"AKZ" (space) message & send to 7575

معنی کے بغیر زندگی بیکار ہے

انسانیت نے گزشتہ چند صدیوں میں دنیا کو فتح کر لیا۔ انسانیت کا محور و مرکز انسان کی ذات اور اس کی خوشیاں ہیں۔ اس نے انسانوں کو یہ بنیادی سبق دیا ہے کہ ''ایک بے معنی دنیا کے لیے معنی تلاش کرو‘‘ کیونکہ معنی کے بغیر زندگی بے کار ہے۔ معنی کے بغیر کسی بھی نظام کو برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ معنی انسان کے اندر سے جنم لیتے ہیں۔ ہمار ی رائے ہی سب سے بڑ ی حاکم ہے‘ بجائے اس کے ہم کسی خارجی وجود کا انتظار کریں کہ وہ ہمیں بتائے کہ اشیا کی اہلیت کیا ہے‘ ہمیں خود اپنے احساسات اور اپنی خواہشات پر بھروسہ کرنا چاہیے اس لیے اپنی آواز سنیں، اپنے آپ سے انصاف کریں، اپنے آپ پر بھروسہ کریں، اپنے دل کی بات سنیں اور جو اچھا لگے‘ وہ کریں۔ ژاں ژیکوس روسو (Jean-Jacques Rousseau) نے اپنے ناول ''Emile, Or Treatise on Education‘‘ میں‘ جو اٹھارہویں صدی میں شائع ہوا اور جسے احساسات کی بائبل بھی کہا جاتا ہے‘ اس نظریے کو خوب سمیٹا ہے۔ روسو کہتا ہے کہ ''جب طرزِ حیات کے قوانین کی تلاش تھی تو وہ مجھے اپنے دل کی پاتال میں ملے‘ جہاں قدرت نے انہیں ایسے حروف میں نقش کر دیا تھا جو اَنمٹ تھے۔ مجھے کیا کرنا چاہیے‘ اس کے لیے مجھے صرف اپنے آپ سے مشورہ کرنے کی ضرورت تھی۔ مجھے جو اچھا لگے‘ وہی اچھا ہے اور جو مجھے برا لگے‘ وہی برا ہے‘‘۔
ایک یہودی کہاوت ہے کہ ''انسان جب سوچتا ہے تو خدا مسکراتا ہے‘‘۔ آئیے! ہم مل کر سو چتے ہیں کہ ہماری زندگیوں کے کوئی معنی ہیں یا ہم بے معنی ہی اپنی اپنی زندگیاں گزارتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہم اپنی آوازیں کبھی سنتے بھی ہیں یا صرف بہرے ہی بنے رہتے ہیں۔ کیا ہم اپنے آپ پر بھروسہ کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے آپ سے انصاف کر رہے ہیں یا پھر ہم اپنے آپ پر ظلم پہ ظلم ہی کیے چلے جا رہے ہیں؟ کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ ہماری قسمت میں کیوں مسلسل مصیبتیں اور اذیتیں آتی جا رہی ہیں؟ دنیا بھر کی خوشیاں، مسرتیں، راحتیں اور لذتیں کیوں ہم سے روٹھی ہوئی ہیں۔ آخر وہ ہمارے گھروں کی مہمان کیوں نہیں بن رہی ہیں؟ آیا ہم پیدائشی طور پر بدقسمت ہیں یا ہم نے خود اپنے آپ کو بد قسمت بنا رکھا ہے۔ ہم دن رات کیوں تکلیفوں، دکھوں اور دردوں کی فصلیں کاٹتے جا رہے ہیں؟ کیا دنیا میں کبھی ایسا ہوا کہ انسان ایک روز سو کر اٹھے اور انہیں تمام خوشیاں، مسرتیں اور راحتیں خود بخود مل گئیں؟ تاریخ کیا بتاتی ہے؟ یہی کہ انہوں نے یہ تمام چیزیں اور اپنا حق ظالموں، غاصبوں اور جابروں سے لڑ کر ان سے چھینا۔
21 دسمبر 1989ء کو رومانیہ کے ڈکٹیٹر نکولائی چائو شسکو (Nicolae Ceausescu) نے دارالحکومت بخارسٹ (Bucharest) کے وسط میں اپنے حامیوں کا ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈیڑھ ماہ قبل دیوارِ برلن گر چکی تھی اور جرمنی متحد ہو چکا تھا۔ علاقائی ممالک مشرقی جرمنی، پولینڈ، ہنگری، بلغاریہ اور چیکوسلواکیہ میں انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ چائو شسکو‘ جو رومانیہ پر 1965ء سے حکمرانی کرتا چلا آ رہا تھا‘ اب بھی اپنی طاقت کے زعم کا شکار تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ تبدیلی کے اس سونامی اور زمانے کی بدلتی کروٹ کو برداشت کر لے گا۔ اس نے ایک شاندار جلسے کا اہتمام اسی لیے کیا تھا تاکہ وہ رومانیہ اور باقی دنیا پر یہ ثابت کر سکے کہ آبادی کی اکثریت اب بھی اس سے محبت کرتی ہے اور یہ کہ رومانیہ میں اس کی طاقت کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس کی جماعت ''رومینین کمیونسٹ پارٹی‘‘ نے ایک لاکھ کے قریب افراد کو لا کر شہر کا مر کزی چوراہا بھر دیا تھا۔ رومانیہ کے تمام شہریوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ سب کام کاج ترک کر کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جائیں۔ اس بظاہر پُرجو ش ہجوم کے سامنے چائوشسکو چوراہے کی اُس بالکونی سے نمودار ہوا‘ گزشتہ کئی دہائیوں میں جہاں سے پہلے بھی وہ درجنوں بار تقریر کر چکا تھا۔ اس کے ہمراہ اس کی بیوی ایلینا شسکو اور پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں کا ایک گروہ تھا۔ چائو شسکو نے اپنی مخصوص فرسودہ تقریر شروع کر دی۔ آٹھ منٹ تک اس نے رومانیہ میں سوشلزم کی مدح کے گیت گائے۔ طاقت کے بل پر اکٹھے کیے گئے ہجوم کی تالیوں سے وہ بہت مسرور نظر آتا تھا۔ ٹی وی پر یہ سب کچھ براہِ راست دکھایا جا رہا تھا۔ اسی دوران چائو شسکو ایک طویل فقرے کا آغاز کرتا ہے ''میں بخارسٹ کے اس عظیم اجتماع کے لیے‘ اس کی پلاننگ کرنے والوں اور اس جلسے کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کر نا چاہتا ہوں۔ اسے ایک موقع سمجھتے ہوئے...‘‘ پھر اسے خاموش ہونا پڑ گیا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور وہ غیر یقینی میں گرفتار ہو گیا۔
اس نے اپنا فقرہ مکمل نہیں کیا تھا کہ مجمع میں سے کسی نے اس پر آوازہ کسا۔ پھر کسی اور سمت سے بھی ایک آواز اٹھی، پھر ایک اور آواز، اور اگلے چند لمحات میں پورا مجمع سیٹیاں بجا رہا تھا۔ لوگ چائو شسکو سے متعلق توہین آمیز کلمات بول رہے تھے اور یک زبان ہو کر چائو شسکو کے خلاف نعر ے لگا رہے تھے۔ ٹی وی پر یہ مناظر براہِ راست دکھائے جا رہے تھے۔ آبادی کا لگ بھگ تین چو تھائی حصہ آنکھیں پھاڑے یہ مناظر دیکھ رہا تھا۔ چائو شسکو کی بدنام زمانہ خفیہ پولیس 'سکیور ٹریٹ‘ نے ٹی وی نشریات کو فوراً بند کر نے کا حکم دیا لیکن ٹی وی کے عملے نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ کیمرہ مین نے کیمرے کا رُخ آسمان کی جانب کر دیا تاکہ ناظرین بالکو نی میں موجود رہنمائوں کی افراتفری نہ دیکھ سکیں لیکن آڈیو نشریات جاری رہیں۔ تمام رومانیہ نے مجمع کو آوازے کستے براہِ راست سنا جبکہ چائو شسکو چیختا رہا: ہیلو، ہیلو‘ جیسے مائیک میں کوئی خرابی ہو۔ اسی دوران اس کی بیوی ایلینا اٹھی اور مجمع پر برس پڑی: خاموش ہو جائو، خاموش ہو جائو۔ وہاں کوئی بھی اس کی بات پر دھیان نہیں دے رہا تھا۔ تنگ آ کر چائو شسکو اس کی جانب مڑا اور چلایا: تم خاموش ہو جائو۔ یہ سب کچھ اب بھی براہِ راست نشر ہو رہا تھا۔ پھر چائو شسکو نے ایک بار پھر مجمع سے مخاطب ہونے کی کوشش کی اور چوراہے میں جمع افراد سے درخواست کی ''کامریڈز! براہِ مہربانی خاموش ہو جائیے‘‘۔ لیکن مجمع آج خاموش ہونے پر راضی نہ تھا۔ کیمونسٹ رومانیہ اس وقت منہدم ہو گیا جب چوراہے میں موجود ایک لاکھ افراد کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ بالکو نی میں کھڑے فرکی ٹوپی پہنے اس بوڑھے شخص سے زیادہ طاقتور ہیں۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہ حکومتیں اور ریاستیں اپنا وجود باقی نہیں رکھ پاتیں جو اپنے شہریوں کو زندگی کی خوشیاں، مسرتیں، خوشحالی اور زندگی کے معنی نہ دے سکیں۔ ریاستوں کے جواز کا پہلا نکتہ عوام کی بہبود ہے، یعنی خوشیوں اور خوشحالی کو فروغ دینا اور غیر ضروری تکلیفوں میں کمی کی کوشش کرنا۔ انسانی تاریخ میں ایسی بہت سی ریاستوں کی مثالیں موجود ہیں کہ جنہوں نے خود کو خوشحالی کے فروغ کے علمبرداروں کے طور پر پیش کیا۔ سقراط کی جانب سے دولت کو مشترکہ بنانے کا مقصد کسی ایک طبقے کو خوش و خرم کرنا نہیں بلکہ مجموعی طور پر پوری قوم کے لیے ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ خوشی و مسرت کا حصول تھا۔ برصغیر کا عظیم بادشاہ اشوک بھی اپنے ایک کتبے میں ''سب کے لیے تحفظ، خود پر قابو، عدل اور خوشی کی خواہش‘‘ کرتا نظر آتا ہے۔ بارہویں صدی کا ایک عظیم چینی مفکر شین لیانگ کہتا ہے ''جو چیز بھی لوگوں کو معقول ضروریات اور ان کی خواہشات کو تسکین بخشے‘ وہ جائز ہے‘‘۔ مغرب نے ایسے تصورات کئی صدیوں بعد وضح کیے۔
امریکہ کے اعلانِ آزادی میں زندگی، آزادی اور خو شی کی تلاش کا نعرہ دیا گیا۔ 1793ء کے فرانسیسی آئین میں نئی قوم کو اس قرارداد پر متفق کر نے کو شش کی گئی کہ سماج کا مقصد مشترک خوشی ہے۔ برطانوی مفکر جیرمی بینتھم نے یہ فلسفہ دیا کہ اچھی حکومت وہ ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خوشی کا اہتمام کرے۔ اگر ہمارے کرتا دھرتا اس بات پر یقین کیے بیٹھے ہیں کہ وہ لوگوں کو دلاسے، وعدے اورخوابوں پر ترساتے رہیں گے جیسے کہ و ہ سالوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں تو وہ اس صدی اور اس بدلتے زمانے کے سب سے بڑے جھوٹ کے سہارے زندہ ہیں۔ آج نہیں تو کل‘ کل نہیں تو پرسوں لوگ بالآخر ان سے اپنی خوشیاں، مسرتیں اور اپنی زندگی کے معنی چھین ہی لیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں