ہندوستانی ادب

ہندوستانی ادب

اسپیشل فیچر

تحریر : یاسر جواد


برصغیر پاک وہند کی زبانوں اور ادبی روایات میں لکھی گئی تحریریں۔ برصغیر میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی تقسیم بیسویں صدی میں ہوئی؛ اس سے قبل سارا خطہ ہندوستان ہی کہلاتا تھا۔ صدیوں تک ہندوستانی معاشرہ تنوع سے عبارت رہا۔ جدید ہندوستان کے لوگ 18 بڑی زبانیں اور کئی چھوٹی زبانیں بھی بولتے ہیں۔ پاکستان کی سرکاری زبان اُردو جبکہ بنگلہ دیش کی بنگالی ہے۔ ساری تاریخ کے دوران مسلسل بیرونی لوگوں کو اپنے اندر جذب کرنے کے باعث ہندوستانی ادب دنیا کا بھرپور ترین ادب بن گیا۔ قدیم ہندوستان میں سنسکرت ہی غالب رہی اور فلسفیانہ و ادبی تحریروں میں استعمال ہوئی۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بدھ مت اور جین مت کے مقبول ہونے پر پالی زبان میں ادب کو فروغ ملا اور سنسکرت کے متعدد لہجے (پراکرت) بھی پیدا ہوئے۔ دریں اثناء دراوڑی زبان تامل جنوب کے علاقے میں اہم ترین زبان بنی۔ تامل زبان میں ریکارڈ شدہ ادب پہلی صدی عیسوی کا ہے۔ تامل، تیلگو، کناڈا اور ملیالم میں بھی ادب لکھا گیا۔ دسویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران قدیم زبانوں کے نئے لہجے وجود میں آئے اور ہندوستان کی جدید زبانیں تشکیل پائیں۔ اس کے ساتھ ادبی اصناف اور موضوعات میں بھی تنوع پیدا ہوا،نیز فارسی زبان و ادب نے بھی ہندوستانی ادب کو متاثر کیا۔ اسلامی فلسفہ و روایات کا رنگ بھی موجود ہے۔ہندوستان کا تیسرا اہم مذہب جین مت تھا جس کی بنیاد مہاویر نے رکھی۔ ابتدائی جین ادب پراکرت لہجوں میں پروان چڑھا۔ بودھی اور جین مصنفین نے سنسکرت زبان میں بھی کئی کتب تصنیف کیں۔ اس کے بعد ہیروئی یا سورمائی ادب کا دور آتا ہے۔ ہندوستان کی مشہور ترین قدیم رزمیہ داستانیں ’’مہا بھارت‘‘ اور ’‘رامائن‘‘ ہیں جو کئی صدیوں کے دوران سنسکرت زبان میں لکھی گئیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آریاؤں نے ہندوستان پر کیسے کنٹرول حاصل کیا۔ مہابھارت کی تحریری صورت کو افسانوی شاعر و مؤلف ویاس سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن اس نے 400 قبل مسیح اور 400 عیسوی کے دوران اپنی شکل اختیار کی۔ مہابھارت اصل میں بھارت یا بھرت قبیلے کی دو شاخوں کے درمیان تنازع کی کہانی ہے۔چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں جنم لینے والا شاعر کالی داس ممتاز ترین کلاسیکی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی رزمیہ داستانوں میں ’’رگھووامس‘‘ اور ’’میگھ دوت‘‘ شامل ہیں۔ البتہ اس کا لکھا ہوا کھیل ’’شکنتلا‘‘ (ابھیجان شکنتلا) سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ اس ڈرامے میں ایک بادشاہ اور جنگل باسی دوشیزہ شکنتلا کی محبت کی کہانی سنائی گئی ہے۔ جرمن مصنف گوئٹے اور دیگر یورپی اہل قلم پر بھی اس ڈرامے نے گہرا اثر ڈالا۔ سنسکرت ڈرامہ رقص، موسیقی اور شاعری سے بھرپور تھا۔ کالی داس نے مشہور ڈراموں کے علاوہ قابل ذکر کلاسیکی ڈراموں میں ’’مرچھ کٹکا‘‘ از شدرک اور ’’ملاتی مادھو‘‘ از بھوبھوتی شامل ہیں۔ کلاسیکی سنسکرت فکشن میں ’’پنچ تنتر‘‘از وشنو شرمن سر فہرست ہے۔ گیارہویں صدی کے مصنف سوم دیو کی ’’کتھاسرت ساگر‘‘ تاجروں، بادشاہوں وغیرہ کے عشقیہ قصوں کا مجموعہ ہے۔ پنچ تنتر اور کتھا سرت ساگر نے الف لیلہ ولیلہ کے لیے بنیاد مہیا کی۔ سنسکرت شاعروں نے قطعات (مکتک) بھی لکھے۔ ساتویں صدی میں بھرتری ہری اور امارو نے مکتک کا استعمال کیا۔ سنسکرت نے درباری ادب کے ساتھ ساتھ ’’پرانوں‘‘ کی روایت کو بھی پروان چڑھایا۔ اٹھارہویں صدی کے سندھی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اور پنجابی شاعر بلھے شاہ نے کافی کی صنف کو فروغ دیا۔ البتہ مغل شہنشاہوں اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب نے فارسی زبان کو انتظامی، تعلیمی اور ثقافتی سطح پر متعارف کروایا اور متعدد فارسی اصناف سخن کو ہندوستان میں مقبولیت ملی۔ اس کی ایک اہم مثال اکبر کے درباری ابوالفضل کی لکھی ہوئی ’’اکبرنامہ‘‘ ہے۔ داستان کے انداز کو بھی اپنایا گیا۔ ہندوستانی سیاق و سباق میں فارسی ادب کی اہم ترین صنف غزل ہے جس پر الگ سے بات کی گئی ہے۔ مرزا غالب کی کلاسیکی غزلوں کو اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ انگریز 1700ء کی دہائی میں ہندوستان آئے اور 1800ء کی دہائی کے اوائل میں زیادہ تر ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ 1835ء میں انگریزوں نے بالائی طبقہ کے ہندوستانیوں کے لیے انگریزی تعلیم متعارف کروائی جس کے باعث ہندوستانیوں کو مغربی خیالات، نظریات، ادبی تحریروں اور اقدار کا علم ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ ہندوستانیوں کو اپنا ادبی اور ثقافتی ورثہ نئے زاویوں سے دیکھنے کی تحریک ملی۔ اس قسم کا ایک ترجمہ 1789ء میں سر ولیم جونز نے شکنتلا کا کیا۔ ہندوستان میں پرنٹنگ پریس کے تعارف نے اخبارات و جرائد کی اشاعت ممکن بنائی۔ ان ذرائع ابلاغ کی بدولت ہندوستانیوں کو لکھنے اور تحریریں چھپوانے کے نئے مواقع ملے۔ بنگالی نشاۃ ثانیہ اسی عہد کی پیداوار ہے۔ ہندوستان میں جدید تحریر کی اولین مثال شاعری تھی۔ مشہور اور نوبیل انعام برائے ادب یافتہ شاعر و ادیب رابندرناتھ ٹیگور نے شاعری کی روایتی اصناف سے کام لیا، مگر جدت طرازی کے ساتھ۔ دو بنگالی نژاد خواتین شعرا تورو دت اور سروجنی نائیڈو نے انگلش زبان میں خود کو ممتاز کیا۔ تورو دت اکیس برس کی عمر میں ہی مر گئی، لیکن نائیڈو نے سیاست و ادب میں طویل شاندار کیریئر جاری رکھا۔ تامل زبان میں جدید شاعری اور نثر لکھنے والا ابتدائی ترین شاعر سبرامنیم بھارتی ہے۔ دیگر مشہور شعرا سچدآنند واتسیاین، سوریہ کانت ترپاٹھی اور مہادیوی ورما ہیں۔ ہندوستان ادب میں ناول اور افسانہ دونوں ہی نئی اصناف تھے اور انیسویں صدی کے زیادہ تر ہندوستانی ادیبوں نے انہی میں طبع آزمائی کی۔ نئے اہل قلم کا تعلق انگریزی تعلیم کے حامل ہندوستانی طبقے سے تھا اور بنگالی نشاۃ ثانیہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ شاعر رابندرناتھ ٹیگور نے شاعری کے علاوہ بنگالی ناول اور افسانے میں بھی نام کمایا۔ اس کے ہم عصر بنکم چندر چیٹرجی نے انگلش میں ایک ناول ’’Rajmohan’s Wife‘‘ (1864ء) لکھنے کے بعد بنگالی زبان کو ذریعۂ اظہار بنایا۔ دیگر علاقوں کے مصنفین بھی 1800ء کی دہائی کے آخر میں سرگرم ہونے لگے۔ گجراتی زبان میں گوور دھنرم کا ناول ’’سرسوتی چندر‘‘ (1887ء) اور چندو میمن کی ملیالم ’’اندو لیکھا‘‘ (1889ء) قابل ذکر ہیں۔ ان تحریروں کے مرکزی کردار عموماً عورتیں ہیں۔ خانگی زندگی کے مسائل بنگالی ناول نگاروں، مثلاً شرت چندر چیٹری اور اشاپورن دیوی کی تحریروں کا مرکزی موضوع بنے۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستانی متوسط طبقے کی خواتین بھی سامنے آئیں، مثلاً پنڈتا راما بائی سرسوتی اور رقیہ سخاوت حسین۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے درمیانی دور میں تین تحریکوں نے ہندوستانی تحریر کو مہمیز دلائی اور متاثر کیا۔ موہن داس گاندھی کی شروع کی ہوئی عدم تعاون، مارکسزم اور سوشل ازم۔ راجا راؤ نے انگریزی ناول ’’کنٹھ پور‘‘ (1938ء) لکھا، جبکہ ملک راج آنند کے دو ناولوں ’’اچھوت‘‘ اور ’’قلی‘‘ کو شہرت ملی۔ منشی پریم چند کا ناول ’’گئو دان‘‘ (36ء) اور بنگالی بندیوپادھیائے کا ’’پتلی کی کہانی‘‘ (57ء) سماجی حقیقت پسندی اور ناانصافی پر تنقید پر زور دیتے ہیں۔ اسی دور میں سر محمد اقبال نے بطور شاعر اور مفکر مقبولیت حاصل کی۔ آر کے نارائن نے اپنے انگریزی ناول ’’Swami and Friends‘‘ (35ء) کے ساتھ کیریئر شروع کیا اور اس کے ناول اپنے کرداروں کے سماجی پن اور انسانی تعلقات پر زور دینے کی وجہ سے معاصر تحریروں میں الگ مقام رکھتے ہیں۔ 1947ء میں ہندوستان مشرقی و مغربی پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم ہوا اور ان علاقوں کے ادب کی تاریخ موزوں عنوانات کے تحت دی گئی ہے، جیسے ’’پاکستانی ادب‘‘ اور ’’بنگالی ادب۔‘‘ آزادی کے بعد ایک طرف جوش وخروش اور ولولہ تھا تو دوسری طرف تقسیم کے فسادات کا دکھ۔ بالخصوص پنجاب اور بنگال تقسیم سے متاثر ہوئے۔ 1947ء سے بعد کا زیادہ تر پاکستانی اور ہندوستانی ادب تقسیم پر ہی مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامیت نے بھی برصغیر پر اثر ڈالا۔ بیسویں صدی کے وسط اور نصف آخر میں بہت سے خواتین اہل قلم سامنے آئیں۔ ہندوستان کی اکادمی ادبیات (ساہتیہ اکیڈمی) نے تراجم کے ذریعے عوام کو علاقائی ادب پاروں سے روشناس کروایا۔ خوشونت سنگھ کا ناول ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ (56ء) تقسیم کے فسادات کے حوالے سے اولین تحریروں میں شمار ہوتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی جاندار تحریروں میں بھی تقسیم ہند ایک رستا ہوا زخم ہے۔ بھیشم ساہنی کا ناول ’’تمس‘‘ تقسیم کا ایک اور روزنامچہ ہے۔ کناڈا زبان میں یو آر آننت مرتھی کا ناول ’’سمسکار‘‘ (65ء)، ہندو مصنف شری لال شکلا کا ’’راگ درباری‘‘ (68ء)، ملیالم میں شیوشنگر پلائی کا مشہور ناول ’’چیمین‘‘ (62ء) اور وینکٹیش مدگولکر کا مراٹھی ناول ’’بنگر وادی‘‘ (58ء) سماجی حقیقت پسندی کی چلی آرہی رو کے نمائندہ ہیں۔ 60ء اور 70ء کی دہائیوں کے درمیان شاعری اور ڈرامہ دونوں اصناف میں نئے تجربات کیے گئے۔ ہندوستانی اردو ادب میں عصمت چغتائی اور بنگالی ادب میں مہاسویتا دیوی نے شہرت حاصل کی۔ 50ء اور 80ء کی دہائیوں کے درمیان آر کے نارائن نے اپنے انگریزی ناولوں کے ذریعے اہل مغرب کو ہندوستانی رنگ سے متعارف کروایا۔ جدید انگریزی ہندوستانی لکھاریوں کے گروپ میں امیتاو گھوش کا نام نمایاں ہے۔ ناول ’’The Shadow Lines‘‘ (88ء) اس کی وجۂ شہرت ہے۔ ارون دھتی رائے 90ء کی دہائی کے دوران ایک ادبی شخصیت بن کر ابھری جس کے ناول ’’The God of Small Things‘‘ (97ء) کو بکر پرائز مل چکا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا ادبیات ِ عالم سے ماخوذ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عمر ہار گئی، جذبہ جیت گیا

عمر ہار گئی، جذبہ جیت گیا

زیرو گریویٹی میں عظیم کارنامہعمر اگرچہ انسان کے جسم پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے، لیکن حوصلہ، جذبہ اور عزم وہ طاقتیں ہیں جو بڑھاپے کو بھی شکست دے دیتی ہیں۔ یہی حقیقت ایک 97 سالہ سابق فوجی نے ثابت کر دکھائی، جب انہوں نے زیرو گریویٹی میں پرواز کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اس بزرگ ہیرو نے نہ صرف اپنی زندگی کے ایک انوکھے خواب کو پورا کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ انسان اگر ارادہ مضبوط رکھے تو عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ ان کا یہ غیر معمولی کارنامہ آج دنیا بھر میں عزم، ہمت اور امید کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جب امریکی باشندے رابرٹ گورڈن اپالاچیا کے دامن میں پروان چڑھ رہے تھے تو وہ اکثر آسمان پر چمکتے ستاروں کو حیرت سے دیکھا کرتے تھے۔ اب 90 برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آخرکار انہوں نے اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ فروری میں 97 سالہ رابرٹ گورڈن میکافی زیرو گریویٹی میں پرواز کرنے والے معمر ترین شخص بن گئے، جب انہوں نے زیرو جی کی قمری خلائی پرواز کے ذریعے زمین کی فضا کی بلند ترین سطح تک سفر کیا۔اس مختصر مگر یادگار سفر کے دوران ریٹائرڈ ماہر نفسیات بے حد خوش تھے کہ وہ اپنی پیاری پوتی کیٹ کے ساتھ بے وزنی کی حالت میں فضا میں تیر رہے تھے۔ کیٹ ہی وہ شخصیت تھیں جنہوں نے برسوں تک زمین پر رہنے والے اپنے دادا کا اُڑان کا خواب آخرکار پورا کر دکھایا۔رابرٹ گورڈن نے گنیز ورلڈ ریکارڈ کو بتایا کہ بچپن میں مشرقی ٹینیسی میں رہتے ہوئے وہ اپنے گھر کے قریب جنگلات اور ندی نالوں میں گھومتے، ٹیڈ پولز سے کھیلتے اور فطرت کی خوبصورتی دریافت کیا کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے میڈیکل اسکول میں تعلیم حاصل کی اور ریاست کنساس میں طب کے مختلف شعبوں میں کام کیا۔ بعدازاں 85 برس کی عمر میں ماہر نفسیات کے طور پر ریٹائر ہوئے۔رابرٹ ایک خاندان دوست شخصیت ہیں اور اپنی پوتی کیٹ کے بہت قریب ہیں۔ برسوں تک خلائی پرواز کے بارے میں ان کی گفتگو سننے کے بعد کیٹ نے انہیں قائل کیا کہ وہ 22 فروری 2025ء کو ''زیرو جی‘‘ کی پرواز میں ان کے ساتھ شامل ہوں، جو سان جوز میں منعقد ہوئی۔ہوابازی اور خلائی سفر کے دیرینہ شوقین رابرٹ، جو یونائیٹڈ فلائنگ اوکٹوجنیرینز کے رکن بھی ہیں، اپنی اس یادگار پرواز کے ذریعے امریکی فوج کیلئے اپنی خدمات اور اپنے بھائی جے جی میکافی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے تھے، جنہوں نے انہیں پرواز کرنا سکھایا تھا۔ رابرٹ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ایک شخصیت مسلسل مجھے زیرو گریویٹی کے سفر کیلئے آمادہ کر رہی تھی اور پھر اس نے مجھے ایسی پیشکش کی جسے میں ٹھکرا نہیں سکا۔پرواز کی تیاری کیلئے رابرٹ نے خود کو متحرک رکھا۔ وہ روزانہ چہل قدمی جاری رکھتے اور اپنی جسمانی صحت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جب ایک ڈاکٹر نے انہیں پرواز کیلئے فٹ قرار دینے کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیاتو بھی یہ 97 سالہ بزرگ مایوس نہ ہوئے۔ رابرٹ نے مسکراتے ہوئے کہاکہ میرا خیال ہے کہ شاید یہ اس ڈاکٹر کی اپنی حد تھی۔اس کے بعد انہوں نے خود ہی اپنے لیے منظوری کا نوٹ لکھ دیا، کیونکہ آخرکار وہ خود بھی ایک ڈاکٹر تھے۔پرواز کے دن یہ پرجوش دادا اور ان کی خیال رکھنے والی پوتی بہادر مہم جوؤں کے ایک گروپ کے ساتھ زیرو جی کی سہولیات میں جمع ہوئے اور خصوصی خلائی سوٹ زیب تن کیے۔ اسی موقع پر رابرٹ کو جیک پریسمین سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، جو اس وقت گنیز ورلڈ ریکارڈ کے تحت کم عمر ترین (مرد) شخص کے طور پر زیرو گریویٹی میں پرواز کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں، جب وہ صرف آٹھ سال کے تھے۔اگرچہ یہ سفر بظاہر نہایت اعصاب شکن تھا، تاہم رابرٹ اس بات سے زیادہ پریشان نہیں تھے کہ وہ زمین کی فضائی حد تک جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ‘‘لوگ اسے خطرناک بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعی خطرناک ہے۔جیسے جیسے گروپ بلندی کی طرف سفر کرتا گیا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ مزید نمایاں ہوتی گئی۔ وہ اس حقیقت کو محسوس کر رہے تھے کہ وہ آخرکار اپنے بچپن کے ایک دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ جب طیارہ اپنی مطلوبہ بلندی تک پہنچا تو گروپ کو آخرکار اپنی سیٹ بیلٹس کھولنے اور زیرو گریویٹی میں آزادانہ طور پر تیرنے کی اجازت مل گئی۔ اس لمحے میں رابرٹ اور ان کی پوتی کیٹ نے قیمتی لمحات ایک ساتھ گزارتے ہوئے یوں گھومنا شروع کیا جیسے دو سپر ہیروز فضا میں اڑ رہے ہوں۔رابرٹ خوشی سے قلابازیاں کھاتے اور مڑتے ہوئے بالکل ایک نوجوان کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک وسیع مسکراہٹ تھی جبکہ وہ بے وزنی کی حالت میں جہاز کے اندر آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور دوسرے خوش و خرم شرکاء کے درمیان نہایت نرمی سے حرکت کر رہے تھے۔لینڈنگ کے بعدرابرٹ زمین پر واپس آئے تو وہ باقاعدہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کے ایک ریکارڈ ہولڈر بن چکے تھے۔ انہوں نے یہ اعزاز 90 سالہ سابق خلانورد امیدوار ایڈ ڈوائٹ کے مئی 2024ء کے قائم کردہ ریکارڈ کو توڑ کر حاصل کیا۔اگرچہ انہیں یہ تجربہ بے حد پسند آیا، تاہم رابرٹ نے کہا کہ یہ پرواز اتنی دیر تک جاری نہیں رہی جتنی وہ چاہتے تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنی پوتی کے ساتھ بے وزنی میں گھنٹوں تک تیرتے رہنے کیلئے بالکل تیار تھے۔رابرٹ کے اس عمر کے آخر میں قائم کیے گئے شاندار ریکارڈ سے متاثر ہونے والوں کے لیے، اس فخر سے بھرے ریکارڈ ہولڈر نے مشورہ دیا کہ ہر شخص کو ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر وہ اتنی اچھی جسمانی حالت میں نہ ہوتے تو اس عمر میں اپنے خواب کو حقیقت بنانا تقریباً ناممکن ہوتا۔

24 مئی: مارخور کا عالمی دن

24 مئی: مارخور کا عالمی دن

پاکستان کے قومی جانور کے تحفظ کی اہمیتدنیا بھر میں ہر سال 24 مئی کو مارخور کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس نایاب اور خوبصورت جنگلی جانور کے تحفظ کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اقوامِ متحدہ نے 2024ء میں پہلی مرتبہ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا، جس کے بعد یہ دن ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک اہم علامت بن چکا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دن اس وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور اس کی بڑی تعداد ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ مارخور اپنے خوبصورت بل کھاتے ہوئے سینگوں، مضبوط جسم اور پہاڑوں پر چڑھنے کی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ جانور زیادہ تر دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے اور فطرت کے حسن کی ایک جیتی جاگتی مثال سمجھا جاتا ہے۔مارخور بنیادی طور پر جنگلی بکری کی ایک نایاب نسل ہے۔ اس کے سینگ پیچ دار ہوتے ہیں جو اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز بناتے ہیں۔ نر مارخور کے سینگ چار سے پانچ فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں جبکہ مادہ کے سینگ نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔یہ جانور زیادہ تر پاکستان کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان، تاجکستان اور بھارت کے بعض علاقوں میں بھی اس کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔ مارخور نہایت پھرتیلا جانور ہے اور خطرناک چٹانوں پر آسانی سے چڑھ سکتا ہے۔ یہ زیادہ تر گھاس، جھاڑیوں اور پہاڑی پودوں پر گزارا کرتا ہے۔ سردیوں میں یہ نسبتاً نچلے علاقوں کی طرف آ جاتا ہے جبکہ گرمیوں میں بلند پہاڑوں کا رخ کرتا ہے۔ مارخور کے تحفظ کی کامیاب کوششیںایک وقت ایسا بھی تھا جب غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی ماحول کی تباہی کے باعث مارخور کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی تھی۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو یہ خوبصورت جانور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا۔پاکستان نے مارخور کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔ مختلف قومی پارکس، جنگلی حیات کے محفوظ علاقے اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن پروگرام شروع کیے گئے۔ مقامی آبادی کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا تاکہ لوگ جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں مارخور کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت (IUCN) نے بھی پاکستان کی کامیاب حکمتِ عملی کو سراہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب پاکستان میں مارخور کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام بھی متعارف کرایا گیا جس کے تحت محدود اور قانونی شکار کی اجازت دے کر حاصل ہونے والی آمدنی مقامی کمیونٹیز کی فلاح اور جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ کی جاتی ہے۔ اس پروگرام نے مقامی لوگوں کو مارخور کے تحفظ کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ماحولیاتی توازن میں مارخور کا کردارمارخور صرف ایک خوبصورت جانور ہی نہیں بلکہ پہاڑی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے۔ یہ مختلف پودوں اور جھاڑیوں کو کھا کر قدرتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ برفانی چیتے جیسے شکاری جانوروں کی خوراک کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ اگر مارخور کی نسل ختم ہو جائے تو پورا پہاڑی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ جنگلی حیات اس کے تحفظ کو نہایت ضروری قرار دیتے ہیں۔ مارخور سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح شمالی پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں میں اس نایاب جانور کو دیکھنے آتے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔عالمی دن منانے کا مقصدمارخور کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد لوگوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس دن مختلف ممالک میں سیمینارز، آگاہی واکس، تعلیمی پروگرام اور میڈیا مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ سکولوں اور جامعات میں طلبہ کو ماحولیات اور جنگلی جانوروں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل قدرتی وسائل کے تحفظ کی ذمہ داری محسوس کرے۔ماہرین کے مطابق اگر انسان قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ پر توجہ نہ دے تو مستقبل میں کئی نایاب جانور ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔ مارخور کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فطرت کا حسن برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ مارخور پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، قومی شناخت اور جنگلی حیات کی علامت ہے۔ اس کے تحفظ میں پاکستان کی کامیاب کوششیں پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔ 24 مئی کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگلی جانور صرف قدرت کا حصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور ماحول کے توازن کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، مقامی آبادی، تعلیمی ادارے اور عوام مل کر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی مارخور جیسے خوبصورت اور نایاب جانور کو قدرتی ماحول میں دیکھ سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دنیا کا پہلا یونیورسٹی میوزیم1683ء میں ''ایشمولین میوزیم‘‘ (Ashmolean Museum) کا افتتاح انگلینڈ کے شہرآکسفورڈ میں کیا گیا۔ یہ دنیا کا پہلا یونیورسٹی میوزیم تھا، جسے علم، تاریخ اور ثقافت کے فروغ کیلئے قائم کیا گیا۔ اس میوزیم کی بنیاد مشہور ماہر آثارقدیمہ اور کلیکٹر الیاس ایشمول کے عطیہ کردہ نوادرات پر رکھی گئی۔ یہاں قدیم مخطوطات، تاریخی اشیا، فن مصوری اور سائنسی نمونے محفوظ کیے گئے، جن سے طلبہ اور محققین نے بھرپور استفادہ کیا۔ ایشمولین میوزیم علم و تحقیق کے میدان میں اہم مقام رکھتا ہے۔بروکلین برج کا افتتاحبروکلین برج نیویارک شہر میں ایک ہائبرڈ کیبل پل ہے جو مین ہٹن اور بروکلین کے درمیان مشرقی دریا پر پھیلا ہوا ہے۔اس پل کو عام عوام کیلئے 24 مئی 1883ء کو کھولا گیا، بروکلین برج مشرقی دریا کو عبور کرنے والا پہلا پل تھا۔ جس وقت اس کا افتتاح کیا گیا یہ اس وقت دنیا کا سب سے لمبا کیبل برج تھا ۔ اس پل کو اصل میں نیویارک اور بروکلین برج یا ایسٹ ریور برج کہا جاتا تھا لیکن 1915ء میں باضابطہ طور پر اس کا نام بدل کر بروکلین برج رکھ دیا گیا۔ بحیرہ ایجیئن میں شدید زلزلہ 24 مئی 2014ء کو یونان اور ترکی کے درمیان شمالی بحیرہ ایجیئن میں شدید زلزلہ آیا۔ جس کی شدت 6.9 ریکارڈ کی گئی۔ ترکی کے جزیرے امبروس اور ایڈیرنے اور چاناکلے کے شہروں کے ساتھ ساتھ یونانی جزیرے لیمنوس میں بھی شدید تباہی ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکے بلغاریہ اور جنوبی رومانیہ میں بھی محسوس کیے گئے۔ کئی آفٹر شاکس بھی آئے جن کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے میں450ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ روس اور امریکہ معاہدہامریکہ اور روس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ماسکو معاہدہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں میں کمی کا ایک اسٹریٹجک معاہدہ تھا جو جون 2003ء سے فروری 2011ء تک نافذ رہا بعد ازاں اسے نیو اسٹارٹ ٹریٹی کے ذریعے ختم کر دیا گیا ۔ اس معاہدے پر ماسکو میں 24 مئی 2002ء کو دستخط کئے گئے۔معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا کہ کوئی بھی فریق دوسرے کو تین ماہ کا تحریری نوٹس دینے پر معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ڈنمارک آبنائے کی جنگ1941ء میں ''بیٹل آف دی اٹلانٹک‘‘ کے دوران آبنائے ڈنمارک کی مشہور بحری جنگ پیش آئی۔ اس معرکے میں جرمن جنگی بحری جہاز نے برطانوی رائل نیوی کے فخر سمجھے جانے والے جنگی جہاز ''ایچ ایم ایس ہڈ‘‘کو تباہ کر دیا۔ اس المناک حادثے میں جہاز پر سوار تقریباً تمام اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ صرف تین ملاح زندہ بچ سکے۔ اس واقعے نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو شدید نقصان پہنچایا اور بحری جنگوں کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا۔

مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش

مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش

کیا ''جراسک پارک‘‘ حقیقت بننے جا رہا ہے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ باتیں جو کبھی صرف فلموں اور افسانوں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، آج حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے مکمل مصنوعی انڈے سے زندہ چوزوں کی پیدائش ممکن بنا کر حیاتیاتی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس حیرت انگیز کامیابی کو بعض ماہرین ''حقیقی جراسک پارک‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے معدوم یا ناپید ہوتی انواع کو دوبارہ زندہ کرنے یعنی ''ڈی ایکسٹنکشن‘‘ (De-Extinction) کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ پیش رفت طب، حیاتیات اور زرعی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ اخلاقی، ماحولیاتی اور انسانی تحفظ سے متعلق کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔کمپنی ''کولوسل بائیوسائنسز (Colossal Biosciences)، جو برفانی دور کے عظیم الجثہ ''وُولی میمتھ‘‘ (woolly mammoth)کو دوبارہ دنیا میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کے ماہرین نے پہلی بار ایسا نظام تیار کیا ہے جس میں بغیر خول کے مصنوعی انڈے کو قدرتی انڈے کے ممکنہ حد تک مشابہ بنایا گیا۔ تحقیقی ٹیم نے ابتدائی مرحلے کے پرندوں کے جنین لے کر انہیں مصنوعی خول میں منتقل کیا اور 18 دن تک ان کی افزائش اور نشوؤنما جاری رکھی۔ جب چوزے مکمل طور پر تیار ہو گئے تو وہ اپنے مصنوعی اور محفوظ گھر سے باہر نکل آئے اور اب صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جنوبی جزیرے کے دیو ہیکل ''موآ‘‘ (moa) پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ ناپید پرندہ تقریباً 11.8 فٹ (3.6 میٹر) بلند اور 507 پاؤنڈ (230 کلوگرام) وزنی تھا۔یہ تحقیق مستقبل میں مصنوعی رحم (Artificial Womb)کی تیاری کیلئے بھی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق: یہ آلہ ہر چیز بدل دیتا ہے۔ ہم دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ہم انڈے کے خول کے بغیر بھی مکمل پرندے کی افزائش ایک انکیوبیٹر میں کر سکتے ہیں۔ یہ واقعی ایک انقلابی کامیابی ہے۔ زندگی اپنا راستہ خود تلاش کر لیتی ہے۔مصنوعی انڈے کا یہ آلہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے ایک مضبوط بیرونی خول پر مشتمل ہے، جسے جالی نما ساخت دی گئی ہے تاکہ یہ حفاظت اور مضبوطی فراہم کر سکے۔ اس تہہ کے اندر سلیکون کی ایک جھلی موجود ہے جو آکسیجن کو نظام کے اندر منتقل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔گزشتہ چالیس برسوں کے دوران مصنوعی انڈے تیار کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن ان میں خالص آکسیجن کی بڑی مقدار شامل کرنا پڑتی تھی، جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا اور جانوروں کی طویل مدتی صحت متاثر ہوتی تھی۔ اس نئے ڈیزائن میں استعمال ہونے والی نفوذ پذیر جھلی فضا سے آکسیجن کو قدرتی انداز میں انڈے کے اندر منتقل ہونے دیتی ہے۔ یہ عمل حقیقی انڈوں میں موجود باریک سوراخوں کے ذریعے آکسیجن کے داخل ہونے کے قدرتی نظام سے مشابہ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم قدرت کے نظام کی نقل کیسے کریں اور اسے مزید بہتر کیسے بنائیں؟ مصنوعی انڈوں کے بنیادی انجینئرنگ مسئلے کو پہلی بار حل کیا گیا ہے۔مصنوعی انڈے میں اوپر کی جانب ایک ''کھڑکی‘‘ بھی دی گئی ہے، جس کے ذریعے جنین کی افزائش کے ہر مرحلے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ آلہ عام تجارتی انکیوبیٹرز کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے، اور ہر سائز کے انڈوں کیلئے ڈھالا جا سکتا ہے۔اس عمل کے آغاز میں ماہرین نے مرغیوں کے اصلی انڈے فوراً اس وقت جمع کیے جب وہ دیے گئے تھے۔ ایمبریالوجی کی ٹیم نے ہر انڈے کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان جنینزکا انتخاب کیا جن کے کامیابی سے نکلنے کے امکانات زیادہ تھے۔ اس کے بعد انڈے کو نہایت احتیاط سے توڑا گیا اور اس کے اندر موجود مواد کو مصنوعی انڈے میں منتقل کر دیا گیا، جسے بعد ازاں ایک انکیوبیٹر میں رکھا گیا۔ سائنس دانوں نے ایک خاص غذائی مادہ بھی شامل کیا جس نے جنین کی افزائش جاری رکھنے میں مدد دی۔ تقریباً 18 دن بعد چوزے نے انڈے پر چونچ مارنا شروع کی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ باہر آنے کیلئے تیار ہے۔ باہر نکلنے کے بعد تمام چوزوں کو گروپوں میں رکھا گیا، پھر انہیں ایک ''گریجویشن پین‘‘ یعنی کھلے تربیتی حصے میں منتقل کیا گیا اور آخرکار ایک بڑے فارم میں بھیج دیا گیا۔کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق اس ڈیزائن سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا میں پرندوں کی نصف سے زیادہ اقسام کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں لیبارٹریوں میں سینکڑوں یا ہزاروں انڈوں کے ذریعے نایاب اور شدید خطرے سے دوچار انواع کی افزائش کی جا رہی ہو۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کا مصنوعی رحم تعمیر کیا جائے گا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ دیو ہیکل پرندے ''موآ‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کا منصوبہ انکیوبیشن کے ایسے چیلنج سے دوچار ہے جو ان کے دیگر منصوبوں سے بالکل مختلف ہے۔ اندازوں کے مطابق موآ کا انڈہ ایک مرغی کے انڈے سے تقریباً 80 گنا بڑا اور ایمو کے انڈے سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ حجم رکھتا تھا، جس کی وجہ سے موجودہ دور کے کسی بھی پرندے کو اس کے متبادل میزبان کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں موجود کوئی زندہ پرندہ اتنا بڑا نہیں کہ وہ اس جنین کی پرورش کر سکے، اسی لیے اس معدوم نسل کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے بڑے سائز کے مصنوعی انڈے کی تیاری انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ کولوسل بائیوسائنسز ''موآ‘‘ کی ہڈیوں سے حاصل کیے گئے جینز استعمال کرتے ہوئے جدید پرندوں میں جینیاتی تبدیلیاں کرے گی تاکہ وہ معدوم ''موآ‘‘ سے انتہائی مشابہ ہو جائیں۔ یہ پرندہ تقریباً 500 سے 600 سال قبل نیوزی لینڈ سے ناپید ہو گیا تھا۔یہی تکنیک اس سے پہلے سرمئی بھیڑیوں کو قدیم ''ڈائر وولف‘‘ سے مشابہ جانوروں میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کی گئی تھی۔ ترمیم شدہ جنینز کو بعدازاں مصنوعی انڈوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں وہ نشوؤنما پا کر بالآخر انڈے سے باہر آئیں گے۔معدوم ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کا حیران کن منصوبہاپنی نوعیت کے مشہور ترین معدوم جانوروں میں شمار ہونے والا ڈوڈو پرندہ انسانوں کے بے رحمانہ شکار کے باعث صرف چند دہائیوں میں ہمیشہ کیلئے دنیا سے ختم ہوگیا تھا۔اب سائنس دان اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے اس معدوم پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، اور وہ اس مشہور پرندے کو اس کے اصل وطن ماریشس واپس لانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی کمپنی کولوسل بائیوسائنسز اسٹیم سیل ٹیکنالوجی اور جینوم ایڈیٹنگ کی مدد سے ڈوڈو پرندے کی جدید شکل دوبارہ تخلیق کرنے پر کام کر رہی ہے۔ 225 ملین ڈالر سے زائد لاگت والے اس منصوبے کے تحت کمپنی ماریشس سے تقریباً 350 سال قبل یورپی مہم جوؤں کے ہاتھوں معدوم ہونے والے ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سائنس دان پہلے ہی ہڈیوں کے نمونوں اور دیگر باقیات کی مدد سے اس معدوم پرندے کے مکمل جینوم کی ترتیب معلوم کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔اگلا مرحلہ اس کے قریبی زندہ رشتہ دار پرندے''Nicobar pigeon‘‘کے جلدی خلیے میں جینیاتی تبدیلیاں کرنا ہے تاکہ اس کا جینوم معدوم ڈوڈو کے جینوم سے مطابقت اختیار کر سکے۔

دانت صاف کرنے کا صحیح وقت کونسا؟

دانت صاف کرنے کا صحیح وقت کونسا؟

برش کب کرنا بہتر، ماہرین نے معمہ سلجھا دیا روزمرہ زندگی کی چھوٹی عادات بھی ہماری صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، اور دانت صاف کرنے کا درست وقت بھی انہی میں سے ایک اہم سوال ہے۔ اکثر لوگ اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ دانت ناشتے سے پہلے برش کیے جائیں یا بعد میں۔ ماہرین دندان سازی کے مطابق اس معمولی دکھائی دینے والے فیصلے کے پیچھے سائنسی وجوہات موجود ہیں، جو نہ صرف دانتوں کی حفاظت بلکہ مجموعی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق اور ماہرین کی رائے نے اس دیرینہ بحث کو ایک نئی جہت دی ہے، جس سے یہ جاننا مزید ضروری ہو گیا ہے کہ درست طریقہ کیا ہے اور ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔کیا آپ کو دانت ناشتے سے پہلے برش کرنے چاہئیں یا بعد میں؟ ایک دندان ساز نے اس بحث کو بالآخر ختم کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط طریقہ اختیار کرنے سے دانتوں کے اینامل کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا پسند کرتے ہیں، ڈاکٹر دیپا چوپڑا وضاحت کرتی ہیں کہ دراصل صبح سب سے پہلے دانت صاف کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ناشتے سے پہلے برش کرنے سے وہ پلاک اور بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں جو رات بھر دانتوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔ اس سے دانتوں پر فلورائیڈ کی ایک حفاظتی تہہ بھی بن جاتی ہے، جو کھانا کھانے سے پہلے دانتوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا صارفین کیلئے حیران کن ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا ہی درست طریقہ ہے۔ ٹک ٹاک پر ایک صارف نے لکھا کہ میں پہلے ناشتہ کرتا ہوں اور پھر دانت صاف کرتا ہوں، یہ زیادہ سمجھ میں آنے والا طریقہ لگتا ہے۔ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ناشتے سے پہلے برش کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے، آپ کی سانس سارا دن سیریل اور دودھ جیسی ہی رہے گی۔ڈاکٹر چوپڑا، جو وائٹ ڈینٹل میں کام کرتی ہیں، وضاحت کرتی ہیں کہ ناشتے کے فوراً بعد دانت صاف کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ نے کھٹے (acidic) کھانے جیسے پھل یا پھلوں کا رس لیا ہو۔ یہ چیزیں عارضی طور پر دانتوں کے اینامل کو نرم کر دیتی ہیں، اور اس وقت برش کرنے سے اینامل آسانی سے گھس سکتا ہے۔ ناشتے سے پہلے دانت صاف کرنا دراصل تیزاب اور چینی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جو ناشتے کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔ڈاکٹر کے مطابق جب آپ پہلے برش کرتے ہیں تو آپ اپنے دانتوں پر ایک اضافی حفاظتی تہہ بنا دیتے ہیں، جو کھٹے یا میٹھے کھانوں سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اگر آپ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنے پر اصرار کرتے ہیں تو ڈاکٹر چوپڑا مشورہ دیتی ہیں کہ کم از کم 30 منٹ کا وقفہ ضرور دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آپ کے اینامل کو تیزاب کے اثر کے بعد بحالی کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ فوراً برش کرتے ہیں تو آپ دراصل نرم شدہ اینامل کو صاف کر رہے ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ حساسیت اور کٹاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم 30 منٹ انتظار کرنا ضروری ہے۔ اس سے آپ کے لعاب (saliva) کو وقت ملتا ہے کہ وہ تیزابیت کو کم کر دے اور اینامل کو دوبارہ سخت ہونے کا موقع ملتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''جاوا‘‘ پروگرامنگ کی لانچنگ23مئی 1995ء میں ''جاوا‘‘ پروگرامنگ منظر عام پر آئی۔ ''جاوا‘‘ ایک اعلیٰ سطحی پروگرامنگ لینگوئج ہے۔ اس کا مقصد پروگرامرز کو یہ سہولت فراہم کرنا ہے کہ پروگرام کو کہیں بھی لکھا اور چلایا جاسکے یعنی مرتب کردہ جاوا کوڈ ان تمام پلیٹ فارمز پر چل سکتا ہے جو جاوا کو دوبارہ کمپائل کرنے کی ضرورت کے بغیر سپورٹ کرتے ہیں۔ ''جاوا‘‘ ایپلی کیشنز کو عام طور پر بائی کوڈ پر مرتب کیا جاتا ہے جو کمپیوٹر کے بنیادی اصولوں سے قطع نظر کسی بھی جاوا ورچوئل مشین (JVM) پر چل سکتا ہے۔چین تبت معاہدہسترہ نکاتی معاہدہ، سرکاری طور پر مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی مقامی حکومت کے درمیان ایک امن معاہد ہ تھا۔یہ معاہدہ عوامی جمہوریہ چین کے اندر تبت کی حیثیت سے متعلق ایک اہم دستاویز تھی۔ اس پر 23 مئی 1951ء کو مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی حکومت نے بیجنگ میں دستخط کیے تھے۔ 24 اکتوبر 1951 ء کو ٹیلی گراف کی شکل میں معاہدے کی توثیق کی گئی۔ تقریباً آٹھ سال بعد 18 اپریل 1959ء کو اس معاہدے کو مسترد کر دیا گیا اور ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ یہ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔کچھوؤں کا عالمی دن23مئی کو کچھوئوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد کچھوے کی اہمیت اوراس کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔کچھوا زمین پر پائے جانے والے سب سے قدیم ترین رینگنے والے جانداروں میں سے ایک ہے۔ کچھوے دیگر جانوروں سے اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ ان میں پانی اور خشکی دونوں میں زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کچھوے قدیم وقتوں سے آج تک مختلف ماحول میں اور حادثوں کے باوجود اپنی نسل کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ کچھوؤں نے ماحول کی تبدیلی کے ساتھ اپنی عادات بھی بدلی ہیں۔ایک کچھوے کی اوسط عمر بھی بہت طویل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک کچھوے کی عمر 30 سے 50 سال تک ہوسکتی ہے۔نیویارک پبلک لائبریری کا قیام23 مئی 1895 ء کو آسٹر اور لینوکس لائبریریوں اور ٹلڈن ٹرسٹ کے وسائل کو یکجاں کر کے ایک نیاادارہ قائم کیا گیا جسے دی نیویارک پبلک لائبریری (The New York Public Library) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس لائبریری کا شمار دنیا کی قدیم لائبریریز میں کیا جاتا ہے ۔یہ امریکہ کی دوسری اور دنیا کی چوتھی سب سے بڑی لائبریری ہے۔اس میں موجود کتابوں کی تعداد تقریباً52ملین ہے ۔ امریکہ کی ریاست بننے کا اعزاز1788ء میں جنوبی کیرولائنا نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی توثیق کرنے والی آٹھویں ریاست بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ تاریخی اقدام امریکی وفاقی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔ امریکی آئین 1787ء میں تیار کیا گیا تھا تاکہ نوآزاد ریاستوں کو ایک مضبوط مرکزی حکومت کے تحت متحد کیا جا سکے۔ جنوبی کیرولائنا کی منظوری نے آئین کی قبولیت کو مزید تقویت دی اور دیگر ریاستوں کو بھی اس کی توثیق کی ترغیب ملی۔ اس وقت امریکہ ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھ رہا تھا، اور اس آئین نے ملک میں قانون، حکومت اور شہری حقوق کے اصول متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔