نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنر سندھ عمران اسماعیل نےسندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظورنہیں کیا
  • بریکنگ :- کراچی:گورنر سندھ نے بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا
  • بریکنگ :- ڈی ایم سی کے خاتمےسےکوآرڈی نیشن کے مسائل پیداہوں گے،اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیم سےمیونسپل کارپوریشن پراپرٹی ٹیکس سےمحروم ہو جائےگی،اعتراض
  • بریکنگ :- خفیہ ووٹنگ سےلوکل باڈی سطح پر ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے،اعتراض
  • بریکنگ :- دیہی علاقہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا حصہ نہیں ہوسکتا،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیمی بل کانوٹیفکیشن آئین کے خلاف ہے،گورنر سندھ کا اعتراض
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

یہ بچوں کی موت نہیں ‘قتل ہے!

گورکھپور کے میڈیکل کالج میں تیس معصوم بچوں کی موت ہوئی ہے یا قتل ہوا ہے ‘یہ کون طے کرے گا ؟یہ موت نہیں قتل ہے ۔اور یہ قتل اس لیے شرمناک ہیں کہ یہ گورکھپور میں ہوئے ہیں ‘جو وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا اپنا حلقہ ہے ۔یوگی ابھی تین دن پہلے اس ہسپتال میں ایک نئے شعبہ کا افتتاح کرنے گئے تھے ۔اتنا ہی نہیں‘اس ہسپتال کو اترپردیش کے مشرقی علاقہ کا سب سے بڑا ہسپتال مانا جاتا ہے ۔یوگی نے بطور پارلیمنٹ ممبر اسی ہسپتال میں جاپانی بخار کے علاج پر ہنگامہ کھڑا کیا تھا ۔گورکھپور کے اس ہسپتال میں ہوئے اس دردناک واقعہ نے یوگی سرکار کا منہ کالا کر دیا ہے ‘حالانکہ اس میں یوگی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ایسا واقعہ گورکھپور میں ہوجائے ‘اس کا مطلب کیا ہے ؟صاف ظاہرہے ۔اس ہسپتال کے افسروں کو سرکار کا ذرا بھی ڈر نہیں ہے۔انہیں یوگی کی عزت کی پروا نہیں ہے ۔جس سرکار میں مجرم ڈرتے نہ ہوں اور جس کی عزت اس کے گھر میں نہ ہو ‘وہ سرکار بھی کیا سرکار ہے ؟اس حادثہ نے یوگی سرکار کو اتنا جھٹکا دے دیا ہے کہ وہ اپنے پورے دور میں اس سے باہر نہ آ پائے گی ۔یوگی کا جو بھی ہو‘اس حادثہ نے ملک کے کروڑوں لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ یہ کل اور آج سب سے بڑی خبر بنی ہے ۔ ظاہر ہے کہ سرکاری ہسپتال میں کس کے بچے ہوںگے ؟لیڈروں ‘افسروں اور مالدار لوگوں کے بچے تو ہمیشہ ہی پرائیویٹ ہسپتال میں جاتے ہیں ۔یہ بچے ان لوگوں کے ہیں ‘ جن کی آمدنی کم ہے ‘جو مڈل کلاس ہیں ‘جو غریب ہیں اور جو بے زبان ہیں ۔ان کے قتل کے ذمہ دار افسر کیا صفائی پیش کر رہے ہیں ؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ بچے آکسیجن کی سپلائی بند ہونے سے نہیں ‘دوسری بیماریوں کے سبب مرے ہیں ۔جبکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی نے سپلائی اس لیے بند کر دی تھی کہ ہسپتال نے اس کے بقایا 68 لاکھ روپے نہیں دیے تھے ۔ اس کمپنی نے کئی وارننگز کے بعد آکسیجن بند کی تھی ۔آکسیجن کا بند ہونا ضلعی افسر بھی قبول کر رہے ہیں کہ آکسیجن بند ہوتے ہی افراتفری مچ گئی تھی ۔کئی ڈاکٹر اور بچوں کے والدین ٹیکسیوں اور ذاتی کاروں میں آکسیجن سلنڈر ڈھو ڈھو کر لا رہے تھے ۔اگر ان والدین میں کچھ وزیر ہوتے ‘کچھ ایم پی ‘کچھ ایم ایل ایز ہوتے ‘کچھ کلیکٹر کمشنر ہوتے ‘کچھ وکیل اور جج ہوتے تو شاید ان بچوں کابے رحمی سے قتل نہ ہوتا ۔ آکسیجن کی دستیابی ہوجاتی ۔68 لاکھ روپیہ کے لیے تیس بچوں کی قربانی نہیں ہوتی ۔اس لیے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ سرکاری ہسپتالوں کی حالات سدھارنا چاہتے ہیں تو ایم پیز‘ایم ایل ایز اور سبھی سرکاری ملازمین کے لیے یہ لازمی کیجئے کہ وہ خود کا اور اپنے عزیزوں کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہی کروائیں !
وینکیا اور انصاری :دونوں درست
صدرپرنب دا کی رخصتی جتنی شان سے ہوئی ‘اتنی نائب صدر حامد انصاری کی بھی ہوتی تو اچھا رہتا۔انصاری دوبار لگاتار نائب صدر رہے۔اور کون دوبار رہا ؟صرف ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشن !انصاری نے اپنے عہدہ پر کام دس برس بخوبی کیا لیکن ان کا یہ آخری ہفتہ بحث کا مدعہ بن گیا!کیوں بن گیا؟کیوں کہ انہوں نے بنگلور کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے اور راجے سبھا ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہہ دیا کہ ہمارے دلتوں ‘مسلمانوں اور عیسائیوں میں غیر محفوظ ہونے کا ڈر گھس گیا ہے ۔ان کی اس بات نے طول پکڑ لیا کہ یہ لفظ اپوزیشن بھی لگاتا ردہراتی رہی ہے ۔ان الفاظ کو تیر کی طرح مودی سرکار پر لگاتار برساتے رہے ہیں جبکہ نریندر مودی نے ان نگہبان گائے کے لوگوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔تشدد کی یہ کارروائیاں بظاہر اِکا دُکا ہیں ۔ انہیں پکڑ کر فضول طول دیا جا رہا ہے لیکن اس طول دینے نے ہی ڈر کا ماحول پیداتو کیا ہے ۔اس سے ہم کیسے انکار کر سکتے ہیں ؟یہ ماحول نقلی ہے لیکن ہے ۔اسی کا ذکر انصاری نے کیا ہے ۔نائب صدر منتخب ہوئے وینکیا نائیڈونے بھی ٹھیک کہا ہے کہ اقلیت جتنی بھارت میں محفوظ اور عزت سے ہیں ‘دنیا میں کہیں نہیں ہیں ۔میں خود گزشتہ پچاس برسوں میں اپنے بیرونی دوروں کے دوران اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ‘روس کے ازبکوں ‘ تاجکوں ‘امریکہ کے نیگرو اور افغانستان کے ہزراؤ ں کی جو حالت ہے ‘اس کے مقابلے بھارت کے مسلمان اور عیسائی کافی بہتر ہیں ۔میرے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ وینکیا اور انصاری کی باتوں میں کوئی ٹکرائو نہیں ہے ۔ دونوں باتیں ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں ۔اس لیے حامد انصاری جیسے اچھے انسان ‘محب وطن اور دانشو رآدمی کو جناح کا اوتار کہنا قطعی مناسب نہیں ہے خودانصاری مشہور آزادی کی ہیرو کے خاندان سے آتے ہیں ۔
جیسے مودی ‘ویسی سونیا
ہماری پارلیمنٹ میں 9اگست کو 75 واں برس کیسے منایا گیا ؟ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کو اس 'بھارت چھوڑ و‘تحریک کا صحیح صحیح نام ہی پتا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ 'بھارت چھوڑ و‘تحریک کا نعرہ تھا۔'کریں گے یا مریں گے ‘۔نعرہ یہ نہیں تھا ۔'کرویا مرو‘۔یہ غلطی معمولی غلطی نہیں ہے ۔ایسی غلطی پانچویں چھٹی جماعت کا بچہ بھی نہیں کریگا ۔جو آدمی تحریک کے خاص نعرے کو ہی نہیں جانتا ‘اس کو اس نعرہ کی کتنی سمجھ ہوگی ؟اسے کیا پتا کہ کہ اس میں گاندھی جی کا کردار کیا تھا ‘سردار پٹیل کا کیا تھا اور نہرو کا کیا تھا ؟آریہ سماج اور سنگھ جیسی غیرسیاسی پارٹیوں کا رول کیا تھا ؟ایسا نہیں کہ مودی ان پڑھ آدمی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری ہے ۔اگر نہ بھی ہوتی تو کیا ہوا؟وہ بھارت کے وزیراعظم ہیں ۔ایک سے ایک تاریخ کے ماہر اورافسر ان کی خدمت میں رہتے ہیں ۔وہ ان سے ہی پوچھ لیتے ۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ٹھیک ہی بتایا ہو لیکن مودی تو تک بندی کے شوقین ہیں ۔انہوںنے تک بھڑائی کے 'کریں گے اور کر کے رہیں گے‘۔ اس تُک بندی کی خاطر انہوں نے اپنا مذاق اڑوالیا ۔خیر ‘ یہ توعادت کی مجبو ری ہے لیکن ان کی تقریر میں بار بار گاندھی کا نام ہے لیکن جواہر لعل نہروکا کیوں نہیں تھا؟اگر وہ نہرو کا نام بھی لیتے تو وہ اپنی ہی عزت بڑھاتے ۔ان سے میں یہ امید نہیں کرتا ہوں کہ وہ بال گنگا دھر تلک ‘لاجپت اور وپن چندر کا نام لیتے ۔انہوں نے عزم کیا ہے( 2017 ء سے2022 ء)کا جو نعرہ دیا ‘وہ تو لائق تعریف ہے لیکن اس کی برابری 1942 ء 1947ء کے دور سے کرنا تو مزاحیہ ہے ۔ اپوزیشن لیڈراور کانگریس کی صدر سونیاگاندھی نے تو مودی کو بھی مات کردیا ۔اس تاریخی موقع پر تقریر کرنے کی بجائے بھارت کی موجودہ سرکار کو کوسنے میں لگی رہیں ۔سونیا ہندی میں بولیں ‘میں خوش ہوا لیکن انہوں نے جوکچھ بولا ‘اس نے انہیں مودی سے بھی نچلے پائدان پر اتار دیا ۔جب ہمارے ملک کے اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لیڈروں کا حال یہ ہو تو کیا کیا جائے ؟ آکسیجن کا بند ہونا ضلعی افسر بھی قبول کر رہے ہیں کہ آکسیجن بند ہوتے ہی افراتفری مچ گئی تھی ۔کئی ڈاکٹر اور بچوں کے والدین ٹیکسیوں اور ذاتی کاروں میں آکسیجن سلنڈر ڈھو ڈھو کر لا رہے تھے ۔اگر ان والدین میں کچھ وزیر ہوتے ‘کچھ ایم پی ‘کچھ ایم ایل ایز ہوتے ‘کچھ کلیکٹر کمشنر ہوتے ‘کچھ وکیل اور جج ہوتے تو شاید ان بچوں کابے رحمی سے قتل نہ ہوتا ۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں