نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت نےبجلی 4 روپے 74 پیسےفی یونٹ مہنگی کردی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نیپراکی جانب سےنوٹیفکیشن جاری کردیاگیا
  • بریکنگ :- بجلی اکتوبرکی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں مہنگی کی گئی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- صارفین سےاضافہ دسمبرکےبجلی بلوں میں وصول کیاجائےگا،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- بجلی صارفین پر 60 ارب روپےسےزائدکااضافی بوجھ پڑےگا
  • بریکنگ :- کےالیکٹرک اورلائف لائن صارفین پراطلاق نہیں ہو گا
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

اصلی جنگ اب شروع ہوئی ہے

ابھی تک طالبان کے خلاف پاکستانی فوج صرف ہوائی بمباری کر رہی تھی۔شمالی وزیرستان کو پانچ لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں نے خالی کر دیا ہے ۔سبھی گائوں اور محلوں میں جہاں جہاں بھی طالبان نے اپنے اڈے بنا رکھے تھے‘فوج نے ان کو گھیر رکھا تھا تاکہ عام عوام کے ساتھ وہ پناہ گیر کی صورت میں نکل کر بھاگ نہ جائیں ۔اب جبکہ سارے علاقے خالی ہو چکے ہیں فوج انہیں بین بجاکر پکڑے گی۔جو اپنے آپ کو حوالے کر دیں گے‘ وہ بچ جائیں گے اور جو لڑیں گے یا بھاگیں گے‘ وہ مارے جائیں گے ۔اب یہاں رمضان شریف کا پاک مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ماحول میں طالبان کی مشکلیں مزید بڑھ جائیں گی۔غور طلب بات یہ ہے کہ اہل سنت کے لگ بھگ تین سو علماء نے ایک اجتماعی اپیل جاری کی ہے‘ جس میں طالبان سے کہا گیا ہے کہ حضرت محمدﷺ کے احکام کی فرمانبرداری کریں‘تشدد کا راستہ چھوڑیں اور پہلے خود پر شریعت کا قانون لاگو کریں۔انہوں نے طالبان سے حوالگی کی اپیل کی ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے فوج کو بھی آگاہ کیا ہے کہ بے قصور لوگوں کو مارنا گناہ کبیرہ ہے۔
'ضرب عضب‘ فوجی آپریشن کی حمایت پاکستان کی سبھی پارٹیاں کر رہی ہیں لیکن کئی سرحدی لیڈر اسے کسی اور جنگ کی شکل دینا چاہتے ہیں اور کچھ اسے افغانستان اور پاکستان کی لڑائی میں بانٹنا چاہتے ہیں لیکن ان کی ابھی کوئی نہیں سن رہا ہے ۔پورا ملک اس معاملے میں فوج اور سرکار کو شاباشی دے رہا ہے۔ کرزئی سرکار نے اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ افغانستان اور پاکستان دونوں ہی اب اس بات پر متفق ہیں کہ دہشتگردوں کا مکمل صفایا کیا جانا چاہیے ‘بِنا کسی فرق کے!
پاکستانی فوج کے ایک سابق مقرر نے آج ایک پوشیدہ بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف آف آرمی اشفاق پرویز کیانی نے جان بوجھ کر2011 ء میںطالبان کے خلاف مشن نہیں چلایا ۔وہ وہم میں مبتلا تھے۔اگر سوات میں چلے مشن کے فوراًبعد یہ مشن چل پڑتا تو پاکستان کے لیے بہت اچھا ہوتا۔ پاکستان کے جو طبقے سرکار کی مخالفت کرتے ہیں‘انہیں اب کوئی سبب نہیں مل رہا ہے تو وہ اب اسی مدعہ کی پونچھ پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ پانچ لاکھ پناہ گیروں کے لئے کوئی اچھا بندوبست نہیں کیا گیا ہے‘جبکہ وفاقی اور صوبائی سرکاریں ہر خاندان کو ہزاروں روپیہ اور کھانے پینے کی چیزیں مہیا کروا رہی ہیں۔خود وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے وزرائے اعلیٰ بھی سرحد پر جا رہے ہیں۔پاکستان کی 'تحریک انصاف‘پارٹی کے سربراہ عمران خان نے چودہ اگست کی مہلت سرکار کو دی ہے‘ ان کی مانگیں ماننے کیلئے ۔نہیں تو وہ دس لاکھ لوگوںکا جلسہ کریں گے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری بھی خوفزدہ ہیں لیکن سوال یہی ہے کہ اس جنگ کی کڑی دھوپ میں تحریک کے یہ پودے کہیں مرجھا نہ جائیں۔ اس نازک ماحول میں نوازشریف سرکار کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ 
......... 
چین کی سرکا ر نے سنکیانگ صوبے میں روزوں پر پابندی لگا دی ہے۔اس نے سنکیانگ کے عوام کے نام ایک فرمان صادر کیا ہے‘جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین‘ معلم حضرات ‘پارٹی کے ممبران اور نوجوانوں کو نہ تو روزے رکھنے دیئے جائیں گے 
اور نہ ہی انہیںنماز کیلئے کہیں بھی بڑی تعداد میں اکٹھا ہونے دیا جائے گا۔اس فرمان کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ روزہ رکھنے سے لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔وہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر پاتے۔ یہ فرمان وفاقی سرکار نے بیجنگ سے جاری کیا گیا ہے ۔یہ حکم وفاقی اور صوبائی سرکارکے ان سبھی ملازمین پر لاگو ہوگا‘جو آن ڈیوٹی ہیں اور جو ریٹائرڈ ہیں۔چینی سرکا ر کی طرح سوویت یونین کی کمیونسٹ سرکاروں نے بھی اپنے مسلمانوں کو اسی طرح ٹھوک پیٹ کر کمیونسٹ بنانے کی کوشش کی تھی۔ان پر طرح طرح کے ظلم کیے تھے لیکن ہوا کیا ؟ خود کمیونسٹ کاہی ستر سال میں دیوالہ نکل گیا۔چین تو اب کمیونسٹ بھی نہیں رہا لیکن وہ سنکیانگ میں یہ سب کیوں کر رہا ہے؟
اس کا سبب کمیونزم نہیں ہے ۔کمیونزم تو اب چین سے بھی وداع ہو گیا ہے ۔یہ معاملہ کمیونزم اور اسلام کی ٹکر کا نہیں ہے ۔یہ ہے ایگر قوم کے علیحدہ ہونے کا!ایگر لوگ وسطی ایشیا کے ہیں۔وہ ہان قوم کے نہیں ہیں۔وہ ترکی زبان بولتے ہیں‘ جو فارسی اور ازبک زبان سے ملتی جلتی ہے۔ ان کے رسم و رواج‘ کھان پان اور رہن سہن بھی چینیوں سے الگ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں ۔ یہ ایگر لوگ چین سے آزاد ہو نا چاہتے ہیں۔ ان کی آزادی کی لڑائی کی لمبی تاریخ ہے۔ آج کل ایگر لوگ علیحدہ ہونے کیلئے دہشت گردی بھی کرنے لگے ہیں۔ کئی بم دھماکوں میں سیکڑوں لوگ مارے گئے ہیں۔چینی سرکار کو خطرہ ہے کہ روزے اور نمازکے بہانے ایگر لوگ ایک ساتھ بڑی تعداد میں جمع ہوئے تو وہاں بغاوت کے نعرے بلند کیے جائیں گے۔اسی لیے اس نے ان پابندیوں کا اعلان کیا ہے ۔
لیکن ان پابندیوں کا کیا الٹا اثر نہیں ہوگا؟چینی سرکار اگر عقل سے کام لے تووہ ساری ایگر عوام سے اپیل کر سکتی ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ آپ لوگوں کے لیے پاک ہوتا ہے‘ اس مہینہ میں کوئی بھی ناپسند واقعہ سیانگ میں نہیں ہونا چاہئے نہ تو کسی طرح کی کوئی دہشت گردی ہوگی اور نہ ہی سرکا ر ی نقصان ہوگا‘ یہ راستہ عقل اور محبت کا راستہ ہے لیکن چینی سرکار نے مٹھ بھیڑ کا راستہ پکڑ لیا ہے۔تبتیوں کے ساتھ بھی یہی کیا جاتا ہے ۔خود چین کی ہان قوم کے نا خوش نوجوانوں کو بھی ڈنڈے مار مار کر بات کی جاتی ہے۔کیا کِیا جائے؟ 
(ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک بھارت کی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں) 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں