نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- محکمہ تعلیم سندھ نےسردیوں کی تعطیلات کانوٹیفکیشن جاری کردیا
  • بریکنگ :- سردیوں کی تعطیلات 20 دسمبرسےیکم جنوری تک ہوں گی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- 3جنوری سےاسکولوں اورکالجزمیں کلاسزکاباقاعدہ آغازہوگا،نوٹیفکیشن
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

بھارتی آرمی چیف کے بیان پر تُو تُو میں میں

بھارتی چیف آف آرمی جنرل بپن راوت کے بیان پر عجیب قسم کی سیاست ہو رہی ہے۔بھاجپا اور کانگریس کے چھوٹے موٹے لیڈروں اور ترجمانوں نے بیانات کی جھڑی لگادی ہے ۔دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو غداروطن ثابت کرنے پر اتارو ہو گئی ہیں ۔ جنرل راوت نے یہی تو کہا ہے کہ کشمیر کے نوجوان اگر پتھر مارتے ہیں تشددکرتے ہیں توان کے ساتھ سختی برتی جائے گی ۔فوج کا کام کیا ہوتا ہے ؟ کیا اس کا کام لوگوں میںرس گُلے بانٹنا ہوتا ہے یا چکن بریانی کھلانے کا ہوتا ہے ؟جب سرکار کو سختی کرنی ہو‘تشددکرنا ہو لوگوں کو ڈرانا ہو یا مارنا ہو یا دشمنوں سے لڑنا ہو تو فوج کا استعمال ہوتا ہے ۔آج کل کشمیر میں یہ نیا پینترا چلا گیا ہے کہ لوگ فوج اور پولیس پر بے شمار پتھر برساتے ہیں ۔ایسے میں فوجی کیا کرتے ہیں ؟جن کے ہاتھ میں پتھر ہے ‘وہ پتھر چلاتے ہیں ۔آپ کیا چاہتے ہیں ؟پتھروں کے جواب میں پولیس اور فوجی بھی پتھر چلائے؟اسی لیے جنرل راوت نے جو بیان دیا ہے ‘وہ فطری ہے ۔وہ تو بیان بھر ہی ہے ۔اس کا مقصد ڈر پیداکرنا ہے تاکہ پتھر بازی بندہو یا کم ہو جائے ۔لیکن ہماری سرکار یا فوج کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری لوگ بھی بھارتی باشندے ہیں ‘ ہمارے بھائی ہیں ‘ان پر ظلم کرنا بھی ٹھیک نہیں ۔اگر کچھ گمراہ نوجوان پتھر برساتے ہیں تو ان کو روکنا ضرور چاہیے لیکن ان کی آنکھیں پھوڑ ڈالنا‘ہاتھ پائوں توڑ دینا اور مار دینا ٹھیک نہیں ہے ۔یہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال ہے ۔گزشتہ دنوں ہزاروں نوجوان اس کے شکار ہوئے ہیں ۔ہماری پارلیمنٹ نے اس واقعہ پر دھیان دیا اور سرکار نے زخمیوں کے علاج کا خاص بندوبست کیا بھارتی فوج مہذب ہے ۔وہ بڑی مشکلات کا سامنا کرتی ہے ۔وہ ہر قیمت پر ملک کی حفاظت کرتی ہے ۔اس کی ٹانگ کھچائی کرنا مناسب نہیں ہے لیکن فوج کے افسر بھی متنازع بیان دینے سے بچیں توبہترہوگا۔ 
جسٹس کرنن لڑیں ضرورلیکن...
کولکتہ ہائی کورٹ کے سی ایس کرنن نے اب ایک نئی بحث کو چھیڑ دیا ہے ۔ویسے بھی جب مدراس کورٹ میں تھے ‘تب انہوں نے اپنے ساتھی ججوںکے خلاف حکم نامے جاری کیے تھے ۔انہیں سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ مدراس ہائی کورٹ کے کئی جج بدعنوان ہیں ۔ انہوں نے عدالت میں چل رہے چھوٹے موٹے کرپٹ لوگوں کے خلاف ایک مشن سا چھیڑ رکھا ہے ۔سپریم کورٹ کے سات ججوں کے بینچ نے اسے عدالت کی توہین مانا ہے ۔اور انہیں 13 فروری کو کورٹ میں پیش ہونے کاحکم صادر کیا ہے ۔کرنن کا ماننا ہے کہ یہ حکم غیر قانونی ہے ۔سپریم کورٹ نے کرنن کے ذریعے دیے جا رہے فیصلوں پر بھی روک لگا دی ہے ۔کرنن نے اس حکم کو ناجائز اور غیرقانونی کہنے کے لیے بہت ہی کمزور دلیل کا سہارا لیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے یہ سبھی اونچی ذات کے ہیں ‘اس لیے وہ سب ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہیں ۔سپریم کورٹ ایساکرکے آئین میں دیے گئے انسانی حقوق کی نافرمانی کررہی ہے ۔اوردلت طبقہ پر ظلم بھی کررہی ہے ۔ ایسی دلیل دے کر کرنن نے اپنی لڑائی کو کمزور کر لیا ہے ۔یہ ذات پا ت کا نسخہ ان پرالٹابھی پڑسکتا ہے۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے ججوں پر کرپٹ ہونے کے الزام اس لیے لگا رہے ہیں کہ ان کے دل میں جلن ہے کہ وہ سپرکاسٹ ہیں اور کرنن خوددلت ہیں ۔کرنن نے سپریم کورٹ کے سیکرٹری کو جو شکایتی خط بھیجا ہے‘اس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے معاملے پر تبھی غور کیا جائے گا ‘جب چیف جسٹس جے ایس کھیہر ریٹائر ہو جائیں ۔یہ سب لکھ کر کرنن نے اپنی پوزیشن مزاحیہ بنا لی ہے ‘بھارتی عدالتوں کو بھی وہ بدنام کر رہے ہیں ۔جہاں تہاں ہورہی بدعنوانی کے خلاف لڑنا اچھی بات ہے ‘بڑی ہمت کا کام ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اچھے اور ہمت والے کام کرتے وقت آدمی اپنی شان وشوکت کو طاق پر رکھ دے ۔بھارتی ہی نہیں ‘دنیا کی ساری عدالتوں میں سے بدعنوانی کی شکایات آتی رہتی ہیں ۔لیکن ان سے لڑنے کا جو طریقہ کرنن نے اپنایا ہے ‘وہ تنقید کے لائق ہے ۔پتا نہیں ‘کرنن سپریم کورٹ کے سامنے خود کو پیش کریں گے یا نہیں لیکن پارلیمنٹ چاہے تو ان کو سدن میں حاضر کرکے ان کی زیادتی کو ذرا گھسے لیکن ان کی باتوں پر بھی ذرا دھیان دے ۔ 
پاکستان میں ویلنٹائن ڈے
ویلنٹائن ڈے جس طرح بھارت اور پاکستان میں منایا جاتا ہے ‘ اس کی مخالفت ہونا فطری ہی ہے ۔اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے پورے پاکستان میں 'ویلنٹائن ڈے ‘پر پابندی لگادی ۔اسے اسلام کے خلاف ماناگیا ہے ۔جیسے بھارت میں شوسینا‘بجرنگ دل اور وشواہندوپریشدوغیرہ اس ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کرتے ہیں ‘بالکل ویسے ہی پاکستان میں کئی تنظیمیں اس کے خلاف ہر 14 فروری کو مورچہ لگا دیتی ہیں ۔غنیمت ہے کہ بھارت میں اس پر قانونی بندش نہیں ہے ۔ یوں بھی اس کا بخار اب اتر چکا ہے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ ویلنٹائن کی اصلی کہانی کو جانے بنا ہی ویلنٹائن ڈے کی حمایت ہوتی ہے اور مخالفت بھی ہوتی ہے ۔اس کی حمایت مغربی ممالک میں اس لیے ہوتی ہے کہ وہاں نوجواں لڑکے لڑکیوں کو اس بہانے کافی آزادی مل جاتی ہے ۔وہ ایک دوسرے سے کافی چھوٹ لے لیتے ہیں ۔جیسے ہولی پر ہمارے یہاں بہت سے مرد اور عورت سر پر گلال لگانے کے بہانے لکشمن ریکھا پارکرجاتے ہیں اور ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔مغربی ملکوں میں اس دن نوجوان ایک دوسرے کو تحفہ پیش کرتے ہیں ‘گریٹنگ کارڈز بھیجتے ہیں ‘دعوتیں کرتے ہیں ۔ان باتوں سے ایک ہی دن میں کروڑوں اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے ۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں کی موج ہوجاتی ہے ۔ویلنٹائن ڈے کی ہمارے یہاں مخالفت اس لیے ہوتی ہے کہ اسے ہمیں بھارتی روایت کے مطابق مانتے ہیں جبکہ بھارت اور پاکستان میں جو لوگ اپنے آپ کو جدید سمجھتے ہیں ‘وہ حقیقت میں نقلچی ہوتے ہیں ۔بسنت تہوار ‘مدن تہوار ‘بسنت پنچمی یا پتنگوں کا تہوار ماننے کی بجائے بسنت کا استقبال ویلنٹائن ڈے کی شکل میں کرتے ہیں ۔ اگر ہم بسنت متعلق اپنے تہواروں کو ٹھیک سے سمجھ لیں تو بیچارہ 'ویلنٹائن ڈے ‘ توان کے آگے پانی بھرے ۔یوں بھی ویلنٹائن ڈے سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے ۔لیلیٰ مجنوں اور ہیر رانجھا کے لوگوں کو اس ویلنٹائن ڈے سے کیوں ڈرنا چاہیے ‘جسے روم کے شہنشاہ کلوڈیم دویم کو اس لیے جیل میں بند کر دیا گیا تھا کہ وہ کنوارے فوجیوں کی شادی کروادیا کرتا تھا ۔اس نے کبھی بالادستی کا پرچار نہیں کیا ۔ شہنشاہ نے اسے پھانسی پر لٹکایا ‘اس کے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو جو خط لکھا اس کے آخری الفاظ تھے 'تمہارے ویلنٹائن کی اور سے ‘!یہ پریمیوں کا گرو منتر بن گیا ۔پیار سے بڑی طاقت دنیا میں کوئی اور نہیں ہے ۔ویلنٹائن ایک عاشق فقیر تھا۔محبت کا مسیحاتھا ۔اس کی حمایت اور مخالفت کرتے وقت ہم اس حقیقت کو نہ بھولیں ۔
اچھے دہشتگرداور برے دہشتگرد 
پاکستان میںگزشتہ ہفتے دہشتگردوں کے حملے میںلگ بھگ سو لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔پنجاب اور سندھ کی درگاہوں پر اکٹھے ہوئے یہ لوگ کون تھے ؟ عرب ممالک کی دہشتگرد جماعت‘داعش نے خطے میںاپنی جڑیں پھیلا دی ہیں ۔مغربی عظیم قوتوں نے اربوں روپیہ اس علاقے میں پھونک دیے لیکن اس کی اقتصادی حالت بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔ماسکو میں ابھی ابھی ہوئے چھ ملکی اجلاس میں افغان حالات پرسبھی ملکوں نے فکر ظاہر کی لیکن روس ‘ چین ‘ایران اور پاکستان نے دہشتگردی کے بنیادی مدعہ پر دھیان نہیں دیاانہوں نے صرف شام ‘عراق وغیرہ سے آرہے دولت اسلامی (آئی ایس آئی ایس)کے خطرے پر غور کیا ۔انہیں صرف اپنی پڑی ہوئی ہے ۔ انہوں نے پاکستان کو یہ صلاح کیوں نہیں دی کہ وہ دہشت گرداور قتل و غارت گری کرنے والوں کو بنیاد سے ختم کریں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں