نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئندہ انتخابات میں آئی ووٹنگ اورای وی ایم کےاستعمال کامعاملہ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرشبلی فرازکی چیف الیکشن کمشنرسےملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں الیکشن کمیشن کےممبرسندھ اوربلوچستان بھی شریک
  • بریکنگ :- انتخابی ترمیمی بل 2021 پرعملدرآمدسےمتعلق تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- ای وی ایم اورسمندرپارپاکستانیوں کوووٹنگ کےحق پربات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- شبلی فرازکی پائلٹ ٹیسٹنگ کےلیےای وی ایم کی فراہمی کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی الیکشن کمیشن کوبھرپورمعاونت کی ہدایت،ملاقات میں گفتگو
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاکہناہےانتخابات میں جدت کاراستہ اختیارکیاجائے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن ای وی ایم کی خصوصیات بارےفیصلہ کرے،وفاقی وزیرشبلی فراز
  • بریکنگ :- رواں ماہ الیکشن کمیشن کی 3 کمیٹیاں رپورٹس جمع کرائیں گی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- حکومت اورالیکشن کمیشن میں کوآرڈی نیشن مزیدبہتربنانےکیلئےرابطوں پراتفاق
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

ہزارہ لوگوں کا قتل عام

کابل میں جن کا قتل عام ہوا ہے ‘انہیں ہزارہ لوگوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ہزارہ لوگوں کو چنگیز خان کے نسل سے منسوب کیا جاتا ہے ۔وہ فارسی بولتے ہیں ۔‘پشتو نہیں ۔پشتو پٹھانوں کی زبان ہے ‘جو سدا سے سنی فرقہ کو مانتے ہیں ۔ہزارہ شیعہ ہو تے ہیں ۔ان ہزارہ لوگوں کی ایران سے دلچسپی زیادہ ہے ‘کیونکہ ایرا ن کی زبان فارسی ہے اور شیعہ ہیں۔اس کے باوجود 6-5لاکھ ہزارہ لوگ آجکل پاکستان میں رہ رہے ہیں ۔افغانستان میں لگ بھگ ایک چوتھائی حصہ اِنہیں کاہے۔افغانستا ن میں آدم شماری کے حساب سے سب سے زیادہ پٹھان پھر‘ تاجک اور اس کے بعد ہزارائوں کا نمبر آتا ہے ۔یہ لوگ شروع سے افغانستان کے درمیانی علاقے بامیان میں رہتے ہیں ۔ 
بامیان وہی ہے جہاں بھگوان بدھ کی بڑی مورت پہاڑوں میں کھودی ہوئی تھی اور جسے طالبان نے توڑ ڈالا تھا ۔بامیان کافی بیک ورڈ علاقہ ہے ۔کابل کا یہ قتل عام اسی بامیان کو لے کر ہوا ہے ۔ہزارہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہوکر کابل میں اسی لیے مظاہرہ کر رہے تھے کہ جو بہت بڑی پاور لائن بن رہی ہے ‘اسے بامیان میں سے نہیں لے جایا جا رہا ہے ۔اس علاقے میں بجلی کی قلت ہے بلکہ نہ کے برابر ہے ۔لوگ انتہائی غریب ہیں ۔وہ کابل ‘ قندھار اور ہیرات جیسے شہروں میں جا کر پٹھانوں اور تاجکوں کے گھریلو نوکروں کی طرح کام کرتے ہیں ۔بہت کم ہزارہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں ‘خوشحال ہیں یا سیاست میں ہیں ۔صرف سلطان علی قستمند نام کے ہزارہ ببرک کارمل کے زمانے میں وزیراعظم بن سکے ہیں۔افغانستان میں' ہزارہ‘ ویسے ہی ہیں جیسے بھارت میں دلت ہیں۔طالبان نے ان پر زبردست ظلم کیے تھے ۔اب داعش کے دہشتگردوں نے کابل میں 80 سے زیادہ ہزارہ لوگوں کو مار ڈالا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں بھی جابل میں جب ہزرائوں کو مارا گیا تو کابل میں زبردست مظاہرے ہوئے تھے ۔طالبانی لیڈر ہزارہ لوگوں کو مسلم ہی نہیں مانتے ۔داعش کے وہابی لوگ یوں بھی شیعہ لوگوں کے خلاف ہیں ۔افغان صدر اشرف غنی نے اس قتل عام کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔وہ بدلہ کیا لیں گے ؟وہ خود کو اوراپنی سرکار کو بچائے رکھیں ‘یہی کافی ہے ۔
رشوت خوروں سے کیسے نمٹیں ؟
کسی رشوت خور لیڈریا افسر کے گھر والوں نے خود کشی کر لی ہو ‘ ایسا کبھی سنا نہیں لیکن دلی میں ایسا ہی ہوا ہے ۔یہ ابھی ثابت نہیں ہوا ہے کہ کارپوریٹ افیئرز وزارت کے ڈائریکٹر بی کے بنسل نے رشوت لی ہے لیکن انہیں ٹھوس ثبوتوں کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے ۔ان پر جانچ چل رہی ہے ۔آثار یہی ہیں کہ وہ مجرم ثابت ہوں گے ۔ جرم ثابت ہو‘اس سے پہلے ہی ان کی بیوی اور بیٹی نے خود کشی کر لی۔انکے گھر پر چھاپہ پڑاتھا ۔انہیں رنگے ہاتھ تو گرفتار کیا ہی گیا تھا ‘ گھنٹوں چلی جانچ سے پتا چلا کہ ان کے گھر میں نقد کروڑوں روپیہ کئی کلوگرام سونا اور کئی مکانوں کے ملکیت کے دستاویزبھی ملے ہیں۔ یعنی رشوت کا یہ سلسلہ پرانا ہے اور گھر کے لوگوں کو سب پتا تھا۔ابھی بنسل نے ایک ایسے معاملے کی جانچ رکوانے کے لیے رشوت مانگی تھی ‘جس میں ایک ٹھگ نے ہزاروں لوگوں کو ٹھگ لیا تھا۔بنسل کی زوجہ اور بیٹی کی موت کی خبر دردناک تھی لیکن اصلی سوال یہ ہے کہ جب بنسل رشوتیں لیتا رہا تھا ‘تب انہوں نے اسکی مخالفت کیوں نہیں کی؟انہوں نے اس سے کیوں نہیں پوچھا کہ اتنا پیسہ تم کہاں سے لاتے ہو ؟اسکا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے خود کشی رشوت کے خلاف نہیں کی بلکہ بدنامی کے ڈر سے کی!یہ بھی بڑی بات ہے ۔ہم تو ایسے سیکڑوں لیڈروں اور افسروں کو جانتے ہیں ‘جو رشوت کھاتے ہیں اور مونچھ کو تائو دیے گھومتے ہیں ۔ان پر الزام ثابت ہو جاتے ہیں‘تب بھی وہ بے شرمی سے جیے جاتے ہیں ۔
اسکا علا ج میں کئی بار اپنی تحریروں اور تقاریر میں سمجھا چکا ہوں۔ رشوت خور لیڈروں اور افسروں کی ساری دولت ضبط کی جانی
چاہیے ‘انکی نوکری اور پینشن ختم کرنی چاہیے ‘انکے سبھی دوستوں اور رشتہ داروں کی بھی سخت جانچ ہونی چاہیے ۔جس جس نے اس رشوت سے ظاہر یا غائبانہ فائدہ لیا ہو ‘ان سب کوکٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔مجھے خوشی ہے کہ اسی طرح کا ایک تاریخی فیصلہ جبل پور کے ایک افسر کے بارے میں اِدھر ہوا ہے ۔وزارت دفاع کے ایک منیم کے بیٹے ‘بہو اور بیوی کو بھی پانچ برس کی جیل ہوئی ہے ۔ رشوت کی رقم ان کے کھاتوں میں پکڑی گئی تھی ۔اس سزاکا ملک میں جتنا پرچار ہونا چاہیے تھا ‘نہیں ہوا ۔ملک میں سرکاریں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن رشوت خوری میں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘کیونکہ رشوت خور لیڈروں اور افسروں سے بڑے بے ایمان ہم خود ہیں۔ہم اپنے غلط کام کروانے کے لیے رشوت دیتے ہیں ۔اگر بھارت کا درمیانی طبقہ اور اعلیٰ طبقے کے لوگ یہ قسم لیں کہ وہ رشوت نہیں دیں گے تو رشوت کا بازار ایک دم ٹھنڈا پڑ جائے گا ۔ 
بھارت ‘پاک تل کا تاڑ؟
پاکستان کے سکولوں میں بھارتی سفارتکاروں کے بچوں کو ہٹایا جا رہا ہے ۔اس عام سی کاروائی کو لے کر نیوز رپورٹر حرکت میں آگئے ہیں ۔کل مجھ سے کئی ٹی وی چینلوں نے ردعمل لینے کی کوشش کی ۔جیسا کہ ہوتا ہے ‘وہ اس بات کو طول دینا چاہتے ہیں ۔وہ اپنے کروڑوں ناظرین کو بتانا چاہتے تھے کہ بھارت اور پاکستا ن کے تعلقات میں کتنی گراوٹ آگئی ہے ۔اس خبر کے ساتھ انہوں نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو 4 اگست کو پاکستان جانا چاہیے یا نہیں ؟انہیں سارک کے وزرائے داخلہ کی میٹنگ میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں؟انہیں پاکستانی وزیرداخلہ سے پٹھان کوٹ واقعہ کے بارے میں کھل کر بات کر نی چاہیے یا نہیں ؟دونوں ملکوں میں تنازع بڑھ گیا ہے اس کے نتیجے کی شکل میں نواز شریف اور سشما سوراج کے بیانوں کو دہرایا جا رہا ہے ۔میاں نواز نے 'یوم کشمیر‘پر کہہ دیا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا اور سشما بہن جی نے کہہ دیا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔
نواز اور سشما نے کون سی نئی بات کہہ دی ہے دونوں کی یہی باتیں سینکڑوں بار کہی جا چکی ہیں ۔یہ ہمارے دونوں ملکوں کا روایتی نمونہ بن گیا ہے۔ان بیانوںمیں سے کوئی تنائو ڈھونڈنا ایسا ہی ہے جیسا کہ گھاس کے ڈھیر میں سے موتی بیننا!جہاں تک بھارتی بچوں کو پاکستانی سکولوں سے ہٹانے کی بات ہے ‘یہ جون 2015ء میں ہی طے ہو گئی تھی ۔2014 ء میں پشاور میں مارے گئے 141 پاکستانی بچوں کے بعد ۔دہشتگردوں نے پاکستانی بچوں کو اتنی بے رحمی سے مار ڈالا ‘وہ ہندوستانی بچوں کو کیوں چھوڑیں گے ؟یہ ٹھیک ہے کہ اس فیصلے کو اب لاگو کیا گیا ہے جبکہ کشمیر میں ہنگامہ برپا ہے لیکن یہ مت بھولیے کہ یہ جولائی کا مہینہ ہے ‘جبکہ بھارتی سکولوں میں نیا سیشن شروع ہوتا ہے ۔اسکے علاوہ پاکستانی سکولوں میں کئی سفارتکاروں کے بچے وہاں نہیں رکھے جاتے اور پڑھائے جاتے ہیں ۔ان ملکوں میں امریکہ ‘برطانیہ‘جرمنی ‘فرانس ‘آسٹریلیا ‘کینیڈا وغیرہ کئی ملک ہیں۔کیاان ملکوں کا بھی پاکستان سے تعلق خراب ہو رہا ہے ؟کہنے کا مطلب یہی کہ تل کا تاڑ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ 
دلتوں کے نام پر نوٹنکی
گجرات کے اونا میں ہوئے واقع نے ملکی نوٹنکی کی شکل اختیار کر لی ہے ۔اس میں شک نہیں کہ مری گائے کی کھال نکالنے والے دلتوں کی پٹائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔پٹائی کرنے والے اپنے آپ کو گائے کا نگہبان کہتے ہیں ۔ان سے بڑا پاگل کون ہو سکتا ہے ؟مردہ گائے کی کھال نہیں نکالنے سے ان کی حفاظت کیسے ہو سکتی ہے ؟لیکن حیرانی ہے کہ اس مدعہ کو لے کر پارلیمنٹ کا وقت برباد کیا جا رہا ہے ‘سبھی پارٹیوں کے لیڈر اونا کے چکر لگانے میں جٹے ہوئے ہیں ‘زخمیو ں کے ساتھ زبردستی فوٹو کھنچوانے میں لگے ہوئے ہیں اور گائے کی کھال میں خوردبینی لگا کر اپنے اپنے ووٹ ڈھونڈھ رہے ہیں ۔ہمارے ان سپر لیڈروں نے تل کا تاڑبنا دیا ہے ۔نتیجہ یہ ہے کہ درجنوں دلت نوجوان خودکشی کر نے پر اتاروہیں ۔وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر بھی ہو سکتا ہے ؟ان گائے کے نگہبانوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ کھال اتارنے والے نے پہلے گائے کو مارا ہوگا۔گائے کو ذبح کرنا منع تو ہے ہی ۔سو انہوں نے مار پیٹ کر دی ۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گائوں کے یہ گائے نگہبان ان کھال اتارنے والوں کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہوں ۔گائے کے مارنے کا انہوں نے جھوٹا بہانہ بنا لیا ہو۔ان مارپیٹ کرنے والوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اس معاملے کو دلت اور غیر دلت کا معاملہ بنانا کہاں تک جائز ہے ؟پِٹنے والے لوگ مسلمان ‘عیسائی اور جنگلی بھی ہو سکتے تھے۔قصاب تو کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ہندو بھی ۔ایک مقامی معاملے کو ملکی نوٹنکی بنانا کیا ثابت کرتا ہے ؟کیا یہ نہیں کہ ہماری سبھی پارٹیاں ذہنی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے ۔؟کسی بھی لیڈر یا پارٹی نے ایسی ایک بات بھی نہیں کہی ہے ‘جس سے بھارت میں ذات پات کا خاتمہ ہو۔اونچ نیچ کا فرق ختم ہو ۔دلتوں اور محروموں کو انصاف ملے ۔ان پر ہو رہا صدیوں سے ظلم ختم ہو ۔اب مہارشی دیانند کی طرح ذات پات کے اونچ نیچ کی سخت لفظوں میں مذمت کرنے والاکیا کوئی سادھو ‘فقیر آج دکھائی پڑتا ہے ؟ذات توڑو تحریک چلانے والا کیا کوئی ڈاکٹر لوہیا آج ہمارے بیچ ہے ؟دلتوں اور محروموں کے نام پر ریزرویشن کی ملائی کھانے والا طبقہ اتنا طاقتور ہو گیا ہے کہ وہی اس نیچ ذات کا سب سے بڑا نگہبان ہوگیا ہے ۔کاش ‘کہ آج منوہر لوہیا اور امبیدکر زندہ ہوتے !آج کے لیڈروں کو نہ تو خودکشی کے لیے تیار نوجوانوں کی فکر ہے اور نہ ہی مایاوتی یا کسی کی عزت کی !وہ تو نوٹ اور ووٹ کے یار ہیں ۔ان کے تھوک ووٹ میں کمی ہو رہی ہے ‘اس لیے وہ پریشان ہیں ۔دلت پن اور محروم پن ختم کرنے کی فکر کسی کو نہیں ہے ۔جو ہورہا ہے ‘وہ پس نوٹ اور ووٹ کی نوٹنکی ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں