نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کی مخالفت کرچکی ہیں،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی:آرڈیننس کےمتعددپوائنٹس پرابہام ہے،ذرائع
  • بریکنگ :- سندھ حکومت کی جانب سےغیرقانونی تعمیرات کوریگولرائزکرنےکاآرڈیننس
  • بریکنگ :- کراچی:گورنرسندھ نےآرڈیننس پراعتراضات لگاکرواپس بھیج دیا،ذرائع
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

ٹرمپ کا مضحکہ خیز دعویٰ

خلیجِ فارس کے علاقے میں گزشتہ کچھ دنوں سے ویسے ہی خطرناک مناظر دکھائی پڑ رہے ہیں‘ جیسے 1962ء میں کیوبا کے سمندری کنارے پر دکھائی پڑ رہے تھے۔ جیسے اس وقت امریکہ نے کیوبا پر حملے کے تیاری کر لی تھی اور ایک تنائو کی کیفیت پائی جاتی تھی‘ ویسے ہی محسوس یہ ہو رہا ہے کہ غالباً ٹرمپ کے امریکہ نے ایران پر حملے کی تیاری کر رکھی ہے۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ اُس وقت اگر سوویت یونین امریکہ کے مقابل خم نہ ٹھونکتا تو کیوبا ختم ہو جاتا۔ آج کیوبا نام کا کوئی ملک اس روئے ارض پر نہ ہوتا۔ لیکن آج نہ تو سرد جنگ کا ماحول ہے اور نہ ہی امریکہ کے مقابلے کوئی سوویت یونین جیسی عظیم قوت ہے۔ اسی لیے ڈر لگتا ہے کہ ٹرمپ جیسا تنک مزاج صدر کہیں ایران پر بموں کی برسات نہ کر بیٹھے۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے کو مسترد کر دیا تھا اور جن ممالک نے اس معاہدے کو پورا کرنے میں اپنی پوری طاقت لگا دی تھی‘ ان کی رائے کو نظر انداز طرف کر کے وہ اپنی ہی چلا رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ شک کچھ حد تک درست ہو سکتا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے میں یہ وعدہ کرنے کے باوجود کہ وہ ایٹم بم نہیں بنائے گا‘ وہ چھپ چھپ کر بم بنا سکتا ہے‘ لیکن کوئی مصدقہ بات نہیں ہے۔ اور پھر اس امکان کو روکنے کے کئی قانونی طریقے ہیں۔ انہیں اپنانے کی بجائے ٹرمپ نے گیدڑ بھبکیوں اور بلیک میلنگ کا راستہ اپنا رکھا ہے۔ پہلے انہوں نے ایران پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دیں‘ اور پھر بھارت جیسے ملکوں پر دبائو ڈال کر انہوں نے ایرانی تیل کی خریداری رکوا دی ہے۔ اب ایران پر ڈرون جہاز اڑا کر اور خلیج میں اودھم مچا کر وہ اس کوشش میں ہیں کہ ایران امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہ شہنشاہ کا ایران نہیں‘ آیت اللہ خمینی کا ایران ہے‘ یہ وہ ایران ہے جس کی جڑیں ایک انقلاب میں گڑی ہیں۔ یہ وہ ایران ہے جس نے انقلاب کے کٹھن مرحلے سے نکل کر ابھی کمر سیدھی نہ کی تھی کہ اس پر ایک بے رحمانہ جنگ مسلط کر دی گئی۔ آٹھ سال تک یہ جنگ لڑی گئی‘ مگر ایرانیوں نے گھٹنے نہ ٹیکے۔ یہ وہ ایران ہے جس نے کبھی تہران کے امریکی قونصلیٹ کو ایک جیل خانہ میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس بار امریکی ڈرون کو گرا کر ایران نے ٹرمپ کو یہ بتا دیا ہے کہ وہ امریکہ سے بلیک میل نہیں ہو سکتے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکی فوج ایران پر ہلہ بولتی‘ اس سے دس منٹ پہلے انہوں نے اسے اسی لیے روک دیا کہ اس حملے سے ڈیڑھ سو ایرانیوں کی موت ہو جاتی۔ یہ بات بہت ہی مزاحیہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں بے حد مضحکہ خیز ہے۔ یہ ٹرمپ سچ مچ اتنے رحم دل ہیں؟ کیا امریکہ کا ذہن اتنا رحم والا ہے؟ کیسی مزاحیہ بات ہے کہ امریکی تہذیب تو تشدد کے خلاف مثال ہے۔ ٹرمپ یہ کہانیاں چھوڑیں‘ اپنے بڑبولے پن کو لگام ڈالیں‘ اپنے یورپی ساتھی ممالک کی سنیں اور ایران سے مثبت بات چیت کا سلسلہ شروع کریں۔ ایسا مڈل ایسٹ کے پورے خطے بلکہ دنیا کے اس حصے کے امن کے لیے بے حد اہم ہے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنگ ہوئی تو نہایت خوفناک ہو گی۔ ہم ایران کی بات کر رہے ہیں‘ جو ایک بڑی دفاعی طاقت ہے‘ جس کی دفاعی صلاحیتیں آر کیو فور گلوبل ہاک ڈرون کی تباہی اور دوسرے بہت سے حوالوں سے ثابت شدہ ہے‘ اور اس ایران کے ساتھ روس کھڑا ہے‘ جس کے صدر کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو مڈل ایسٹ کو عظیم تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ تمام عرب خطے کے مستقبل کا مسئلہ ہے اور عالمی توانائی کے وسائل کے مستقبل کا معاملہ بھی ہے۔ امید ہے ٹرمپ اتنا بڑا خطرہ مول لینے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے۔ کیونکہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اسے بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ 
کشمیر پر تاریخی پہل کا موقع
جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے کشمیر کے بدلتے ہوئے حالات پر بہت ہی امید والی بات کی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ حریت لیڈر اب کشمیر کے مسئلہ کو بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خود نہیں چاہتے کہ کشمیر کے نوجوان فضول میں اپنا خون بہائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کشمیری نوجوان کون سے مقصدکے لیے خون بہا رہے ہیں۔ کشمیر تو خود ہی جنت ہے‘ جیسا کہ بادشاہ جہانگیر کہا کرتے تھے۔ اب کشمیریوں کو ان کی جنت سے محروم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ اگر کشمیر میں امن رہے تو وہ دنیا کا سب سے بہترین علاقہ بن سکتا ہے‘ مگر پچھلے 70 سال کی تاریخ نے اس خطے کو جس صورت حال سے دوچار کیا ہے‘ ہم سبھی دیکھتے اور جانتے ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک کے اس بیان نے بھارت سرکار اور حریت کے بیچ بات چیت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ حریت کے لیڈروں سے پی وی نرسمہا رائو اور اٹل بہاری واجپائی کی سرکار کی بھی مسلسل بات چیت چلتی رہی تھی‘ حالانکہ اس کا زیادہ پرچار نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں حریت کا دفتر مالوییہ نگر میں ہوتا تھا اور میں پریس انکلیو میں رہتا تھا۔ حریت کے صدر پروفیسر عبدالغنی بٹ اور دوسرے لیڈر اکثر میرے گھر پیدل ہی آ جاتے تھے اور فون پر بھارتی وزیر اعظم سے ان کا رابطہ ہو جاتا تھا۔ ذرا یاد کریں ان حریت پسند لیڈروں سے لگاتار بات چیت کا ہی اثر تھا کہ کشمیر میں نسبتاً امن بھی قائم رہا کیونکہ بات چیت کے لیے ضروری تھا کہ بھارتی ریاستی فورسز بھی مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا استعمال بند کر دیتیں اور کشمیری حریت پسند بھی مزاحمت نہ کرتے۔ یہی بات میں پاکستانی کے کئی وزرائے اعظم کو اسلام آباد اور نیو یارک میں کہہ چکا ہوں۔ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف‘ جنرل مشرف سے جب جب میری بات ہوئی‘ میں نے ان سے یہی کہا کہ میں کشمیر کی آزادی کا اتنا ہی حامی ہوں جتنا کہ بھارت اور پاکستان کی آزادی کا! کشمیر نہ ہمارا غلام ہو کر رہے اور نہ ہی آپ کا‘ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ میں کشمیر کے شہریوں کو بھی اسی طرح آزاد دیکھنا چاہتا ہوں جیسا کہ میں دلی میں آزاد ہوں‘ جیسے جناب عمران خان صاحب اسلام آباد میں آزاد ہیں۔ میرے لیے ہر کشمیری کی آزادی‘ چاہے وہ پاکستان میں رہتا ہو یا ہندوستان میں رہتا ہو اتنی ہی قیمتی ہے‘ جتنی میری اپنی آزادی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیاں آج جو کشمیر ایک خندق بنا ہوا ہے‘ وہ ایک پل بن جائے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو مکمل جنوبی ایشیا کو ہم دنیا کا مالدار اور سب سے خوشحال علاقہ بنا سکتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے لیے یہ تاریخی کامیابی ہو گی کہ وہ بات چیت کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کر دیں‘ جو آج تک کوئی سرکار نہیں کر سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف نیت اور قوت فیصلہ کا ہے۔ جب بھارت اور پاکستان کی قیادت میں نیت اور فیصلہ کرنے کی ہمت پیدا ہو گی تو ہم دیکھیں گے کہ یہ مسئلہ آن کی آن میں حل ہو جائے گا۔ ہم نہ دیکھیں گے تو ہمارے بعد آنے والے دیکھیں گے‘ مگر اسی ہندوستان اور پاکستان کے عوام ایک نہ ایک دن یہ ضرور دیکھیں گے کہ کشمیر کا مسئلہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق حل ہو گا۔ اور جس دن ایسا ہو گیا آپ سمجھیں دونوں دیشوں کے بیچ نفرت کا کانٹا نکل جائے گا۔ اس دن سے اس خطے کی قسمت تبدیل ہو جائے گی کیونکہ ابھی تک جو ایک بڑی رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ باقی ہے اور یہ مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیتا۔ یہی مسئلہ جنوبی ایشیا‘ خصوصی طور پر برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں روٹ ہے۔ اس کا حل ہونا پورے خطے کے لئے ترقی کی راہ ہموار کر دے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں