نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جرمن ڈاکٹرنےمتعددافرادکواپنی بنائی ہوئی کوروناویکسین لگادی
  • بریکنگ :- جرمن پولیس نےڈاکٹرونفریڈاسٹوکرکوحراست میں لےلیا
  • بریکنگ :- چھاپےکےوقت 200افرادویکسین لگوانےکےلیےقطارمیں کھڑےتھے
  • بریکنگ :- ڈاکٹرنےکوروناسےبچاؤکی ویکسین دریافت کرنےکادعویٰ کیاتھا
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

ضم شدہ اضلاع کے مسائل

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں بنیادی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل جیسے اہم کام کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیرکئی سیاسی‘سماجی اور قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن رہی ہے۔فاٹا کو ہنگامی بنیادوں پہ صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناتے وقت انہی کالموں میں اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ پسماندہ صوبے کا انتظامی ڈھانچہ جو اپنے روز مرہ کے امور نمٹانے کی اہلیت سے بھی عاری ہو‘اس سے ایک خستہ حال خطے میں نئی دنیا تعمیر کرانے کی توقع عقلمندی نہیں۔اُس وقت صاحب الرائے قبائلی عمائدین کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن جیسے کہنہ مشق سیاستدان بھی اربابِ اختیار کوعجلت میں کئے گئے فیصلوں کے مضمرات سے خبردار کر رہے تھے‘ لیکن حکمرانوں نے ان آوازوں پہ دھیان نہ دیا۔
بلاشبہ صدیوں تک خوف و ترغیب کی حکمرانی میں پروان چڑھنے والے قبائلی معاشرے کو بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی آزادیاں دے کر معروف قانونی نظام کے تحت لانے کا عمل مرحلہ وار تکمیل کا متقاضی تھا‘ لیکن طاقت کی ایما پہ پختون قوم پرست جماعتوں نے جذباتی فضا پیدا کر کے ہنگامی بنیادوں پہ اس متنوع اورحساس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے پہ اصرارکر کے حکومت اور قبائلی سماج‘دونوں کو آزمائش سے دوچار کر ڈالا‘ مگرڈیڑھ سال گزرجانے کے باوجود صوبائی اتھارٹی قبائلی اضلاع میں متبادل نظام کی تشکیل ممکن نہیں بنا سکی۔حکومت بندوبستِ اراضی شروع کرا سکی نہ سول اورفوجداری نظامِ عدل ریگولیٹ ہوسکا۔فی الحال پولیس کی موجودگی اورڈپٹی کمشنر کی اتھارٹی بھی علامتی ہے‘اسی لیے امنِ عامہ سے جڑے مسائل دو چند ہوتے جا رہے ہیں اور شہریوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔صوبائی حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز تو نوٹیفائی کر دیں‘ لیکن ان میونسپل اداروںکا برسرزمین کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات تاخیر کا شکار ہو گئے۔اسی ٹرانزٹ پیریڈ کے دوران قبائلی اضلاع میں پیدا ہونے والے اختیارات کے خلا میں پہلے مرکز گریز تحریکوں نے جگہ بنائی اور اب ناقص حکمت عملی کے نتیجے میں تعمیرنو کے منصوبے لاینحل تنازعات میں گھرتے چلے جا رہے ہیں۔27 جنوری سے ضلع جنوبی وزیرستان کے محسود اور شمالی وزیرستان ضلع کے وزیر قبائل تباہ شدہ مکانات کی تعمیرنو کیلئے کرائے گئے سروے میں پائی جانے والی خامیوں کے خلاف پشاور‘میران شاہ اور ٹانک میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔خدشہ ہے کہ یہی تکنیکی ایشوز رفتہ رفتہ سیاسی رنگ اختیار کرلیں گے ۔اگر حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ نہ دی توطالع آزما صورتحال سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
2009ء میں جنوبی وزیرستان کے محسود ایریا میں ہونے والے آپریشن راہِ نجات کے دوران جب ہزاروں خاندان نقل مکانی کی کلفتوں سے دوچار ہوئے تو اس وقت کی حکومت نے عالمی برادری کے تعاون سے آئی ڈی پیزکوپانچ سال تک مالی اعانت اور شیلٹر کی فراہمی کا بیڑا اُٹھا لیا۔دہشت گردوں کے قلع قمع کے بعد دفاعی اداروں نے جنوبی وزیرستان میں سڑکوں کی تعمیر نو اور اعلیٰ معیار کے ہسپتالوں‘ تعلیمی اداروں‘کھیل کے میدانوں اورکمرشل مارکیٹوں کی ازسر نوتعمیر اور زراعت کی بحالی کا کام مکمل کر لیا تو حکومت نے2014 ء میں محسود آئی ڈی پیزکے ہر خاندان کو دو ماہ کی خوراک اور ضروری ادویہ کی فراہمی کے ساتھ آبائی علاقوں کو رخصت کیا۔حکومت نے شورش کے مستقل سدباب کیلئے آپریشن کے دوران منہدم ہونے والے مکانات کی تعمیرنو کیلئے Citizen Losses Compensation Program (CLCP)شروع کیا۔اس پروگرام کے تحت واپس جاتے وقت جنوبی وزیرستان کے ہر اس خاندان کوٹوکن فراہم کیا گیا‘ شورش کے دوران جس کا ذاتی گھرکلی یا جزوی طور پہ تباہ ہوا تھا۔سی ایل سی پی کے تحت مکمل تباہ ہونے والے مکانات کی دوبارہ تعمیر کیلئے متاثرہ خاندان کو چار لاکھ اور جزوی متاثر ہونے والے مکانات کی مرمت کیلئے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے کی مالی امداد متعین کی گئی۔2014 ء کے پہلے اور 2016 ء کے دوسرے مرحلے میں لدھا‘مکین‘سروکئی‘سپن کئے رغزئی اوران سے ملحقہ دیہاتوں میں سروے کراکے لگ بھگ تیس ہزار خاندانوں کو ادائیگیوں کا طریقہ کار مرتب کیاگیا‘تاہم ایف ڈی ایم اے کے کمپیوٹر سسٹم نے آٹھ ہزار کے لگ بھگ خاندانوں کے کلیم کی تصدیق سے انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق سروے کے دوران سرکاری عملے کی ملی بھگت سے ایک ہی مکان کی مختلف زاویوں سے تصاویر اتارکے بیک وقت چار چار کلیم تیار کرا لیے گئے‘جسے ایف ڈی ایم اے کے سسٹم نے مستردکر دیا۔اسی وجہ سے زرِتلافی کی ادائیگیوں کا عمل بھی رُک گیا۔تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سو کے قریب گاؤں ایسے ہیں جہاں ابھی تک سروے نہیں ہوا جبکہ مکان کی تعمیر کیلئے چار لاکھ کی رقم ناکافی ہونے کے باوجود ادائیگیوں میں غیرمعمولی تاخیر سے متاثرین کی مشکلات بڑھتی گئیں۔دوبارہ بحالی کے نظام میں پائی جانے والی تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے 2014 ء کے پہلے اور2016 ء کے دوسرے مرحلے کے کئی گھرانوں سمیت تیسرے مرحلے کے متاثرین کو تاحال ادائیگی نہیں ہو سکی۔سروے نظام کو فول پروف اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کوسہل بنانے کے مطالبات پہ توجہ نہ دی گئی ‘جس کی وجہ سے شاطر لوگوں نے غریب اورسادہ لوح متاثرین کا استحصال کیا۔اس کے علاوہ ایک تو مکان کی دوبارہ تعمیر کیلئے مختص‘چار لاکھ روپے کی رقم ناکافی تھی دوسرا تیزی سے بڑھتی ہوئی گرانی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث آئے دن تعمیراتی میٹریل مہنگا ہوتا گیا‘جس کی وجہ سے مختص رقوم کے ذریعے مکانوں کی تعمیر مزید دشوارہوتی گی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سی ایل سی پی میں شامل بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہمارے سماج کے منفی عناصر نے مستحق لوگوں کے حقوق غصب کرلیے ہوں گے‘ تاہم ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ شہریوں کو سماج دشمن عناصر کی چیرہ دستیوں سے بچاتی لیکن بدقسمتی سے ضم شدہ اضلاع میں قانونی خلا کی بدولت سرکاری ادارے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ دینے کے قابل نہیں ہو سکے۔مستزاد یہ کہ2018 ء میں متاثرین کی جانب سے سی ایل سی پی سروے کرنے والی سرکاری ٹیموں میں شامل ستائس تحصیلداروں پر بدنیتی‘اقربا پروری اور بدعنوانی کے ذریعے رقم بٹورنے اور حقداروں کی حق تلفی جیسے سنگین الزام لگا کے انہیں سروے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تو اس وقت کے کمشنر نے روایتی انکوائری کرا کے متذکرہ بالا تحصیلداروں کو کلین چٹ دے کر دوبارہ سروے پہ تعینات کر دیا‘جس سے مقامی آبادی میں سرکاری افسران کے رویوں کے خلاف غم و غصہ بڑھ گیا۔
قبائلی اضلاع میں تعمیر نو اور بحالی کے کاموں میں شامل سرکاری اہلکاروںکی غفلت‘ بے حسی اور مبینہ بدعنوانیوں کے باعث متاثرین میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ ایف سی آر کے خاتمے کے بعد جب پولیٹیکل سسٹم کی بساط لپیٹی گئی تو پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے سرکاری اثاثہ جات کی لوٹ کھسوٹ شروع کر دی۔بعض اہلکاروں نے پولیٹیکل کمپاؤنڈ میں قیمتی دیودار لکڑی سے بنی بڑی الماریاں سمیٹنے کے جنون میں انگریز دور کا قیمتی ریکارڈ دفاتر کی چھتوں پر پھینک دیا‘جس میں وزیر‘محسود اور برکی قبائل کی اراضیات کی ملکیت اور پہاڑوں سمیت حقوق آبپاشی کا مستند ریکارڈ شامل تھا۔اس ضمن میں کئی شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کو تحریری درخواستیں دے کر جنوبی وزیرستان ایجنسی کا دوسو سالہ سرکاری ریکارڈ خیبر پختونخوا کے آرکائیو ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے محفوظ بنانے کا مطالبہ بھی کیا‘ لیکن کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں