نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہورمیں ڈینگی سےمزید 2 افرادجاں بحق،365 نئےمریض رپورٹ
  • بریکنگ :- پنجاب میں ڈینگی کے 463 مریض رپورٹ،تعداد 10ہزار 528 ہوگئی
  • بریکنگ :- لاہور:صوبہ بھرکےاسپتالوں میں ڈینگی کے 2200 مریض زیرعلاج
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

گردشی قرضہ: کمیٹی کا قیام نتیجہ خیز ہو سکے گا؟

بجلی سیکٹر کا گردشی قرضہ سترہ سو ارب روپے کی حد پار کر چکا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ گردشی قرضے میں اضافہ بارہ بلین روپے ماہانہ تک محدود کرے گی لیکن دیگر حکومتی دعووں کی طرح اس دعوے کی قلعی بھی ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے کھول دی اور بتایا کہ اگست کے آخر میں یہ قرضہ اکیس بلین روپے تک پہنچ جائے گا۔ جب یہ خبر سامنے آئی تو حکومت نے روایتی رد عمل ظاہر کیا۔ سات اگست کو امورِ توانائی کے وزیر عمر ایوب نے ایک نو رُکنی کمیٹی تشکیل دے دی اور اسے ذمہ داری سونپی گئی کہ بجلی کی نجی پیداوار، خصوصاً انڈی پنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی بلند پیداواری لاگت اور گردشی قرضے کی وجوہ کی نشاندہی کرے۔ ایک اخبار کی اطلاع کے مطابق وزیرِ موصوف کے محمد علی نامی ایک قریبی عزیز کو اس کمیٹی کے سربراہ نامزد کیا گیا۔ ایک متعلقہ افسر نے اخبار کو بتایا کہ بطور چیئرمین کمیٹی محمد علی کا نام وزیر اعظم ہائوس سے بھجوایا گیا تھا۔ ان کی اس کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر نامزدگی بہت سے لوگوں کے لئے تشویش کا سبب بنی کیونکہ ان کے خلاف پہلے ہی نیب کا ایک ریفرنس چل رہا ہے اور نقادوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس تعیناتی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ ان کی اس کیس سے خلاصی کر دی گئی ہے۔ اس وقت کسی کو بھی موصوف کے خلاف چلنے والے اس نیب کیس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ آئی پی پیز کے ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ توانائی سیکٹر کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے محمد علی صاحب نے خاموشی سے آئی پی پیز سے خفیہ مذاکرات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد کیا ہے؟ یہ بات شاید صرف سربراہِ کمیٹی کے ہی علم میں ہے۔
ان سب چیزوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو بھی یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے، جس سے شاید کوئی بھی انکار نہ کرے، کہ توانائی کا شعبہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ اس کے متعدد پہلوئوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہر کَس و ناکس کے بس کا کام نہیں۔ اس شعبے کی ٹھیک طور پر جانچ پرکھ کوئی تکنیکی ماہر ہی کر سکتا ہے؛ چنانچہ یہ سوال ذہنوں میں اٹھنا قدرتی ہے کہ آیا جن صاحب کو بجلی کی پیداوار، خصوصاً انڈی پنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کی بلند پیداواری لاگت اور گردشی قرضوں کی وجوہ کی نشاندہی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے‘ وہ ان معاملات کا پورا علم یا عملی تجربہ رکھتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد علی صاحب ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین اور جانے پہچانے سٹاک بروکر ہیں۔ اپریل 2013ء میں ایس ای سی پی کے چیئرمین کے طور پر ان کی تقرری سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ ان کا ''انتخاب اور نامزدگی‘‘ ایس ای سی پی ایکٹ 1997ء میں مقرر کردہ معیارات کے مطابق نہیں۔ اس حوالے سے پٹیشنر محمد اشرف ٹوانہ، کمیشن کے لیگل ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ، نے موقف اختیار کیا تھا کہ محمد علی ایک نجی بروکریج فرم کے سب سے بڑے حصہ دار اور ڈائریکٹر ہیں۔ ایس ای سی پی پاکستان میں کارپوریٹ اور فنانشل سیکٹر کے تمام امور کو ریگولیٹ کرتا ہے اور اس کے تحت تمام کارپوریٹ ادارے اور کمپنیاں‘ جن میں سکیورٹی مارکیٹ، نان بینکنگ فنانس سیکٹر، انشورنس انڈسٹری، سٹاک مارکیٹ، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں، بروکر، سرویئر اور آڈیٹر وغیرہ شامل ہیں‘ آتے ہیں۔ یوں محمد علی صاحب کی ایس ای سی پی میں سب سے بلند پوزیشن پر موجودگی مفادات کے ٹکرائو کا باعث ہے۔ ایک انگریزی روزنامے کی 24 دسمبر 2010 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا: محمد علی کی تعیناتی بطور چیئرمین ایس ای سی پی نے یہ خوف پیدا کر دیا کہ مارکیٹ میں سے ہی کسی ایسے شخص کی اس عہدے پر تعیناتی، جس کے اپنے مفادات موجود ہیں، ایسی صورتحال کو جنم دینے کا سبب بنے گی جس کے بعد چند لوگ سٹاک ایکسچینج کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔ 
متعدد اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق محمد علی صاحب نے سابق چیئرمین نیب، قمر زمان چوہدری کے زمانے میں ایک اہم شخصیت کے ذریعے احتسابی ادارے پر دبائو ڈالا تھا کے ان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں؛ تاہم احتسابی ادارے نے اِس دبائو کے باوجود ان کے خلاف الزامات کے حوالے سے مکمل چارج شیٹ جمع کرا دی تھی۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ موصوف نے بطور چیئرمین سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) صارفین سے ان اداروں کے افسران کی چشم پوشی کی بدولت انتالیس بلین روپے نچوڑے تھے۔ وہ ان لوگوں میں بھی شامل تھے جن سے نیب نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں ہونے والے اربوں کے سکینڈل بارے تفتیش کی تھی۔ اسی طرح اگست 2013ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے موصوف کے خلاف ایکشن لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق انہوں نے نہ صرف اپنی ذاتی سرمایہ کاری پوشیدہ رکھی بلکہ ملک کے سب سے بڑے ریگولیٹر کے عہدے پر تعینات ہونے کے باوجود اپنے اثاثوں کے بارے میں گوشوارے جمع نہیں کرائے تھے۔ ایف بی آر کی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف نے دو ہزار دس، گیارہ اور بارہ کے دوران اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہیں کرائے تھے حالانکہ اس زمانے میں وہ خود ایس ای سی پی کے چیئرمین تھے۔ ایک اور انگریزی اخبار میں سات اگست 2013 کو شائع ہونے والی ایک خبر میں اس حوالے سے تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ پاکستانی کیپیٹل مارکیٹ کے سب سے بڑے ریگولیٹر ادارے کے سربراہ کا ذاتی اثاثہ جات کے بارے میں ایسا طرزِ عمل قابل گرفت ہے۔
معاملات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اس حکومت میں مفادات کے ٹکرائو والی ایسی تعیناتی پہلی دفعہ نہیں ہوئی۔ یہ جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ آیا محمد علی کا معاملہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر سے مماثل تو نہیں ہے؟ قارین کو معلوم ہو گا کہ ندیم بابر کے گیس سپلائرز کے ساتھ دو اعشاریہ چھ بلین کے معاملات (جرمانے وغیرہ) چل رہے ہیں جبکہ آئی پی پیز میں بھی ان کے بھاری مفادات موجود ہیں۔ ان کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ توانائی کے حوالے سے نواز شریف کی بنائی گئی کمیٹی میں بھی شامل تھے۔
مذکورہ بالا حقائق کو سامنے رکھ کر حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو ایک ایسی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے‘ جس میں یہ سوال سب سے واضح نظر آتا ہے کہ کیا ایسے افراد کو اہم عہدوں پر فائز کیا جا سکتا ہے‘ جن کے مالی معاملات پہلے ہی زیرِ غور ہوں؟ اور کیا ایسے افراد ان عہدوں پر فائز ہو کر مفادات کے ٹکرائو جیسے معاملات میں شفافیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟ اور یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اکثر و بیشتر گزشتہ حکومتوں کو اس حوالے سے مطعون کرتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو اہم عہدوں سے نوازا جن کے اپنے مفادات انہی شعبوں سے وابستہ تھے۔ یہ بات حیرت کا باعث ہے کہ آئی پی پیز کے معاہدوں میں موجود کھلے حقائق کے باوجود حکومت نے ایک بار پھر انرجی سیکٹر کی بیماری کا جائزہ لینے کے لیے مختلف شعبوں پر محیط ایک نو رُکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ کیا اس سیکٹر میں کام کرنے والے نجی اداروں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں اور ان کی پیداوار کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے؟ توانائی کے شعبے میں چند لوگوں کی ریشہ دوانیوں اور اس سے بھاری منافع کمانے کی داستانیں اور وجوہ تو دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے گردش میں ہیں‘ لیکن ہماری حکومت کے کیا کہنے کہ اس نے نئے سرے سے اس معاملے کی جانچ پرکھ کے لیے ایک اور کمیٹی بنا دی ہے اور وہ بھی ایک ایسے فرد کے حوالے کر دی گئی ہے جو چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی شہرت رکھتا ہے اور جس کے مفادات اس شعبے سے وابستہ ہیں۔
اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ گردشی قرضے قومی خزانے پر ایک مستقل بوجھ کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور حکومت کو معاشی بہتری لانے کے لیے بہر صورت اس مسئلے کا کوئی مستقل حل کھوجنا ہو گا‘ لیکن ذاتی مفادات کے اسیروں سے اس مسئلے کے حل کی توقع کارِ بیکار ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جانی چاہیے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں