نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنر سندھ عمران اسماعیل نےسندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظورنہیں کیا
  • بریکنگ :- کراچی:گورنر سندھ نے بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا
  • بریکنگ :- ڈی ایم سی کے خاتمےسےکوآرڈی نیشن کے مسائل پیداہوں گے،اعتراض
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

پاکستان میں عسکری کمان کی تبدیلی

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف 29 نومبر کو ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل انہوں نے اپنے الوداعی پروگرام شروع کر دیئے تھے۔ اُنہوں نے اس سلسلے میں مختلف گیریژنوں میں جوانوں اور افسروں سے الوداعی خطاب بھی کیا۔ اُن کی جگہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل 29 نومبر کو ایک بڑی تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ تبدیلی کا ایسا پرامن عمل گزشتہ بیس برسوں میں پہلی بار ہو رہا ہے ۔پاکستانی انتظامیہ میں فوج کی اہمیت سب سے اول ہوتی ہے ۔یہ ٹھیک ہے کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی وزیر اعظم کرتا ہے لیکن کرسی سنبھالتے ہی وہ فل فلیج فوجی سربراہ بن جاتا ہے ۔ اس لیے فوجی سربراہوں کو توسیع دینے کے لیے وزیراعظم مجبور ہو جاتے ہیں ۔جنرل ضیاالحق ‘پرویز مشرف اور کیانی کی مدت ملازمت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔جنرل راحیل شریف عوام میں بہت مقبول تھے ۔ انہوں نے بھارت کے خلاف سخت رخ اپنا رکھا تھا ۔انہیں میاں نواز کا قریبی بھی سمجھا جاتا تھا۔ پاناما پیپر ز کے سبب نوازکی پوزیشن کچھ کمزور بھی ہوئی تھی ۔جنرل شریف کو اپوزیشن کے سیاسی لیڈر سیاست میں آنے کی دعوت بھی دیتے رہے ہیں ۔تعجب نہیں کہ وہ خود کی درخواست پر ہی ریٹائر ہو رہے ہیں تاکہ وہ کھل کر سیاست کر سکیں۔ ابھی انہیں عہدے سے ہٹنے میں کچھ دن ہی باقی تھے لیکن پھر بھی بعض لوگ اس وہم کا شکار تھے کہ اسلام آباد میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ایک بھارتی ہونے کی حیثیت سے میرا اندازہ ہے کہ نوازشریف نے فوجی سربراہ کے طور پر ایک ایسے جنرل کی اس عہدے پر تقرری کی ہے جو بھارت پاک تعلقات میں اڑنگا نہیں لگائے گا۔ لیکن پاکستان میں بھارتی خوف نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ فوج کی عبارت ہی پتھر کی لکیر ہوتی ہے ۔کیا ہی اچھا ہو کہ بھارت سرکار دونوں ملکوں کے فوجی رشتوں کا نیا پل کھڑا کرے ۔نریندر مودی اور نواز شریف کے پاس اب بہت کم وقت بچا ہے ‘وہ اپنے شروعاتی دور کو اچھائی کی پروان چڑھا سکیں ۔
مودی دیرآید ‘درست آید
8 - 9 اکتوبر کو جب نوٹ بندی کا اعلان ہوا‘اسی دن میں نے کہا تھا کہ یہ سرکار تیس دسمبر کے ایک ہفتہ پہلے یہ کر سکتی ہے کہ سبھی کالے دھن والوں کو بڑی چھوٹ دے دے ۔سرکار نے دسمبر تو کیا نومبر میں ہی یہ چھوٹ دینے کے اشارے دے دیے ہیں ۔پتا چلا ہے کہ جو بھی اپنا کالا دھن بینکوں میں جمع کرائے گا ‘اگر اس کا ذریعہ اس نے بتا دیا تو اسے پچاس فیصد انکم ٹیکس دے کر نجات مل جائے گی ۔اگر وہ ذریعہ چھپانا چاہے گا یا ٹھیک سے نہیں بتائے گا تو اسے ساٹھ فیصد کر (ٹیکس) بھرنا پڑے گااور جرمانہ بھی ۔اگر انکم ٹیکس افسروں نے کسی خفیہ دھن کو پکڑ لیا تو اس پر 90 فیصد کر(ٹیکس) نافذ ہو جائے گا ۔ 
سرکار نے اتنی ڈھیل ایک ماہ پہلے ہی کیوں دے دی ؟اس لیے دے دی کہ اگر وہ ڈھیل نہیں دیتی تو تیس دسمبر تک اس کے ہاتھ کروڑوں اربوں تو کیا کوڑیاں بھی ہاتھ نہیں لگتیں۔ لوگ اتنی تیز رفتار سے کالے کو سفید کر رہے ہیں کہ سرکار ہاتھ ملتے ہی رہ جاتی۔سرکار نے جون میں جب 45 فیصد ٹیکس کی چھوٹ کا لوگوں سے کہا تھا کہ اپنا کالادھن ظاہر کر لو چار ماہ میں صرف 65 ہزار کروڑ روپیہ سامنے آئے لیکن ابھی دو ہفتوں میں جن دھن بینکوں میں 65 ہزار کروڑ آگئے ۔کوئی تعجب نہیں کہ تیس دسمبر تک یہ آنکڑہ دوتین لاکھ کروڑ ہو جائے ۔سرکار اس پر ایک کوڑی بھی ٹیکس نہیں کما پائے گی اس کے علاوہ بھی کروڑوں لوگوں نے کرائے کی قطاریں لگوا کر اربوں روپیہ کے نئے نوٹ ہڑپ لیے ہیں ۔مودی کی عظیم اور انقلابی پہل کو بھی انہوں نے کٹ گھرے میں کھڑا کردیا ہے۔
اگر پہلے ہی دن مودی نوٹ بندی کے ساتھ ساتھ چھپے دھن کو ظاہر کرنے پر پچاس فیصد چھوٹ کا اعلان کر دیتے تو ابھی تک پتا نہیں کتنے ارب کھرب کا کالا دھن ظاہر ہو جاتا ۔سرکا ر کا خزانہ ٹیکس سے بھر جاتا ۔ اربوں کھربوں کا کالا دھن جو باہر ملکوں میں چھپا ہوا ہے ‘اس کا بھی کچھ حصہ ضرور ظاہر ہوتا ۔وہ ساراا ضافی دھن بھارت کے لوگوں کی تعلیم اور علاج پر خرچ ہو جاتا اور نئی صنعتوں میں لگ جاتا۔ لیکن نریند رمودی کی نیند ابھی بھی جلدی ہی کھل رہی ہے ‘یہ اچھی بات ہے ۔انہیں اپنا سخت رویہ چھوڑ کر لچکیلا پن رخ اپنا نا چاہیے ۔گزشتہ ڈھائی ہفتوں میں جو اقتصادیات کو ٹھیس لگی ہے ‘اس کی بھرپائی اگلے ڈھائی سال تک شاید نہیں کر پائیں گے پھر بھی ابھی تو انہوں نے عہدہ وزیراعظم پر جنوری کے بعد بھی ٹکے رہنے کا راستہ نکال لیا ہے۔ انہوں نے آٹھ اکتوبر کو ایسی چھلانگ مار دی تھی کہ وہ اپنے عہدہ وزیراعظم اور اکانومی کو لے بیٹھتے ۔اب شاید دونوں ہی بچ جائیں ۔ 
والد کوفرزندکا تاریخی تحفہ 
اُناؤ میں لکھنؤآگرہ ایکسپریس وے کاگزشتہ دنوں ا فتتاح ہوا۔ اس ایکسپریس وے کی تعمیر کا سارا کریڈٹ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو سرکار کو ہے ۔وزیراعلیٰ اکھلیش کمار کے دعوت نامے پر میں بھی اس تقریب میں شامل ہو ا۔ہیلی کاپٹر سے ملائم سنگھ جی‘ عزیز قریشی ' سابق گورنر‘شوپال یادو ‘جیا بچن وغیرہ ہم لوگ افتتاح کے موقع پر پہنچے ۔وہاں پہنچے تب تک ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ آج ہم اتر پردیش ہی نہیں ‘بھارت کی ایک تاریخی تقریب میں حصہ لے رہے ہیں ۔تاریخی اس لیے کہ یہ بھارت کا ایسا پہلا ایکسپریس وے ہے ‘جس کی لمبائی 302 کلومیٹر ہے ۔اتنا لمبا روڈ اس سے پہلے کسی سرکار نے نہیں بنایا ۔نہ تو کسی صوبائی سرکار نے اور نہ ہی کسی وفاقی سرکار نے !اتر پردیش کی سماج وادی سرکار کی یہ عجیب سوغات تو ہے ہی ‘اس سے بڑی بات یہ ہے کہ جو سڑک پانچ سال میں بننی تھی ‘وہ محض 23 ماہ میں بن گئی۔یہ نوجوان وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کا کرشمہ ہے ۔اس سڑک کو بنانے کے لیے سیکڑوں کسانوں سے زمین لی گئی لیکن نہ تو کسی کسان نے خود کشی کی اور نہ ہی ویسا شورمچایا ‘جیسا کہ آجکل نوٹ بندی کے سبب مچا ہوا ہے ۔یہ سڑک صرف اتر پردیش کے لوگوں کے لیے ہی نہیں ‘سارے بھارت کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگی۔اس نے دس بارہ گھنٹے کے سفر کو کم کر کے دو ڈھائی گھنٹے کا کر دیا ہے ۔اب اربوں روپیہ کا پیٹرول خرچ ہونے سے بچے گا۔ ابھی یہ چھ لین کی سڑک ہے ۔اسے آٹھ لین کا بنایا جا سکتا ہے۔ اس پر پندرہ ہزار کروڑ (ایک کھرب 50 ارب) روپیہ لگنے تھے۔ یہ تیرہ ہزار کروڑ (ایک کھرب تیس ارب) روپیہ میں ہی بن گیا۔ اس روڈ پر ہوائی جہاز بھی آسانی سے اتر سکتے ہیں ۔سکھوئی اور میراج لڑاکو جہازوں کو ہمارے سامنے اترتے دیکھنا اپنے آپ میں ایک تجربہ تھا ۔جنگ کی حالت میں ہماری فوج کے لیے یہ روڈ تحفہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ افتتاحی تقریب کی تقریر میں‘ میں نے ملائم سنگھ جی کو کہا کہ بھائی آپ کے بیٹے نے لکھنؤ آگرہ سڑک بنائی ‘آپ کشمیر سے کنیا کماری تک کی سڑک بنانے کا عزم کیوں نہیں کرتے؟ آپ اپنے بیٹے پر فخر کریں کہ اس نے آپ کو جنم دن پر اتنی شاندار سوغات دی ہے ‘جس سے کروڑوں لوگوں کو غیر معمولی سہولیات ملتی رہیں گی ۔کیا کوئی بیٹا اپنے والد صاحب کو اس سے بہتر عزت دے سکتا ہے۔ واضح رہے ملائم جی کی تاریخ پیدائش 22 نومبر ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں