نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاکستان اسٹیل مل بحالی منصوبہ،12روزسےجاری روڈشوزکاسلسلہ اختتام پذیر
  • بریکنگ :- چین،کوریااورروس کی کمپنیوں کی روڈشوزمیں شرکت
  • بریکنگ :- متعددقومی وبین الاقوامی سرمایہ کاروں اورکنسورشیم کی شرکت
  • بریکنگ :- سرمایہ کاروں کااسٹیل مل بحالی منصوبےمیں دلچسپی کااظہار
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

کنٹینر سے اتر کر ٹرک پر چڑھنے والی کمپنی

شاہراہ دستور پر جاری آزادی کلچرل شو اور انقلاب میلے کی مقبولیت میں خاصی کمی آچکی ہے۔ میں اس روز بروز گرتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ ٹی وی پر ان دھرنوں کو دیکھنے والوں میں کمی سے لگا رہا ہوں۔ لوگ آہستہ آہستہ نہیں بلکہ بڑی تیزی سے ان دھرنوں سے نسبتاً لاتعلق ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی شاید دو بنیادی وجوہ ہیں۔ پہلی وجہ تو شاید یہ ہے کہ لوگوں کو اب یہ احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ معاملہ بہتری کے بجائے خرابی کو پکار رہا ہے اور معاملات اگر یونہی چلتے رہے تو آزادی یا انقلاب کے بجائے محکومی اور آمریت سے پالا پڑ سکتا ہے۔ یہ طریق کار آزادی کو نہیں مارشل لا کو اور انقلاب کو نہیں آئین شکنی کو دعوت دے رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ اب مسلسل دی جانے والی ناکارہ اور ناکام ڈیڈ لائنز سے نہ صرف تنگ آگئے ہیں بلکہ مزید بے وقوف بننے پر تیار نہیں ہیں۔ ان ڈیڈ لائنز کا اعلان اور حشر دیکھ کر ایک بہت پرانا لطیفہ یاد آرہا ہے۔
مرحوم جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ اسلام کا غلغلہ تھا۔ (بس غلغلہ ہی تھا) اسلامی قوانین، اسلامی بینکنگ ، اسلامی نظریاتی کونسل، اسلامی سزائیں اور اسی قسم کے دیگر دعوے۔ اگر کچھ نہیں تھا تو اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں تھا اور اسلام کی حقیقی فلاحی ریاست کا عملی نقشہ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ وہ جنرل صاحب کی ترجیحات ہی نہیں تھیں۔ صرف اسلام کا نام بیچا جارہا تھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اپنے دور حکومت میں سوشلزم بیچتے رہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کا اسلامی نظام سے وہی رشتہ اور سلوک تھا جو ذوالفقار علی بھٹو کا سوشلزم سے تھا۔ خیر بات ہورہی تھی جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ اسلامی قوانین کی۔ عریانی، فحاشی، قحبہ گیری اور اسی قبیل کی دیگر مذہبی اور معاشرتی خرابیوں پر بظاہر پابندی عائد تھی مگر اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام صرف پابندیوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اسلام ان خرابیوں اور قباحتوں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا
حل بھی پیش کرتا ہے۔ جناب عمر ؓ ایک دفعہ مدینے کی گلی سے گزر رہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نابینا ضعیف شخص خیرات مانگ رہا ہے۔ جناب عمر ؓ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ بوڑھا خیرات کیوں مانگ رہا ہے؟ اسے بیت المال سے وظیفہ کیوں نہیں دیا جارہا ۔ کسی نے بتایا کہ جناب یہ بوڑھا نابینا شخص یہودی ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سنا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہنے لگے، یہ کس طرح ممکن ہے کہ اسلامی مملکت ہو، ہم مخلوقِ خدا کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں، عمر کا دور حکومت ہو اور ایک بوڑھا نابینا یہودی مدینے کی گلیوں میں خیرات مانگ رہا ہو۔ اس نے جوانی میں ہمیں جزیہ دیا ہے۔ اس کا بڑھاپے میں خیال رکھنا اور کفالت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسے بیت المال سے وظیفہ جاری کیاجائے۔ روز حساب عمر ؓ اس بات کا حساب کیسے دے پائے گا؟
ادھر ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ اسلامی نظام اور قوانین کا غلغلہ تھا۔ شراب ، جوئے ، فحاشی اور دیگر معاشرتی و مذہبی خرابیوں پر سختی سے پولیس کے وارے نیارے تھے اور ملزموں سے مک مکا کا ریٹ بڑھ چکا تھا۔ تعزیرات پاکستان اور اسلامی دفعات کی خلاف ورزی کرنے کے علیحدہ علیحدہ ریٹ مقرر ہوچکے تھے اور لوگ پیسے دے کر سخت اسلامی دفعات کے بجائے نرم سزائوں والی تعزیرات پاکستان کی دفعات لگوانے کے لیے پولیس سے معاملات طے کرتے تھے ۔ فحاشی پر بھی اسی طرح کی سختی تھی۔ طوائفوں کا دھندہ مندا پڑچکا تھا ،وہ کسمپرسی کا شکار تھیں۔ کوئی وظیفہ تھا نہ بیت المال سے کوئی مالی معاونت یا امداد۔ گاہکوں میں خاصی کمی آچکی تھی ،بے حیثیت گاہک تقریباً ناپید تھے البتہ زور آوروں کی سرگرمیاں حسب معمول جاری تھیں ۔اونچے درجے کی پروفیشنل خواتین (مگر اعلیٰ سوسائٹی میں سرگرم ان خواتین کو طوائف کہنے سے خود اعلیٰ سوسائٹی کے افراد کے ذوق سلیم پر بوجھ پڑتا ہے )کاکاروبار بھی دواں تھا۔ صرف سفید پوش طوائفوں پر بُرا وقت آیا تھا۔ رات گئے اسی قسم کی ستم رسیدہ طوائف کا دروازہ ہوا کی وجہ سے ہلا، اس نے سمجھا کوئی گاہک ہے جو جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ قوانین کے باعث مارے خوف کے ،آہستہ آہستہ دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ طوائف نے اٹھ کر دروازہ کھولا،باہر کوئی نہیں تھا۔ طوائف نے ٹھنڈی سانس بھری، آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگی۔ واہ ضیاء الحق جی واہ ، کیا دور حکومت ہے آپ جناب کا... اسلام آرہا ہے نہ کوئی گاہک !
نہ آزادی آرہی ہے اور نہ ہی آزادی مارچ واپس آرہا ہے۔ نہ میاں نوازشریف جارہا ہے، نہ عمران واپس آرہا ہے۔ نہ دھرنا بیٹھ رہا ہے، نہ دھرنا اُٹھ رہا ہے۔ نہ سڑکیں بند ہورہی ہیں، نہ ہی سڑکیں کھل رہی ہیں۔ نہ انقلاب آرہا ہے، نہ قادری کینیڈا واپس جارہا ہے۔ نہ صلح ہورہی ہے اور نہ ہی مقدمہ درج ہورہا ہے۔ نہ حکومت ڈیڈ لائنز مان رہی ہے اور نہ ہی مولانا ڈیڈ لائنز دینے سے باز آرہے ہیں۔ چوبیس ، اڑتالیس اور بہتر گھنٹوں کے بارے میں نہ تو دھرنے والے باز آرہے ہیں اور نہ ہی اب عوام ان پر یقین کررہے ہیں۔ نہ ہی دھرنے کے شرکاء سارا دن اب دھرنے میں بیٹھتے ہیں اور نہ ہی ناظرین اب ٹی وی کے سامنے زیادہ دیر دھرنے والا کلچرل شو اور میلہ زیادہ دیر دیکھتے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء بھی گانے بجانے کے علاوہ زیادہ وقت اپنے عزیزو اقارب یا دوستوں کے پاس گزارنے پر آگئے ہیں اور عوام ان دھرنوں سے پیدا ہونے والی تنگیوں اور معاشی مسائل کے باعث دھرنوں کے بارے میں با آواز بلند اپنے خیالات کااظہار کرنے لگ پڑے ہیں۔ دھرنوں کے شرکاء بھی اندر سے تنگ آچکے ہیں اور عام پاکستانی بھی اب '' اک نک ‘‘ آچکا ہے۔ نہ آزادی آرہی ہے اور نہ ہی دھرنے والے آزاد ہوکر گھروں کو آرہے ہیں۔ اسی طرح نہ انقلاب آرہا ہے اور نہ انقلابی واپس آنے '' جوگے ‘‘ ہیں۔
عجب معاملہ ہے۔ دھرنے والے اپنے دھرنوں کی وجہ سے خواروخستہ ہورہے ہیں اور میاں صاحب ان دھرنوں کے نتیجے میں اپنی حکومت کی زیرو ہوتی ہوئی رٹ کے باعث رسوا ہورہے ہیں۔جہاں دھرنوں کی ناکامی نے ان کے لیڈروں پر عام آدمی کا اعتماد ختم کردیا ہے، وہیں میاں نوازشریف کی انتظامی نااہلی اور وقت پر فیصلہ نہ کرسکنے کی '' خداداد صلاحیت‘‘ نے ان کا بطور وزیراعظم پاکستان مزید رہنے کا اخلاقی جواز تقریباً ختم کردیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ انہیں دھرنوں سے اور شاید فوج سے بھی فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ، مگر حکومتی رٹ کے مکمل خاتمے نے ان کی حکومت کا اخلاقی جواز بالکل زیرو کردیا ہے اور انہیں اب رخصت ہو جانا چاہیے۔ دھرنوں کی وجہ سے نہیں ، بلکہ اپنی ذاتی نااہلیوں اور نالائقیوں کے طفیل اجازت مانگ لینی چاہیے۔ سانحہ ماڈل ٹائون سے لے کر آج تک کی تمام انتظامی اور حکومتی ناکامیوں کے باعث ویسے اگر وہ بیٹھے رہیں تو یہ آئین کے حساب سے تو ٹھیک بھی ہے اور جائز بھی، مگر آئین سے ہٹ کر بھی کوئی طاقت ہوتی ہے۔ مثلاً اخلاقیات۔
عمران کواب قوم پر اور اپنے ورکروں کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر رحم کرنا اور ترس کرنا چاہیے۔ اگر عمران کا دھرنا ناکام ہوتا ہے تو عمران بمعہ اپنی ساری سیاسی جدوجہد کے برباد ہوگا اور اگر یہ دھرنا میاں صاحب کی ہوس اقتدار کے باوجود کامیاب ہوتا ہے تو اس کی کامیابی کا قافلہ غیر آئینی سڑک سے گزرتا ہے اور وہ پاکستان کی جمہوریت کی بربادی کا باعث بنے گا۔ اگر ایسا ہوا تو عمران خان پاکستان کی سیاست میں ایک اور اصغر خان بننے کے علاوہ اور کچھ نہ بن پائے گا۔ پاکستان کی سیاست کی پہلی بدقسمتی اصغر خان کی ناکامی تھی اور دوسری عمران خان کی ناکامی ہوگی۔وہ ایماندار ، سچے، کھرے ، محب وطن اور کرپشن کے خلاف مضبوط آواز تھے۔ وہ روایتی سیاست کے خلاف تھے اور ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے تھے مگر مارشل لا کی حمایت کرکے ماضی کے دھندلکوں میں کھوگئے۔عمران خان کے دھرنے سے اگر جمہوریت کا بستر گول ہوا تو برباد ہونے والوں میں میاں نوازشریف ہی نہیں عمران خان بھی ہوگا، بلکہ عمران کا نقصان بہت زیادہ ہوگا۔ میاں نوازشریف کا سیاسی کیریئر تو زیادہ سے زیادہ 2018ء کے انتخابات تک تھا اور اس کے بعد راوی ان کی سیاست سے رخصتی لکھتا تھا مگر عمران کی تو سیاست کی اٹھان ہی 2018ء سے شروع ہونی تھی۔ میاں صاحب کے صرف ساڑھے تین سال اور عمران کا سارا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ عمران کو اندازہ نہیں کہ اس کی ناکامی ملک و قوم کا کتنا بڑا نقصان ہے مگران کی ضد، انا اورجلد باز مشیر اسے برباد کررہے ہیں۔ شاہ محمود اینڈ کمپنی کا کیا ہے۔ وہ کنٹینر سے اتر کر کسی اور ٹرک پر چڑھ جائیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں