نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنر سندھ عمران اسماعیل نےسندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظورنہیں کیا
  • بریکنگ :- کراچی:گورنر سندھ نے بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا
  • بریکنگ :- ڈی ایم سی کے خاتمےسےکوآرڈی نیشن کے مسائل پیداہوں گے،اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیم سےمیونسپل کارپوریشن پراپرٹی ٹیکس سےمحروم ہو جائےگی،اعتراض
  • بریکنگ :- خفیہ ووٹنگ سےلوکل باڈی سطح پر ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے،اعتراض
  • بریکنگ :- دیہی علاقہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا حصہ نہیں ہوسکتا،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیمی بل کانوٹیفکیشن آئین کے خلاف ہے،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- سندھ بلدیاتی ایکٹ 2021 صوبائی حکومت کاکردارمزیدبڑھاتا ہے،اعتراض
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےبل لاکرآرٹیکل 140 اےکی خلاف ورزی کی،گورنرسندھ
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

یہ لیڈر نہیں‘ کرسی کے غلام ہیں!

بالآخر شیو سینا کے صدر اُدھَو بالا صاحب ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ اس ریاست میں حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں شیو سینا دوسرے نمبر پر زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والی پارٹی بنی‘ اس کے باوجود وہ اس ریاست کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ لیکن چند روز پہلے تک مہاراشٹر کا سیاسی منظر کچھ اور ہی تھا۔ بھارتی سیاست کی ساری گندی ترین صورت کسی کو دیکھنی ہو تو وہ اس وقت مہاراشٹر میں دیکھی جا سکتی تھی۔ جو لوگ اپنے آپ کو لیڈر کہتے ہیں‘ وہ کیا ہیں؟ وہ صرف کرسی کے غلام ہیں۔ کرسی کے لیے وہ لوگ کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ شیو سینا جیسی پارٹی کانگریس سے ہاتھ ملا کر سرکار بنانے کے لیے بے چین ہو گئی تھی۔ بال ٹھاکرے سے لے کر آدتیہ ٹھاکرے تک کس کس نے کانگریس کی قبر کھودنے میں کون کون سی کلہاڑیاں نہیں چلائیں‘ اس پارٹی پر انہوں نے کتنی بار نہیں تھوکا‘ لیکن ضرورت پڑی تو شیو سینا اسی کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لئے بے تاب ہو گئی تھی۔ ذرا سوچیں ٹھاکرے اس وقت اگلے جہان بیٹھے کیا سوچ رہے ہوں گے اپنے جانشینوں کے بارے میں؟ مجھے ان سے وہ پرانی ملاقات اب بھی یاد ہے جس میں انہوں نے صاف صاف کہا تھا کہ بھاجپا اور شیو سینا میں سے جسے زیادہ سیٹیں ملیں گی‘ وزیر اعلیٰ اسی پارٹی کا بنے گا‘ اس میں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی حال ہی میں ہونے والے ریاستی الیکشن میں بھاجپا کو ایک سو پانچ اور شیو سینا کو اس سے لگ بھگ آدھی یعنی چھپن سیٹیں ملیں۔ پھر بھی شیو سینا اڑی رہی وزارت اعلیٰ لینے کے لیے اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہو گئی۔ اگر وہ این سی پی سے اتحاد کر لیتی تو بھی اس کی سیٹیں صرف 110 ہونا تھیں‘ یعنی کانگریس کے 44 ارکان کی خوشامد کے بنا وہ سرکار نہیں بنا سکتی تھی۔ میں نے چند روز پہلے لکھا تھا کہ اگر شیو سینا‘ این سی پی اور کانگریس مل کر سرکار بنا لیں اور بھاجپا باہر بیٹھی رہے تو مندرجہ بالا تین پارٹیوں کا بھٹہ بیٹھے بنا نہیں رہے گا۔ کوئی کرشمہ ہی ایسی اوٹ پٹانگ سرکار کو پانچ برس تک چلا سکے گا۔ اس کے بعد جو بھی چنائو ہوں گے‘ اس میں مہاراشٹر کے عوام اس بے میل کھچڑی کو الٹ دیں گے۔ بہرحال الیکشن کے بعد مہاراشٹر میں جو کچھ ہوتا رہا اس پر مہاراشٹر ہی نہیں‘ سارا بھارت حیران تھا۔ لوگ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ ہمارے لیڈر ہیں کہ گرگٹ ہیں۔ ان کے لئے کوئی اصول‘ کوئی اخلاق‘ کوئی پالیسی‘ کوئی روایات‘ کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ یہ بات صرف شیو سینا پر ہی نافذ نہیں ہوتی۔ بھاجپا نے اس چنائو میں کیا کیا؟ درجنوں کانگریسیوں کو راتوں رات بھاجپا میں لے لیا۔ ان میں سے کچھ جیتے (کامیاب) بھی ہیں۔ وہ کرسی کے چکر میں ادھر آ پھنسے۔ اب وہ کیا کریں گے؟ وہ لوٹا بننے کی حالت میں نہیں ہیں۔ وہ دل بدل پہلے ہی کر چکے۔ مہاراشٹر میں شیو سینا‘ این سی پی اور کانگریس کی سرکار چاہے بن بھی جاتی‘ لیکن اسے پتا ہی ہونا تھا کہ وفاق میں بھاجپا کی سرکار ہے۔ وہ کیا اسے چلنے دیتی؟ پتا نہیں‘ یہ تینوں پارٹیاں کیا سوچ کر سانٹھ گانٹھ کر رہی تھیں؟ 
لولی لنگڑی انفارمیشن کا حق 
انفارمیشن کے حق پر بھارتی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے‘ اس کی اتنی واہ واہ کیوں ہو رہی ہے؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ یہ ٹھیک ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے دلی ہائی کورٹ کے 2010ء کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے اور یہ کہا ہے کہ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت اور اس کا چیف جسٹس بھی 'انفارمیشن کے دائرے‘ کے اندر ہوں گے۔ بس‘ اسی بات پر سارے بھارتی اخبار اور ٹی وی چینل فدا ہو رہے ہیں۔ میں بھی عظیم خدمت گار سبھاش اگروال کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ درخواست لگائی اور وہ بھارتی عدالتوں کو بھی کم از کم فارمیلٹی کے طور پر ہی سہی انفارمیشن کے حق کی طرف لے آئے‘ لیکن ان کی درخواست کا فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں نے اتنی مہارت سے کیا ہے کہ وہ (بھارتی جج) اپنے بارے میں کوئی بھی انفارمیشن دینے سے انکار کر سکتے ہیں اور اگر وہ دیں گے بھی تو‘ آپ گھاس کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ بھارت میں ججوں کی تقرری سمیت بعض معاملات ایسے ہیں جن پر آپ ان سے سوال تو پوچھ سکتے ہیں‘ لیکن ان سوالات کو وہ یہ کہہ کر ٹال سکتے ہیں کہ ان کی وجہ سے عدالتوں کی خود مختاری ٹوٹ (ختم ہو) سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنا جواب دینے سے پہلے ان سب باتوں کے بارے میں بھی سوچیں گے کہ سوال کیا ہے‘ کیوں پوچھا گیا ہے‘ اس کا پوچھنے والا کون ہے‘ اس کا ارادہ کیا ہے‘ اس کے جواب سے کوئی خاص خطرہ تو پیدا نہیں ہو گا‘ اس کے پیچھے جاسوسی کا ارادہ تو نہیں ہے‘ یعنی وہ چاہیں گے تو اپنے ہی مندرجہ بالا فیصلوں پر پانی پھیر دیں گے۔ بھارتی عدالت کی بھی کیا ادا ہے؟ ؎
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں 
صاف چھپتے بھی نہیں‘ سامنے آتے بھی نہیں
سبھاش اگروال جیسے جمہوریت کے بیدار پہرے داروں میں سے امید کروں گا کہ بھارتی عدالتوں کا ہی نہیں‘ بھارتی سیاستدانوں کا بھی پردہ فاش کریں‘ تاکہ بھارت کا سماج درست معنوں میں صاف ہو۔ اگر ہمارے ججز اور ہمارے لیڈروں کی بد عنوانی کو ہم ظاہر کر سکیں تو اگلے کچھ ہی برسوں میں بھارت خوشحال اور عظیم قوت بن سکتا ہے۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔ بے حد مشکل ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے یہ لولا لنگڑا فیصلہ دینے میں بھی آٹھ برس لگا دیے اور سیاسی پارٹیوں نے اب بھی انفارمیشن کے حق کے خلاف پائوں اڑا رکھا ہے۔ 
بدنامی سے بچائیں!
وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ سارے بھارت کی ایک قوم کی سٹیزن شپ فہرست تیار کی جائے گی لیکن اس میں اور جو سٹیزن شپ ترمیم بل گزشتہ لوک سبھا میں لایا گیا تھا‘ اس میں کافی فرق ہو گا۔ پڑوسی ممالک کے ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی اور یہودی وغیرہ جیسی اقلیتوں کو ہی شہریت دی جائے گی۔ یہ فراخ دلی بھارت میں لائق تعریف ہو سکتی ہے‘ لیکن ہمارے وزیر داخلہ‘ وزیر اعظم اور ممبر آف پارلیمنٹ کو یہ جانکاری بھی ہونی چاہیے کہ بعض ممالک میں کئی ایسے طبقے ہیں جو کافی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں‘ جیسے برما کے روہنگیا مسلمان۔ یہ بھارت آنا چاہتے ہیں تو انہیں آپ کیوں روکنا چاہتے ہیں؟ ان کے علاوہ جب بعض ملکوں کی صرف اقلیتوں کے لیے آپ اپنے دروازے کھول رہے ہیں تو آپ دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ یہ ملک ظالم ہیں۔ خارجہ پالیسی کے حساب سے یہ بھارت کے لئے خود کشی والا پیغام ہے۔ بدلے میں پڑوسی ممالک بھی ہمارے لوگوں کے لیے اسی طرح کے قوانین بنا سکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ شہریت کے قانون میں سے ہم مذہب‘ ذات‘ زبان‘ فرقہ واریت وغیرہ کا ذکر ہٹا دیں۔ کسی کو بھی سٹیزن شپ دیتے وقت پس خبر داری دکھائی جائے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ این آر آئی فہرست بنانے میں مذہب آڑے نہیں آئے گا تو یہ بہت اچھی بات ہے‘ لیکن ذرا ہم دیکھیں کہ آسام جیسے چھوٹے سے صوبہ میں یہ فہرست تیار کرتے وقت کتنا گھپلا ہوا ہو گا۔ ساڑھے تین کروڑ کی آبادی والے آسام میں 19 لاکھ لوگ اس فہرست کے باہر کر دیے گئے‘ جن میں گیارہ لاکھ ہندو بنگالی بھی شامل ہیں۔ اس کام پر بارہ سو کروڑ روپے اور پانچ برس لگے۔ پورے بھارت میں پتا نہیں کتنے سال اور کتنے ارب روپے لگیں گے؟ ممکن ہے اس اعلان کے پیچھے بھارت سرکار کی نیت درست ہو‘ لیکن اس نیک ارادے کو فرقہ واریت کی شکل مل جانا اچھا نہیں ہے۔ بہتر یہ ہو گا کہ غیر ملکی مداخلت کاروں کی پہچان اور پکڑ کے ذریعے کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ کوئی بھی دھوکہ نہ دے سکے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں