نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ایئرچیف سےنائب سربراہ عراقی فضائیہ کی ملاقات،ترجمان
  • بریکنگ :- ملاقات میں پیشہ ورانہ اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال،ترجمان
  • بریکنگ :- پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت قابل تعریف ہے،نائب سربراہ عراقی فضائیہ
  • بریکنگ :- پاکستان اورعراق کےدرمیان ثقافتی اورتاریخی رشتہ قائم ہے،ایئرچیف
  • بریکنگ :- دونوں ممالک کی فضائیہ میں تربیتی،تکنیکی شعبوں میں تعاون جاری رہےگا،ایئرچیف
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

2010ء سے 2014ء تک‘ حکومتی بدانتظامیوں کی داستان

سیلاب کی تباہ کاریوں نے پنجاب میں قیامت صغریٰ برپا کر رکھی ہے۔ پہاڑوں سے پانی کی آمد‘ شدید بارشیں اور دیگر قدرتی عوامل اپنی جگہ پر‘ مگر ان تباہ کاریوں اور نقصانات کی بنیادی وجہ نااہلی‘ کرپشن‘ بدنیتی‘ بددیانتی بلکہ حکومتی بددیانتی کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں محکمہ آبپاشی میں ہونے والی کرپشن کی تاریخ ویسے تو سرسٹھ سال پرانی ہے‘ مگر گزشتہ چند سالوں میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ خدا کی پناہ۔ پہلے صرف لاکھوں کا کھانچا لگتا تھا اب کروڑوں سے نیچے کی بات ہی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آبپاشی کے نظام کی ری ڈیزائننگ‘ استعداد کار میں اضافے اور نئے تعمیراتی کاموں کے ٹھیکوں کی رقم کروڑوں سے بڑھ کر اربوں میں جا چکی ہے اور اس کا سبب وہ عالمی امداد اور قرضہ جات تھے جو اس محکمے کو پچھلے چند سالوں میں ملے۔ ان عالمی امدادی فنڈز اور قرضوں کی بنیاد پر محکمے میں ایک نیا ڈھانچہ بنایا گیا جس کا نام (PMIU) پروجیکٹ مینجمنٹ اینڈ امپلی مینٹیشن یونٹ رکھ دیا گیا ہے۔ اس محکمے کے طفیل موج میلے کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے کرپشن میں گلے گلے تک ڈوبے محکمہ آبپاشی کو مزید برباد کردیا۔ 
پہلے جو کام گریڈ چھ یا سات کا گیج ریڈر اور گیارہویں سکیل کا اوور سیئر کرتا تھا اب اسی محکمے کے ہی ''کاریگر‘‘ افسروں کو لاکھوں روپے کی ماہانہ تنخواہ پر ڈیپوٹیشن پر لے لیا گیا۔ ایک سترہ گریڈ کا ایس ڈی او نئے محکمے میں بغیر اشتہار کے گریڈ انیس میں ڈائریکٹر گیج لگ گیا۔ وہی افسر جو دو دن پہلے بیس پچیس ہزار روپے لیتا تھا ایک لاکھ سے زائد تنخواہ‘ چار سو لٹر پٹرول اور ایک عدد ڈبل کیبن گاڑی کا حقدار ٹھہرا۔ پھر یہی ''کاریگر‘‘ افسر پی ایم آئی یو کے سربراہ کے فارغ ہونے کے بعد Look after کے نام پر گریڈ بیس کی پوسٹ پر چیف مانیٹرنگ بن گیا اور پھر اس پوسٹ پر پانچ سال بیٹھا رہا۔ اس دوران اس نے فنانشل پاور نہ ہونے کے باوجود تقریباً پونے دو ارب روپے اپنے دستخطوں سے خرچ کر دیے۔ گریڈ سترہ سے گیدڑ سنگھی کے ذریعے گریڈ بیس میں پہنچنے والے صرف اسی ایک افسر کے معاملے پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ پچیس ہزار تنخواہ لینے والا افسر کس طرح اڑھائی لاکھ تک پہنچ گیا۔ یہ صرف ایک مثال تھی اس قسم کی اور کارروائیاں بھی ہوئیں۔ حالیہ سیلاب قدرتی آفت ہے مگر اس تباہی میں محکمہ آبپاشی پنجاب کے جعلی ٹھیکے‘ کاغذی کام‘ محکمے کی نااہلی‘ بدانتظامی‘ ٹھیکے داروں کے ساتھ ملی بھگت‘ لامحدود کرپشن اور حکومت پنجاب کی گزشتہ سیلابوں کے دوران ناکامی کا بڑا ہاتھ ہے۔ 
2010ء میں دریائے سندھ کے سیلاب میں جنوبی پنجاب کا ایک سو ساٹھ کلو میٹر علاقہ تباہی اور بربادی کا شکار ہوا۔ 2010ء میں آنے والا سیلاب صرف اور صرف دریائے سندھ تک محدود تھا۔ تب اس سیلاب کا باعث دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں میں پانی کی غیر معمولی آمد اور دریائے سندھ سے متصل سارے Catchment ایریاز میں شدید بارشیں تھیں مگر جنوبی پنجاب میں ہونے والی تباہی کی بنیادی وجوہ وہی تھیں جن کا ذکر کر چکا ہوں۔ جنوبی پنجاب میں 2010ء کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا آغاز تونسہ بیراج کے ایل ایم بی یعنی لیفٹ مارجنل بند کے ٹوٹنے سے ہوا اور پھر یہ بے قابو پانی کا ریلہ کوٹ ادو‘ سناواں‘ قصبہ گورمانی‘ محمود کوٹ‘ گجرات‘ اے ای ایس لال پیر‘ پار کوآئل ریفائنری‘ کیپکو پاور ہائوس‘ غازی گھاٹ‘ بدھ‘ کرم داد قریشی‘ بصیرہ‘ شاہ جمال‘ روہیلانوالی‘ شہر سلطان اور جتوئی کو کھنڈروں میں تبدیل کرتا‘ لاکھوں لوگوں کو بے گھر اور برباد کرتا ہوا ایک ایسی مثال قائم کر گیا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ شاید پہلی بار ایسا ہوا کہ ان علاقوں میں دریائے سندھ کے سیلابی ریلے نے 
تباہی مچائی۔ تاریخی طور پر اس علاقے میں صرف دریائے چناب کا سیلابی پانی داخل ہوتا تھا۔ مگر پہلی بار دریائے سندھ کا پانی ان علاقوں میں داخل ہوا۔ علاقے کے لوگوں کو دریائے سندھ کی طرف سے کبھی خطرہ نہیں ہوا تھا اور وہ دریائے سندھ میں آنے والے سیلاب کو اپنے لیے کوئی سنجیدہ خطرہ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ لہٰذا وہ نہ تو ا س سیلاب کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے اور نہ ہی انہوں نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے یا محفوظ علاقوں کی طرف رُخ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بالکل اچانک ہی اس مصیبت کا شکار ہوئے اور ایسی تباہی و بربادی ان کا مقدر بنی کہ ابھی تک وہ اس کے اثرات سے نہیں نکل پائے۔ ابھی تک ان کی رہائش کے لیے مختلف حکومتوں کے امدادی پروگرامز کے تحت مکانات کی تعمیر بھی سو فیصد مکمل نہیں ہوئی اور ابھی ان کی مکمل آبادکاری بھی نہیں ہوئی کہ اب ایک اور تباہی سر پر آن کھڑی ہوئی۔ 
2010ء میں ساری تباہی تونسہ بیراج کے ایل ایم بی سے شروع ہوئی۔ یہاں بھی ایک ''کاریگر‘‘ افسر تعینات تھا جس کے پاس ایس ڈی اوI‘ ایس ڈی او IIاور ایکسین تونسہ کا اضافی چارج تھا۔ ایک عرصہ سے تونسہ بیراج پر تعینات اس افسر کے تونسہ بیراج کے سب سے بڑے ٹھیکے دار سے مبینہ حصہ داری کے قصے عام تھے۔ یہ وہ ٹھیکیدار تھا جس نے دس ارب چونسٹھ کروڑ چودہ لاکھ روپے کی لاگت سے ہونے والے تونسہ بیراج اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت اس کے گیٹ نمبر پینتیس تا پینسٹھ کی ری ماڈلنگ کا چینی کمپنی کو ملنے والا ٹھیکہ بطور سب کنٹریکٹر حاصل کر لیا۔ اس ری ماڈلنگ کے نتیجے میں تونسہ بیراج کی استعداد ساڑھے دس لاکھ کیوسک تک بڑھ جانے کے نتیجے میں لیفٹ مارجنل بند کو بھی اس بڑھ جانے والی مقدار کے مطابق اونچا اور مضبوط کرنا شامل تھا۔ لیفٹ مارجنل بند مٹی سے بنا ہوا حفاظتی بند تھا جو سیلاب سے بچائو کے لیے بنایا گیا تھا۔ مٹی سے بنے ہوئے حفاظتی بند تین تہوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ مٹی کا ہوتا ہے پھر دریا کی جانب والی سائڈ پر فلٹر مٹیریل کے طور پر Crush یعنی باریک بجری کی ایک تہہ بچھائی جاتی ہے جو پانی کے رسائو کو مٹی تک پہنچنے سے روکتی ہے اور سب سے اوپر Pitching کی جاتی ہے یعنی موٹا پتھر ڈالا جاتا ہے۔ لیفٹ مارجنل بند میں فلٹر مٹیریل یعنی باریک بجری ڈالی ہی نہیں گئی نتیجتاً ایل ایم بی دس لاکھ کیوسک کے ریلے سے بہہ گیا حالانکہ یہ ساڑھے دس لاکھ کیوسک کے ریلے کو برداشت کرنے کے ڈیزائن کے مطابق بنایا گیا تھا۔ بجری کی تہہ نہ بچھانا ایک وجہ تھی؛ تاہم اصل وجہ بہت ہی ہولناک اور چشم کُشا تھی۔ 
تونسہ بیراج دریائے سندھ پر پنجاب کی حدود میں آخری بیراج ہے جہاں دریائے سندھ کے پانی کی صوبہ پنجاب میں آخری تقسیم ہوتی ہے۔ تونسہ بیراج میں سے ساڑھے سات لاکھ کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ مٹی جمع ہونے کی وجہ سے کم ہو گئی تھی۔ اب اس بیراج کی پانی گزرنے کی گنجائش کو بڑھانا مقصود تھا لہٰذا اس کے پینسٹھ عدد دروازوں کی اپ گریڈیشن کا کام شروع ہوا۔ گیٹ نمبر ایک تا چونتیس کا ٹھیکہ ایک جاپانی فرم کو اور گیٹ نمبر پینتیس تا پینسٹھ کا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو دیا گیا۔ جاپانی کمپنی نے سارا کام اپنی نگرانی میں خود کیا جبکہ چینی کمپنی نے اپنا ٹھیکہ آگے سب کنٹریکٹر کو دے دیا۔ جاپانی کمپنی کے ذمے بائیں ہاتھ والے دروازے اور چینی کمپنی کے ذیلی ٹھیکیدار کے ذمے دائیں طرف والے اکتیس دروازے تھے۔ دروازوں کی ری ماڈلنگ کے لیے دروازوں سے پہلے پانی روکنا مقصود تھا جس کے لیے دروازوں کے اوپر والے بہائو کی جانب عارضی بند بنائے گئے۔ ان کو ''کوفرڈیمز‘‘ کہتے ہیں۔ جاپانی کمپنی نے دروازوں کی ری ماڈلنگ مکمل کرنے کے بعد کوفر ڈیمز کا ملبہ صاف کردیا اور دریا کا بہائو جاری ہو گیا۔ چینی کمپنی کے سب کنٹریکٹر نے پچیس فٹ بلند کوفرڈیمز کا ملبہ صاف کرنے کے بجائے ویسے ہی چھوڑ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ دریا کے پانی کا بہائو آہستہ آہستہ خود ہی اس مٹی اور پتھر کے بند کو بہا کر لے جائے گا اور ''مدّا‘‘ صاف ہو جائے گا اور وہ خرچہ کرنے سے بچ جائے گا مگر اچانک سیلاب کا ریلا آ گیا۔ تونسہ بیراج پر ہمیشہ سے پانی کا سارا دبائو دائیں جانب ہوتا ہے مگر اب چونکہ دائیں طرف کوفر ڈیمز کا ملبہ پڑا ہوا تھا لہٰذا پانی کا سارا دبائو بالکل غیر متوقع طور پر بائیں کنارے پر ہو گیا۔ تونسہ بیراج کی تعمیر کے وقت سے ہی یہ بات طے تھی کہ سیلاب کی صورت میں اگر کبھی بیراج کو بچانے کے لیے حفاظتی بند توڑنے کی نوبت آئی تو آر ایم بی یعنی رائٹ مارجنل بند توڑا جائے گا۔ اس لیے دو مقامات باقاعدہ سے طے ہیں جہاں سے بند توڑا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے دائیں طرف واقع ڈی جی خان کینال کے نیچے سے سیلابی پانی گزارنے کا باقاعدہ راستہ بھی ہے مگر عقل سے عاری اور نالائق انجینئروں نے چند سال قبل کچھی کینال بناتے ہوئے اس کے نیچے سے پانی گزارنے کا راستہ ہی نہ رکھا۔ اب تونسہ بیراج پر صورتحال یہ تھی کہ پانی کا دبائو دائیں طرف ہونے کے بجائے بائیں طرف تھا اور پانی بھی طے شدہ پروٹوکول کے برعکس کوفرڈیمز کے ملبے کے باعث بائیں طرف بہائو کر گیا۔ (جاری) 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں