نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مسلم لیگ ن کامہنگائی کیخلاف احتجاج کااعلان
  • بریکنگ :- احسن اقبال کی صوبائی تنظیموں کومہنگائی کیخلاف احتجاج کی ہدایت
  • بریکنگ :- پیرکوقومی اسمبلی میں دیگرجماعتوں کیساتھ مل کراحتجاج کریں گے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- حکومت نےاپنی ناکامیوں اورنااہلی کابوجھ غریب عوام پرڈال دیا،احسن اقبال
  • بریکنگ :- پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فی الفورواپس لیاجائے،احسن اقبال
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

ہر آدمی کو انصاف کیسے ملے؟

بھارت کے چیف جسٹس این وی رمن نے بھارت کے انصاف کے نظام کے بارے میں دو ٹوک بات کہہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پولیس تھانوں میں گرفتار لوگوں کے ساتھ جیسی بدسلوکی کی جاتی ہے وہ کسی لحاظ سے بھی انصاف نہیں بلکہ بدترین نا انصافی ہے۔بھارت کا نظام انصاف غریب اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کی کوئی مدد نہیں کرتا۔انہیں قانونی مدد مفت ملنی چاہئے۔انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ بھی ہمارے نظام انصاف کا جزو ہیں۔ عدالتوں تک پہنچنے کا خرچ اتنا زیادہ ہے اور مقدمے اتنے لمبے وقت تک درمیان میں لٹکتے رہتے ہیں کہ کروڑوں غریب ‘ غیر تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے ہمارا نظام انصاف بالکل بے معنی ہو چکا ہے۔آج کل تو ڈیجیٹل ڈیوائس چل رہی ہے‘ مگروہ بھی مذکورہ لوگوں کیلئے بیکار ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہمارے ہاں انصاف اور قانون کا نظام صرف امیروں، شہریوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کیلئے دستیاب ہے۔جسٹس رمن نے ہماری جمہوریت کی دکھتی رگ پر اپنی اُنگلی رکھ دی ہے لیکن اس درد کی دوا کون کرے گا؟ہماری پارلیمنٹ کرے گی‘ ہماری سرکار کرے گی۔ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ایم پیز اور ہماری سرکاریں انصاف کے نام پر چل رہی اس ناانصافی کو سمجھتی نہیں ہیں۔ انہیں سب معلوم ہے لیکن وہ خود اس سے متاثرہ نہیں ہیں۔وہ جیسے ہی اقتدار میں آتے ہیں انہیں ساری سہولتیں دستیاب ہونے لگتی ہیں۔وہ پہلے سے ہی اشرافیہ کے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ان کے دل میں کوئی درد ہوتا تو انگریزوں کے بنائے گئے اس سڑے گلے قانونی نظام کو اب تک وہ جڑ سے اُکھاڑ پھینکتے۔موجودہ سرکار نے ایسے کئی قوانین کو رد کرنے کی ہمت دکھائی ہے لیکن پچھلے 75سال میں ہمارے یہاں ایک بھی ایسی سرکار نہیں بنی جو مکمل نظام قانون پر نظر ثانی کرتی۔یہ تو اطمینان اور تھوڑے فخر کی بھی بات ہے کہ اس گھسے پٹے نظام کے باوجود ہمارے کئی ججوں نے انصاف کی حمایت میں آواز بلند کی۔ نظام قانون کو سدھارنے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے تو سبھی قانون بنیادی طور پر ہندی میں لکھے جائیں۔انگریزی کا مکمل طور پر بائیکاٹ ہو، بحث اور فیصلے میں بھی‘ یہ دونوں مقامی اور قومی زبان میں ہوں۔ وکیلوں کی لوٹ پاٹ پر کنٹرول ہو۔غریبوں کو مفت انصاف ملے۔ہر مقدمے پر فیصلے کی مقررہ مدت طے ہو۔مقدمے لمبے وقت تک لٹکے نہ رہیں۔انگریزوں کے زمانے میں بنے کئی قوانین کو رد کیا جائے۔ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی فائدے کے پوسٹ پر نہ رکھا جائے تاکہ ان کے فیصلے ہمیشہ غیر جانبدار اور بے باک ہوں۔قانون کے نظام کو سرکار اورپارلیمنٹ کے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کنٹرول سے آزاد رکھا جائے۔آزاد نظام انصاف جمہوریت کی سب سے مضبوط گارنٹی ہے۔
ذات برادری کا نظام،آئین کا کچومر
پچھلے کئی دنوں سے پارلیمنٹ کا کام کاج ٹھپ ہے۔حکمران جماعت اور اپوزیشن کے بیچ ٹھنی ہوئی ہے۔اپوزیشن کے درجن بھر سے بھی زیادہ دھڑے مودی سرکار کے خلاف متحد ہونے میں لگے ہوئے ہیں لیکن مودی سرکار نے کیا داؤ مارا ہے کہ ساری اپوزیشن خوشی خوشی قطار بند ہو گئی ہے۔ اب فرق کرنا ہی مشکل ہے کہ بھارت کی پارلیمنٹ میں کون حکمران جماعت ہے اور کون اپوزیشن میں‘ کون سا ایسا معاملہ ہے جس نے دونوں کے بیچ یہ بے مثال سنگتی بٹھا دی۔وہ معاملہ ہے دیش کے سماجی اور حقیقی معنوں میں پسماندہ طبقے کی مردم شماری کا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں اُس 127ویں آئین کی حمایت میں ہاتھ کھڑے کر رہے ہیں جو ریاستی حکومتوں کو اختیار دے گا کہ وہ اپنے اپنے پسماندہ طبقوں کی گنتی کروائیں۔یہ ترمیم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو رد کر دے گی جس میں اس نے حکومتوں کو مذکورہ گنتی کے حق سے محروم کر دیا تھا۔عدالت کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینے کا حق صرف مرکزی سرکار کو ہی ہے۔مرکز کی مودی سرکار نے سونیا‘منموہن سرکار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ذاتوں کی بنیاد پر گنتی پر روک لگا دی تھی لیکن اب وہ کیا کرے گی۔اب وہ یہ گنتی کروانے کیلئے بھی تیار ہو جائے گی؟ جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ ہمارے سبھی سیاستدان ووٹ اور نوٹ کے غلام ہیں۔یہ ریاستی مردم شماری اس کا واضح ثبوت ہیں۔سبھی دھڑے چاہتے ہیں کہ ملک کی پچھڑی ذاتوں کے ووٹ انہیں تھوک میں مل جائیں ‘اسی لئے وہ آئین کا بھی کچومر نکالنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔آئین کہتا ہے کہ '' سماجی پسماندہ طبقہ‘‘ لیکن ہمارے سیاستدان ذاتوں کو ہی ''معاشرتی طبقہ‘‘ قرار دے دیتے ہیں۔کیا ذات اور معاشرتی طبقے میں کوئی فرق نہیں ہے؟اگر سرکاری ریوڑیاں آپ کو تھوک میں ہی بانٹنی ہیں تو آپ گنتی کیوں کروا رہے ہیں؟ جب آپ گنتی کر ہی رہے ہیں تو ہر آدمی سے آپ اس کی سماجی،معاشی صورتحال کیوں نہیں پوچھتے؟آپ کو ایک دم ٹھیک ٹھاک شماریات ملیں گے۔ان شماریات کی بنیاد پر آپ ان کروڑوں لوگوں کو تعلیم اور علاج مفت دستیاب کروائیے‘ لیکن انہیں آپ کچھ سو نوکریوں کا لالچ دے کر ان کی ذاتوں کے کروڑوں ووٹ پٹانا چاہتے ہیں۔اس سے بڑی سیاسی بے ایمانی کیا ہو سکتی ہے۔ملک کے کسی بھی سیاستدان یا پارٹی میں اتنا اخلاقی احساس نہیں ہے کہ وہ اس بے ایمانی کے خلاف منہ کھولیں۔اب یہ مطالبہ بھی اُٹھے گا کہ ریزرویشن کی حد 50فیصد سے کہیں زیادہ ہو۔
ایک پہلوان اور لقوے کے کئی مریض
کانگرس صدر سونیا گاندھی نے 20اگست کو اپوزیشن جماعتوں کے اعلیٰ نیتاؤں کی میٹنگ بلائی ہے۔اس سے پہلے کانگرسی رہنما کپل سبل نے اپنے گھر پر اپوزیشن سیاستدانوں کے لیے ڈنر رکھا تھا۔جس میں تقریباً سبھی جماعتوں کے سیاستدان تھے سوائے سونیا اور راہل کے۔اس سے پہلے ممتا بینرجی اور شرد پوار نے بھی اپوزیشن جماعتوں کو ایک کرنے کی تدابیر کی تھیں۔یوں بھی سابق وزیر اعظم دیوگوڑا بھی اپوزیشن سیاستدانوں سے ملتے جا رہے ہیں۔پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز کو ٹھپ کرنے اور ہڑبونگ مچانے میں اپوزیشن نیتاؤں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ بے مثال ہے لیکن ان سب نوٹنکیوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتیں جن مدعوں کو اُٹھا رہی ہیں ان کا جواب دینے سے سرکار کترا رہی ہے۔ اگر اس میں لچیلا پن ہوتا تو وہ پیگاسس جاسوسی اور کسان مسئلے پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کر کے سارے معاملے کو سلجھا سکتی تھی لیکن حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں دنگل پریمی بن چکے ہیں۔ لیکن اصلی سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن متحد ہو پائے گی اور کیا وہ مودی سرکار کو ہٹا سکتی ہے؟پہلی بات تو یہ کہ ملک کے کئی ریاستوں میں اپوزیشن جماعتیں آپس میں ہی ایک دوسرے سے بھڑی ہوئی ہیں جیسے اترپردیش میں کانگرس‘سماج وادی پارٹی،‘بسپا میں اور کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی اور کانگرس میں سیدھی ٹکر ہے۔کچھ دیگر ریاستوں میں اپوزیشن جماعت طاقتور ہے لیکن وہ غیر جانبدار ہے۔دوسرا اپوزیشن جماعتوں کے ہاتھ کوئی ایسا مدعا نہیں لگ رہا جو ایمرجنسی ‘ بوفورس یا رام مندر یا سنگین ناانصافی جیسا ہو جنہوں نے اندرا گاندھی،راجیو گاندھی،نرسمہا راؤ یا منموہن سنگھ کے خلاف عوامی رائے تیار کی ہو اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک کر دیا ہو۔تیسرا‘اس وقت اپوزیشن جماعتوں کے پاس جے پرکاش نارائن‘ وشوناتھ پرتاپ سنگھ اٹل بہاری واجپائی، چندر شیکھر یا لال کرشن ایڈوانی جیسے سیاستدان نہیں ہیں کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ نریندر مودی کا راج 40فیصد سے بھی کم ووٹوں پر چل رہا ہے اور بھاجپا کا بھی کانگرسی کرن ہو چکا ہے۔مودی سرکار میں ملک کی سماجی تبدیلی کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔وہ نوکرشاہوں پر منحصر ہیں لیکن 60فیصد ووٹوں والی اپوزیشن جماعتیں ایسی لگتی ہیں جیسے کئی لقوے کے مریض مل کر کسی پہلوان کو پٹکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں