نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاجگرکےعارضےمیں مبتلا،اسپتال میں زیرعلاج
  • بریکنگ :- ہمارےپاس ان کےعلاج کیلئےذرائع اورٹیکنالوجی نہیں،ذاتی معالج ڈاکٹر فخرالدین
  • بریکنگ :- علاج کےلیےبیرون ملک جانےکی اجازت نہ ملی توخالدہ ضیاکی جان جاسکتی ہے،ذاتی معالج
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

جنگ کی طرف بڑھتے قدم

یہ سوئے اتفاق ہے یا تقدیر کا جبر کہ 1971ء کی طرح آج بھی روایتی دشمن بھارت کے ساتھ عین اس وقت کشیدگی انتہاؤں کو چھونے لگی ہے‘ جبکہ قوم کی اجتماعی قوت منتشر اور ریاستی نظام بتدریج ڈھلوان کی طرف لڑھک رہا ہے۔ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ مظلوم کشمیری مدد کیلئے جس ملک کی طرف دیکھ رہے ہیں‘وہ خود باہمی اختلافات کی ایسی آگ میں جل رہا ہے‘ جس نے اس کی ملکی معیشت‘قومی وحدت اورسماجی توازن کو دگرگوں کر رکھا ہے۔ہراجتماعی ایشو پہ ہمارا ردعمل ایک مایوس کن تقسیم کی صورت میں سامنے آتا ہے اور انتہا یہ ہے کہ اس زوال عقل پہ ہمیں ماتم کناں ہو نے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔گویا کاروں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا(اقبالؔ)۔
سوشل میڈیا کے سمندرمیں ابھرنے والے خیالات کی طلاطم خیزلہروں سے پتا چلتا ہے کہ کشمیری مسلمانوں پہ ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف عوامی جذبات کو زیادہ دیر تک ضبط میں رکھنا مشکل ہو گا۔اپوزیشن کے خلاف مقدمات کی بازگشت اور مولانا فضل الرحمن کی اسلام آباد پہ یلغار کی گونج بھی کشمیریوں کے مصائب سے عوامی توجہ ہٹا نہیں پائے گی؛اگرچہ تکنیکی طور طریقوں سے کشمیر تنازعہ کے مضمرات کو ہم کچھ وقت کیلئے ٹال ضرور سکتے ہیں‘ لیکن گہری جڑیں رکھنے والے اس مسئلہ کو دونوں اطراف کے لوگوں کی لوحِ دماغ سے مٹانا ممکن نہیں ہو گا۔ایسا لگتا ہے‘یہ تنازعہ اب جنوبی ایشیا کیلئے رِستا ہوا ناسور بن چکا ‘ جس کا میجر سرجری کے سوا کوئی علاج باقی نہیں بچا۔آج نہیں تو کل ہمیں اسی ایشو سے جڑے ان خوفناک حقائق کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا‘ جن سے اس وقت ہم نظریں چرانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔یہ کیسی گداز داستان ہے کہ پچھلی پون صدی تک دونوں ملک تقسیم ہند کے زخموں کو مندمل نہیں کر سکے۔ادھرہماری سہل انگاری کی وجہ سے مسئلہ کشمیر لاعلاج مرض میں ڈھل گیا۔ہم نے خود تلخ حقائق سے قطع نظر کر کے عام لوگوں کے دل و دماغ میں کشمیر کو جنگ وجدل کے ذریعے آزاد کرانے کی آرزوئیں کاشت کیں اور اس جنت اراضی کے بزور ِشمشیرحصول کے نغمے لکھ کرعوام کے دلوں میں کئی دلکش امیدوں کو پال پوس کے جوان کیا‘جنہیں اب ہمارے لئے سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔ڈیجیٹل عہد کی اس نئی نسل کوآپ فقط تین منٹ کی خاموشی جیسے مردہ احتجاج یا بے اختیار ایوان کی مہمل قراردادوںکے ذریعے مطمئن نہیں کر سکتے‘جو معمولی سے سیاسی اختلافات کو بھی تشدد کے ذریعے نمٹانے کی خوگر بن چکی ہے۔اس زمانہ میں شائستگی اور اصول پسندی پیچیدہ عمرانی تصادم اورسیاسی کشمکش کے زندہ تغیرات کی حدّت میں جل کے ہوا ہو چکی ہے۔لوگ سرجوڑ کے سوچنے کی بجائے ہر معاملہ کا فیصلہ تلوار کے ذریعے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں‘انہی تیزجذبات کا عکس ہمیں پبلک ڈسکورس کے علاوہ حکومتی زعماء اور اپوزیشن سیاستدانوں کے رویوں میں بھی یکساں نظر آتا ہے۔ہر سمت سے عفو‘درگزر‘برداشت اور مفاہمت کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔
بدقسمتی سے آج اس ملک میں نوابزادہ نصراللہ جیسی کوئی قدآور‘صلح جو اور غیر متنازعہ شخصیت بھی باقی نہیں بچی ‘جو ہمارے بڑھتے ہوئے سیاسی تضادات کو کم کرنے کی خاطر کردار ادا کرتی‘نہ ملک بھر کی سیاسی اشرافیہ میں اتنی اخلاقی جرأت باقی رہ گئی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کے حیاتِ اجتماعی کے اعلیٰ ترین مقاصد کو ترجیح اول بنا لے؛ حالانکہ ذرا سی انکساری اورتھوڑی سی دیانت ہمیں اس بات کا یقین دلانے کیلئے کافی تھی کہ زندگی اور کائنات کا تنوع اور بوقلمونی ہمارے محدود اذہان کے احاطہ سے باہر ہے۔بہرحال‘کشمیر کو زبردستی بھارت میں ضم کرنے کے مودی سرکار کے فیصلہ نے جہاں وادی میں غم و غصہ کی لہر دوڑائی ‘وہاں اسی پیش دستی کے نتیجہ میں کشمیریوں کی موجودہ مذہبی اور سیاسی قیادت بھی غیر موثر ہو گئی‘جو کشمیری سماج سے بھارتی ریاست کے روابطہ کا آخری وسیلہ تھی۔اس کیفیت کو ہم غالب ؔکی زبان میں یوں بیان کر سکتے ہیں کہ ''نے ہاتھ باگ پہ‘ہے نہ پاء ہے رکاب میں‘‘کشمیرکو کنٹرول کرنے کی خاطر بھارت کے پاس اب چھ لاکھ سے زیادہ فوج تعینات کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔لامحدود مدت کیلئے کرفیو کے نفاذ کے باعث سری نگر میں ایک ماہ سے مکمل لاک ڈاؤن ہے‘ جس نے نظام زندگی کو مفلوج کر رکھاہے۔تعلیمی ادارے‘ہسپتال اوربازار بند ہیں۔ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ٹیلی فون‘انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل ہو جانے سے وادی پوری دنیا سے کٹی ہوئی ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کے رہ گئے ہیں۔گویا‘کشمیرجنت نظیرکو ایک مہیب قید خانہ میں بدل دیا گیا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ‘انڈین سیکورٹی فورسز نے دس ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ سینکڑوں بے گناہ افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کے خوف اور نفرت کی سطح مزید بلند کر دی‘اگر زیادہ دیر تک یہی صورت حال برقرار رہی تو آزاد کشمیر کے لوگوں میں بھی مایوسی و اضطراب پھیل جائے گا۔یہ صورتحال بالآخر یہاں عالمی طاقتوں کی مداخلت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ہمیں سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے بھارتی جارحیت کی مذمت اور چند مغربی دانشوروں کی طرف سے مودی کے جارحانہ اقدامات کی مخالفت سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔مت بھولیے کہ ہمارا واسطہ بھارت‘اسرائیل اور امریکہ جیسے زیرک اور طاقتور دشمنوں سے ہے۔ششہ گرانِ فرنگ نے اعلان بلفاسٹ کے ذریعے عربوں کے قلب میںاسرائیلی ریاست کا خنجر اتار دینے کے باوجود مسلمانوں کی دوستی اور ہمدردی کو کھویا نہیں تھا۔امریکہ نے افغانستان‘عراق اور شام کے مسلمانوں پہ آتش و آہن کی بارش کے دوران بھی کئی‘ سرکردہ مسلم ممالک کی انگلی پکڑ کے انہیں اپنا ہمنوا بنائے رکھا۔مغربی پالیسی سازوں نے عراق پہ امریکی جارحیت کے دوران عیسائیوں کے خلاف نفرتوں کے تدارک اور صلیبی جنگوں کے تاثر ختم کرنے کی خاطر جارج گلوے جیسے اہم رکن پارلیمنٹ کو جنگ کی مخالفت پرکمربستہ کر کے مسلم سماج میں رائے عامہ کو عیسائیت کے خلاف منظم ہونے سے روک لیا‘انہی دنوں لندن کے میئر لنگولنسٹن نے صدر بش کی لندن آمد پہ ان کے خلاف دس لاکھ افراد پہ مشتمل جلوس نکال کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی اپنے ہاتھ لے لی۔
مذکورہ بالا دونوں لیڈرز کی سرگرانی مسلمانوں سے سچی ہمدردی کا شاخسانہ نہیں ‘بلکہ انہیں فریب دوستی میں مبتلا رکھنے کی سکیم کا حصہ تھی۔یہ کتنی حیرت انگیز اور دلچسپ صورت حال تھی‘جس مغرب کے سفاک حکمران مسلم مملکتوں کو تاراج کرکے وہاں لاکھوں بے گناہ مسلمان مردوں‘ عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر رہے تھے‘ اسی یورپ کے کچھ سیاستدان اور اہل دانش انسانی حقوق کے تحفظ کے لبادوں میںمسلمانوں کی مظلومت پہ ماتم کناں ہو کے ہمیں دام ہمدردی میں لپیٹ رہے تھے۔آج پھر کانٹے میں پڑے چارے کی ترغیب کی مانند‘مغربی استعمار غیر محسوس اندازمیں ہمیں تنازعہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف اور سلامتی کونسل میں لے جانے کا کہہ رہے ہیں ‘تاکہ فلسطینیو ں کی طرح کشمیریوں کو بھی غیر معینہ مدت کیلئے سازشوںکے جال میں پھنسا دیا جائے۔اگر جنگ آپشن نہیں تو پھرکشمیریوں کیلئے مغربی طاقتوں کے زیراثر کام کرنے والے عالمی اداروں سے بھی انصاف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔فلسطین‘لبنان‘سوڈان اور لیبیا کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ ہوشیارباش‘بسا اوقات تقدیر‘غیر مربوط واقعات کی مدد سے کرداروں کو آگے بڑھاتی جاتی ہے اور ان کی مرضی کے بغیرانہیں‘اَن دیکھی تباہی میں پھنسا دیتی ہے۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں