نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی نے عوام کیساتھ بڑے وعدے کیےتھے،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نے عوام سےکیاگیاایک وعدہ بھی پورانہیں کیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نے ریاست مدینہ بنانےکاوعدہ کیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی نےشریعت سےمنافی تمام قانون بنائے،سراج الحق
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی حکومت نےڈومیسٹک وائلنس بل پاس کرایا،سراج الحق
  • بریکنگ :- ڈومیسٹک وائلنس بل کاقانون ہمارے خاندانی نظام پرحملہ ہے،سراج الحق
  • بریکنگ :- حکومت کوڈومیسٹک وائلنس بل واپس لیناچاہیئے،سراج الحق
  • بریکنگ :- اسلام جبری طورپرمذہب تبدیل کرنےکی نفی کرتاہے،سراج الحق
  • بریکنگ :- پاکستان میڈیااتھارٹی بل آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتاہے،سراج الحق
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

بد عنوانی کے خلاف ایک بڑا عالمی اقدام

جون کے اوائل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے با ضابطہ طور پر یہ تسلیم کیا کہ جب لیڈر اپنی ہی قوموں سے چوریاں کرتے ہوں اور شہری قوانین کی دھجیاں اڑانا اپنی شان سمجھتے ہوں تو معیشت کا پہیہ جام ہو جاتا ہے، تفرقہ بڑھ جاتا ہے اور حکومت اپنی ساکھ کھو دیتی ہے۔
یہ بات اس حوالے سے کی گئی کہ ترقی پذیر ممالک کے سینکڑوں ارب ڈالر کرپشن کر کے ترقی یافتہ ممالک کے مالیاتی سسٹم میں داخل کئے جا چکے ہیں جس سے جہاں ایک طرف پہلے سے ترقی یافتہ ممالک ترقی کی نئی منازل طے کر رہے ہیں‘ وہاں دوسری طرف جن ترقی پذیر ممالک کا یہ پیسہ ہوتا ہے وہ مزید غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور ان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
صدارتی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گم نام کمپنیاں، غیر شفاف مالیاتی نظام اور سروسز فراہم کرنے والے دولت کی غیر قانونی نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں‘ اور ان میں امریکہ اور دوسری جمہوری قوتیں بھی شامل ہیں۔
کیا یہ ساری باتیں وزیر اعظم عمران خان کے لئے نئی ہیں؟ کیا یہ باتیں خان صاحب کے کانوں میں رس نہیں گھول رہی ہوں گی؟ اس آخری سوال کا جواب ہے کہ ہاں‘ ایسا ہو سکتا ہے! شاید اس لئے ہاں کہ امریکی صدر کی یہ باتیں خان صاحب کے اس پرانے موقف کی بھرپور تائید کر رہی ہیں جن کا وہ اکثر بلکہ ہر وقت ذکر کرتے رہتے تھے اور اب بھی کرتے رہتے ہیں۔
عالمی فورمز پر اپنی تقاریر میں وزیر اعظم عمران خان بار بار اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کا پیسہ‘ جو ترقی یافتہ ممالک کے بینکوں اور آف شور کمپنیوں میں پڑا ہے‘ ان غریب اور پس ماندہ ممالک کو واپس ملنا چاہئے تا کہ ان ممالک میں رہنے والے انسانوں کی زندگیاں بہتر بنائی جا سکیں‘ ان کے معاملات میں بہتری لائی جا سکے‘ ان کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ عمران خان اس ضمن میں ان ترقی یافتہ ممالک سے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔
بدعنوانی کے خلاف جنگ سے متعلق میمورنڈم میں صدر جو بائیڈن نے کرپشن کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکی اور عالمی مالیاتی نظام میں شفافیت لانا، اندرون اور بیرون ملک بد عنوانی کا خاتمہ کرنا اور کرپٹ عناصر کا مقابلہ کرنا ہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ بد عنوانی عوام کو حکومتوں سے بد ظن کرتی ہے، یہ موثر حکمرانی کے عمل کو سست کر دیتی ہے یا روک دیتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ترقیاتی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوتیں۔ اس سے آمریت اور انتہا پسندی کو ہوا ملتی ہے۔ ملکوں اور قوموں کے معاملات خراب ہو جاتے ہیں۔
میمورنڈم کے ذریعے صدر نے انٹیلی جنس ڈائریکٹر، سی آئی اے اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف سمیت 15 محکموں کو پابند کیا کہ صدر کے اسسٹنٹ اور قومی سلامتی کے مشیر سے ہونے والے تمام سوالات اور پیش ہونے والی درخواستوں کا جواب دیا جائے گا، تمام شعبے اس سارے عمل کی ایک جائزہ رپورٹ 200 دنوں میں مرتب کر کے صدر کو پیش کریں گے‘ جس کے بعد ہی صدر جو بائیڈن اگلے لائحہ عمل کا اعلان کر سکیں گے۔ ان بین الشعبہ جاتی کارروائیوں کا مقصد کیا ہو گا اور ان کے کیا نتائج برآمد ہوں گے‘ ان کا اندازہ لگانے کیلئے درج ذیل نکات مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
اچھی حکمرانی کو فروغ دینا اور امریکی کانگریس کو متعلقہ قانون سازی کی تجویز پیش کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق بد عنوانی کی روک تھام اور بد عنوانی کے معاملات کا مقابلہ کرنا۔
امریکہ اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ہر قسم کے غیر قانونی فنانس کا مقابلہ کرنا اور اس حوالے سے معاملات کو بہتر بنانا۔
بد عنوان عناصر اور اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے چوری شدہ اثاثوں کو بازیاب کرانا اور ان کو ان کے اصل مالکان کو واپس کرنا۔
بد عنوانی کے رجحانات پر تحقیق کرنا، روک تھام کے اقدامات کی حمایت کرنا، رہنمائوں کو جواب دہ بنانا اور اس سارے عمل کو میڈیا اور دیگر اداروں کی زیرِ نگرانی انجام دینا تاکہ اس کی شفافیت قائم رکھی جا سکے۔ علاوہ ازیں اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر ایک محفوظ اور کھلا آپریٹنگ ماحول فراہم کرنے کیلئے کام کرنا۔ غیر ملکی رہنمائوں کی طرف سے سٹریٹیجک کرپشن کے ذریعے کمائے ہوئے پیسے‘ بد عنوان عناصر کی سمگلنگ اور اسی طرح کے اور غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لئے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا۔
نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ شراکت کو فروغ دینا تا کہ انسداد بد عنوانی کے اقدامات کی حمایت کی جا سکے اور بد عنوانی کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔
مشکوک معاہدے، سرکاری فنڈز کی چوری اور بینکنگ میں رقوم کے جعلی لین دین کے خلاف مہم زور پکڑتی نظر آ رہی ہے کیونکہ عالمی جی ڈی پی کا 5 فیصد حصہ اس طرح کی بد عنوانیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ صدر بائیڈن نے کہا‘ نجی مفادات کے لئے اختیارات کا نا جائز استعمال، عوامی اثاثوں کا نا جائز استعمال، رشوت ستانی، اور بد عنوانی کی دیگر اقسام ہر ملک اور معاشرے کو متاثر کرتی ہیں۔
یہ اقدامات اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ سینکڑوں ارب ڈالر امریکہ، یورپ اور آف شور کمپنیوں میں بغیر کسی پوچھ گچھ کے جا رہے ہیں اور ان پیسوں کو جمع کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ سابق حکمران اور انہی کے شراکت دار ہوتے ہیں۔
پاکستان کے سابق وزرائے اعظم، صدور اور دوسرے اعلیٰ افسران کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ سب ایک جیسے نہیں ہیں‘ لیکن اکثریت کی یہی کہانی ہے‘ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب یہ لوگ طاقت میں آ جاتے ہیں تو ان کے قریبی حلقوں میں موجود لوگوں کی دولت میں مختصر عرصے کے دوران بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے اس طرح کی سفارشات اور ان پر اندھا دھند عمل درآمد نے ترقی پذیر ممالک میں پڑے بد عنوان عناصر کو چونکا ضرور دیا ہو گا جس کی وجہ سے اب شاید ان کے لئے اس طرح کے اقدامات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مشکل پیش آئے گی‘ یعنی ممکن ہے ان اقدامات کے نتیجے میں ان کے لئے مزید کرپشن کرنا اور کرپشن سے کمائی گئی رقوم کو آف شور ممالک اور مالیاتی اداروں میں منتقل کرنا آسان نہ رہے۔ مثال کے طور پر افغان تعمیر نو کے لئے مقرر امریکی سپیشل انسپکٹر جنرل نے نجی طور پر کہا ہے کہ امریکی حکومت کو معلوم ہے کہ کون سے افغان رہنما کے پاس کتنی دولت ہے اور یہ کہاں کہاں سے آئی اور کہاں کہاں موجود ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں فوجی اور معاشی مد میں 2.6 ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں جن میں سے لوگوں کے ڈائریکٹ اکائونٹس میں بھی پیسہ گیا ہے‘ اور یہی حال پاکستانی رہنمائوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
صدر جو بائیڈن کے یہ اقدامات ہمارے ملک کے لئے روشنی کی ایک کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت سے اب وزیر اعظم عمران خان کو فائدہ اُٹھانا چاہئے اور پاکستان کی حدود سے باہر بھی بد عنوانی کے خلاف مہم چلانی چاہئے لیکن اس کے لئے احتسابی عمل میں سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہو گی۔ احتساب کے ذریعے پچھلے تین سالوں میں 500 ارب کے قریب وصولی کی گئی‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پلی بارگین جیسے متنازع معاہدے بھی ہوئے جن سے احتسابی عمل کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہوئے۔ ترقی پذیر ممالک کو ان کی دولت واپس مل جائے تو ان کے عوام کی حالت اور ترقی کی رفتار‘ دونوں میں بہتری آئے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں