نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئندہ انتخابات میں آئی ووٹنگ اورای وی ایم کےاستعمال کامعاملہ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرشبلی فرازکی چیف الیکشن کمشنرسےملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں الیکشن کمیشن کےممبرسندھ اوربلوچستان بھی شریک
  • بریکنگ :- انتخابی ترمیمی بل 2021 پرعملدرآمدسےمتعلق تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- ای وی ایم اورسمندرپارپاکستانیوں کوووٹنگ کےحق پربات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- شبلی فرازکی پائلٹ ٹیسٹنگ کےلیےای وی ایم کی فراہمی کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی الیکشن کمیشن کوبھرپورمعاونت کی ہدایت،ملاقات میں گفتگو
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاکہناہےانتخابات میں جدت کاراستہ اختیارکیاجائے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن ای وی ایم کی خصوصیات بارےفیصلہ کرے،وفاقی وزیرشبلی فراز
  • بریکنگ :- رواں ماہ الیکشن کمیشن کی 3 کمیٹیاں رپورٹس جمع کرائیں گی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- حکومت اورالیکشن کمیشن میں کوآرڈی نیشن مزیدبہتربنانےکیلئےرابطوں پراتفاق
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

لندن میں باتیں اور ملاقاتیں

اب سے ٹھیک پچاس سال پہلے میں لندن پہلی بار آیا تھا۔ اس وقت یہاں گاندھی جی کے جنم کا سوواں سال (1969) منایا جا رہا تھا۔ کئی ملکوں کے گاندھی بھگت اکٹھے ہوئے تھے۔ ان میں‘ میں سب سے چھوٹا تھا لیکن مجھے بھی اس پروگرام میں بولنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس بار شاید دس برس بعد میرا لندن آنا ہوا ہے‘ وہ بھی صرف گاندھی جی کے ڈیڑھ سو برس منانے کے لیے۔ پچاس برس پہلے میں کابل اور ماسکو سے ہوتا ہوا لندن آیا تھا‘ اپنی پی ایچ ڈی کو پورا کرنے کے لیے لیکن اس بار صرف گاندھی پروگرام کے لیے ہی آنا ہوا ہے۔ یہ پروگرام برطانیہ کے ایوان میں این آر آئی ویلفیئر سوسائٹی نے منظم کیا تھا۔ میرے ساتھ تین چار وزرا کو بھی آنا تھا لیکن چنائو کے سبب وہ نہیں آ سکے۔ پھر بھی بھارت‘ امریکہ اور یورپ سے کئی بھارتی دوست آئے ہوئے تھے۔ سامعین میں برطانیہ کے ہائوس آف لارڈز اور پارلیمنٹ کے کئی ممبر بھی تھے۔ برطانوی ایوان کا وہ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ چار پانچ لوگوں کے بھاشن ہوئے لیکن خصوصی مہمان ہونے کے ناتے میں نے 'گاندھی جی کے جنوبی ایشیا کے بارے میں خواب‘ کے موضوع پر ہی بات کی۔ اس پروگرام میں بھارت‘ پاکستان‘ نیپال‘ بھوٹان اور سری لنکا کے بھی کئی اہم لوگ آئے ہوئے تھے۔ یہاں اپنے اور پڑوسی ممالک کی کئی خاص ہستیوں سے روز ملاقات ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز ایک کشمیری صحافی نے لمبی بات چیت بھی کی۔ لندن کی معروف بازاروں ہیروڈس اور بسٹر ولیج میں جانے کا بھی موقع ملا۔ پچاس پچاس ہزار کے جوتے‘ تین تین لاکھ روپے کا کوٹ‘ دو دو لاکھ روپے کے چشمے‘ ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کے پلنگ بھی دیکھے۔ جو ٹوپی بھارت میں تین سو روپے کی ملتی ہے اس کی قیمت یہاں دس ہزار روپے ہے۔ کچھ عجیب و غریب سائونڈ سسٹم بھی دیکھے۔ کمار گندھرو کو بھی ان پر سنا۔ یہاں سے میں نے کچھ بھی نہیں خریدا۔ ایک غزل یاد آئی: 
بازار سے گزرا ہوں‘ خریدار نہیں ہوں
دنیا میں ہوں‘ دنیا کا طلب گار نہیں ہوں 
ایک شام آکسفورڈ سٹریٹ کی سیر بھی کی۔ اب اور پچاس سال میں بہت فرق آ گیا ہے۔ یہاں غیر انگریز لوگ زیادہ دِکھے۔ میں لندن کے مشہور ہائیڈ پارک اور ماربل آرچ کے پاس ٹھہرا ہوں۔ اسے لندن کا دل کہا جاتا ہے۔ ماضی میں میرے ساتھ پڑھے ہوئے کئی انگریز دوست ملنے آئیں گے۔ آج بھی دو تین پروگراموں میں جانا ہے۔ گاندھی جی کے بہانے پچاس برس پہلے کی دوستیاں پھر سے نئی ہو رہی ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں میں لندن کئی بار آیا لیکن سفارتی ملاقاتوں یا اکیڈیمک بھاشنوں نے کبھی اتنی مہلت بھی نہیں دی کہ لندن کو جی بھر کے اور تفصیل کے ساتھ دیکھ سکوں۔ 
میرا لندن آنا کئی بار ہوا لیکن اس بار لندن کو جیسے دیکھ رہا ہوں‘ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ پہلے جب بھی لندن آنا ہوتا‘ سارا دن اپنے بھارتی قونصلیٹ میں بیٹھے بیٹھے بیت جاتا تھا۔ دن بھر لوگ ملنے آتے تھے اور رات کو ہوٹل یا گھر میں جا کر سو جاتے تھے‘ لیکن اس بار کئی پرانے دوستوں سے ملنے کا موقع ملا اور نئے دوستوں سے بھی۔ برٹش ایوان پروگرام میں جو جنوبی ایشیاء کی لوک سنگھ بنانے کی بات میں نے کہی تھی‘ اس نے تھوڑا زور پکڑا ہے۔ پچھلے دنوں صوفی فرقہ کے لوگوں نے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے اپنی خانقاہ میں بڑا پروگرام رکھا۔ وہاں بھارت اور پاکستان کے کئی لوگ آئے۔ اس انٹرنیشنل فائونڈیشن کے یونس نامی ایک شخص ہے۔ اس نے اپنے ایک مرید کو مجھے لینے 'فوسائیٹ لمیٹڈ‘ کے دفتربھیجا‘ جہاں میں اس کے چیئرمین روی مہروترا کے ساتھ لنچ کر رہا تھا۔ ٹیمز ندی کے کنارے سے خانقاہ تک پہنچنے میں لگ بھگ ڈیڑھ دو گھنٹے لگ گئے۔ اس بیچ مجھے لندن کی صفائی اور خوبصورتی کا اندازہ ہوا۔ میں سوچتا رہا کہ لندن میں جیسے خوبصورت مکان بنے ہوئے ہیں‘ ویسے ہمارے یہاں کیوں نہیں بنے ہوئے ہیں؟ لندن شہر سے باہر نکلتے ہی ایک لکیر میں بنے ایک جیسے شاندار مکان دیکھنے میں بھلے لگتے ہیں۔ کرائے ڈن نام کے علاقہ میں پہنچتے ہی دکانوں کے ہندی اور اردو نام انگریزی میں لکھے دکھائی پڑتے ہیں۔ یہاں پاکستانی اور بھارتی لوگ زیادہ بسے ہیں۔ ہر مکان اور دکان کے آگے رنگ برنگے پھول والے پودے لگے رہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پودے نقلی ہوتے ہیں لیکن وہ دِکھنے میں اصلی لگتے ہیں۔ اس فائونڈیشن کے جانکاروں نے لگ بھگ دو گھنٹے تک میری بات کی ریکارڈنگ کی‘ جس میں‘ میں نے مذاہب اور فرقہ واریت کے اندھے عقیدوں پر روشنی ڈالی‘ پاک بھارت تعلقات اور کشمیر سے متعلق سوالات کے جوابات کے دوٹوک جواب دیے اور سبھی حاضرین سے کہا کہ جنوبی ایشیاء کا لوک سنگھ کھڑا کرنے میں مدد کریں۔ گجراتی سنیاسی سوامی وشوانند‘ پاکستان سے ریحان اللہ والا اور کچھ نیپالی دوستوں نے فوراً ہی اس اتحاد کے لیے کام بھی شروع کر دیا۔ انہوں نے ایک ویب سائٹ بھی بنا دی اور میری ایک پیش گوئی بھی اس پر چلا دی۔ لندن میں ہمارے سفارت کار روچی گھنشام کا بھی فون آیا۔ آج صبح سے میرے کئی انگریز کلاس فیلو دوست بھی ملنے آ چکے ہیں۔ دلی جیسی مصروفیت لندن میں بھی ہو گئی ہے۔
لندن میں آج کل بریگزٹ یعنی برطانیہ کے یورپی اتحاد سے ایگزٹ (نکلنے )کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ لیڈر لوگ ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہیں۔ جب 11 اکتوبر کو ہم برطانوی پارلیمنٹ میں منظم پروگرام میں گئے تھے تو سڑکیں بند تھیں۔ لمبا چکر لگانا پڑا تھا۔ اب بھی ہم لندن کے پکیڈلی سرکس‘ بکنگھم پیلس‘ ہائیڈ پارک اور آکسفورڈ پر گھومے۔ پچاس برس پہلے جب میں لندن میں رہتا تھا‘ تب بھی میں ان سب جگہوں پر جاتا رہتا تھا‘ لیکن اس بار مجھے ان مقامات پر انگریزوں کی بجائے یورپی‘ ایشیائی اور افریقی لوگ زیادہ دِکھنے میں آئے۔ بھیڑ بھاڑ بھی زیادہ رہی۔ زیادہ تر غیر ملکیوں کو میں نے جسمانی کام کرتے دیکھا۔ اس بار کے سفر میں اپنے بھارتی دوستوں کے علاوہ نیپالی‘ بھوٹانی‘ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے اور پاکستانی دوستوں کے ساتھ جم کر ملاقاتیں ہوئیں۔ پاکستانی ساتھیوں کو مجھے بار بار کشمیر کے بارے میں مطمئن کرنا پڑا۔ مجھے کچھ دوست بڑے پیار سے ایک مشاعرے میں لے گئے۔ وہاں پاکستان کے مشہور شاعر امجد اسلام امجد اور انور مسعود کا کلام اور سلطان انصاری کے گیت سنے۔ پروفیسر مسعود نے ہنسا ہنسا کر سامعین کے پیٹ میں بل ڈال دیے۔ وہاں پاکستانی ہائی کمشنر اور لندن میں مقیم بڑے بڑے وکلاء‘ ڈاکٹروں‘ تاجروں اور پروفیسروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ لگ بھگ سبھی کشمیر کے بارے میں مجھ سے پوچھتے رہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں جنوبی ایشیاء کے ملکوں کی بڑی یونین کھڑی کرنا چاہتا ہوں تو کئی لوگوں نے خوشی سے حصہ داری کا وعدہ کیا۔ کچھ لوگوں نے میرا نام سنا تو انہیں تعجب ہوا کہ اس مشاعرے میں کیسے آ گیا؟ پورے مشاعرہ میں یہ اکیلا دشمن کیسے آ گیا؟ لیکن 'دشمن‘ نے پایا کہ اس کے ساتھ لوگوں کا سلوک نہایت ہی با اخلاق رہا۔ قہقہے لگتے رہے۔ کئی لوگوں نے پوچھا کہ آپ وہی ڈاکٹر ویدک ہیں‘ جو لاہور کے مشہور اخبار 'دنیا‘ میں اردو میں کالم لکھتے ہیں۔ میرے 'ہاں‘ کہنے پر تعریف کا انبار لگ گئے۔ لوگ میری صاف گوئی کی تعریف کرنے لگے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ تو 'دنیا‘ اخبار کے منتظمین کی ہمت ہے کہ وہ ایک ہندوستانی صحافی کے کالم بے جھجک چھاپ دیتے ہیں۔
مجھے کچھ دوست بڑے پیار سے ایک مشاعرے میں لے گئے۔ وہاں پاکستان کے مشہور شاعر امجد اسلام امجد اور انور مسعود کا کلام اور سلطان انصاری کے گیت سنے۔ پروفیسر مسعود نے ہنسا ہنسا کر سامعین کے پیٹ میں بل ڈال دیے۔ وہاں پاکستانی ہائی کمشنر اور لندن میں مقیم بڑے بڑے وکلاء‘ ڈاکٹروں‘ تاجروں اور پروفیسروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں