نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،علی امین گنڈاپورکو50 ہزارروپےجرمانہ
  • بریکنگ :- علی امین گنڈا پورکوضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرجرمانہ کیاگیا،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- علی امین گنڈاپورکوڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرنےجرمانہ عائدکیا،الیکشن کمیشن
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

راہول نے چلایا تُرپ کا پتا

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے چناوی کھیل میں تُرپ کا پتا مار دیا ہے۔ راہول نے کہا ہے کہ کسی بھی غریب خاندان کی آمدنی بارہ ہزار روپے مہینہ سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کانگریس کی سرکار بن گئی تو وہ اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ ہر غریب فیملی کو وہ چھ ہزار روپے مہینہ دیں گے۔ بھارت کی اوسط غریب فیملیوں کی آمدنی یوں بھی پانچ چھ ہزار مہینہ تو ہے ہی۔ اس سے ملک کے پانچ کروڑ غریب خاندانوں یا پچیس کروڑ غریبوں کو سیدھا فائدہ ملے گا۔ ان غریبوں سے بھی زیادہ فائدہ راہول گاندھی کو ملنے کی امید ہے‘ کیونکہ ان پچیس کروڑ غریبوں میں سے بارہ پندرہ کروڑ لوگ تو ووٹر ہوں گے ہی۔ 2014ء کے چنائو میں کانگریس کو دس کروڑ ووٹ ملے تھے۔ اگر اس چنائو میں اسے اس اعلان کی وجہ سے آٹھ دس کروڑ ووٹ زیادہ مل گئے تو بھاجپا کے سترہ کروڑ ووٹوں سے وہ زیادہ ہو ہی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تین بڑے ہندی صوبوں میں کانگریس کی سرکار ہے اور اتر پردیش میں بھاجپا کو سپا‘ بسپا کی ذات والی للکار ہے۔ پلوامہ اور بالا کوٹ سے مودی کو جو غیر معمولی فائدہ ملا تھا‘ اس کے مقابلے عوام کو یہ ٹھوس‘ اور بہتر فائدہ دینے والی تجویز ہے۔ مودی کا پندرہ لاکھ روپے ہر شہری کی جیب میں پہنچانے کا اعلان چناوی جلسوں میں اچانک کی گئی جملہ بازی تھی جبکہ کانگریس کے اس اعلان کے پیچھے تین چار مہینے کی سخت محنت‘ ماہروں کی رائے اور اس پر ہونے والے تین لاکھ ساٹھ ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کے ذرائع بھی کھوج لیے گئے ہیں۔ اگر یہ مان لیں کہ اسے لاگو کرنا مشکل یا نا ممکن ہے تو بھی اس کے بھولے ووٹروں پر زبردست اثر ہونے کے پورے امکانات ہیں۔ اس کے سامنے بالا کوٹ‘ رام مندر جیسے مسئلے پھیکے پڑ جائیں گے۔ بھاجپا چاہے تو اب بھی نہلے پر دہلا مار سکتی ہے۔ وہ بھارت کے ہر غریب خاندان کو بارہ کی بجائے پندرہ ہزار روپے دینے کا قانوناً اور بھروسہ مند اعلان کر سکتی ہے۔ وہ سرکار میں ہے۔ اس کے پاس بڑے بڑے اکانومسٹ ہیں‘ ماہر ہیں‘ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایسا وزیر اعظم ہے‘ جو وزیر پرچار کا کردار بھی بہتر انداز سے نبھا سکتا ہے۔
لوہیا جی کو پڑھیں مودی 
مجھے خوشی ہوئی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈاکٹر لوہیا کو ان کی یوم پیدائش پر یاد کیا۔ انہوں نے یہ اس لیے نہیں کیا کہ لوہیا جی کی جانب ان کے کوئی جذبات ہیں یا پھر وہ ان کے سماج وادی نظریے کو تھوڑا بھی سمجھتے بوجھتے ہیں۔ ان کی نسل اور ان کے بعد کی نسل کے موجودہ لیڈر حضرات نظریے کی نظر سے بالکل بیگانے ہیں۔ اقتدار ہی ان کا سچ ہے۔ پھر بھی مودی نے لوہیا جی کو یاد کیا‘ اکھلیش یادو اور راہول گاندھی کی کھنچائی کرنے کے لیے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوہیا جی نسل پرستی کے خلاف تھے اور یہ دونوں نوجوان اپنے ماں باپ کے چلتے ہی لیڈر بن گئے ہیں۔ مودی کی یہ مثال صحیح ہے۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ لوہیا جی آخر تک کانگریس کے مخالف رہے لیکن اکھلیش ڈٹ کر کانگریس کی مخالفت کیوں نہیں کر رہا ہے؟ یہ سوال بھی صحیح ہے لیکن لوہیا جی کو گئے ہوئے 52 سال ہو گئے۔ کیا 52 برس میں بھارت کی سیاست میں کوئی بدلائو نہیں آیا ہے؟ سب سے بڑا بدلائو یہ آیا ہے کہ نظریہ صرف دکھاوے کے ہاتھی دانت کی طرح رہ گیا ہے۔ کون سی پارٹی کون سا امیدوار کھڑا کر رہی ہے‘ کس پارٹی سے ہاتھ ملا رہی ہے‘ کیسے وہ پیسہ بنا رہی ہے‘ کیسے وہ اربوں روپے کی دلالی کھا رہی ہے‘ کیسے وہ کالے کو سفید کرنے کی ترکیب نکال رہی ہے‘ ان سب کا بس ایک ہی پیمانہ ہے‘ کرسی پر قبضہ کرنا‘ جیسے تیسے چنائو جیتنا۔ اس معاملے میں راہول اور اکھلیش کے مقابلے مودی زیادہ بڑے استاد ہیں۔ ہندوتوا‘ آرٹیکل 370‘ رام مندر‘ قلم 144‘ روزگار وغیرہ جیسی ساری سوچیں دری کے نیچے سرک گئی ہیں۔ اقتدار کی سوچ سب سے اوپر ہے۔ یہی حال سبھی بھارتی پارٹیوں کا ہے۔ لوہیا جی نے کیرل میں اپنی پارٹی کی سرکار گرا دی تھی‘ کیونکہ وہ اصول کے خلاف ہو گئی تھی۔ مودی نے ڈاکٹر لوہیا کی یاد دلائی‘ اچھا کیا۔ اگر وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں تو انہیں لوہیا کے کئی اچھے خیالات کو عمل میں لانا چاہیے۔ ان پر عمل کرنا چاہیے۔ جیسے دام باندھو‘ ذات توڑو‘ مرد اور عورت کا برابر کا درجہ‘ انگریزی ہٹائو‘ رامائن میلا‘ پاک بھارت تعاون‘ عالمی سرکار‘ سول نافرمانی وغیرہ۔ جب میرے مشورے پر اٹل جی نے دین دیال تحقیقی ادارہ 1968ء میں بنایا تھا تو محترم نانا دیش مکھ جی نے میری درخواست پر ایک کتاب چھپوائی تھی۔ گاندھی لوہیا اور دین دیال! مودی کو چاہیے کہ اسے پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔ یہ کام اکھلیش اور راہول زیادہ زور سے کریں۔ ایسی توقع میں ان سے رکھتا ہوں کہ وہ ایسا کریں گے۔
پاک بھارت تعلقات میں نرمی گرمی
پاک بھارت تعلقات میں آج کل کیسا نرم گرم دور چل رہا ہے‘ سبھی جانتے ہیں۔ یومِ پاکستان کے موقع پر نریندر مودی اور عمران خان نے ایک دوسرے کو پیغام بھیجے‘ اور دوسری طرف بھارت سرکار نے اس دن کا دلی اور اسلام آباد‘ دونوں جگہ بائیکاٹ کیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے‘ یہ پہلا موقع ہے جبکہ ایسا بائیکاٹ ہوا۔ پاکستانی قونصلیٹ میں منظم و منعقد کیے گئے اس پروگرام میں نہ تو ہمارا کوئی وزیر اور نہ کوئی سفارت کار شامل ہوا۔ اس برس بھی کوئی نہیں جا پایا۔ اخباروں میں پڑھا کہ وہاں جانے والے بھارتی باشندوں کو ہماری پولیس نے روکنے کی بھی کوشش کی۔ اسی طرح اسلام آباد میں ہونے والے پروگرام کا بھی ہمارے لیڈروں نے بائیکاٹ کیا۔ یہ بائیکاٹ ہماری سرکار نے پلوامہ میں ہوئی دہشتگردی کے سبب نہیں بلکہ حریت لیڈروں کو پاکستانی قونصلیٹ کے ذریعے دی گئی دعوت کے سبب کیا گیا۔ یہ کتنا بودہ اور بیکار سبب ہے؟ کتنی بودی وجہ ہے‘ یومِ پاکستان کی تقریب میں شامل نہ ہونے کی۔ بالکل اسی وجہ سے مودی سرکار کے آتے ہی جو پاک بھارت بات چیت شروع ہونے والی تھی‘ اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ مودی کو شاید پتا نہیں ہے کہ نرسمہا رائو جی اور اٹل جی جب وزیر اعظم تھے تو حریت لیڈروں کے ساتھ ان کے خفیہ لیکن سیدھے تعلقات تھے۔ ان تعلقات کا کچھ فائدہ بھی ہوا تھا۔ مزے دار بات یہ رہی کہ حریت لیڈر پاکستانی پروگرام میں پہنچے ہی نہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں؟ انہیں دعوت نامے کا پتا تھا لیکن ان کے نہ آنے کا پتا نہیں تھا؟ انہیں یہ پتا کیوں نہیں چلا؟ خیر‘ مودی نے عمران کو جو نیک خواہشات بھیجیں‘ وہ بھی مذاق بن گئیں۔ ایک طرف یہ بے وجہ بائیکاٹ اور دوسری طرف حریت کے ''اصلی مالک کو نیک خواہشات‘‘ کا پیغام! کیسا مذاق ہے۔ اس کا مطلب کیا ہوا؟ ہماری کوئی سوچی سمجھی پاکستان پالیسی نہیں ہے۔ کسی افسر نے بائیں کان میں آ کر پھونک ماری تو سیدھی بات کر دی‘ اور دوسرے دن کسی دوسرے افسر نے دائیں کان میں آ کر پھونک ماری تو بات الٹی کر دی۔ جناب وزیر اعظم عمران خان نے ان کے خلاف اور دہشت گردی کے خلاف کھری کھری باتیں کہی ہیں۔ ایسی بات کہنے کی ہمت آج تک کوئی بھی پاکستانی وزیر اعظم نہیں کر سکا۔ یہ بات دوسری ہے کہ ان کے اس قول کے پیچھے کچھ دوسرے معاملات بھی ہو سکتے ہیں۔ چاہے جو بھی ہو‘ یوم پاکستان پر مودی نے جناب عمران خان کو نیک خواہشات کا پیغام بھیج کر اچھا کیا۔ اپنے آپ کو بہت ہی زیادہ ''وطن پرست‘‘ کہنے والے مودی کو اب غدار وطن کہنے لگیں تو یہ بہت غلط ہو گا۔ بہتر ہو گا کہ بھارت سرکار پاکستان کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کرے‘ جیسا کہ پاکستان بھارت کے بارے میں مثبت سوچ رکھتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں