نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 327 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 46 ہزار 231 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1897 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.10 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 81 اموات
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

این اے 122 کا ضمنی انتخاب اور وعدوں کی یاددہانی

حلقہ این اے 122 کا الیکشن ختم ہوا لیکن یہ ایک ایسا زلزلہ تھا جو حالانکہ ختم ہوگیا ہے مگر اس کے ''آفٹر شاکس‘‘ ابھی تادیر جاری رہیں گے۔ اس ضمنی انتخاب کے طفیل جہاں بہت سے سوالات کا جواب ملا ہے وہیں مزید بے شمار سوالات پیدا بھی ہوئے ہیں؛ تاہم ایک بات ضرور طے ہوگئی ہے کہ امیدوار کی اخلاقی حیثیت کی اہمیت وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں اس کی مالی حیثیت ایک خاص حد کو کراس کر لیتی ہے۔ اب آئندہ انتخابات میں ٹکٹیں تقسیم کرتے وقت امیدوار کی مالی حیثیت کو اسی طرح ٹٹولا اور پرکھا جائے گا جس طرح عید قربان میں گاہک دنبے یا بکرے کو ٹٹول کر اس میں گوشت کی مقدار کا اندازہ لگاتا ہے۔
ایمانداری کی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے جب علیم خان کو حلقہ این اے 122 سے ٹکٹ جاری کیا تھا تو عمومی خیال یہی تھا کہ پی ٹی آئی نے جانتے بوجھتے ہوئے اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے اور اس قسم کے امیدوار کو ٹکٹ دے کر پی ٹی آئی الیکشن سے پہلے ہی الیکشن ہار گئی ہے مگر علیم خان نے اپنی دولت کے بل بوتے پر نہ صرف یہ کہ الیکشن بنا کر دکھایا بلکہ مسلم لیگ ن کو ایسی سیٹ پر مصیبت میں مبتلا کردیا جو ان کے نزدیک محفوظ ترین سیٹ تھی۔ الیکشن کے میکنیزم سے مکمل آگاہ مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے مطالبہ کردہ چار میں سے تین حلقوں میں الیکشن کے نتائج کالعدم ہونے کے بعد ضمنی انتخابات کے لیے بطور ٹیسٹ کیس ایک حلقے میں انتخاب لڑنے کی آپشن پر عمل کیا اور دو حلقوں میں 
عدالتی ریلیف کا سہارا لیا۔ حلقہ این اے 125لاہور اور حلقہ این اے 154 لودھراں میں مسلم لیگ ن کو اندازہ تھا کہ مقابلہ سخت ہوگا اور نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے لہٰذا وہاں انہوں نے عدالت کے پیچھے پناہ لی اور حلقہ این اے 122 لاہور سے دوبارہ الیکشن میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر اس حلقہ سے عمران خان بذات خود ہار سکتا ہے تو سردار ایاز صادق پی ٹی آئی کے کسی بھی امیدوار کو شکست دے سکتا ہے۔ اوپر سے جب علیم خان کو ٹکٹ ملا تو بظاہر مسلم لیگ ن کی لاٹری نکل آئی مگر پاکستانی معاشرے میں دیگر بے شمار چیزوں کی طرح اخلاقیات وغیرہ اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور امیدوار کی اخلاقی حیثیت کی جگہ دولت وغیرہ نے مکمل طور پر پُر کردی ہے۔
اگر مسلم لیگ ن یہ الیکشن ہار جاتی تو الیکشن 2013ء کے سارے عمل پر ایک بار پھر سوال اٹھ کھڑا ہوتا اور زیادہ شدومد سے اٹھتا مگر مسلم لیگ ن نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق اور حامد خان کے حلقے یا جہانگیر ترین اور صدیق بلوچ والے حلقے کے بجائے نسبتاً محفوظ حلقے میں الیکشن کا رسک لیا اور اپنی پلاننگ میں کامیاب ہوئی۔ اس الیکشن میں کئی ریکارڈ قائم ہوئے، مثلاً یہ کہ بد زبانی اور بد کلامی کا ریکارڈ، جو ایک طرف پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے قائم کیا تو دوسری طرف ایک پوری فوج ظفر موج تھی جس میں پرویز رشید‘ خواجہ سعد رفیق‘ خواجہ آصف اور عابد شیر علی نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ بے سروپا الزامات اور غداری وغیرہ کے سرٹیفکیٹ اس طرح بانٹے گئے کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ الیکشن کمیشن نے جس طرح قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھرنے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کے لیے رکھی وہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ جس طرح پاکستان کا پورا میڈیا اس ایک حلقے پر فوکس رہا وہ بھی ایک ریکارڈ ہے اور جتنے پوسٹر اور بینر اس ایک حلقے میں لگے وہ بھی ایک ایسا ریکارڈ ہے جسے شاید اسی حلقے میں اگلے انتخابات میں علیم خان ہی توڑے تو ایک بات ہے ورنہ ہے تو مشکل۔
نئے پاکستان کے دعویداروں کے لیے ایک بُری خبر یہ ہے کہ علیم خان جیسے بظاہر کمزور امیدوار جس میں سوائے دولت کے اور کوئی قابل ذکر ہنر یا خوبی موجود نہیں تھی نے جس طرح دولت کے زور سے الیکشن میں جوش و خروش پیدا کیا ہے اس کے بعد یہ بات طے ہوگئی ہے کہ لاہور کی سیاست میں علیم خان کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے بلکہ علیم خان نے پورے پاکستان کی انتخابی سیاست میں دولت اور امارت کو جو اہمیت بخشی ہے، اس نے آئندہ امیدواروں کا انتخاب کرتے ہوئے اس خوبی کی اہمیت کو پہلے سے بھی دوچند کردیا ہے۔ پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین اور اعظم سواتی وغیرہ نے جس طرح اپنی اہمیت بنائی تھی، اب امراء کا یہ کلب مزید مضبوط ہو کر سامنے آئے گا کہ علیم خان نے اپنی دولت کے بل بوتے پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بظاہر یکطرفہ نظر آنے والے الیکشن کو کس طرح کانٹے دار مقابلہ بنا سکتا ہے۔ عمران خان بذات خود اس حلقے سے تقریباً نو ہزار ووٹوں سے ہارے تھے جبکہ علیم خان اس سے تہائی سے بھی کم ووٹوں سے یعنی تقریباً چوبیس سو ووٹوں سے ہارا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب سفید پوش شرفاء بھی الیکشن لڑ سکتے تھے۔ ڈاکٹر نذیر شہید نے ڈیرہ غازی خان میں اپنی ساری انتخابی مہم سائیکل پر چلائی اور ڈیرہ غازی خان کے سب سے زورآور سردار محمد خان لغاری کو جو سردار فاروق خان لغاری کے والد اورجمال خان لغاری اور اویس خان لغاری کے دادا تھے کو شکست فاش دی‘ مگر اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ ٹکٹ کے حصول کے لیے پارٹی فنڈ‘ دیگر مدات میں عطیات‘ پارٹی لیڈر کی خدمت خاطر اور اب چار چھ کروڑ کا کم از کم انتخابی خرچہ۔ اس سارے نئے سیٹ اپ نے سب کچھ اپ سیٹ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی پر پہلے جہاز گروپ چھایا ہوا تھا، اب پراپرٹی ڈیلروں نے اپنا رنگ جما کر دکھا دیا ہے۔
گزشتہ الیکشن میں علیم خان کو سرے سے ٹکٹ ہی نہیں ملا تھا اور جس طرح دولت استعمال کرکے علیم خان نے پی ٹی آئی کی لاہور 
کی صدارت کا الیکشن جیتا تھا، اس پر پی ٹی آئی کے جان نثار ورکرز بڑے مایوس تھے اور اس پر بڑی لے دے بھی ہوئی تھی۔ علیم خان صرف ایک بار صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتا ہے۔ 2003ء کے ضمنی انتخاب میں حلقہ پی پی 147 سے علیم خان چار ہزار وٹوں سے جیتا تھا وگرنہ وہ 2002ء کے جنرل الیکشن میں ق لیگ کی ٹکٹ پر طاہرالقادری سے‘ 2008ء کے الیکشن میں ق لیگ ہی کی طرف سے حلقہ این اے 127 پر چالیس ہزار ووٹ اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 147 سے بیس ہزار ووٹوں سے ہارا تھا۔ اب پی ٹی آئی کی مقبولیت کو دولت سے ضرب دے کر جس طرح لاہور کے اس الیکشن میں رنگ بھرا ہے اس کے بعد اب امیدوار کا دولت مند ہونا جو پہلے ہی خاصا اہمیت کا حامل تھا ، مزید ضروری ہوگیا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر علیم خان کے بجائے کوئی مناسب امیدوار ہوتا تو اس کے دو فائدے ہوتے۔ پہلا یہ کہ الیکشن میں دولت کے بے دریغ استعمال کا رجحان مزید مضبوط ہو کر سامنے نہ آتا اور الیکشن تھوڑا بے رنگ ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کا امیدوار علیم خان سے زیادہ نہ بھی سہی مگر اتنے ووٹ ضرور حاصل کر لیتا کہ ووٹ پوسٹروں کی تعداد نہیں ووٹروں کے مرہون منت ہوتے ہیں۔
اس الیکشن میں پی ٹی آئی کی ہار سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ مسلم لیگ ن مزید کپڑوں سے باہر ہو جائے گی۔ اور کچھ لوگ مزید آپے سے باہر ہوجائیں گے۔ اور بقول احمد جاوید ''زبان و ادب کا ذوق نہ ہو تو آدمی نیک تو ہو سکتا ہے‘ مہذب نہیں! نیکی کے بارے میں تو فیصلہ اوپر ہوگا کہ اس کا حساب کرنا ہمارا کام ہی نہیں مگر اتنا ضرور پتہ ہے کہ حکومت اور حکومت سے باہر مہذب لوگوں کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
بیانات سے یاد آیا گزشتہ روز سلمان شہباز نے چوہدری سرور کو یاد دلایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر حلقہ این اے 122 سے تحریک انصاف ہار گئی تو واپس سکاٹ لینڈ چلے جائیں گے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ سلمان شہباز اگر یاد دلانے پر آ ہی گئے ہیں تو وہ گھر میں اپنے والد گرامی کو یاد دلائیں کہ انہوں نے کرپشن کے جرم میں زرداری صاحب کو سڑکوں پر گھسیٹنا تھا اور چھ ماہ میں بجلی کو لوڈشیڈنگ ختم نہ کرنے کی صورت میں اپنا نام تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مرکز میں بھی مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت آئے ،ان کی طے شدہ مدت برائے تبدیلی نام سے پانچ گنا زیادہ یعنی اڑھائی سال ہو چکی ہے۔ یاددہانیوں اور وعدوں کے ایفا کا سلسلہ سب سے پہلے گھر سے شروع کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں