نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت ملی توملک قرضوں کی دلدل میں پھنساہواتھا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان ملکی ترقی وخوشحالی کیلئےکوشاں ہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- سابق حکمرانوں نےملکی پیسہ لوٹ کربیرون ملک جائیدادیں بنائیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برآمدات میں تیزی سےاضافہ ہورہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- (ن)لیگ دورمیں پاورلومزکوتالےلگےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- دنیانےکورونامیں پاکستان کی اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کوسراہا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم نےماحولیات سےمتعلق عمران خان کےاقدامات کی تعریف کی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پوری دنیامیں مہنگائی کا50 سالہ ریکارڈٹوٹ گیا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 10کروڑلوگوں کوکوروناویکسین لگاچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی ،(ن)لیگ نےاقتدارمیں آکرصرف اپنےبچوں کاسوچا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان اپنےمحلات نہیں غریب کوگھربناکردےرہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- گھروں کےلیے 90ارب کےقرضےمنظورہوچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- یہ لوگ ووٹ کوعزت دینےکی بات کرتےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 2،2ہزارروپےمیں ووٹ کوعزت دےرہےتھے،فرخ حبیب
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

پھر خم ٹھوک رہے طالبان

قطر کے دارالحکومت دوہامیں چل رہی بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ یہ بات چیت کابل کی نئی سرکاراور طالبان لیڈروں کے بیچ چل رہی ہے ۔افغانستان کی اشرف غنی سرکار کی جانب اس کے وزیر دفاع کرزئی اور قومی دفاعی صلاح کارحنیف صاحب دوہا گئے ہوئے تھے اور طالبان کی طرف سے ملا عبدالرزاق اور سابق طالبان کمانڈر ملا محمد جلیل بات کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان سربراہان کے ساتھ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا افسر بھی تھا۔ 
سوال یہ ہے کہ یہ بات چیت ناکام کیوںہوئی؟یاد رہے کہ اس بات چیت کا سلسلہ ڈیڑھ دو سال پہلے افغان صدر حامد کرزئی کے زمانے میں شروع ہواتھا۔خود کرزئی بھی دوہا گئے تھے۔ان پر امریکہ کا کافی دباؤ تھا اور پاکستان کا تو تھا ہی لیکن کرزئی اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ یہ گفتگوکامیاب نہیں ہو سکتی ‘کیونکہ اس میں بیرونی ملکوں کی دخل اندازی ضرورت سے زیادہ ہے ۔اسی سوال پر کرزئی کی امریکہ اور پاکستان سے ٹھن گئی تھی لیکن نئے صدر اشرف غنی نے پچھلے آٹھ نو ماہ میں پاکستان سے ہاتھ ملانے کی مکمل کوشش کی۔ وہ دو بار پاکستان بھی ہو آئے ۔انہوں نے آئی ایس آئی کے ساتھ تعاون کرنے کا معاہدہ بھی کیالیکن لگتا ہے کہ اب ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں ۔وہ طالبان سے سمجھوتے کی جانب اتنے پُرامید تھے کہ انہوں نے چین سے مل کر پاکستان سے مثلث بات چیت بھی کی لیکن اشرف غنی شاید یہ بھول گئے کہ پاکستان کے ادارے ان کی سرکار کے تابعدار نہیں‘ وہ خود مختار ہیں۔ 
طالبان کی ا س مانگ کو افغان سرکار کیسے مان سکتی ہے کہ حالیہ آئین کو رد کریں اور شریعت قانون نافذ کریں۔ اس کے علاوہ ہر ایک غیر ملکی فوجی کو افغانستان سے نکال باہر کریں ۔طالبان نے آج کل ہر دوسرے دن سر عام حملہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔صرف پٹھان علاقوں میں ہی نہیں ‘ہرات اور قندوز جیسے تاجک علاقوں میں بھی طالبان نے اپنی قوت بڑھا لی ہے۔ 
نوڈلز مقدمہ: بھیڑ چال بند کریں! 
بھارت میں ایک مخصوص برانڈ کی کھانے والی چیز(نوڈلز) پر کئی صوبوں نے پابندی عائد کر دی ہے۔ دیگر صوبے بھی اس کمپنی کی کھانے والی چیزوں کی جانچ کرو ا رہے ہیں۔ ایک دوست نے تو اس کمپنی پر مقدمہ بھی دائر کر دیا ہے۔ ان بیچارے فلمی ستاروں کو بھی پھنسا لیا ہے ‘جو اس کے اشتہارات کیا کرتے تھے۔ فلمی ستاروں کو تو صرف پیسے سے مطلب رہتا ہے۔ وہ نوڈلز کیا کوئی بھی چیز بیچنے کے لیے خود کا استعمال ہونے دیتے ہیں، اس لیے کہ وہ عوام میں مقبول ہوتے ہیں خیر‘ان کی بات جانے دیں ۔
اصلی سوال یہ ہے کہ بھارت میں نوڈلز کے دس ہزار کروڑ روپیہ کی تجارت خطرے میں پڑ گئی ہے؟ کمپنی کو بھارتی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سارے ٹیسٹ کرو الئے ہیں‘ اس میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن بھارت سرکار کی فوڈ ایجنسی نے اپنے ٹیسٹ میں پایا ہے کہ نوڈلز میں مونو سوڈیم ایم ایس جی نام کا کیمیکل ضرورت سے کہیں زیادہ ہے‘ جس کے کھانے سے کافی نقصان ہوتا ہے۔ ان نوڈلز کے تیرہ نمونوں میں سے سات خراب پائے گئے ۔صرف ایم ایس جی کی وجہ سے نہیں ‘شیشے جیسے خطرناک چیزوں کی وجہ سے بھی بیرونی نوڈلز کھانے لائق نہیں ہے لیکن ہم کیا دیکھ رہے ہیں ؟
آج کل بھارت کے درمیانی طبقے کے لوگوں کے گھروں میں نوڈلز ہی نہیں ‘اس طرح کے بنے بنائے یا پہلے سے تیار کھانے والی چیزوں کی بھر مار ہو گئی ہے ۔پیزا ‘پکوڑے ‘پوریاں ‘بریانی اور کئی طرح کے گوشت کے نمونے پیکٹوں میں پیک کر کے رکھ دیے جاتے ہیں ۔یہ کھانے لائق رہیں سڑیں نہیں ‘اس نظریہ سے ان میں ایسے کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جنہیں میٹھا زہر کہہ سکتے ہیں۔ اس کیمیکل کی مہربانی سے یہ پرانی خوراک بھی ٹیسٹی لگتی ہے۔ بھارت کے کروڑوں لوگ بھیڑ چال چل رہے ہیں ۔وہ امریکیوں کی نقل کرنے لگے ہیں ۔ہر درمیانی طبقہ گھر میں فرج رکھتا ہے۔ میں نے اس کا نام 'باسی گھر ‘ رکھا ہے ۔اگر فرج میں رکھا کھانا تازہ رہتا ہے تو دو تین ماہ اسے اس میں ہی پڑا رہنے دیں۔ پھر اسے لیبارٹری میں جانچ کروائیں تو معلوم پڑے گا کہ وہ اندر سے سڑ گیا ہے ۔ہم لوگ امریکیوں کی طرح تازہ چیزیں کھانا بھولتے جا رہے ہیں۔ نوڈلز کو تو فرج کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باسی ہونے کا پتا ہی نہیں چلتا ۔
صرف نوڈلز جیسی چیزوں پر مقدمہ چلانے سے کیا ہو گا؟مقدمہ تو ہمارے نقل کرنے والوں پرچلنا چاہئے۔ دماغی غلامی پر چلنا چاہئے ۔ملک میں اس طرح کے سبھی ریڈی میڈ کھانے والی چیزوں کے خلاف ایک زبردست تحریک کی ضرورت ہے ۔یہ کام عدالتوں‘ اراکین پارلیمنٹ ‘وزرائے اعظم اور صدروں کے بس کا نہیں ہے۔ اس میں آپ کو اور ہمیں آگے آنا ہوگا۔
بہار کا اونٹ :کس کروٹ؟
جنتا دل (یو)اور آر جے ڈی یعنی نتیش اور لالو کی پارٹی میں معاہدہ ہو گیا ہے کہ مل کر چناؤ لڑیں گے ۔یہ سمجھوتہ بھی کیا سمجھوتہ ہے ؟لالو نے کہا ہے کہ وہ زہر کا گھونٹ پی رہے ہیں ۔انہوں نے نتیش کے خلاف جتنا زہر اب تک اُگلا ہے ‘اسے وہ اب پیئیں گے۔ ان کی کون سی مجبوری ہے کہ وہ زہر پیئیں گے؟نتیش کا چیف منسٹربننا ان کے لئے زہر پینے کے برابر ہے۔ اگر لالو کے عہدہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کر دیا جاتا تو یہی زہر‘ مشروب ہو جاتا۔ادھر نتیش نے اس زہر کو لالو کے گلے اتارنے کے لیے اپنے گلے میں سانپ ڈال لیا ہے‘ راہول گاندھی کو بچولیا بنا کر ۔جس کانگریس کی مخالفت نے لالواور نتیش کو پیدا کیا‘اسی کانگریس کو اس اتحاد نے اپنا پنچ بنا لیا۔اچھا ہے ‘اب کانگریس کی بند دکان کے تالے بہار میں کھل جائیں گے۔ اسے پاؤں دھرنے کی جگہ مل جائے گی۔ ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے والی پارٹیاں اب بھی ایک ہی گلاس سے اقتدار کی بھنگ (بھانگ )پینے کے لیے بیتاب ہیں ۔
اس بھانگ کی گھسائی پسائی بہر حال ملائم سنگھ کے پتھر پر ہی ہوئی ہے۔ اگر اپنے رشتے دار لالو پر ملائم دباؤ نہیں ڈالتے تو کیا لالو مان جاتے ؟ملائم کا دباو ٔ تو تھا ہی لیکن لالو اور نتیش دونوںسمجھ گئے تھے کہ اگر وہ آپس میں لڑیں گے تو بی جے پی اپنے21 فیصدی ووٹ (پچھلے لوک سبھا چناؤ میں )سے ہی اسمبلی پر قبضہ کر لے گی اور وہ دانت پیستے رہ جائیں گے ۔اگر ملائم منتر میں کوئی جادوئی کرامت ہوتی تو کیا وجہ ہے کہ دو ماہ بیت گئے اور چھ پارٹیاں ابھی تک ایک نہیں ہوسکیں؟ اصلیت یہ ہے کہ یہ پارٹیاں کم ہیں ‘پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں زیادہ ہیں۔ نہ تو ان کا کوئی منشور‘ نہ اصول ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ کارکن ہیں۔ جنم اور ذات کی بنیاد پر سیاست کرنے والی ان پارٹیوں کے پاس بھیڑوں کا ووٹ بینک ہے لیکن اب اس میں بھی دراڑ پڑ رہی ہے ۔
جو بھی ہو‘ یہ سمجھوتہ کتنے ہی ٹوٹے دل سے ہوا ہو اور بعد میں کتنی بھی بے ایمانی ہو‘یہ طے ہے کہ بی جے پی کا بہار فتح کا خواب اب پھولوں کی سیج نہیں رہ جائے گا۔بی جے پی کی مرکزی سرکار اور پارٹی کے رہنما کام تو خوب کر رہے ہیں اور دعوے اس سے بھی زیادہ کر رہے ہیں لیکن عام ووٹروں پران کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں پڑ رہا ہے ۔بہار کی نسل واد سیاست میں سیندھ لگانے کی ترکیبیں بھی بی جے پی کے پاس کافی نہیں ہے۔ اس لئے اب بہار کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ‘کہنا مشکل ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں