نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت ملی توملک قرضوں کی دلدل میں پھنساہواتھا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان ملکی ترقی وخوشحالی کیلئےکوشاں ہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- سابق حکمرانوں نےملکی پیسہ لوٹ کربیرون ملک جائیدادیں بنائیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برآمدات میں تیزی سےاضافہ ہورہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- (ن)لیگ دورمیں پاورلومزکوتالےلگےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- دنیانےکورونامیں پاکستان کی اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کوسراہا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم نےماحولیات سےمتعلق عمران خان کےاقدامات کی تعریف کی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پوری دنیامیں مہنگائی کا50 سالہ ریکارڈٹوٹ گیا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 10کروڑلوگوں کوکوروناویکسین لگاچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی ،(ن)لیگ نےاقتدارمیں آکرصرف اپنےبچوں کاسوچا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان اپنےمحلات نہیں غریب کوگھربناکردےرہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- گھروں کےلیے 90ارب کےقرضےمنظورہوچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- یہ لوگ ووٹ کوعزت دینےکی بات کرتےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 2،2ہزارروپےمیں ووٹ کوعزت دےرہےتھے،فرخ حبیب
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

تعلیم کی لاپروائی کرتا بھارت

بھارت کی 2011 ء کی آدم شماری (مردم شماری)رپورٹ کو اگر آپ دھیان سے پڑھیں تو آپ کو کئی چونکانے والے خلاصے ملیں گے ۔جیسے تعلیم کو ہی لے لیں آپ کو یہ جان کر افسوس ہوگا کہ ملک کے تقریباً8 کروڑ بچے ایسے ہیں ‘جو سکول جاتے ہی نہیں ۔ہربرس بیس پچیس کروڑ سکولوں میں بھرتی ہوتے ہیں ۔اگر اس میں ایک تہائی سکول کا منہ ہی نہیں دیکھتے تو اس کی ذمہ داری کس کی ہے ؟بھارت سرکار نے بچوں کی تعلیم کا قانون تو پاس کر رکھا ہے لیکن اسے نافذ کون کرے گا ؟یہ آٹھ کروڑ بچے بڑے ہوتے ہوتے پتا نہیں کتنے کروڑ ہو جائیں گے۔ ابھی ہماری سرکاریں دعویٰ کرتی ہیں کہ بھارت میں لگ بھگ 75 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھے کہ جس ملک میں ایک تہائی بچے سکول نہیں جاتے ‘اس میں 75 فیصد پڑھے لکھے کیسے ہو سکتے ہیں ؟اور پھر پڑھے لکھے ہونے اورتعلیم یافتہ ہونے میں بہت فرق ہے ۔اگر کوئی اپنا نام لکھ سکے اوراسے پڑھ سکے توتو اسے پڑھا لکھا کہہ سکتے ہیں لیکن وہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتا ہے ۔ بھارت میں بی اے اور ایم اے تک آتے آتے لگ بھگ 90 فیصدبچے پڑھائی چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔بھارت میں تعلیم کی جتنی لاپروائی اور خراب حالت ہے ‘ویسی کسی دنیا کے طاقتور اورخوشحال ملک میں نہیں ہے ۔ سرکار نے تعلیم کے حق کا قانون تو بنا دیا ہے لیکن جو والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے ان پر جرمانہ کیوں نہیں لگایا جاتا ؟تائیوان میں تو ایسے ماں باپ کے لیے سزا کا قانون ہے ۔اس کے علاوہ بھارت میں تعلیم اتنی مہنگی ہو گئی ہے ‘بچوں پر اتنی کتابیں لاد دی جاتی ہیں ‘امتحانات سے دل باغی ہو چکا ہے کہ غریب اور دیہاتی لوگ اپنے بچوں کو گھر میں ہی بٹھانا بہتر سمجھتے ہیں ۔اگر ہم بھارت کو طاقتوراور خوشحال ملک بنادیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اگلے پانچ برسوں میں سو فیصد تھوڑ اپڑھے لکھے ہونے کا اعلان کرنا پڑے گا ۔
رافیل سودا :استعمال ؟
بھارت نے فرانس کے ساتھ بڑے لڑاکو جہازوںکاسوداکیا ہے ۔کئی برسوں سے یہ سودا ہوا میں لٹکا ہوا تھا ۔کبھی جنگی جہازوں کی قیمتوں ‘کبھی دلالی کی افواہوں اور کبھی کسی دوسرے بہانے کی وجہ سے یہ ٹلتا جا رہا تھا لیکن بھاجپا سرکار کو مبارک کہ انہوں نے 36 رافیل طیاروں کا سودا کل مکمل کر لیا ۔فرانس میں بنے یہ جہاز تین سے چار ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں ۔یعنی چین سے لے کر ترکی تک اگر بھارت کوکسی ملک کے حملے کا مقابلہ کرنا ہو تو اب وہ کر سکتا ہے ۔روس سے خریدے گئے جہاز اب کافی پرانے ہو گئے ہیں ۔ اب وہ بھروسے لائق نہیں رہے ۔بھارت سرکار کو دیگر کئی ممالک نے اپنے جہاز بیچنے کی پیشکش کی لیکن ہمارے ماہروں نے انہیں ہی سب سے بہتر پایا ۔ان کی قیمت بھارتی 59000 کروڑ روپیہ ہیں ۔یہ جہاز جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور ہے ۔اس میں نہایت ہی طاقتور قسم کے ریڈار نصب ہیں اور چھ میزائل ایک ساتھ فائر کرسکتا ہے زمین سے 60 ہزار فٹ کی اونچائی سے دشمن پر ٹارگٹ کر سکتا ہے اور کئی خوبیوں کے ساتھ لیس ہے ۔اگلے پانچ برس تک ان جہازوں کے رکھ رکھاواور ایکسٹرا پرزوں کی ضرورت بھی فرانس پوری کرے گا ۔اس سودے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں دلالی اور رشوت کھائے جانے کا راستہ مکمل بند ہو گیا ہے ۔ اس میں شک نہیں رافیل جہازوں کا یہ سودا بھارت کی فضائی فوج کو بہت اونچا کر دے گا لیکن آج کل ہم جس حال میں ہیں ‘اس کے سبب یہ سوال دل میں اٹھتا ہے کہ ہم ہتھیاروں پر یہ جو اربوں روپیہ خرچ کر رہے ہیں ‘کیا ہماری فوج کا صرف دل بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں ؟بھارت پاک ایل او سی کے اند رجا کر ہم 30 - 35 کلومیٹر پر بھی کوئی جوابی کاروائی نہیں کرتے اور لڑاکو جہاز ایسے جٹا رہے ہیں کہ جو تین سے چار ہزار کلومیٹر تک مار کر سکیں ۔اگر دنیا کو خوفزدہ کرنے کے لیے ایٹم بم کافی ہیں تو سب اس ٹیم ٹام اور خرچ کی ضرورت کیا ہے ؟ہم اپنی فوجی قوت ضرور بڑھائیں لیکن اسے جنگ لگنے کے لیے چھوڑ نہ دیں ۔اتنے مہنگے ہتھیار ہم کیا صرف دکھانے یا سجانے کے لیے خریدتے ہیں ؟ 
''بویا تھا مودی‘نکلا من موہن ‘‘
مجھے ان دنوں لوگ فون کر رہے ہیں اور واٹس ایپ بھیج کر کہہ رہے ہیں کہ آپ دھوکا کھا گئے ۔آپ نے بویا تھا مودی اور اس میں نکلا من موہن !آپ کا یہ کہنا بھی فضول ثابت ہوا کہ کشمیر میں اب کھلے گی شو جی کی تیسری آنکھ !گزشتہ 10دنوں میں تیسری آنکھ تو کیا کھلی ‘باقی دونوں آنکھیں بھی بند ہو گئیں ۔ اڑی میں دہشتگردانہ کاروائی ہوئی اور ہماری 56 انچ کی یہ سرکار 6 انچ کاروائی بھی نہیں کر سکی ۔کورا زبانی جمع خرچ کرتی جا رہی ہے ۔بھارت کے
عوام کی آنکھوں میں صرف دھول جھونکتی جا رہی ہے ۔ادھر اس نے دو کاغذی گولے اچھالے ہیں ۔ایک تو اقوام متحدہ میں سشما سوراج کا خطاب اور دوسراسندھو پانی معاہدے کے تحت ڈیموں کی تعمیر تاکہ پاکستان کو ہماری ندیوں سے ملنے والے پانی میں کٹوتی ہو جائے ۔سشما سوراج کو مبارک کہ انہوں نے اپناخطاب ہندی میں دیا ‘جسے بھارت اور پاکستان کے عوام سمجھ سکتے ہیں ۔سشما جی اپنے لیڈروں میں سب سے بہتر ترجمان ہیں لیکن انہوں نے یواین اومیں کون سی ایسی بات کہی ‘جس سے دہشت گرد خوفزدہ ہو جائیں گے یا ان کو شہ دینے والے پست ہو جائیں گے ؟دنیا کے دوسرے ملک کیا ان کے خطاب سے متاثر ہوں گے ؟ جیسے کہ مودی نے ایک جملہ اگلا دیا ۔پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا ۔کیا مطلب ؟کچھ نہیں !فالتولفظی جال !خون کو روکنے میں تو مودی بن گئے من موہن ! نہ پٹھان کوٹ میں کچھ کر سکے اور نہ اڑی میں !پانی کو بھی وہ روک نہیں سکتے ۔سندھو پانی سمجھوتہ رد نہیں کر سکتے ۔صرف اپنی طرف کی ندیوں پر ڈیم بنا سکتے ہیں ۔ڈیم بن کر جب تیار ہوں گے ‘تب تک مودی پتا نہیں کہاں ہوں گے ۔یعنی خون بھی بہتا رہے گا اور پانی بھی!پتا نہیں ‘ ہماری سرکار کا یہ رویہ اتنا گول مال کیوں ہے ؟کہیں ایسا تو نہیں کہ اڑی کے حملے کے بارے میں ہماری سرکار بھی اندھیرے میں ہو ۔ اسے ابھی تک یہ ٹھیک سے پتا ہی نہ ہوکہ یہ حملہ آور کون تھے ۔کہیں خوداعتمادی کی اس کمی کے سبب ہی یہ 56 انچ کی زبان ہکلا تو نہیں رہی ہے ؟ایسا ہی ہے تو یہ من موہن ہونے سے بدتر ہے ۔من موہن کی خاموشی میں کم ازکم شان تو ہوتی تھی ۔یہاں تو خالص نوٹنکیاں چل رہی ہیں یوگ کی ایک مشق انولوم ولوم چل رہی ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں