بہترین غذا کے سنہری اصول

بہترین غذا کے سنہری اصول

اسپیشل فیچر

تحریر : سلمان عطا


کسی ایک غذا کو غیر معمولی یا بہترین غذا (سُپر فوڈ) نہیں کہا جا سکتا، سائنسی شواہد اس بات کو رد کرتے ہیں۔ بلا تحقیق معلومات پر یقین کر لینے کی ایک بڑی وجہ متوازن غذا کے بارے میں مناسب جان کاری کا نہ ہونا ہے۔انسان کے جسم کو مناسب حالت میں کام کرنے کیلئے کاربوہائیڈریٹس، چکنائی، پروٹین، وٹامن، فائبر، منرل اور انٹی آکسیڈینٹس کی ایک خاص مقدار ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی جز کی کمی انسان کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اچھی خوراک ان تمام اجزا کی جسم تک فراہمی یقینی بناتی ہے۔ دراصل غذائی ماہرین نے انسانی غذا کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا ہے جن میں سے ایک درجہ بندی یہہو سکتی ہے: 1۔ اناج 2۔ پھل اور سبزیاں 3۔ دودھ اور انڈے 4۔ دالیں اور پھلیاں 5۔ گوشت 6۔گھی اور آئل۔ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے شامل وہ قدرتی غذا جس میں یہ تمام اقسام مقررہ مقدار میں شامل ہوں بہترین یا متوازن غذا کہلاتی ہے۔ہر گروہ کی اپنی اپنی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں اور وہ مخصوص غذائی عناصر ہم تک پہنچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر دودھ کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ ہے جبکہ پھل اور سبزیاں فائبر اور مختلف اینٹی آکسیڈنٹس کا بہت اچھا ذریعہ ہیں جو انسانی سیل کی مرمت کرتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح مچھلی، سویا بین کے تیل، اخروٹ اور کچھ خاص انڈوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں جو انسانی دماغ کیلئے بہت ضروری ہیں۔ ایک طرف اگر کسی خوراک میں کچھ عناصر زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں تو دوسری طرف اس میں کچھ عناصر کی کمی بھی ضرورہوتی ہے۔ مثال کے طور پر دودھ میں آئرن کی مطلوبہ مقدار نہیں پائی جاتی اور سبزیوں میں چکنائی کی تعداد ناکافی ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ انسان کی خوراک مختلف گرہوں پر مشتملہو تاکہ تمام ضروری اجزا مسلسل ملتے رہیں۔ فاسٹ فوڈ میں توانائی زیادہ اور غذائیت بہت کم ہوتی ہے اور یہ غذا موٹاپا اور کینسر کا باعث بن سکتی ہیں اس لئے اپنی خوراک کو جس قدر ممکن ہوسکے قدرتی رکھیں۔ مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ مناسب غذائیت، مناسب مقدار، باقاعدگی اور تنوع ایک بہترین غذا کے سنہری اصول ہیں۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

بصارت :زندگی کو معنی عطا کرنے والی نعمت

عالمی یومِ بصارت (World Sight Day) ہر سال اکتوبر کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کا مقصد نابینا پن اور بصارت کی کمزوری جیسے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس کا آغاز 2000 ء میں لائنز کلب انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کیSight FirstCampaign کے تحت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے یو این کے ویژن 2020 کا حصہ بنا دیا گیا اور اب اس کا انتظام انٹرنیشنل ایجنسی فار دی پریوینشن آف بلائنڈنس (IAPB) کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔رواں برس یہ دن کل (8 اکتوبر) منایا جائے گا۔ اس سال عالمی مہم کا پیغام اس امر کے گرد گھومتا ہے کہ آنکھوں کی صحت ہر انسان کی ترجیح بنے اور دنیا میں ہر شخص کو ایسی نگہداشتِ چشم میسر ہو جو قابلِ رسائی، دستیاب اور قابلِ استطاعت ہو۔2.2 ارب انسان: ایک عدد نہیں، انسانی کہانیاں ہیںعالمی سطح پر کم از کم 2.2 ارب افراد کسی نہ کسی درجے کی بصری کمزوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان میں کم از کم ایک ارب ایسے افراد شامل ہیں جن کی بصری کمزوری کو روکا جا سکتا تھا یا جس کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا۔یہ اعداد بظاہر اعداد و شمار ہیں لیکن ان کے پیچھے کروڑوں انسانی داستانیں موجود ہیں۔ ان میں وہ بچہ بھی ہے جو کلاس روم میں بیٹھا بلیک بورڈ صاف نہیں دیکھ پاتا،وہ طالب علم بھی ہے جسے کتاب کے الفاظ دھندلے دکھائی دیتے ہیں،وہ مزدور ہے جس کی روزی روٹی اس کی آنکھوں کی صحت سے وابستہ ہے،وہ بزرگ بھی ہے جس کی دنیا موتیا یا کسی دوسری بیماری کے باعث آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔اور ذیابیطس کا وہ مریض ہے جسے شاید ابھی یہ احساس تک نہیں کہ اس کی بیماری اس کی بینائی کیلئے خاموش خطرہ بن سکتی ہے۔اس لیے بصارت کا مسئلہ صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں یہ انسان کی پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔خاموش بیماریاں اور ہماری بے خبریآنکھوں کی طب کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ بعض سنگین بیماریاں ابتدا میں کوئی واضح شواہد پیدا نہیں کرتیں۔مریض کو درد نہیں ہوتا، سرخی نہیں ہوتی، کبھی کبھی نظر بھی بظاہر ٹھیک محسوس ہوتی ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر اپنا اثر مرتب کر رہی ہوتی ہے۔گلوکوما اس کی ایک اہم مثال ہے۔ اسی طرح ذیابیطس سے وابستہ آنکھوں کی پیچیدگیاں بھی بعض اوقات خاموشی سے پیش رفت کرتی رہتی ہیں۔یہاں ایک بنیادی طبی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ نظر کا ٹھیک محسوس ہونا، آنکھ کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کی ضمانت نہیں۔ اسی لیے آنکھوں کا معائنہ صرف اس وقت نہیں ہونا چاہیے جب نظر کم ہو جائے۔ بعض اوقات بروقت معائنہ اس بیماری کو اس وقت پکڑ لیتا ہے جب مریض کو خود اس کی موجودگی کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔بچوں کی آنکھیں قوم کے مستقبل کا آئینہآج کا بچہ کل کا معمار ہے لیکن اگر اس کے سامنے دنیا ہی دھندلی ہو تو اس کے خوابوں کی تعمیر کیسے  مکمل ہوگی؟بچوں کی بصارت کو معمولی مسئلہ سمجھنا سنگین غفلت ہو سکتی ہے۔اگر بچہ کتاب کو بہت قریب لا کر پڑھتا ہے، ٹی وی یا موبائل سکرین کے قریب بیٹھتا ہے، بار بار آنکھیں ملتا ہے، سر درد کی شکایت کرتا ہے، آنکھیں سکیڑ کر دور کی چیزیں دیکھتا ہے یا کلاس روم میں بورڈ دیکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے محض عادت قرار دے کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ بعض اوقات بچے کے تعلیمی سفر کا رخ بدل سکتا ہے۔ایک درست چشمہ صرف نظر نہیں سنوارتا، بعض اوقات بچے کا اعتماد بھی واپس لاتا ہے۔ یہاں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی بصارت کو تعلیمی صحت کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ڈیجیٹل عہد اور آنکھوں کا نیا امتحانہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ سکرین کے اندر آباد ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات نے تعلیم، کاروبار اور رابطے کو آسان بنایا ہے، مگر ان کا غیر متوازن استعمال آنکھوں کی تھکن اور دیگر بصری شکایات کو بڑھا سکتا ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ غیر متوازن طرزِ استعمال ہے۔ہمیں بچوں اور بڑوں دونوں میں سکرین کے استعمال کے دوران مناسب وقفوں، مناسب فاصلہ، مناسب روشنی اور مجموعی طور پر صحت مند بصری عادات کو فروغ دینا ہوگا۔آنکھ محض جسم کا ایک عضو نہیں یہ یادوں کا آئینہ ہے،یہ خوابوں کا دریچہ ہے،یہ علم تک رسائی کا وسیلہ ہے،یہ انسان کے چہرے پر لکھی ہوئی محبت پڑھنے کی صلاحیت ہے۔ایک بچے کیلئے آنکھ مستقبل کا راستہ ہے۔ایک نوجوان کیلئے امکانات کی دنیا ہے۔ایک بزرگ کیلئے ماضی کی محفوظ تصویریں ہیں۔اور ایک ڈاکٹر کیلئے آنکھ انسانی جسم کی پیچیدہ ساخت، لطیف توازن اور حیرت انگیز حیاتیاتی حکمت کی ایک زندہ مثال ہے۔اس لیے بصارت کی حفاظت صرف طب کا موضوع نہیں، یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کرنی ہے جہاں کوئی انسان محض اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو کہ اسے بروقت تشخیص، مناسب چشمہ یا ضروری علاج میسر نہ آ سکا،کیونکہ آنکھیں سلامت ہوں تو منظر باقی رہتے ہیں،بصارت سلامت ہو تو خواب باقی رہتے ہیں،اور خواب باقی ہوں تو زندگی کا سفر روشن رہتا ہے۔

فولاد سے پائیدار سڑکیں

فولاد سے پائیدار سڑکیں

ماحول کے ساتھ انسانی جانیں بھی بچا سکتی ہیںدنیا بھر میں فولاد کی صنعت معاشی ترقی اور جدید تعمیرات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس صنعت کے ساتھ ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ فولاد بنانے کے عمل میں بڑی مقدار میں ایک ضمنی صنعتی مادہ پیدا ہوتا ہے جسےSteel slag (سٹیل سلیگ) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اسے صنعتی فضلے کے طور پر ذخیرہ یا محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے اسی بظاہر بے کار مادے کے لیے ایک ایسا استعمال دریافت کیا ہے جو مستقبل میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ سٹیل سلیگ کو خصوصی قسم کے اسفالٹ کے ساتھ ملا کر سڑکیں تیار کی جا سکتی ہیں جو روایتی سڑکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور دیرپا ہوں گی۔ اس طریقے کا مقصد صرف صنعتی فضلے کو دوبارہ استعمال کرنا نہیں بلکہ سڑکوں کی بار بار مرمت، ٹریفک کے اضافی دباؤ اور گاڑیوں کے ایندھن کے غیر ضروری استعمال کو بھی کم کرنا ہے۔سٹیل سلیگ سڑکوں کیلئے ؟سٹیل سلیگ فولاد بنانے کے دوران پیدا ہونے والا مادہ ہے۔ اس میں مختلف معدنی اجزا اور دھاتی آکسائیڈز شامل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک خاص خصوصیت اس کی مضبوطی ہے جس کی وجہ سے یہ سڑکوں میں استعمال ہونے والے روایتی مواد کا متبادل بن سکتا ہے۔ محققین نے اس صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے سٹیل سلیگ کو epoxy-modified asphalt binderکے ساتھ ملایا جس سےSteel Slag Epoxy Asphalt Mixture (SEAM) تیار ہوتا ہے۔ اس مرکب کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اپاکسی سلیگ کے ذرات اور اسفالٹ کے درمیان مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سڑک زیادہ دیر تک اپنی ساخت برقرار رکھ سکتی ہے اور نمی، بھاری ٹریفک اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نقصان کے خلاف بہتر مزاحمت دکھا سکتی ہے۔کم مرمت، کم ایندھن ،کم آلودگیاس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سائنسدانوں نے صرف سڑک بنانے کے دوران ہونے والے اخراج کا جائزہ نہیں لیا بلکہ سڑک کی پوری زندگی کو مدنظر رکھا۔ روایتی سڑک وقت کے ساتھ خراب ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور دیگر نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔SEAM کی زیادہ پائیداری اس مسئلے کو کم کر سکتی ہے۔ اربوں ٹن کاربن میں کمی کا امکانتحقیق میں چین کے شہروں میں سڑکوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو مثال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے یہ جانچنے کے لیے مختلف منظرنامے بنائے کہ اگر موجودہ شہری اسفالٹ سڑکوں کے 25، 50، 75 یا 100 فیصد حصے کو SEAM سے تبدیل کیا جائے تو کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 25 سے 100 فیصد تک تبدیلی کے مختلف منظرناموں میں 431 ملین سے 1.741 ارب ٹن گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی طرح 303 ملین سے 1.229 ارب کلوگرام PM2.5 کی کمی کا اندازہ سامنے آیا۔ PM2.5 انتہائی باریک فضائی ذرات ہیں جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں ۔ معاشی اور ماحولیاتی صلاحیت عملی چیلنجزاس طریقے کا فائدہ صرف ماحول تک محدود نہیں، سڑکوں کی کم مرمت، طویل سروس لائف اور ٹریفک و ایندھن سے متعلق فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں کچھ رکاوٹیں بھی ہیں۔ SEAM روایتی اسفالٹ کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے جبکہ اپاکسی موڈیفائیڈ اسفالٹ کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ نئی SEAM سڑک کو مکمل مضبوطی حاصل کرنے کے لیے تقریباً سات دن تک حفاظت درکار ہوتی ہے جبکہ عام اسفالٹ سڑک نسبتاً جلد ٹریفک کے لیے کھولی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹیل سلیگ ہر علاقے میں یکساں مقدار میں دستیاب نہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق ان اضافی اخراجات کے باوجود مجموعی ماحولیاتی فائدہ مثبت ہو سکتا ہے۔سٹیل سلیگ کو سڑکوں میں استعمال کرنا صنعتی فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنے کا ایک مؤثر راستہ بن سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ لیپانٹو 7 اکتوبر 1571ء کو بحیرہ روم کی تاریخ کی ایک انتہائی اہم بحری جنگ جنگِ لیپانٹو لڑی گئی۔ یہ جنگ موجودہ یونان کے قریب خلیجِ پاتراس میں سلطنتِ عثمانیہ اور ہولی لیگ کے مشترکہ بحری بیڑے کے درمیان ہوئی۔ ہولی لیگ میں سپین، وینس، پوپ کی ریاست اور دیگر یورپی طاقتیں شامل تھیں، جبکہ عثمانی بحری بیڑے کی قیادت علی پاشا کر رہے تھے۔ 7 اکتوبر کو دونوں بحری بیڑے آمنے سامنے آئے اور کئی گھنٹوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔ اس دور میں بحری جنگیں بڑی حد تک چپوؤں سے چلنے والے جہازوں پر لڑی جاتی تھیں، اس لیے لیپانٹو کو اس طرز کی آخری عظیم بحری لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہولی لیگ کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی اور عثمانی بیڑے کے بہت سے جہاز تباہ یا قبضے میں لے لیے گئے۔جیمز کک نے نیوزی لینڈ کو دیکھا 7 اکتوبر 1769ء کو برطانوی بحری مہم کے سربراہ کیپٹن جیمز کک نے اپنی جہازHMS Endeavourسے نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کو دیکھا۔ کک اس وقت بحرالکاہل میں ایک تحقیقی اور جغرافیائی مہم پر تھے۔ ان کا مقصد جنوبی بحرالکاہل کے ان علاقوں کا جائزہ لینا تھا جن کے بارے میں یورپی دنیا میں اس وقت بہت کم معلومات موجود تھیں۔ نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کا نظر آنا ان کی مہم کا ایک اہم مرحلہ تھا۔کک کے سفر نے نیوزی لینڈ کے ساحلوں کی یورپی نقشہ سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی مہم کے بعد نیوزی لینڈ کے جغرافیہ، ساحلی علاقوں اور سمندری راستوں کے بارے میں یورپی معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اٹلی کے بحری جہاز کا اغوا 7 اکتوبر 1985ء کو اٹلی کے مسافر بردار بحری جہازAchille Lauro کو چار مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ یہ جہاز اس وقت سکندریہ، مصر سے اسرائیل کے شہر اشدود کی جانب سفر کر رہا تھا۔ اغوا کاروں کا تعلق فلسطین لبریشن فرنٹ سے تھا ۔ اغوا کاروں نے مسافروں اور عملے کو یرغمال بنا کر فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات پیش کیے۔ بحری جہاز کے اغوا کا مسئلہ7 سے 10 اکتوبر 1985ء تک جاری رہا۔ بعد کے برسوں میں مسافر بردار بحری جہازوں اور بین الاقوامی سفر کی سکیورٹی سے متعلق پالیسیوں میں ایسے واقعات کے تجربات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ مشرقی جرمنی کا قیام دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی اتحادی طاقتوں کے قبضے میں مختلف علاقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ مغربی علاقوں میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا اثر تھا جبکہ مشرقی جرمنی سوویت قبضے کے علاقے میں شامل تھا۔ بڑھتی ہوئی سرد جنگ کے ماحول میں جرمنی کا سیاسی اور نظریاتی اختلاف مزید گہرا ہوتا گیا۔ 21 ستمبر 1949ء کو مغربی علاقوں میں وفاقی جمہوریہ جرمنی (مغربی جرمنی) قائم ہوئی، چند ہفتوں بعد 7 اکتوبر کو سوویت قبضے کے علاقے میں جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک قائم کی گئی۔ نئے ملک میں سوویت سیاسی اور معاشی نظام کا گہرا اثر تھا ۔ مشرقی جرمنی تقریباً 41 برس تک موجود رہا۔ بالآخر 1989ء میں دیوار برلن کے انہدام اور جرمنی کے سیاسی اتحاد کی راہ ہموار ہوئی اور 3 اکتوبر 1990ء کو مشرقی و مغربی جرمنی دوبارہ متحد ہو گئے۔ لونا 3 نے چاند کی تصاویر لیں7 اکتوبر 1959ء کو پہلی مرتبہ چاند کے اس حصے کی تصاویر لی گئیں جو زمین سے براہِ راست نظر نہیں آتا۔ یہ تاریخی کامیابی سوویت خلائی تحقیقاتی مشن لونا3 نے حاصل کی۔ اس سے پہلے انسان صدیوں سے چاند کا صرف وہی رخ دیکھتے آئے تھے جو ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے۔ چاند کی گردش کی خاصیت کی وجہ سے اس کا ایک ہی رخ مسلسل زمین کی طرف رہتا ہے، اس لیے دور والے حصے کے بارے میں براہِ راست تصویری معلومات موجود نہیں تھیں۔ لونا 3 نے 7 اکتوبر کو چاند کے دور والے روشن حصے کی تصاویر بنائیں۔ مجموعی طور پر 29 تصاویر بنائی گئیں جنہوں نے چاند کے تقریباً 70 فیصد دور والے حصے کو کور کیا۔ ان تصاویر سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ چاند کا دور والا حصہ اس رخ سے کافی مختلف ہے جو زمین سے نظر آتا ہے۔

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

کیا سورج اور چاند زلزلے پیدا کر سکتے ہیں؟

زلزلے ہمیشہ سے زمین کے سب سے پراسرار اور تباہ کن قدرتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرینِ ارضیات بتاتے ہیں کہ ان کی بنیادی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت اور ان کے درمیان جمع ہونے والا بے پناہ دباؤ ہے، لیکن ایک عرصے سے سائنسدان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بعض مخصوص قسم کی زلزلہ نما سرگرمیوں کا تعلق سورج اور چاند کی کششِ ثقل سے بھی ہو سکتا ہے۔پیرس کی پی ایس ایل یونیورسٹی میں یشو ژو (Yishuo Zhou) کی قیادت میں ارضیاتی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سورج اور چاند زمین پر صرف سمندری مدوجزر ہی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کی کششِ ثقل زمین کی ٹھوس چٹانوں اور زمینی پرت کو بھی معمولی مقدار میں کھینچتی اور دباتی ہے۔ اگرچہ یہ دباؤ انتہائی کم ہوتا ہے تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ پہلے سے دباؤ کا شکار فالٹ کو حرکت دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے جسے گونج (Resonance) کہا جاتا ہے، یہی ممکنہ طور پر اس معمولی دباؤ کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔سورج اور چاند زمین کی ٹھوس چٹانوں کو متاثر کرتے ہیںعام طور پر جب ہم مدوجزر کا ذکر کرتے ہیں تو ذہن میں سمندر کا پانی آتا ہے۔ چاند کی کششِ ثقل سمندروں کے پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس کے نتیجے میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی کشش زمین کی ٹھوس پرت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سورج بھی اپنی بے پناہ کششِ ثقل کے باعث زمین پر اسی نوعیت کے اثرات مرتب کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق سورج اور چاند کی وجہ سے زمین کی پرت پر پیدا ہونے والا دباؤ عام طور پر چند کلوپاسکل کے برابر ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بہت معمولی مقدار ہے حتیٰ کہ اسے ایک ہلکے ہاتھ سے دبانے کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض فالٹس ایسے ہوتے ہیں جو پہلے ہی ٹیکٹونک قوتوں کے باعث انتہائی نازک حالت میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فالٹ پر ایک معمولی اضافی دباؤ بھی حرکت کا آغاز کر سکتا ہے۔ معمولی دباؤ کیسے بڑا اثر پیدا کر سکتا ہے؟پی ایس ایل یونیورسٹی پیرس کے ماہرین کی اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلوResonance کا تصور ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے جھولے کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگر کسی جھولے کو بے ترتیب انداز میں دھکا دیا جائے تو اس کی حرکت بہت زیادہ نہیں بڑھے گی لیکن اگر ہر بار بالکل مناسب وقت پر دھکا دیا جائے تو چھوٹا سا دھکا بھی جھولے کی حرکت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق فالٹ لائن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ ہر فالٹ کی اپنی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں، جن میں چٹانوں کے درمیان رگڑ، ان کی حرکت کی رفتار اور رابطے کی حالت شامل ہیں۔ تحقیق میں ایک ایسے ماڈل کا استعمال کیا گیا جس میں فالٹ کے ایک چھوٹے حصے کو سپرنگ اور بلاک کے نظام کی طرح تصور کیا گیا۔اگر مدوجزری دباؤ کی شدت اور اس کا دورانیہ فالٹ کے قدرتی ردِعمل کے وقت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لے تو معمولی سا دباؤ بھی فالٹ کی حرکت کو بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کا تعلق خاص طور پر سست زلزلوں سے ہے۔ عام زلزلوں کے برعکس سست زلزلوں میں توانائی طویل عرصے میں خارج ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ حرکت اتنی آہستہ ہوتی ہے کہ سطحِ زمین پر موجود انسان اسے محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ نئی کمپیوٹر ماڈلنگ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بعض فالٹس میں یہ تعلق کیوں پیدا ہوتا ہے تاہم ہر فالٹ کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض جگہ معمولی مدوجزری قوت صرف آہستہ حرکت پیدا کر سکتی ہے جبکہ کسی دوسرے فالٹ میں مخصوص شدت اور وقت کے ساتھ یہی قوت نسبتاً تیز حرکت کا سبب بن سکتی ہے۔ کیا اس دریافت سے بڑے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن ہو جائے گی؟یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے لیکن اس کا جواب فی الحال محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔یہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ پورے چاند، نئے چاند یا کسی خاص دن کو لازماً بڑا زلزلہ آئے گا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سورج اور چاند بڑے تباہ کن زلزلوں کے بنیادی اسباب ہیں۔یہ تحقیق دراصل یہ بتاتی ہے کہ پہلے سے دباؤ میں موجود بعض فالٹس پر مدوجزری قوت ایک محرک کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر سائنسدان زلزلہ نما سرگرمی اور مدوجزری چکروں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو مستقبل میں فالٹس کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں زلزلہ ریکارڈ کرنے والے آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مدوجزری سرگرمی کے ساتھ ملا کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی فالٹ کی رگڑ کتنی مضبوط ہے اور اسے حرکت شروع کرنے کے لیے کتنی قوت درکار ہوتی ہے۔ یہ معلومات بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں جہاں بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے کے نیچے دھنس رہی ہیں اور جہاں مستقبل میں بڑے میگا تھرسٹ زلزلوں کا خطرہ موجود ہے۔

47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی

47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی

سیٹلائٹ نے خطرے کی نئی تصویر دکھا دیزمین کے قطبی علاقوں میں برف کا پگھلنا کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک تازہ تحقیق نے اس مسئلے کی شدت اور رفتار کے بارے میں ایسی تصویر پیش کی ہے جو تشویش میں اضافہ کرتی ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کے محققین کی اس تحقیق کے مطابق گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کے برف زاروں میں1979ء سے 2023ء کے درمیان مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے بارہ ٹریلین ٹن برف ختم ہو گئی۔ اتنی بڑی مقدار میں برف کا خاتمہ محض قطبی علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے سمندروں اور ساحلی آبادیوں کے لیے ایک اہم خطرہ بن رہا ہے۔یہ نتائج 27 مختلف سیٹلائٹ مشنز سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار اور برفانی علاقوں کے 42 الگ الگ سرویز کو یکجا کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس طویل مدتی ریکارڈ نے سائنسدانوں کو تقریباً نصف صدی کے دوران برف میں ہونے والی تبدیلیوں کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کا موقع دیا ہے۔برف کے ضیاع کا حیران کن پیمانہگرین لینڈ اور انٹارکٹیکا دنیا کی سب سے بڑی برفانی علاقے ہیں۔ یہاں موجود برف میں دنیا کے تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ منجمد حالت میں موجود ہے۔ جب یہ برف پگھل کر سمندر میں شامل ہوتی ہے تو سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کے مطابق 1979ء سے 2023ء تک ان دونوں برفانی علاقوں سے ضائع ہونے والی برف سے عالمی سطح سمندرمیں تقریباً تین سنٹی میٹر اضافہ ہوا ۔ بظاہر تین سینٹی میٹر کا اضافہ بہت معمولی محسوس ہوسکتا ہے لیکن ساحلی علاقوں کے لیے اس کے اثرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ سطح سمندر میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ سیلاب کے سالانہ خطرات سے بیس سے تیس لاکھ مزید افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قطبوں سے دور رہنے والے ممالک بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ دنیا کے ساحلی شہر، بندرگاہیں، جزائر اور نشیبی علاقے بڑھتی ہوئی سطح سمندر کے باعث مستقبل میں زیادہ شدید سیلاب، ساحلی کٹاؤ اور نمکین پانی کے اندرونی علاقوں تک پہنچنے کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ 1990کے بعد تشویشناک اضافہتحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ برف کا پگھلنا ہر دور میں ایک جیسا نہیں رہا۔ 1970ء، 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم تھی لیکن اس کے بعد برفانی پگھلاؤ میں اضافہ شروع ہوا اور 2010ء کی دہائی میں یہ عمل خاص طور پر تیز ہوگیا۔یہی رفتار سائنسدانوں کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اگر برف مسلسل زیادہ تیزی سے پگھلتی رہی تو مستقبل میں سطح سمندر میں اضافے کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2020ء سے 2023ء کے دوران انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کی رفتار بظاہر کچھ کم دکھائی دی۔ تاہم محققین اسے عالمی حدت میں کمی نہیں سمجھتے۔ مشرقی انٹارکٹیکا میں غیر معمولی برف باری نے عارضی طور پر برف کے نقصان کو متوازن کیا جبکہ موسم کی مختصر مدتی تبدیلیوں نے بھی اعداد و شمار کو متاثر کیا۔ محققین کے مطابق 2023ء کے بعد کے مشاہدات دوبارہ تیزی سے جاری برفانی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مستقبل میں سمندروں پر اثرات؟ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کی اہمیت صرف ماضی کے برفانی نقصان کو شمار کرنے تک محدود نہیں، سائنسدانوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہ عمل کس رفتار سے جاری رہے گا۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور سمندر بھی اس اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کررہے ہیں۔ اگر سمندر مزید گرم ہوتے ہیں تو گلیشیئرز کے سمندر کی طرف بہاؤ میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ یہ عمل سطح سمندر میں اضافے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برفانی چادروں کی تبدیلیاں بعض اوقات عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کے کئی برس یا دہائیاں بعد نمایاں ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر دنیا آج گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو برفانی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ 27 سیٹلائٹ مشنز اور درجنوں سرویز پر مشتمل یہ طویل مدتی ریکارڈ اہم ہے۔ اس سے سائنسدانوں کو نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کتنی برف ضائع ہوچکی ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ برفانی چادریں گرم ہوتی ہوئی دنیا کے ساتھ کس طرح ردعمل ظاہر کررہی ہیں۔ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف صرف قطبی علاقوں کا قدرتی منظر نہیں، یہ زمین کے آب و ہوا کے نظام اور سمندروں کے مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے اور اس میں 12 ٹریلین ٹن سے زیادہ برف کا خاتمہ ایک ایسا انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ آنے والے برسوں میں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بڑھتے ہوئے سمندروں کے ساتھ صرف مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرے گی یا عالمی حدت کی بنیادی وجوہات کو کم کرنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات بھی کرے گی۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ یومِ کپور6 اکتوبر 1973ء کو مصر اور شام نے اسرائیل کے خلاف مربوط فوجی کارروائی کی۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ مصر نے نہرِ سویز عبور کرکے جزیرہ نما سینا میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا جبکہ شام نے گولان کی پہاڑیوں کے محاذ پر اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائی شروع کی۔ یہ حملہ یہودی تہوار یومِ کپور کے موقع پر کیا گیا اس لیے اس جنگ کو یومِ کپور جنگ کہا جاتا ہے۔ عرب دنیا میں اسے جنگِ اکتوبر بھی کہا جاتا ہے۔اس جنگ کا بنیادی مقصد 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں جانے والے علاقوں کو واپس حاصل کرنا تھا۔ اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عرب اسرائیل تعلقات اور عالمی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فلائٹ 455 کا سانحہ 6 اکتوبر 1976ء کو کیوبا کی فضائی کمپنی کیوبانا ڈی ایویاسیون کی فلائٹ 455 بم حملے کا نشانہ بنی۔ یہ طیارہ بارباڈوس سے جمیکا کے راستے کیوبا جا رہا تھا۔ پرواز کے کچھ ہی دیر بعد طیارے میں دھماکا ہوا اور طیارے میں موجود تمام 73 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے نے کیوبا اور اس کے مخالف سیاسی عناصر کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو مزید نمایاں کیا۔یہ سانحہ عالمی ہوابازی کی تاریخ میں دہشت گردی کے بدترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے فضائی سفر میں سکیورٹی کے اقدامات اور مسافروں کی جانچ پڑتال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ صدر انور سادات کا قتل6 اکتوبر 1981ء کو مصر کے صدر انور سادات کو قاہرہ میں فوجی پریڈ کے دوران قتل کر دیا گیا۔ یہ پریڈ 1973ء کی جنگ میں مصر کی نہرِ سویز عبور کرنے کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ سادات فوجی پریڈ کے دوران مہمانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ فوجی وردی میں ملبوس مسلح حملہ آوروں نے پریڈ میں شامل ایک فوجی گاڑی سے نکل کر صدارتی سٹیج پر حملہ کردیا۔ فائرنگ اور دستی بموں کے حملے میں سادات شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔انور سادات مصر کی تاریخ کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے۔ وہ جمال عبدالناصر کے بعد مصر کے صدر بنے ۔ سادات کی موت کے بعد نائب صدر حسنی مبارک نے اقتدار سنبھالا۔گینگ آف فور کی گرفتاری 6 اکتوبر 1976ء کو چین کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ آیا جب گینگ آف فور کے نام سے معروف چار بااثر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ماؤ زے تنگ کی ستمبر 1976ء میں وفات کے بعد چین کی قیادت میں طاقت کی کشمکش تیز ہوگئی اور نئی قیادت نے گینگ آف فور کے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کارروائی میں اس وقت کے چینی رہنما ہوا گو فینگ نے اہم کردار ادا کیا۔گینگ آف فور کی گرفتاری نے چین میں تقریباً ایک دہائی سے جاری ثقافتی انقلاب کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد چین کی سیاسی سمت بتدریج تبدیل ہوئی اور آنے والے برسوں میں معاشی اصلاحات اور ماڈرنائزیشن کی پالیسیوں نے ملک کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔انسٹاگرام کی لانچنگ6 اکتوبر 2010ء کو انسٹاگرام نے ایپل کے ایپ سٹور پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ کیون سسٹروم اور مائیک کریگر کی تیار کردہ اس ایپ کا بنیادی مقصد موبائل فون کے ذریعے تصاویر کو آسانی سے شیئر کرنا تھا۔ اس کا تصور نسبتاً سادہ تھا: صارف تصویر بنائے، اسے فلٹر کے ذریعے بہتر کرے اور اپنے دوستوں یا دوسرے صارفین کے ساتھ شیئر کرے۔ لانچ کے پہلے ہی دن اس ایپ نے خاصی توجہ حاصل کی۔انسٹاگرام نے سوشل میڈیا کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کیا۔ اس سے پہلے سوشل نیٹ ورکنگ کا بڑا حصہ تحریری پوسٹس اور پیغامات کے گرد گھومتا تھا لیکن انسٹاگرام نے تصویر کو رابطے اور اظہار کا بنیادی ذریعہ بنا دیا۔ بعد میں اس میں ہیش ٹیگز، ویڈیوز، سٹوریز، لائیو ویڈیو اور دیگر خصوصیات شامل ہوتی گئیں۔