ہر سال 14 جنوری کو دنیا بھر میں ورلڈ لاجک ڈے (World Logic Day) منایا جاتا ہے، جسے یونیسکو نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد منطق (Logic)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور معقول استدلال کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ افراد اور معاشرے جذبات، تعصبات اور غلط معلومات کے بجائے عقل و دلیل کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں۔ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے مگر سچ تک رسائی مشکل ہو چکی ہے ورلڈ لاجک ڈے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔منطق کیا ہے؟منطق دراصل سوچنے کا وہ منظم طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم دلائل کو پرکھتے ہیں، نتائج اخذ کرتے ہیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کرتے ہیں۔ یہ صرف فلسفے تک محدود نہیں بلکہ سائنس، ریاضی، قانون، صحافت، ٹیکنالوجی، سیاست اور روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ منطقی ذہن جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق کو دیکھتا ہے اور ثبوت کی بنیاد پر رائے قائم کرتا ہے۔ورلڈ لاجک ڈے کا پس منظرنومبر 2019ء میں یونیسکو نے بین الاقوامی کونسل برائے فلسفہ اور انسانی علوم (CIPSH) کے اشتراک سے ہر سال 14 جنوری کوورلڈ لاجک ڈے منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ جدید دنیا میں عقلی مکالمہ کمزور پڑتا جا رہا ہے‘ سوشل میڈیا، افواہوں اور سازشی نظریات اور جذباتی بیانیوں نے منطق کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ورلڈ لاجک ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ترقی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ سوچ کے معیار پر بھی ہے۔ یہ دن فلسفی کرٹ گوڈل(Kurt Gödel) کی سالگرہ کے قریب بھی آتا ہے، جو منطق اور ریاضی کے عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں منطقسائنس کی بنیاد ہی منطق پر ہے۔ تجربہ، مشاہدہ اور نتیجہ یہ سب منطقی ترتیب کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور پروگرامنگ میں لاجک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر منطق نہ ہو تو جدید ٹیکنالوجی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ورلڈ لاجک ڈے اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سائنسی ترقی عقل و دلیل کی مرہونِ منت ہے۔تعلیمی نظام میں منطق کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں رٹاسسٹم کو ترجیح دی جاتی ہے جس میں سوال اٹھانے، دلیل دینے اور تجزیہ کرنے پر کوئی توجہ نہیں۔ منطقی تعلیم طلبہ کو نہ صرف بہتر طالب علم بناتی ہے بلکہ ذمہ دار شہری بھی تیار کرتی ہے۔ ایسے افراد فیصلے کرتے وقت جذبات کے بجائے حقائق کو ترجیح دیتے ہیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔میڈیا، سیاست اور منطقمیڈیا اور سیاست میں منطقی سوچ کی کمی کے نتائج ہم روز دیکھتے ہیں۔ سنسنی خیزی، نیم سچائیاں اور جذباتی نعروں نے عوامی مکالمے کو نقصان پہنچایا ہے۔ منطقی صحافت وہ ہے جو خبر کو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرے اور سوال اٹھائے ۔ اسی طرح سیاست میں منطق پر مبنی مباحث جمہوریت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔غلط معلومات کیخلاف ڈھالآج کا سب سے بڑا چیلنج غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ ہے، جبکہ ایک منطقی ذہن ہر خبر کو فوراً قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے ماخذ، شواہد اور مقصد کو پرکھتا ہے۔ ورلڈ لاجک ڈے اس شعور کو فروغ دیتا ہے کہ ہر وائرل ہونے والی بات سچ نہیں ہوتی، اور سچ تک پہنچنے کے لیے سوال کرنا ضروری ہے۔معاشرتی ہم آہنگی اور برداشتمنطق صرف سوچنے کا طریقہ نہیں بلکہ برداشت سکھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب لوگ دلیل سننے اور دینے کے عادی ہوں تو اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا۔ منطقی مکالمہ معاشرے میں رواداری، برداشت اور امن کو فروغ دیتا ہے۔ مختلف نظریات کے باوجود ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا ہی مہذب معاشرے کی علامت ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ورلڈ لاجک ڈے کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہاں جذباتی بیانیے، تعصبات اور افواہیں اکثر عقل پر غالب آ جاتی ہیں۔ اگر تعلیمی اداروں، میڈیا اور پالیسی سازی میں منطقی سوچ کو فروغ دیا جائے تو معاشرتی مسائل، انتہاپسندی اور عدم برداشت میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ورلڈ لاجک ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی کا راستہ صرف جذبات یا طاقت سے نہیں بلکہ عقل، دلیل اور سچائی سے ہو کر گزرتا ہے۔ منطقی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں سوال کرنا جرم نہیں بلکہ حق سمجھا جاتا ہے، جہاں اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے اور فیصلے ثبوت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ آج کے الجھن سے بھرے دور میں منطق ہی وہ روشنی ہے جو ہمیں سچ کی طرف لے جا سکتی ہے۔14 جنوری کو منایا جانے والا ورلڈ لاجک ڈے دراصل ایک دن نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک رویہ اور ایک عالمی ضرورت کی یاد دہانی ہے۔