نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنر سندھ عمران اسماعیل نےسندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظورنہیں کیا
  • بریکنگ :- کراچی:گورنر سندھ نے بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا
  • بریکنگ :- ڈی ایم سی کے خاتمےسےکوآرڈی نیشن کے مسائل پیداہوں گے،اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیم سےمیونسپل کارپوریشن پراپرٹی ٹیکس سےمحروم ہو جائےگی،اعتراض
  • بریکنگ :- خفیہ ووٹنگ سےلوکل باڈی سطح پر ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے،اعتراض
  • بریکنگ :- دیہی علاقہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا حصہ نہیں ہوسکتا،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیمی بل کانوٹیفکیشن آئین کے خلاف ہے،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- سندھ بلدیاتی ایکٹ 2021 صوبائی حکومت کاکردارمزیدبڑھاتا ہے،اعتراض
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےبل لاکرآرٹیکل 140 اےکی خلاف ورزی کی،گورنرسندھ
  • بریکنگ :- ہرصوبہ قانون کے ذریعے لوکل گورنمنٹ کانظام قائم کرے،عمران اسماعیل
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ اسمبلی بل پردوبارہ غور کرے،گورنر سندھ
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

گاندھی کا بھارت کہاں ہے؟

مہاتما گاندھی کی ولادت کو ڈیڑھ سواں سال اب شروع ہونے والا ہے۔ انہیں دنیا سے گئے ہوئے بھی ستر برس ہو گئے۔ لیکن اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو دل میں سوال اٹھتا ہے کہ بھلا گاندھی کا بھارت کہاں ہیں؟ ایسا نہیں کہ گزشتہ ستر اکہتر برسوں میں بھارت نے کوئی ترقی نہیں کی۔ ترقی تو کی‘ اور کئی شعبوں میں کی‘ لیکن کسی نقلچی یا پچھ لگو کی طرح کی ہے۔ اس ترقی میں بھارت کی اپنی بنیادی حیثیت کہاں ہے؟ بھارت نے تعلیم‘ صحت کھان پان‘ رہائش‘ ذاتی اور نجی برتائو میں یا تو سامیہ پرستی کی ہے یا دولت کی پرستاری کی! نہرو دور میں ہمارے لیڈروں پر روس کا نشہ سوار تھا اور اس کے بعد سے اب تک امریکی طرز عمل نے بھارت کے دماغ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کیا ہماری اپنی سوچ کوئی نہیں ہے؟ کیا ہمارے لیڈروں کی اپنی عقل کام نہیں کرتی؟ گاندھی کے خواب تو اب بھارت کی کتابوں میں بند ہیں اور کتابیں الماریوں میں بند ہیں۔ ملک میں اب کوئی گاندھی تو کیا‘ ونوبا‘ لوہیا اور جے پرکاش جیسا بھی دکھائی نہیں پڑتا۔ ہاں‘ فرضی گاندھیوں کی بلے بلے ہے۔ بھارتی عدالتیں ہم جنس پرستی اور بد عنوانی پر سوالیہ نشان لگانے کی بجائے ایسے معاملات میں لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہیں۔ بھارتی ایوان تھوک ووٹوں کی لالچ میں ملوث لوگوں کو مزید طاقت فراہم کر رہا ہے۔ دلت لوگوں کو لمبے عرصے تک دلت بنائے رکھنے کے حوالے سے بھارتی لیڈروں کا مقصد واضح ہے۔ بھارت میں آج لیڈر کون ہے؟ سب سے پہلے تو اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہئے کہ لیڈر کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ وہی نا‘ جو انصاف کرے‘ جس کے اصول ایسے ہوں کہ لوگوں کا اس کی پیروی کرنے کو دل چاہے۔ کیا کوئی لیڈر ہے ایسا آج ہمارے پاس‘ جس کی پیروی کرنے کو دل چاہے؟ آج نوٹ اور ووٹ کے لیے لڑ مرنے والے لوگ ہمارے لیڈر ہیں۔ گاندھی کی طرح سچائی کے لیے مر مٹنا تو دور کی بات‘ سچائی کے لیے لڑنے والے تو رہے ایک طرف‘ سچ بولنے والے لیڈر بھی ہمارے پاس نہیں ہیں۔ سارے جنوبی ایشیا کے ملکوں یعنی قدیم آریہ ورت کو جوڑنا تو الگ رہا‘ موجودہ ٹوٹے ہوئے بھارت کے دل کو بھی توڑ کے رکھ دیا گیا ہے۔ ذات پات‘ نسل پرستی‘ فرقہ واریت‘ نشہ خوری اور انگریزی کی غلامی کو دور کرنے کے حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ غرض یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج کے بھارت میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے‘ جسے گاندھی کے خوابوں کی تعبیر کہا جا سکے۔ بلکہ بھارت تو ان خوابوں کے الٹی جانب محو سفر نظر آتا ہے۔ اگر گاندھی آج بھارت میں پھر پیدا ہو جائیں تو کیا اپنا سر نہیں پیٹ لیں گے؟
جناب عمران خان اور شاہ محمود قریشی ذرا سوچیں! 
اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات سدھریں گے کیسے؟ بات چیت اور ملاقات تو رد ہو گئی اور اب دور چلا ہے‘ تُو تُو میں میں کا۔ ملاقات کا اور سلسلہ جنبانی شروع کرنے کا کیسا شاندار موقع بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ضائع گیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو میں جانتا ہوں۔ انہوں نے دہشتگردی کو لے کر جو تقریر اقوام متحدہ میں کی ہے‘ اس کا اندازہ مجھے نہیں تھا۔ وہ اپنے وزیر اعظم عمران خان صاحب سے بھی آگے نکل گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چار برس پہلے پشاور کے ایک فوجی سکول میں ہوئی دہشت گردی‘ جس میں ڈیڑھ سو بچے اور دوسرے افراد شہید ہو گئے تھے‘ بھارت نے کروائی تھی۔ انہوں نے بلوچستان میں ہو رہی کھلبلی کے لیے کل بھوشن یادو کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے ایک اور بات بھی کہہ دی۔ ایسی بات‘ جو بھارت کے کانگریسی اور کمیونسٹ بھی کہنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دہشتگردوں کے پیدا ہونے اور دہشت گردی کے پھیلنے کی ذمہ دار آر ایس ایس ہے۔ قریشی صاحب نے اور بھی کئی باتیں کیں‘ لیکن کیا وہ بھول گئے کہ 2014ء میں پشاور میں سکول پر حملے اور اس میں درجنوں بچوں کی شہادت کے خلاف ہماری پارلیمنٹ کے دونوں سدنوں نے مذمت کی قرارداد پاس کی تھی اور سارے بھارت کے سکولوں میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تھی‘ جو اس حملے کی مذمت کا ایک اظہار تھا۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے مابین ملاقات طے کرنے اور رد کرنے میں بھارتی سرکار نے بے حد نادانی اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا تھا‘ لیکن سرحد کے دوسری جانب سے بھی حالات کو معمول پر لانے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام ہوتا نظر نہیں آیا۔ ادھر سے بھی رد عمل میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگر وزیر اعظم جناب عمران خان اور وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی‘ دونوں تھوڑا صبر کا مظاہرہ کرتے اور تحمل کے ساتھ تھوڑا وقت گزرنے دیتے تو شاید مذاکرات کا سلسلہ پھر چل پڑتا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کچھ بہتر ہو جاتے۔ اب بھی زیادہ کچھ نہیں بگڑا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بھارت میں چنائو کا دور شروع ہو رہا ہے‘ لیکن اگر پاک بھارت تعلقات سدھر جائیں تو مودی کو بھارت وہ عظمت دے سکتا ہے‘ جو آج تک اس نے کسی دوسرے وزیر اعظم کو نہیں دی ہے۔ اس کے لئے انہیں پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہو گا۔
مایا وتی مینڈکوں کو کیسے تولیں؟
بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایا وتی نے اپنے لیے کانگریس کو نہ چھونے کا اعلان کر دیا ہے‘ اور 2019ء کے چنائووں میں بھاجپا کی جیت کو لگ بھگ پکا کر دیا ہے۔ انہوں نے چھتیس گڑھ‘ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کانگریس کو جھٹکا دیا ہے اور صوبائی سیاسی جماعتوں کو وہ اب پکڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ویسے ہی جیسے کہ انہوں نے کرنا ٹک کے کمار سوامی کی جنتا دل کو گلے لگا لیا تھا۔ مایا وتی کو کانگریس کی دادا گیری راس نہیں آ رہی ہے۔ وہ ہر صوبے میں اپنے لیے اتنی سیٹیں مانگ رہی ہیں کہ ان کی مانگ کانگریس کے گلے سے نیچے نہیں اتر رہی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ سونیا اور راہول کی تعریف بھی کرتی رہتی ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہوا؟ کیا یہ نہیں کہ مایا وتی نہ جانے کب پلٹا کھا جائیں؟ انہوں نے اپنے لیے ابھی ایک کھڑکی کھلی رکھی ہے۔ کانگریس سے اتحاد کرنے میں مایا وتی کو اعتراض یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کل کے چھوکرے یعنی راہول گاندھی کو اپنا لیڈر کیسے مان لیں؟ مایا وتی تو آپ اپنی کمائی والی لیڈر ہیں اور راہول باپ کی کمائی والا! لیکن یہی دلیل اگر اتر پردیش پر لاگو کی جائے تو وہ اکھلیش کے ساتھ بھی اتحاد کرنے سے پرہیز کر سکتی ہیں۔ اتر پردیش تو خود پسندوں کا گڑھ ہے۔ وہاں تو سیٹوں کا بٹوارہ اور بھی مشکل ہے۔ اگر مایا وتی نے اتر پردیش میں اکیلے لڑنے کا اعلان کر دیا تو 2019ء مودی کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی‘ کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی‘ تینوں مل کر لڑیں تو بھاجپا اکثریت سے کافی دور جا پڑے گی اور سب سے بڑی پارٹی ہونے کے سبب اسے ہی سرکار بنانے کا موقع ملے گا۔ مایا وتی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں تو وہ بی جے پی کے لیے کرشمہ ثابت ہوں گی۔ ان کے امیدوار جیتیں یا نہ جیتیں‘ وہ اپوزیشن کے اتنے ووٹ کاٹ لے جائیں گی کہ مودی کی ڈوبتی کشتی کو تنکے کا سہارا فراہم کر دیں گی اور ان کی کشتی پار اُتر جائے گی۔ اپوزیشن کے پاس اب نہ تو کوئی سب کی رضا مندی والا لیڈر ہے یعنی جس پر سب متفق ہوں‘ اور نہ ہی کوئی مدعہ یعنی ایشو ہے۔ اصلیت تو یہ ہے کہ صرف کمیونسٹ پارٹیوں کو چھوڑ دیں تو سبھی پارٹیاں اب پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن چکی ہیں۔ انہیں ایک کرنا مینڈکوں کو تولنے جیسا ہے؛ چنانچہ آج کا سوال یہ ہے کہ مایا وتی ان مینڈکوں کو کیسے تولیں گی؟؟؟ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں