہیں تحفے میں دے دی۔ویولیٹا نے اپنی پوری ذاتی لائبریری گھر میں شیلفوں پر سجا رکھی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ ان کے اس شاندار کتب خانے کی مالیت 10 لاکھ سے 15 لاکھ پولش زلوٹی کے درمیان ہے، جو تقریباً 2 لاکھ 67 ہزار 984 سے 4 لاکھ 1 ہزار 278 امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ان کے مجموعے میں اہلِ خانہ، دوستوں اور ناشرین کی جانب سے دی گئی تحائف میں شامل کتابیں بھی موجود ہیں، جبکہ بعض مصنفین نے خود بھی اپنی دستخط شدہ کتابیں ویولیٹا کو بھیجی ہیں تاکہ وہ انہیں اپنے منفرد کتب خانے کا حصہ بنا سکیں۔ان کے مجموعے میں موجود سب سے مشہور مصنف کا دستخط برطانوی ہارر ناول نگار گراہم ماسٹرٹن (Graham Masterton)کا ہے۔ وہ اپنی خوفناک اور سنسنی خیز تحریروں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی معروف تصانیف میں ''دی مینیٹو‘‘ (The Manitou) بھی شامل ہے، جو 1976ء میں شائع ہوئی تھی۔ گراہم ماسٹرٹن کی اس کتاب نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا اور وہ ہارر ادب کے معروف مصنفین میں شمار ہونے لگے۔ویولیٹا نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کامیابی نے انہیں اپنی لائبریری کو مزید وسیع کرنے کیلئے نیا حوصلہ دیا ہے۔ اس کامیابی کے ذریعے میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے کوشش کرنا قابلِ قدر ہے اور پولینڈ کی کتاب دوستی اور مطالعے کی ثقافت دنیا کو بہت کچھ پیش کر سکتی ہے۔ان کے خوابوں میں ایک خواب یہ بھی ہے کہ انہیں معروف امریکی مصنف اسٹیفن کنگ کی دستخط شدہ کتاب حاصل ہو جائے۔ ویولیٹا امید کرتی ہیں کہ ریکارڈ قائم کرنے کی ان کی یہ منفرد داستان شاید خود اسٹیفن کنگ تک بھی پہنچ جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنیوا کنونشن22 اگست 1864ء کو12 ممالک نے پہلے جنیوا کنونشن پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ جنگی تنازعات کے دوران زخمی اور متاثرہ افراد کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی اصول و ضوابط وضع کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ اس کنونشن کا بنیادی مقصد جنگوں میں زخمی فوجیوں اور دیگر متاثرین کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانا تھا۔ اس معاہدے نے بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیاد رکھنے اور بعدازاں جنیوا کنونشنز کیلئے راہ ہموار کی۔برازیل کا اعلان جنگ1942ء میں آج کے روزبرازیل نے جرمنی، جاپان اور اٹلی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ ایک اہم پیشرفت تھی۔ اس فیصلے کے بعد برازیل اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور محوری طاقتوں کے خلاف جنگی کوششوں میں شامل ہوا۔ برازیل نے بعد ازاں اپنی فوجی قوت بھی اتحادی افواج کے تعاون کیلئے استعمال کی۔ اس اقدام نے جنوبی امریکا میں جنگ کے سیاسی و عسکری اثرات کو مزید نمایاں کیا اور عالمی جنگ میں برازیل کے کردار کو اہم بنا دیا۔یوکرین فضائی حادثہ2006ء میں پلکووو ایوی ایشن انٹرپرائز کی پرواز 612 روسی سرحد کے قریب مشرقی یوکرین کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگئی۔ یہ مسافر طیارہ روس سے یوکرین کی فضائی حدود سے گزر رہا تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حادثہ فضائی سفر کی تاریخ کے ان المناک واقعات میں شمار ہوتا ہے جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پینٹنگز کی چوری2004ء میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ایک عجائب گھر سے معروف مصور ایڈورڈ منک کی دو شاہکار پینٹنگز ''دی اسکریَم‘‘ اور ''میڈونا‘‘ چوری کرلی گئیں۔ مسلح نقاب پوش چور عجائب گھر میں داخل ہوئے اور دونوں قیمتی فن پارے لے کر فرار ہوگئے۔ یہ چوری دنیا بھر میں فنونِ لطیفہ کے حلقوں کیلئے ایک بڑا صدمہ تھی، کیونکہ دونوں پینٹنگز منک کے مشہور ترین فن پاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ آئس لینڈکا تاریخی فیصلہ1991ء میں آج کے روز آئس لینڈ دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے والی بالٹک ریاستوں، یعنی ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سوویت یونین میں سیاسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی تھیں۔ آئس لینڈ کے اس فیصلے نے بالٹک ریاستوں کی عالمی سطح پر آزاد حیثیت تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار کی۔فرانسیسی صدر پر حملہ22اگست 1962ء کو فرانس کے صدر چارلس ڈیگال کو قتل کرنے کی ایک بڑی کوشش کی گئی۔ یہ حملہ ''پیٹی کلامار حملے ‘‘کے نام سے معروف ہے، جس میں فرانسیسی خفیہ تنظیم او اے ایس (OAS) کے ارکان نے صدر ڈیگال کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، تاہم صدر ڈیگال محفوظ رہے۔ یہ واقعہ فرانس کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور سنسنی خیز واقعہ سمجھا جاتا ہے۔