نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پشاور:خیبرپختونخوابلدیاتی انتخابات
  • بریکنگ :- پریزائیڈنگ افسران کومجسٹریٹ درجہ اول کےاختیارات دےدیئےگئے،نوٹیفکیشن جاری
  • بریکنگ :- پریزائیڈنگ افسران کو 18 تا 20 دسمبرکیلئےاختیارات دیئےگئے،الیکشن کمیشن
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

منموہن‘ نوازشریف ڈٹ کر بات کریں

وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ میاں نواز شریف سے نیویارک میں بات کریں یا نہ کریں، اس موضوع پر کافی بحث ہورہی ہے۔ جموں میں چند روز قبل ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے اس بحث کو نئی سمت دے دی ہے۔ اس سے متعلق میری واضح رائے ہے کہ انہیں بات کرنی چاہیے اور ڈٹ کر کرنی چاہیے۔ سرحد پر ہونے والے واقعات اور دہشت گردانہ حملوں کے سبب بات بند کرنا سٹریٹیجک غلطی ہوگی۔ کیا یہ واقعات کروکشیتر میں ہوئی مہابھارت جنگ سے بھی زیادہ خوفناک ہیں؟ ہردن غروب آفتاب کے بعد کورو اور پانڈو بات کرتے تھے یا نہیں؟ اٹل جی نے کارگل کے ویلن جنرل مشرف سے بات کی یا نہیں؟ انہیں ہندوستان بلایا یا نہیں؟ گزشتہ دنوں جو واقعات ہوئے کیا وہ پارلیمنٹ پر حملے سے بھی زیادہ سنگین ہیں؟ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بات کرنے کے لیے نوازشریف خود بے تاب ہیں۔ ہندپاک مذاکرات کے خلاف دی جانے والی دلیلیں کافی کمزور معلوم ہوتی ہیں۔ سنوڈن کے معاملہ میں اوباما کا پیوٹن سے مذاکرات ملتوی کرنا اور برازیل کی صدر دلماروسیف کا امریکی دورہ ملتوی کرنا ایک الگ قسم کے واقعات ہیں۔ ان کا موازنہ ہندپاک مذاکرات سے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملک ایک دوسرے کے پڑوسی نہیں ہیں جبکہ ہندوستان اور پاکستان پڑوسی ہیں۔ پڑوسیوں کے درمیان خاموشی آخرکار کتنے دنوں تک چل سکتی ہے؟ میں پوچھتا ہوں کہ بات نہ کریں تو کیا کریں؟ اگر آپ میں اتنا دم ہے تو پاکستان کے اندر جو دہشت گرد اڈے ہیں، انہیں آپ اُڑا سکیں تو اُڑا دیں یا ملزمان پر ڈرون حملہ کرسکیں تو کردیجیے۔ آپ فوجی کارروائی کرنہیں سکتے، یعنی گولی نہیں چلاسکتے تو ’بولی‘ تو چلائیے اور بولی ایسی چلائیے کہ وہ گولی سے بھی زیادہ تیز ہو جس سے سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردانہ وارداتیں کرنے والوں کے پسینے چھوٹ جائیں۔ بات چیت کا دائرہ ابھی محدود کرنے کی ضرورت نہیں، پھیلانے کی ضرورت ہے۔ صرف منتخب حکومت سے مذاکرات کافی نہیں ہیں، کچھ اداروں کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے۔ وہاں منتخب حکومتیں ہماری حکومتوں کی طرح طاقتور نہیں ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہندوستان مخالف کارستانیوں کے لیے فوج کو اکسائیں یا آئی ایس آئی کی پیٹھ تھپتھپائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستانی حکومتیں دودھ کی دھلی ہوتی ہیں لیکن میاں نوازشریف کی نئی حکومت ہندوستان سے تعلقات میں بہتری کے لیے پرعزم ہے۔ یہ میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔ صرف نواز شریف کی مسلم لیگ ہی نہیں، پاکستان کی سبھی اہم جماعتوں کے بڑے لیڈروں سے بات چیت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پاکستان کے سیاسی لوگ ہند پاک تعلقات میں اصلاح کو پاکستان کی بہتری کے لیے انتہائی ضروری ماننے لگے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنا گزشتہ وزیراعظم کا عہدہ اسی نعرہ پر جیتا تھا اور وہ اب بھی اسے اپنا مشن مانتے ہیں۔ ہندوستان کو تعلقات میں اصلاح کا یہ موقع اپنے ہاتھ سے پھسلنے نہیں دینا چاہیے۔ اس موقع کو اس لیے بھی نہیں پھسلنے دینا چاہیے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس وقت فوج کا جلوہ (کردار) جتنا کم ہوا ہے، اتنا کم پہلے کبھی نہیں ہوا۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کی وجہ سے کم ہوا تھا، لیکن اس کا کریڈٹ ہندوستان کو ملا تھا۔ اس بار فوج اپنی وجہ سے ہی نچلے پائیدان پر کھسک گئی ہے۔ اسامہ بن لادن، اکبربگتی کا قتل، لال مسجد سانحہ اور امریکی ڈرون حملوں کے سبب فوج دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ اس کے علاوہ اقتصادی بحران نے پاکستان کو مجبور کیا ہے کہ وہ بجلی اور پانی کے لیے ہندوستان کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ پاکستان کو معلوم ہے کہ اگلے سال افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد اس کی مصیبتوں میں اضافہ ہونے والاہے۔اگر ہندوستان سے اس کے تعلقات میں بہتری آجائے تو وسط ایشیا دونوں ممالک کے لیے کھل جائے گا۔ وسط ایشیا کے تیل، گیس اور دیگر معدنی اشیا پورے جنوبی ایشیا کو مالا مال کردیں گی۔ ہندوستان سب سے زیادہ فائدہ میں رہے گا۔ ایسی حالت میں جب جموں جیسی جگہ پر اتنی خوفناک واردات انجام پاجائے تو ہندوستان میں غصہ کی لہر کا دوڑ جانا فطری ہے، لیکن اس موقع کا فائدہ اٹھاکر دہشت گردی کے خاتمہ پر ہندپاک مشترکہ کارروائی کا اعلامیہ جاری کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی دونوں کی مشترکہ دشمن ہے۔ ہندوستان سے زیادہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے۔ جموں سے زیادہ خوفناک حملہ پشاور میں ہوا ہے۔ نواز شریف کچھ ہمت کریں اور ہندوستان مخالف دہشت گردانہ تنظیموں اور افراد کو سزا دیں یا ہندوستان کے حوالے کریں۔ ہندوستان کو ’’موسٹ فیورٹ نیشن‘‘ کا درجہ دینے کے لیے زرداری حکومت تیار تھی، لیکن پاکستان کی کسان تنظیموں اور صنعت کاروں کے اعتراض نے انہیں روک دیا۔ نوازشریف کی بھی یہی پریشانی ہے۔ ہندوستانی سرکار کے پاس ایسے لوگوں کی کمی ہے جو پاکستان جاکر ان لوگوں سے مذاکرات کرسکیں۔ ان لوگوں سے پاکستان میں میرے قیام کے دوران بات ہوئی تھی۔ ان کی مشکلات دور کرنا مشکل نہیں ہے۔ پاکستان کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جس ملک کو وہ 66برس سے اپنا دشمن مانتا رہا، اسے وہ راتوں رات ’’موسٹ فیورٹ نیشن‘‘ کیسے کہے؟ اگر معاملہ صرف الفاظ کا ہے تو اسے حل کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ہمارے وزیراعظم کو افغانستان کے بارے میں دوراندیشی سے کام لینا ہوگا۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ وہ اس وقت نیویارک میں ہیں اور وہاں وہ اوباما، نواز شریف اور ڈاکٹر حسن روحانی تینوں سے ایک ساتھ بات کرسکتے ہیں۔ افغانستان کو مرکز میں رکھ کر امریکہ ایران تعلقات میں بہتری لانا اور ہند پاک تعلقات کو خوشگوار رکھنا بے حد ضروری ہے۔ طالبان سے سیدھا رابطہ بنانا بھی سٹریٹیجک نقطہ نظر سے ہندوستان کے لیے ضروری ہے۔ اگر اس ملاقات کے دوران دونوں وزرائے اعظم افغانستان کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر بات کریں تو آگے جاکر کافی کامیابی مل سکتی ہے۔ (ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک دِلّی میں مقیم معروف بھارتی صحافی ہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ‘ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں