نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:سپریم کورٹ کاایک ہفتےمیں نسلہ ٹاورگرانےکاحکم
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت
  • بریکنگ :- عدالت کاعمارت گرانےکیلئےجدیدٹیکنالوجی استعمال کرنےکاحکم
  • بریکنگ :- کراچی:تمام اخراجات نسلہ ٹاورکےمالک سےلیےجائیں،عدالت کاحکم
  • بریکنگ :- اگر وہ اخراجات ادانہ کرے تواس کی جائیدادضبط کرلی جائے،عدالت
  • بریکنگ :- کمشنرکراچی ایک ہفتےمیں نسلہ ٹاورگراکررپورٹ دیں،عدالت
  • بریکنگ :- عدالت نےگزشتہ سماعت پر 27 اکتوبرتک نسلہ ٹاورگرانےکاحکم دیاتھا
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

بھارت‘ اسلحے کی دوڑمیں سب سے آگے!

جنوبی ایشیا میں بھارت اسلحے کی دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ اس نے پچھلے سال دفاعی بجٹ میں 13 ہزار کروڑ روپے کا اضافہ کیا تھا۔ سٹاک ہوم بین الاقوامی امن تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ نے 2012 تا 2016‘ بھارت کو دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والا ملک قرار دیا تھا۔ اسی ادارے نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ دنیا بھر میں بھارت اس وقت سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کر رہا ہے۔ بھارت زیادہ تر اسلحہ اسرائیل اور روس سے خریدتا ہے؛ تاہم حال ہی میں امریکہ اور فرانس سے بھی جدید فضائی اور دفاعی نظام خریدا گیا ہے۔ 36 جدید رافیل طیارے 2022 تک بھارت پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ بھارت آرٹلری بندوقیں، طیارہ بردار جہاز اور جدید آبدوزیں بھی خرید رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کورونا وبا کے دوران جب باقی دنیا ماسک اور ادویات خرید رہی تھی‘ اس وبا سے بچائو کی تدابیر کر رہی تھی‘ بھارت اس وقت بھی اسلحہ خریدنے میں مصروف نظر آتا رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ بھارت اتنا اسلحہ کیوں خرید رہا ہے؟ اس کے پس پردہ حقائق کیا ہیں؟ کون سے ممالک اس اسلحے کی دوڑ سے متاثر ہو سکتے ہیں؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ کو اس خطے میں چین کے خلاف ایک اتحادی کی ضرورت ہے۔ چین اپنا کاروبار جنوبی ایشیا میں پھیلا رہا ہے اور دوسری طرف امریکہ افغانستان سے ناکام لوٹ رہا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ کو بھارت میں وہ اتحادی دکھائی دیتا ہے جو چین کو آنکھیں دکھا سکتا ہے اور جنوبی ایشیا کے خطے میں امریکی مفادات کی نگہبانی کر سکتا ہے۔ 
چین اور بھارت کے مابین گزشتہ کچھ عرصے سے ایل اے سی (The Line of Actual Control) پر شدید کشیدگی ہے۔ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازع بہت پرانا ہے۔ 1962 کی جنگ میں یہ مزید پیچیدہ ہو گیا تھا۔ مئی 2020 میں چین اور بھارت کے مابین پہلی جھڑپ ہوئی جس میں کئی بھارتی فوجیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ جون 2020 میں دونوں ممالک کے مابین ہونے والی دوسری جھڑپ لداخ کی وادی گلوان میں ہوئی۔ اس جھڑپ میں انڈیا کے 20 فوجی ہلاک اور 75 شدید زخمی ہو گئے تھے۔ تیسری جھڑپ انتیس‘ تیس اگست کو ہوئی۔ یہ جھڑپ چینگوینگ سو جھیل کے کنارے ہوئی تھی۔ چین اور انڈیا کی یہ سرحد488 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ سرحد جموں و کشمیر، اترا کھنڈ، سکم، ہماچل پردیش، اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے۔ کئی تجزیہ کار حالیہ چین بھارت کشیدگی میں امریکہ کا کردار بھی دیکھ رہے ہیں‘ یعنی ان کا خیال ہے کہ بھارت اور چین کے مابین حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ کی کوئی چال بھی کارفرما ہو سکتی ہے۔
بھارت کی جارحیت کے نشانے پر دوسرا ملک پاکستان ہے۔ کسی زمانے بھارت ڈھکے چھپے انداز میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں ٹانگ اڑاتا تھا لیکن کچھ عرصے سے‘ خصوصاً کلبھوشن کے پکڑے جانے کے بعد کافی چیزیں سامنے آ چکی ہیں۔ بھارت پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں بھی ملوث ہے۔ بلوچستان کے معاملے میں بھارت کا منفی کردار ہر طرح سے واضح اور نمایاں ہے۔ نہ صرف وہ بلوچستان میں بد امنی میں ملوث ہے بلکہ وہ افغانستان میں بلوچ عسکریت پسندوں کو ہتھیار بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ کئی علیحدگی پسند بھارت جا کر علاج بھی کرا کے آئے ہیں۔ اگر بھارت دہشت گردی کے خلاف ہے اور اگر وہ دہشت گردوں کو پسند نہیں کرتا تو اس کی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے علاج کا کیا مطلب مقصد؟ پچھلے کچھ عرصے میں بھارت میں بڑے عہدوں پر براجمان لوگوں نے بلوچستان کو اپنا موضوع بحث بنایا ہوا ہے حتیٰ کہ اجیت ڈوول اور نریندر مودی خود بھی بلوچستان میں بد امنی پھیلانے اور ریاست مخالف مہم کا حصہ بننے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی برادری خصوصی طور پر اس خطے کے ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہونی چاہئے کہ بھارت دہشت گردی کو پھیلانے میں مصروف ہے۔ 
کچھ سال پہلے ایک کالعدم بلوچ جماعت کے سربراہ اور اکبر بگٹی کے نواسے براہمداغ بگٹی نے بھارت کا دورہ کیا تو وہاں پر ان کو بھارت میں پناہ دینے کی آفر کی گئی تھی۔ اب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح اور نمایاں ہو چکی ہے کہ بھارت چاہتا ہے‘ کسی بھی طرح پاکستان کو کمزور کیا جائے اور پاکستان میں جہاں کہیں بھی تھوڑے سے مسائل ہوں ان کو ہوا دی جائے‘ بڑھایا جائے‘ اور کسی بھی طرح ملک میں مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کا کوئی حربہ استعمال کیا جائے۔ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو ایک خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی 'را‘ کے افسران کی نگرانی میں افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا‘ اور اس کام کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ بھارت نے نہ صرف آرمی پبلک سکول حملے کو سپانسر کیا بلکہ وہ گزشتہ دو برسوں میں گوادر میں پی سی ہوٹل، سٹاک ایکس چینج سینٹر کراچی اور کراچی ہی میں موجود چینی کونسل خانے پر حملے میں بھی ملوث تھا۔
پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔ بھارت اپنے سازشی حربوں اور دیگر طریقوں سے پوری کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلا جائے۔ حال ہی میں ایشیا پیسیفک گروپ کی طرف سے جاری کردہ ایک  باہمی جائزہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجویز کردہ کل 40 سفارشات میں سے، دو سفارشات پر مؤثر عمل درآمد کیا ہے‘ 26 پر جزوی طور پر  کام کیا ہے جبکہ 9 پر بڑی حد تک عمل کیا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جانا ہے کہ آیا پاکستان کو تنطیم کی گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے یا نہیں؟ اس اجلاس کا فیصلہ جو بھی آئے لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ بھارت ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کو اب اس دشمنی، دوغلا پن والی ذہنیت سے باہر نکلنا ہو گا کیونکہ اس کے بغیر خطے میں پائیدار امن کے قیام ممکن نہ ہو سکے گا۔ عالمی برادری کو نہ صرف دہشت گردی کے فروغ میں بھارتی کردار پر نظر رکھی چاہئے بلکہ اس کی جانب سے خطے میں اسلحے کی جو ایک نئی دوڑ شروع ہو رہی ہے‘ اس کا بھی جائزہ لینا ہو گا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں جنوبی ایشیا کا خطہ طاقت کے عدم توازن کا شکار ہو جائے گا جبکہ یہ عدم توازن امن کو تباہ کرنے کا باعث بھی بنے گا۔
بھارت ابھی تک اپنے حربوں میں ناکام رہا ہے لیکن وہ اپنی عادات سے باز نہیں آئے گا۔ اس کو معلوم ہے کہ پاکستان معاشی لحاظ سے مسائل کا شکار ہے اور اسلحے کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر پائے گا‘ لیکن شاید وہ یہ بھول رہا ہے کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور دفاع کے لحاظ سے مضبوط ہے۔ جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ شروع تو ہو جائے گی لیکن اس جنگ کو ختم کرنا پھر کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔ اب بھی وقت ہے کہ بھارت اس اسلحے کی دوڑ سے نکلے اور خطے میں مثبت تبدیلیوں کا حصہ بنے جبکہ اقوام عالم کو چاہئے کہ وہ بھارتی جارحیت پر توجہ دے ورنہ اس اسلحے کی دوڑ اور مقابلے سے پورا خطہ غیر محفوظ ہو جائے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں