ہندوستانی ادب

ہندوستانی ادب

اسپیشل فیچر

تحریر : یاسر جواد


برصغیر پاک وہند کی زبانوں اور ادبی روایات میں لکھی گئی تحریریں۔ برصغیر میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی تقسیم بیسویں صدی میں ہوئی؛ اس سے قبل سارا خطہ ہندوستان ہی کہلاتا تھا۔ صدیوں تک ہندوستانی معاشرہ تنوع سے عبارت رہا۔ جدید ہندوستان کے لوگ 18 بڑی زبانیں اور کئی چھوٹی زبانیں بھی بولتے ہیں۔ پاکستان کی سرکاری زبان اُردو جبکہ بنگلہ دیش کی بنگالی ہے۔ ساری تاریخ کے دوران مسلسل بیرونی لوگوں کو اپنے اندر جذب کرنے کے باعث ہندوستانی ادب دنیا کا بھرپور ترین ادب بن گیا۔ قدیم ہندوستان میں سنسکرت ہی غالب رہی اور فلسفیانہ و ادبی تحریروں میں استعمال ہوئی۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بدھ مت اور جین مت کے مقبول ہونے پر پالی زبان میں ادب کو فروغ ملا اور سنسکرت کے متعدد لہجے (پراکرت) بھی پیدا ہوئے۔ دریں اثناء دراوڑی زبان تامل جنوب کے علاقے میں اہم ترین زبان بنی۔ تامل زبان میں ریکارڈ شدہ ادب پہلی صدی عیسوی کا ہے۔ تامل، تیلگو، کناڈا اور ملیالم میں بھی ادب لکھا گیا۔ دسویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران قدیم زبانوں کے نئے لہجے وجود میں آئے اور ہندوستان کی جدید زبانیں تشکیل پائیں۔ اس کے ساتھ ادبی اصناف اور موضوعات میں بھی تنوع پیدا ہوا،نیز فارسی زبان و ادب نے بھی ہندوستانی ادب کو متاثر کیا۔ اسلامی فلسفہ و روایات کا رنگ بھی موجود ہے۔ہندوستان کا تیسرا اہم مذہب جین مت تھا جس کی بنیاد مہاویر نے رکھی۔ ابتدائی جین ادب پراکرت لہجوں میں پروان چڑھا۔ بودھی اور جین مصنفین نے سنسکرت زبان میں بھی کئی کتب تصنیف کیں۔ اس کے بعد ہیروئی یا سورمائی ادب کا دور آتا ہے۔ ہندوستان کی مشہور ترین قدیم رزمیہ داستانیں ’’مہا بھارت‘‘ اور ’‘رامائن‘‘ ہیں جو کئی صدیوں کے دوران سنسکرت زبان میں لکھی گئیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آریاؤں نے ہندوستان پر کیسے کنٹرول حاصل کیا۔ مہابھارت کی تحریری صورت کو افسانوی شاعر و مؤلف ویاس سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن اس نے 400 قبل مسیح اور 400 عیسوی کے دوران اپنی شکل اختیار کی۔ مہابھارت اصل میں بھارت یا بھرت قبیلے کی دو شاخوں کے درمیان تنازع کی کہانی ہے۔چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں جنم لینے والا شاعر کالی داس ممتاز ترین کلاسیکی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی رزمیہ داستانوں میں ’’رگھووامس‘‘ اور ’’میگھ دوت‘‘ شامل ہیں۔ البتہ اس کا لکھا ہوا کھیل ’’شکنتلا‘‘ (ابھیجان شکنتلا) سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ اس ڈرامے میں ایک بادشاہ اور جنگل باسی دوشیزہ شکنتلا کی محبت کی کہانی سنائی گئی ہے۔ جرمن مصنف گوئٹے اور دیگر یورپی اہل قلم پر بھی اس ڈرامے نے گہرا اثر ڈالا۔ سنسکرت ڈرامہ رقص، موسیقی اور شاعری سے بھرپور تھا۔ کالی داس نے مشہور ڈراموں کے علاوہ قابل ذکر کلاسیکی ڈراموں میں ’’مرچھ کٹکا‘‘ از شدرک اور ’’ملاتی مادھو‘‘ از بھوبھوتی شامل ہیں۔ کلاسیکی سنسکرت فکشن میں ’’پنچ تنتر‘‘از وشنو شرمن سر فہرست ہے۔ گیارہویں صدی کے مصنف سوم دیو کی ’’کتھاسرت ساگر‘‘ تاجروں، بادشاہوں وغیرہ کے عشقیہ قصوں کا مجموعہ ہے۔ پنچ تنتر اور کتھا سرت ساگر نے الف لیلہ ولیلہ کے لیے بنیاد مہیا کی۔ سنسکرت شاعروں نے قطعات (مکتک) بھی لکھے۔ ساتویں صدی میں بھرتری ہری اور امارو نے مکتک کا استعمال کیا۔ سنسکرت نے درباری ادب کے ساتھ ساتھ ’’پرانوں‘‘ کی روایت کو بھی پروان چڑھایا۔ اٹھارہویں صدی کے سندھی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی اور پنجابی شاعر بلھے شاہ نے کافی کی صنف کو فروغ دیا۔ البتہ مغل شہنشاہوں اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب نے فارسی زبان کو انتظامی، تعلیمی اور ثقافتی سطح پر متعارف کروایا اور متعدد فارسی اصناف سخن کو ہندوستان میں مقبولیت ملی۔ اس کی ایک اہم مثال اکبر کے درباری ابوالفضل کی لکھی ہوئی ’’اکبرنامہ‘‘ ہے۔ داستان کے انداز کو بھی اپنایا گیا۔ ہندوستانی سیاق و سباق میں فارسی ادب کی اہم ترین صنف غزل ہے جس پر الگ سے بات کی گئی ہے۔ مرزا غالب کی کلاسیکی غزلوں کو اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے۔ انگریز 1700ء کی دہائی میں ہندوستان آئے اور 1800ء کی دہائی کے اوائل میں زیادہ تر ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ 1835ء میں انگریزوں نے بالائی طبقہ کے ہندوستانیوں کے لیے انگریزی تعلیم متعارف کروائی جس کے باعث ہندوستانیوں کو مغربی خیالات، نظریات، ادبی تحریروں اور اقدار کا علم ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ ہندوستانیوں کو اپنا ادبی اور ثقافتی ورثہ نئے زاویوں سے دیکھنے کی تحریک ملی۔ اس قسم کا ایک ترجمہ 1789ء میں سر ولیم جونز نے شکنتلا کا کیا۔ ہندوستان میں پرنٹنگ پریس کے تعارف نے اخبارات و جرائد کی اشاعت ممکن بنائی۔ ان ذرائع ابلاغ کی بدولت ہندوستانیوں کو لکھنے اور تحریریں چھپوانے کے نئے مواقع ملے۔ بنگالی نشاۃ ثانیہ اسی عہد کی پیداوار ہے۔ ہندوستان میں جدید تحریر کی اولین مثال شاعری تھی۔ مشہور اور نوبیل انعام برائے ادب یافتہ شاعر و ادیب رابندرناتھ ٹیگور نے شاعری کی روایتی اصناف سے کام لیا، مگر جدت طرازی کے ساتھ۔ دو بنگالی نژاد خواتین شعرا تورو دت اور سروجنی نائیڈو نے انگلش زبان میں خود کو ممتاز کیا۔ تورو دت اکیس برس کی عمر میں ہی مر گئی، لیکن نائیڈو نے سیاست و ادب میں طویل شاندار کیریئر جاری رکھا۔ تامل زبان میں جدید شاعری اور نثر لکھنے والا ابتدائی ترین شاعر سبرامنیم بھارتی ہے۔ دیگر مشہور شعرا سچدآنند واتسیاین، سوریہ کانت ترپاٹھی اور مہادیوی ورما ہیں۔ ہندوستان ادب میں ناول اور افسانہ دونوں ہی نئی اصناف تھے اور انیسویں صدی کے زیادہ تر ہندوستانی ادیبوں نے انہی میں طبع آزمائی کی۔ نئے اہل قلم کا تعلق انگریزی تعلیم کے حامل ہندوستانی طبقے سے تھا اور بنگالی نشاۃ ثانیہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ شاعر رابندرناتھ ٹیگور نے شاعری کے علاوہ بنگالی ناول اور افسانے میں بھی نام کمایا۔ اس کے ہم عصر بنکم چندر چیٹرجی نے انگلش میں ایک ناول ’’Rajmohan’s Wife‘‘ (1864ء) لکھنے کے بعد بنگالی زبان کو ذریعۂ اظہار بنایا۔ دیگر علاقوں کے مصنفین بھی 1800ء کی دہائی کے آخر میں سرگرم ہونے لگے۔ گجراتی زبان میں گوور دھنرم کا ناول ’’سرسوتی چندر‘‘ (1887ء) اور چندو میمن کی ملیالم ’’اندو لیکھا‘‘ (1889ء) قابل ذکر ہیں۔ ان تحریروں کے مرکزی کردار عموماً عورتیں ہیں۔ خانگی زندگی کے مسائل بنگالی ناول نگاروں، مثلاً شرت چندر چیٹری اور اشاپورن دیوی کی تحریروں کا مرکزی موضوع بنے۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستانی متوسط طبقے کی خواتین بھی سامنے آئیں، مثلاً پنڈتا راما بائی سرسوتی اور رقیہ سخاوت حسین۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے درمیانی دور میں تین تحریکوں نے ہندوستانی تحریر کو مہمیز دلائی اور متاثر کیا۔ موہن داس گاندھی کی شروع کی ہوئی عدم تعاون، مارکسزم اور سوشل ازم۔ راجا راؤ نے انگریزی ناول ’’کنٹھ پور‘‘ (1938ء) لکھا، جبکہ ملک راج آنند کے دو ناولوں ’’اچھوت‘‘ اور ’’قلی‘‘ کو شہرت ملی۔ منشی پریم چند کا ناول ’’گئو دان‘‘ (36ء) اور بنگالی بندیوپادھیائے کا ’’پتلی کی کہانی‘‘ (57ء) سماجی حقیقت پسندی اور ناانصافی پر تنقید پر زور دیتے ہیں۔ اسی دور میں سر محمد اقبال نے بطور شاعر اور مفکر مقبولیت حاصل کی۔ آر کے نارائن نے اپنے انگریزی ناول ’’Swami and Friends‘‘ (35ء) کے ساتھ کیریئر شروع کیا اور اس کے ناول اپنے کرداروں کے سماجی پن اور انسانی تعلقات پر زور دینے کی وجہ سے معاصر تحریروں میں الگ مقام رکھتے ہیں۔ 1947ء میں ہندوستان مشرقی و مغربی پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم ہوا اور ان علاقوں کے ادب کی تاریخ موزوں عنوانات کے تحت دی گئی ہے، جیسے ’’پاکستانی ادب‘‘ اور ’’بنگالی ادب۔‘‘ آزادی کے بعد ایک طرف جوش وخروش اور ولولہ تھا تو دوسری طرف تقسیم کے فسادات کا دکھ۔ بالخصوص پنجاب اور بنگال تقسیم سے متاثر ہوئے۔ 1947ء سے بعد کا زیادہ تر پاکستانی اور ہندوستانی ادب تقسیم پر ہی مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی بین الاقوامیت نے بھی برصغیر پر اثر ڈالا۔ بیسویں صدی کے وسط اور نصف آخر میں بہت سے خواتین اہل قلم سامنے آئیں۔ ہندوستان کی اکادمی ادبیات (ساہتیہ اکیڈمی) نے تراجم کے ذریعے عوام کو علاقائی ادب پاروں سے روشناس کروایا۔ خوشونت سنگھ کا ناول ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ (56ء) تقسیم کے فسادات کے حوالے سے اولین تحریروں میں شمار ہوتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی جاندار تحریروں میں بھی تقسیم ہند ایک رستا ہوا زخم ہے۔ بھیشم ساہنی کا ناول ’’تمس‘‘ تقسیم کا ایک اور روزنامچہ ہے۔ کناڈا زبان میں یو آر آننت مرتھی کا ناول ’’سمسکار‘‘ (65ء)، ہندو مصنف شری لال شکلا کا ’’راگ درباری‘‘ (68ء)، ملیالم میں شیوشنگر پلائی کا مشہور ناول ’’چیمین‘‘ (62ء) اور وینکٹیش مدگولکر کا مراٹھی ناول ’’بنگر وادی‘‘ (58ء) سماجی حقیقت پسندی کی چلی آرہی رو کے نمائندہ ہیں۔ 60ء اور 70ء کی دہائیوں کے درمیان شاعری اور ڈرامہ دونوں اصناف میں نئے تجربات کیے گئے۔ ہندوستانی اردو ادب میں عصمت چغتائی اور بنگالی ادب میں مہاسویتا دیوی نے شہرت حاصل کی۔ 50ء اور 80ء کی دہائیوں کے درمیان آر کے نارائن نے اپنے انگریزی ناولوں کے ذریعے اہل مغرب کو ہندوستانی رنگ سے متعارف کروایا۔ جدید انگریزی ہندوستانی لکھاریوں کے گروپ میں امیتاو گھوش کا نام نمایاں ہے۔ ناول ’’The Shadow Lines‘‘ (88ء) اس کی وجۂ شہرت ہے۔ ارون دھتی رائے 90ء کی دہائی کے دوران ایک ادبی شخصیت بن کر ابھری جس کے ناول ’’The God of Small Things‘‘ (97ء) کو بکر پرائز مل چکا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا ادبیات ِ عالم سے ماخوذ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند سکڑ رہا ہے!

چاند سکڑ رہا ہے!

چاند کی سطح میں تبدیلیاں، مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹیاگر آپ رات کو آسمان کی طرف دیکھیں اور محسوس کریں کہ چاند کچھ چھوٹا نظر آ رہا ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی تازہ تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سطح پر ایک ہزار سے زائد نئی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دراڑیں دراصل چاند کے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کا نتیجہ ہیں، جس سے اس کی بیرونی پرت میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ سمیت کئی ممالک چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے سینٹر فار ارتھ اینڈ پلینیٹری اسٹڈیز کے سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر ایک ہزار سے زائد ایسی دراڑیں دریافت کی ہیں جو پہلے نامعلوم تھیں۔ماہرین کے مطابق یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ چاند سکڑ رہا ہے اور اپنی ساخت کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں چاند کی سطح پر جانے یا وہاں رہنے والے خلا نورد تباہ کن قمری زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مطالعے کے مرکزی مصنف کول نائپیور نے کہاکہ ہم قمری سائنس اور تحقیق کے ایک نہایت سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکے ہیں۔آنے والے قمری تحقیقی پروگرام، جیسے آرٹیمس، ہمیں چاند کے بارے میں بے شمار نئی معلومات فراہم کریں گے۔قمری ارضیات اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں کی بہتر سمجھ بوجھ ان اور مستقبل کے مشنز کی حفاظت اور سائنسی کامیابی کیلئے براہِ راست فائدہ مند ثابت ہوگی۔2010ء سے سائنس دان یہ جانتے ہیں کہ چاند بتدریج سکڑ رہا ہے، کیونکہ اس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور اس کی سطح سمٹ رہی ہے۔ اس سکڑاؤ کے نتیجے میں قمری بلند علاقوں (لُونر ہائی لینڈز) میں مخصوص زمینی ساختیں پیدا ہوئیں، جنہیں ''لوبیٹ اسکارپس‘‘(lobate scarps) کہا جاتا ہے۔یہ ساختیں اس وقت بنتی ہیں جب چاند کی پرت دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور پیدا ہونے والی قوتیں مادّے کو فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ اوپر اور قریبی پرت پر دھکیل دیتی ہیں، جس سے ایک ابھرا ہوا کنارہ وجود میں آتا ہے۔تاہم اپنی نئی تحقیق میں محققین نے ایک مختلف علاقے، جسے لونر ماریا(lunar maria) کہا جاتا ہے،یعنی چاند کی سطح پر پھیلے وسیع اور تاریک میدان میں عجیب و غریب دراڑیں دریافت کیں۔ انہوں نے ان دراڑوں کو ''سمال ماری رِجز‘‘ (SMRs) کا نام دیا ہے۔مطالعے کے مرکزی محقق نائپیور (Nypaver) نے کہا کہ اپولو دور سے ہم قمری بلند علاقوں میں لوبیٹ اسکارپس کی کثرت سے واقف ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے قمری ماریا میں بھی اسی نوعیت کی ساختوں کی وسیع موجودگی کو دستاویزی شکل دی ہے۔یہ تحقیق ہمیں چاند پر حالیہ زمینی حرکات (ٹیکٹونزم) کے بارے میں عالمی سطح پر مکمل تناظر فراہم کرتی ہے، جس سے اس کے اندرونی ڈھانچے، حرارتی اور زلزلہ جاتی تاریخ، اور مستقبل میں ممکنہ قمری زلزلوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔نئی تحقیق میں ٹیم نے 1,114 اسمال ماری رِجز دریافت کیں، جس سے چاند پر اب تک دریافت شدہ ایسی ساختوں کی مجموعی تعداد 2,634 ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل لاکھوں برسوں سے جاری ہے، تاہم نئی دریافت شدہ دراڑیں مستقبل کے خلائی مشنز، خصوصاً چاند کے جنوبی قطب پر منصوبہ بند سرگرمیوں کیلئے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ زمین کے برعکس چاند پر زلزلوں جیسی حرکات زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہیں، جو کسی بھی انسانی یا روبوٹک مشن کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ادارے، بالخصوص ناسا، ان جغرافیائی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ مشنز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

رمضان کے پکوان:ڈیٹس پائی

تیاری کا وقت :بیس سے پچیس منٹ بیکنگ کا وقت : بیس سے پچیس منٹ تعداد : دس سے بارہ عدد اجزاء :میدہ دوپیالی ، کھجوریں 200گرا م ، نمک چٹکی بھر ، بیکنگ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،پسی ہوئی چینی دوکھانے کے چمچ ، مکھن یا مارجرین ایک کھانے کا چمچ ، ترکیب : بناسپتی گھی کو کانٹے کی مددسے ہلکا سا پھینٹ لیں اور فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کرلیں۔ میدہ میں بیکنگ پائوڈر ڈال کر چھان لیں پھر اس میں نمک اوربناسپتی گھی ڈال کر دوکانٹوں کی مدد سے ملالیں۔ درمیان میں حسب ضرورت ٹھنڈا یخ پانی ایک ایک چمچ کرکے ڈالتے جائیں تاکہ وہ گندھے ہوئے آٹے کی شکل میں آجائے۔ خیال رہے کہ یہ سارا عمل ٹھنڈی جگہ پر کریں اور اس آٹے کو دس منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ پھر اس کی روٹی بیل لیں اور کٹر کی مددسے گول پور یوں کی طرح کاٹ لیں ۔مفن پین کو ہلکا سا چکنا کرکے اس میں خشک میدہ چھڑک لیں اور ہرپوری کو احتیاط سے ایک ایک سانچے میں لگالیں۔ کانٹے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سوراخ کردیں تاکہ بیک ہوتے ہوئے پھولنے نہ پائے۔ اوون کو 180Cپربیس منٹ پہلے گرم کرکے اس سانچے کو اس میں رکھیں اور بیس سے پچیس منٹ کیلئے بیک کرلیں۔ گولڈن برائون ہونے پر اوون سے نکال کر ٹھنڈا کرلیں۔ فلنگ بنانے کیلئے : کھجوروں کو صاف دھوکر ان کے بیج نکال لیں اور ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں، پانچ سے سات منٹ پکانے کے بعد اس میں ایک کا چمچ مارجرین یا مکھن اور چینی ڈال کر چولہے سے اتارلیں ۔چمچ سے کچلتے ہوئے ٹھنڈا کرلیں اور ہرپائی شیل میں ایک ایک کھانے کا چمچ ڈال دیں۔ اس خوبصورت اور مزیدار ڈش کوآج کل مہمانوں کو بنا کر پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

'' آپریشن رد الفساد‘‘ کا آغاز22فروری2017ء کو ملک بھر میں ''آپریشن رد الفساد‘‘ شروع کیا گیا۔ جس کا مقصد دہشت گردوں کا بلا امتیاز خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس اداروں کی طرف سے چار لاکھ سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں چار سو زائد دہشت گرد جہنم واصل اور سیکڑوں گرفتار ہوئے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالے۔دہشت گردوں کے 400 سے زائد مذموم منصوبے ناکام بنائے گئے۔سوچنے کا عالمی دنہر سال 22 فروری کو دنیا بھر میں ''ورلڈ تھنکنگ ڈے‘‘ یعنی ''سوچنے کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1926ء میں چوتھی گرل گائیڈ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران امریکہ میں ہواتھا۔ اِس کانفرنس میں موجود لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص دن ہونا چاہیے جب گرل گائیڈز اور اسکاؤٹس پوری دنیا میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرسکیں اور ایک دوسرے کو سراہا جاسکے ۔ امریکہ نے فلوریڈاخریدا22جنوری1819 ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سپین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے ''ایڈمز،اونس معاہدہ‘‘ یا ''ٹرانس کانٹی نینٹل ٹریٹی‘‘ اور ''فلوریڈا پرچیز ٹریٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سپین کی جانب سے فلوریڈا کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل سرحدی تنازع حل ہو گیا۔ ''فلوریڈا معاہدے ‘‘کو امریکی سفارتکاری کی فتح کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

کنگفوروبوٹس

کنگفوروبوٹس

مصنوعی ذہانت کا نیا شاہکار دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مشینیں صرف احکامات پر عمل کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی حرکات و سکنات کی نقل بھی حیران کن مہارت سے کرنے لگی ہیں۔ حال ہی میں چین میں تیار کیے گئے انسانی شکل کے روبوٹس نے کنگفو کے پیچیدہ کرتب دکھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ روبوٹس نہ صرف ککس اور قلابازیاں لگاتے ہیں بلکہ ننچک جیسے روایتی ہتھیار کے ساتھ مہارت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔''سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا‘‘ میں درجنوں روبوٹس نے اسٹیج پر اپنے کرتب پیش کیے۔سرخ واسکٹ پہنے کنگفو روبوٹس ککس، قلابازیاں اور حتیٰ کہ ننچک، تلواریں اور چھڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہارت کے کرتب دکھاتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جرات مندانہ مظاہرہ انسانی بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ روبوٹس بنانے والی معروف کمپنی ''یونٹری‘‘ کی جانب سے شو کی شائع کردہ شاندار ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔یوٹیوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مداح نے لکھا: پانچ سال قبل یہ سب سائنس فکشن ہوتا۔ ایک اور نے کہا:اگر میں یہ براہِ راست یونٹری روبوٹکس کے چینل سے نہ دیکھ رہا ہوتا، تو کہتا یہ AI ہے۔ چین میں ہونے والے اس گالا میں انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹس بنانے والی چار کمپنیوں یونٹری روبوٹکس، گالبوٹ، نوئٹکس اور میجک لیب کے تیار کردہ روبوٹس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یونٹری کے درجنوں روبوٹس ''جی ون‘‘(G1)اسٹیج پر آئے، جو یونٹری کے بقول ''مَنکی کنگ کے ہتھیاروں‘‘ سے لیس تھے۔ لڑائی کے مناظر میں تکنیکی طور پر ایک منفرد سیکوئنس بھی شامل تھا، جس میں ''نشے میں مارشل آرٹس‘‘ کے انداز کی ڈگمگاتی حرکتوں اور پیچھے گرنے کے کرتب کی نقل کی گئی۔اس خاص سیکوئنس سے ''یونٹری ‘‘ نے متعدد روبوٹس کی ہم آہنگی اور فالٹ ریکوری کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا یعنی روبوٹ گرنے کے بعد خود اٹھ سکتا ہے۔یونٹری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کی تفصیل میں بتایاکہ درجنوں ''جی ون‘‘ روبوٹس نے دنیا کی پہلی مکمل خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹ کنگفو پرفارمنس انجام دی، جس میں تیز حرکات شامل تھیں۔ ان روبوٹس نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ''جی ون‘‘ ہیومنائیڈ روبوٹ کا وزن 35 کلوگرام (77 پاؤنڈ)، قد 1.32 میٹر (4.33 فٹ) اور جوڑوں میں 23 ڈگری کی آزادی ہے، جو اسے اوسط انسانی جسم سے زیادہ حرکت پذیر بناتی ہے۔ اپنے سادہ چہرے کے پیچھے، یہ روبوٹ ایک جدید سسٹم چھپا کر رکھتا ہے، جس میں 3D LiDAR سینسر اور ڈیپتھ سینسنگ کیمرا شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے دنیا کے سب سے جدید کمرشل دستیاب ہیومنائیڈ روبوٹس میں سے ایک بناتی ہیں۔گزشتہ سال کے گالا میں، 16 یونٹری روبوٹس نے ایک نسبتاً سادہ روٹین پیش کی تھی، جس میں وہ رومال گھما رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ ٹیکنالوجی کنسلٹنسی کمپنی Stieler کے ایشیاء میں منیجنگ ڈائریکٹر اور روبوٹکس و آٹومیشن کے سربراہ جورج اسٹیلر کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک سال میں ہوئی اوراس کے بعد ان روبوٹس کی پرفارمنس میں یہ فرق حیران کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹس کی متاثر کن موشن کنٹرول یونٹری کے اس مقصد کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ روبوٹ کے ''دماغ‘‘ یعنی AI سے چلنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو انہیں نفیس حرکی کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی فیکٹری سیٹنگز میں استعمال ہو سکتے ہیں۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی بہتری کو یوٹیوب پر بھی کئی ناظرین نے نوٹ کیا۔یونٹری کے ہیومنائیڈ روبوٹس پہلے بھی اپنی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے وائرل ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال، چینی روبوٹکس فرم نے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے کیلئے دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ باکسنگ ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا۔ ایک وائرل کلپ میں، دو حقیقی سائز کے روبوٹس، جنہوں نے باکسنگ گلوز اور حفاظتی ہیڈ گیئر پہنے ہوئے تھے، رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں جبکہ ایک انسانی ریفری انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑتے ہوئے روبوٹس کچھ ککس اور پنچ لگا پائے، لیکن اکثر انہیں اپنا مخالف تلاش کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آئی۔یہ مظاہرہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے، جو مستقبل میں صنعت، تعلیم اور تفریح سمیت کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا انسان اور مشین کا یہ قرب مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اپنی زبان، اپنی پہچان

اپنی زبان، اپنی پہچان

21 فروری کودنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہےانسان کی پہلی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ اپنی ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کا اظہار سیکھتا ہے اور اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ مادری زبان نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی امین بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کس قدر وابستگی رکھتی ہے۔عالمی سطح پر21فروری کو یونیسکو (UNESCO) کے تحت عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لسانی تنوع کا تحفظ اور مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان محض بول چال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، روایت اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے عالمی ادارہ یونیسکو نے 1999ء میں 21 فروری کو مادری زبان کاعالمی دن قرار دیاتھا،جو پوری دنیا میں منایا جاتاہے۔ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں،واک اور بینر ڈسپلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت ساری زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔جب تک حکومت، اخبارات، جرائد و رسائل اور خاص کر الیکٹرانک میڈیا مادری زبانوں کے تحفظ کیلئے بھر پور حصہ نہیں لیں گے، اس دن کو منانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔کثیر لسانی تعلیم میں نوجوانوں کی آواز:2026ء کا موضوعحالیہ برسوں میں لسانی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی ہجرت، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کثیر لسانیت کے ادراکی، سماجی اور معاشی فوائد کے بڑھتے ہوئے اعتراف نے شکل دی ہے۔ آج کثیر لسانیت کو صرف ایک سماجی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی خصوصیت اور ایک مؤثر تعلیمی طریقہ کار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس ارتقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ زبانوں کے تحفظ اور احیا کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی تنوع کو زیادہ نمایاں اور باوقار بناتے ہیں۔ یہ کوششیں زبان، شناخت، تعلیم، فلاح و بہبود اور سماجی شرکت کے درمیان گہرے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں جو طلبہ کی زبانوں کو تسلیم اور سہارا دے۔اس کے ساتھ ساتھ نمایاں چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اب بھی 40 فیصد طلبہ کو اس زبان میں تعلیم میسر نہیں جسے وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اور اس صورتحال سے مقامی، مہاجر اور اقلیتی نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایسی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کثیر لسانی تعلیم کو اپنی بنیاد بنائیں، تاکہ شمولیت، مساوات اور مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھا کر، کامیاب تجربات کو شیئر کر کے اور نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے کر عالمی اقدامات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ ہو اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو دنیا بھر کے اسکولوں اور معاشروں میں لسانی تنوع کو مضبوط کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں 742، نائیجیریا میں 516،بھارت میں425،امریکہ 311،آسٹریلیا میں 275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر میں تقریباً کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے ۔دوسرے نمبر پر ( اُردو یا ہندی) ہے۔ تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے ۔اس کے بعد ہسپانوی ،عربی ،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔پنجابی 11 او ر (صرف) اُردو، بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے ۔مادری زبان کا عالمی دن، جس کا اعلان پہلے یونیسکو نے کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیا، شمولیت کے فروغ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ کثیر لسانی تعلیم نہ صرف جامع معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر غالب، اقلیتی اور مقامی زبانوں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کیلئے مساوی تعلیمی رسائی اور تاحیات سیکھنے کے مواقع کے حصول کی ایک بنیادی ستون ہے۔

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

اجزاء : مرغی 250 گرام (صرف گوشت)، آلو (درمیانہ سائز) ایک عدد، انڈا ایک عدد پیاز (چھوٹی ) ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس (بڑے ) چھ عدد، کالی مرچ پاؤڈر آدھا ٹی سپون، مکھن ایک ٹیبل سپون، ہرا دھنیا، پو دینہ اور مرچ آدھا کپ، نمک حسب ذائقہ،آئل تلنے کیلئے۔ترکیب: مرغی، انڈے اور آلو ابال لیں۔ گوشت کے باریک ریشے کر لیں۔ انڈے اور آلو کو کچل کر گوشت میں شامل کر دیں۔ چوکور پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچ و پو دینہ بھی گوشت میں ملا دیں۔ اب اس میں مکھن، کالی مرچ اور نمک شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ سلائس کو ہلکا گیلا کر کے تھوڑا سا پھیلا لیں۔ بنا ہوا مصالحہ حسب انداز درمیان میں رکھ کر رول کی شکل میں بنا لیں۔ ایک گھنٹہ فریج میں رکھ کر آئل میں فرائی کر یں اور جاذب کاغذ پر رکھیں۔قیمے کے سموسے اجزاء: قیمہ 250 گرام، میدہ 500 گرام، میٹھا سوڈا 2 چٹکی، اناردانہ تھوڑا سا، گھی 90 گرام، ہری مرچ چار عدد، ہرا دھنیا ،نمک حسب ضرورت۔ترکیب:میدے کو گھی میں گوندھیں اور اس میں نمک اور سوڈا ملا دیں اور تھوڑا سا پانی بھی ملائیں مگر میدہ سخت ہونا چاہیے۔ اس کے پیڑے بنا کر بیلن سے بیل کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں بنا لیں اور ان کو درمیان سے کاٹ لیں پھر ان کو دوہرا کر کے ان میں قیمہ بھر لیں۔ یہ سموسوں کی شکل کے بن جائیں گے۔ انہیں گھی میں تل لیں اور تناول فرمائیں۔