نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیشنل سیکیورٹی پالیسی ملک کی چھتری کی مانند ہوتی ہے،مشیر قومی سلامتی
  • بریکنگ :- ریاستی رٹ باربارچیلنج ہوگی توکمزورہوجائے گی،معید یوسف
  • بریکنگ :- نیشنل سیکیورٹی پالیسی کی تشکیل نوجاری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- سب سے پہلےہیومن سیکیورٹی کویقینی بنانا ہے،معید یوسف
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

کانگریس اب وینٹی لیٹر پر

پانچ صوبوںکے چنائو نتائج نے سب سے زیادہ پریشان کیا ہے توکانگریس کو کیا ہے۔
کانگریس کے لیڈر اپنے درد کو طرح طرح سے بیان کر رہے ہیں۔ آج اسی طرح کا تشویش ناک منظر دکھائی پڑ رہا ہے‘جیسا راجیو گاندھی کے ہارنے پر 1989ء میں دکھائی پڑ رہا تھا، لیکن اُس وقت بھی کوئی کھل کر نہیں بول رہا تھا اور آج بھی کوئی نہیں بول رہا ہے۔کئی کانگریسی لیڈر بول تو رہے ہیں لیکن کسی پرائیویٹ کمپنی کی طرح! وہ ہر کسی کو مجرم ٹھہرا نے کو تیار ہیں، لیکن کوئی بھی نشانے پر تیر چلانے کو تیار نہیں ہے۔ ہر لیڈر تیر چلا رہا ہے لیکن نشانے کو بچا کر! ایک لیڈر نے کہہ دیا کہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو چاہیے کہ وہ بڑی سرجری کر ڈالیں۔ ان سے بڑا سرجن کون ہے!
اسی طرح کی باتیں راجیو گاندھی کے ہارنے پر پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کیا کرتے تھے۔ بڑی سرجر ی کا کیا مطلب؟ یعنی جتنے بھی بڈھے بڈھے کانگریس میں ہیں‘ انہیں نکال باہر کرو۔ وہ بہت مال ہضم کر چکے‘ بہت ہاتھ صاف کر چکے۔ وہ محترم راہول جی کو کام نہیں کرنے دیتے۔ ارے‘ راہول جی آپ مودی جی کو اپنا گرو کیوں نہیں بناتے؟ اچھی باتیں تو اپنے دشمن سے بھی سیکھنی چاہئیں۔ مودی جی نے جیسے لال کرشن ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو طاق پر بٹھا دیا‘ راہول جی آپ بھی سونیا جی کو طاق پرکیوں نہیں بٹھا دیتے؟ آپ خود کانگریس کے سربراہ کیوں نہیں بن جاتے؟ بڑی سرجری کا مطلب یہی ہے۔ آپ کے سربراہ بنتے ہی کانگریس پھر سے زندہ ہو جائے گی۔ آپ شہنشاہ چندرگپت ہوںگے اور ہم چانکیہ! ہم جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ پورا ملک جانتا ہے کہ آپ کتنے زیادہ قابل ہیں۔ آپ کی قابلیت کو یہ گئی گزری نسل چمکنے نہیں دے رہی۔
یہ چمچوں کی روایت ہے، خوشامد کی حد ہے۔ جب راجیو گاندھی کی خوشامد میں ایسے ہی قصیدے پڑھے جاتے تھے تو ایوان کے سنٹرل ہال میں سیتا رام کیسری کو‘ جو بعد میں کانگریس کے صدر بنے‘ کسی نے میر تقی میرؔ کا یہ شعر سنا دیا ؎
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
سب لوگ ہنس پڑے اور مجمع بکھر گیا۔ آج بھی حالت کیا وہی نہیں ہے؟ 2014 ء کی ہار کے بعد بھی اینتھنی کمیٹی کا کیا ہو ا؟ اس طرح کی کمیٹیاں کیا مشورے دے سکتی ہیں ؟ اگر کچھ کرنا ہے‘ کچھ سیکھنا ہے تو آپ سڑک چلتے لوگوں سے بات کریں۔ وہ آپ کو بتا دیں گے کہ سرجری کس کی کرنی ہے اور اسے کون کرے گا؟ وہ کہیں گے کہ آج سرجنوں کی سرجری ہی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ جن سرجنوں سے آپ سرجری کی گزارش کر رہے ہیں‘ وہی گہری بیماری میں مبتلا ہیں۔ وہ سرجری کیا کریں گے؟ انہیں چاقو پکڑنا ہی نہیں آتا۔ انہیں ادویات کے نام تک نہیں معلوم۔ وہ آپریشن تھیٹر میں جاتے ہیں تو مریض پوچھتے ہیں کہ آپ کون سے تھیٹر میں آ گئے ہیں؟ اس ہسپتال میں کافی اچھے اچھے ڈاکٹر ہیں لیکن وہ کمپائونڈروں اور نرسوں کا کردار نبھا رہے ہیں۔کانگریس نام کے مریض کو وینٹی لیٹر پر لگا دیا گیا ہے۔
فیصلہ زبردست لیکن ادھورا 
جیسے ممبئی کے آدرش سوسائٹی کے بارے میں عدالت کا زبردست فیصلہ آیا تھا‘ لگ بھگ ویسا ہی فیصلہ روہتک کی زمین کے بارے میں سپریم کورٹ نے ابھی ابھی کیا ہے۔ روہتک میں 280 ایکڑ زمین سرکار نے اپنے قبضہ میں لے لی تھی۔ 2002 ء سے 2005 تک دو سرکاریں اس میں پھنسی ہیں۔۔۔۔ اوم پرکاش چوٹالہ اور بھوپیندر سنگھ ہُڈا کی سرکاریں! ان دونوں سرکاروں نے کسانوں اور زمین مالکوں کو چقمہ دیا۔ ان سے یہ زمینیں یہ کہہ کر چھینی گئیںکہ ان پر 'سبھی کے مفاد کے لیے تعمیرات کی جائیںگی‘۔ اس زمین پر سرکاری قبضہ ہونے کے بعد اسے 'اُدار گگن پراپرٹیز‘ نام کے ایک بلڈرکو دے دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کمپنی سے دونوں سرکاروں نے کروڑوں روپے کھائے ہوںگے۔ اس بلڈر کمپنی نے زمین مالکوں کو معاوضے کے طورپر 64 کروڑ روپے دیے۔کمپنی نے اس زمین پر پلاٹ کاٹے اور فلیٹ بنائے۔ اس پر اس کا خرچ آیا 174 کروڑ روپے جبکہ خریداروں نے کل 110کروڑ روپیہ کمپنی کو دیا۔
اب دیکھیے عدالت کا فیصلہ! عدالت نے کہا کہ یہ زمین واپس لوٹائو سرکارکو اور سرکار اسے لوٹائے اس کے بنیادی مالکوں کو۔ مالکوں کو64 کروڑ روپے کا جو معاوضہ ملا تھا‘ وہ اسے اپنے پاس رکھیں۔ اسے سرکار یا بلڈرکو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے پلاٹوں اور فلیٹوںکی خریداری کے سمجھوتوںکو بھی رد کر دیا ہے۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن درمیانی طبقے کے لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی بچت سے وہ چیزیں خریدی تھیں‘ ان کا کیا ہوگا؟ وہ تو بیچ میں ہی لٹک گئے۔ عدالت نے ان کا خیال کیوں نہیںکیا؟ ان کے ایک سو دس کروڑ روپے اب واپس کیسے لوٹیں گے؟ عدالت یہ بھی کر سکتی تھی کہ ان کی ملکیت بنی رہنے دیتی اور بلڈر سے سارے پیسے وصول کرکے سرکاری خزانہ میں جمع کروا دیتی۔
عدالت چاہتی تو اس سے بھی آگے جا سکتی تھی۔ وہ سارے فلیٹوںکو توڑنے کا حکم صادرکر دیتی۔ ان کے مالکوںکو سود سمیت ان کا پیسہ واپس کرواتی۔ اس کمپنی کی اور اس کے حصہ داروں کی سبھی ملکیت ضبط کر لیتی۔ اسی طرح ہریانہ سرکار کے دونوں وزرائے اعلی ‘ وزرا اور متعلقہ افسروں کی سبھی ذاتی ملکیت بھی ضبط کر لیتی۔ ان کے خاندان والوںکی بھی سبھی ملکیت ضبط کر لیتی۔ انہیں نیلام کر کے ان سیدھے سادے خریداروں کو معاوضہ دلواتی۔ جن افسروں نے اس زمین کے کاغذات پر دستخط کیے ہیں‘ انہیں نوکری سے نکالتی‘ جو ریٹائرہوگئے ہیں‘ ان کی پنشن روک دیتی۔
گنہگار ایم ایل ایز اور وزرا کی شہریت ختم کرتی۔ انہیں ووٹ دینے اور چنائو لڑنے سے محروم کرتی اور انہیں کم ازکم بیس بیس سال کی سزا دیتی۔ دیکھیں‘ پھرروہتک جیسی دھاندلی ملک میں دوبارہ کیسے ہوتی؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں