نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کیادنیاافغانستان اورخطےکوچھوڑنےکی غلطی دہرائے گی؟معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان نےہمیشہ افغان مذاکرات اورسیاسی تصفیے کی حمایت کی،معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 80 ہزارسےزائدجانی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 150 بلین ڈالر سےزائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ بنایا، معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نےافغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئےاستعمال کیا،معید یوسف
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےبچاناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اتفاق رائے کےساتھ آگےبڑھناچاہیئے،معید یوسف
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

امریکی مسلمان اور ہمارے حکمران

پہلا مشاعرہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ جس کا مُخفّف ’’اکنا‘‘ (ICNA)ہے‘ کے اڑتیسویں سالانہ کنونشن کی آخری رات کو تھا۔ اس مشاعرے میں مقامی شعرا کی تعداد بھی تین چار سے زائد نہیں تھی اور مہمان شعرا صرف ہم دونوں یعنی مسعودین تھے۔ یہ نام بھی انور مسعود صاحب کا دیا ہوا ہے۔ ’’اکنا‘‘ شمالی امریکہ میں مسلمانوں کی دوسری بڑی لیکن زیادہ متحرک تنظیم ہے۔ سب سے بڑی ’’اسنا‘‘ (ISNA)یعنی اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ ہے۔ اسنا کے ممبران کی غالب اکثریت عرب دنیا سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اکنا کے ممبران میں پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان زیادہ ہیں؛ تاہم اس کے ممبران میں عرب اور افریقی مسلمانوں کے علاوہ امریکی مسلمان بھی شامل ہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں کی پہلی نمائندہ تنظیم مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن تھی جس کی بنیاد 1963ء میں یونیورسٹی آف الینوائس (Uniyersity of Illinois) میں پڑھنے والے انٹرنیشنل سٹوڈنٹس نے رکھی جن کی غالب اکثریت عربی اور اردو بولنے والے طالب علموں پر مشتمل تھی اور اس کے ابتدائی رہنمائوں کا تعلق بھی عرب اور برصغیر سے تھا۔ اس طلبہ تنظیم کی جڑیں مصری تنظیم اخوان المسلمون اور پاکستان کی جماعت اسلامی سے ملی ہوئی تھیں۔ ابتدا میں اس طلبہ تنظیم کو ایک عرب ملک کی رفاہی تنظیم مسلم ورلڈ لیگ مالی امداد دیتی تھی۔ اس مسلم تنظیم نے امریکی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے مسلمان طلبہ میں اسلامی تہذیب اور تعلیمات کی ترویج کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس کا احاطہ ایک کالم میں نہیں ہوسکتا تاہم مختصراً یہ کہ اس تنظیم نے امریکہ کے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو علیحدہ شناخت دلوانے اور ان میں سیاسی تحریک پیدا کرنے کے لیے جو کوششیں کی ہیں آج اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے مسلمان طلبہ کو بھی دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے مساوی حقوق حاصل ہوئے ۔ اس تنظیم سے تعلق والے طالب علم رہنما جب تعلیم مکمل کرکے تعلیمی اداروں سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کی بنیاد رکھی۔ بعد میں اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے فارغ التحصیل طلبہ نے ’’اکنا‘‘ قائم کی۔ 1971ء میں انہی طلبہ نے کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ایک اسلامی سٹڈی سرکل بنایا جو اکنا کا نقطہ آغاز تھا۔ 1979ء میں اکنا کا مسٹرزونگ بھی قائم کردیا گیا۔ آج اکنا کے ممبران کی تعداد سینکڑوں میں نہیں ہزاروں میں ہے۔ اس کا سالانہ کنونشن امریکہ میں مسلمانوں کا شاید سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اس میں اکنا کے ساتھ مسلم امریکن سوسائٹی یعنی \"MAS\" بھی ہوتی ہے۔ 2007ء کے اجتماع میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ مسلمان ارکان نے شرکت کی۔ اس کے بعد ہرسال اس تعداد میں اضافہ ہورہا ہے؛ تاہم اس عددی اضافے کے ساتھ ساتھ گیارہ ستمبر کے بعد کچھ امریکی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس تنظیم کے تعلقات اگر انتہا پسندوں کے ساتھ نہیں تب بھی یہ انتہا پسند مسلمانوں کے لیے کم ازکم دل میں نرم گوشہ ضرور رکھتی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کو شبہ تھا کہ انتہا پسند امریکی مسلمان انوارالعولاقی نے سراج وہاج کے ساتھ اکنا کے 2007ء میں بالٹی مور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کی تھی۔ تاہم اکنا کے رہنمائوں اور شریعہ کونسل نے بڑی سختی سے انوارالعولاقی کے نظریات، ایکشن اور انتہاپسندوں سے تعلق کی بنیاد پر اس سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا اور امریکی مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ انوارالعولاقی کے نظریات کو مسترد کردیں۔ اکنا پر مشکل وقت وہ تھا جب سٹیون ایمرسن اور اس کے تفتیشی پراجیکٹ نے اکنا پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند اسلامی بنیاد پرستی اور دہشت گرد حملوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے۔ اسی طرح 2009ء میں اینٹی ڈی فیمشن لیگ (Anti-Defamation League) نے الزام لگایا کہ اکنا والے انتہا پسندی کو فروغ دینے والے مقرروں کو اپنی کانفرنسوں میں مدعو کرتے ہیں تاہم اکنا والوں نے ADLکا یہ الزام مسترد کردیا اور کہا کہ وہ انتہا پسندی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ اکنا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی شہریوں اور یہودیوں کو حاصل تمام انسانی حقوق کے احترام کے قائل ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ فلسطینیوں کو حاصل انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ بھی کرتے ہیں اور اس کے پرزور حامی بھی ہیں۔ انوارالعولاقی یمنی مسلمان امریکن ناصر العولاقی کے ہاں امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1971ء میں پیدا ہوا اور امریکہ میں ہی پلا بڑھا۔ اس نے گریجوایشن کولوراڈویونیورسٹی سے کی اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کررہا تھا لیکن پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بجائے وہ القاعدہ سے منسلک ہوگیا اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق وہ القاعدہ کا سینئر ریکروٹر یعنی رضاکر بھرتی کرنے والا ترجمان تھا اور اس پر یہ الزام بھی تھا کہ فالزچرچ ورجینیا کی مسجد کے امام کے طورپر اس کے نائن الیون کے تین ہائی جیکروں سے تعلقات بھی تھے اور وہ ان کو تبلیغ بھی کرتا رہا۔ 2010ء میں امریکی صدراوباما نے العولاقی کا نام اس لسٹ میں ڈالا جن کے بارے میں سی آئی اے کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ انہیں ہلاک کردے۔ العولاقی کے والد اور سول رائٹس گروپ نے ان احکامات کو امریکی عدالت میں چیلنج کردیا تاہم تیس ستمبر 2011ء کو العولاقی یمن میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ العولاقی تو امریکی ہیل فائر میزائل کا نشانہ بن کر دنیا سے رخصت ہوگیا مگر اس جیسے دیگر افراد کے اعمال کے نتیجے میں امریکی مسلمان دن بدن بڑھتی ہوئی مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھنے میں بے پناہ مسائل درپیش ہیں۔ اکنا خود اس مشکل کا شکار ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی مسلمانوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اکناکی لیڈرشپ اپنی تنظیم اور مسلمان سوسائٹی پر انفرادی واقعات کی بنیاد پر لگنے والے اجتماعی الزامات کو پرزور انداز میں رد بھی کررہی ہے اور امریکی مسلمانوں کا بحیثیت امریکی شہری دفاع بھی کررہی ہے۔ امریکہ میں مسلمان امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور کسی نہ کسی واقعے کے نتیجے میں ان پر سختیاں بڑھتی جارہی ہیں مگر میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت جہاں ایک طرف ہرقسم کی دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں وہیں وہ امریکی حکومت کے اقدامات پر اپنے ردعمل کا مظاہرہ کرنے میں ہمارے حکمرانوں کی مانند بزدلی نہیں دکھاتے اور امریکی حکومت کی مسلمان دشمن پالیسیوں پر اپنے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امریکی مسلمانوں کو دومحاذوں پر بیک وقت لڑنا پڑرہا ہے۔ ایک طرف انہیں دہشت گردی کی مذمت کرنی پڑتی ہے اور دوسری طرف انہیں امریکی غنڈہ گردی پر بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو بڑا محتاط رہنا پڑتا ہے اور ہرقدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے تاہم وہ نہ تو امریکی حکومت سے خوفزدہ ہیں اور نہ ہی وہ حکومتی سختیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے حکمران ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی غلامی کے طفیل پوری قوم کی عزت وآبرو کا سودا کرنے میں رتی برابر شرم محسوس نہیں کرتے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں