نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 81 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 327 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 46 ہزار 231 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1897 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.10 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

کیسی بلندی، کیسی پستی

میاں نواز شریف کا امریکہ جانا اور شہریار خان کا دورۂ بھارت۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہم اس دکان پر فالودہ کھانے چلے جائیں جو دو ماہ پہلے بند ہو چکی ہے۔ نواز شریف کے امریکی دورے میں بنیادی نکتہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنا اور میزائل پروگرام کو اس سطح پر لانا ہے کہ پاکستانی میزائل اسرائیل کے لیے خطرہ نہ رہیں۔ لیبیا، شام اور عراق کی عسکری تباہی اور بربادی کے بعد اسرائیل اب مشرق وسطیٰ کا مرزا یار ہے جس کے پھرنے کے لیے امریکہ بہادر نے اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر ساری گلیاں سنجیاں کر دی ہیں اور اب بقول حافظ برخوردار:
حجرہ شاہ مقیم تے، اک جٹی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیرنوں، جے سردا سائیں مرے
پنج ست مرن گواہنڈناں، تے رہندیاں نوں تاپ چڑھے
کتی مرے فقیر دی، جیہڑی چائوں چائوں نت کرے
ہٹی سڑے کراڑ دی، جتھے دیوا نت بلے
گلیاں ہو جان سنجیاں، تے وچ مرزا یار پھرے
امریکہ کو فکر ہے اسرائیل کی، اور اس کی خاطر وہ سارے مشرق وسطیٰ کا امن و امان برباد کر چکا ہے۔ عراق پر حملہ، قذافی کا خاتمہ اور داعش کا قیام، یہ تین بنیادی عنصر ہیں جنہوں نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں مرزا یار بنا دیا ہے۔ ایران نے بالآخر امریکہ سے معاہدہ کر لیا ہے ۔اب لے دے کر صرف پاکستان بچتا ہے جس کے ایٹمی میزائل اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ امریکہ اس آخری خطرے کو بھی نمٹانا چاہتا ہے۔ موجودہ دورے میں امریکہ کی جانب سے پہلا اور آخری مطالبہ یہی تھا۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم اس مطالبے کو ماننے پر راضی تھی‘ جس کے عوض امریکہ بہادر بکمال مہربانی پاکستان کی نیوکلیئرسپلائرز گروپ میں شمولیت کے سلسلے میں پوری مدد کرنے کی یقین دہانی کروا چکا تھا تا کہ وزیر اعظم اپنی اس ''حرکت‘‘ کا جواز پیش کر سکیں مگر پنڈی والے اس پر کسی طور پر راضی نہ تھے۔ فی الحال انہی کی چل رہی ہے۔ دفاعی معاملات میں تو خیر ان کی چلنی بھی چاہئے کہ ہمیں دنیا میں سب سے بُرے ہمسائے کا سامنا ہے‘بلکہ اب تو ہمسایوں کا سامنا ہے۔ اگر ہمارے پاس ایٹمی دفاعی صلاحیت نہ ہو تو ہمارا ہمسایہ ہمیں نیپال یا بھوٹان بنانے سے کم پر کسی طرح بھی راضی نہ ہو۔ پنڈی والوں نے نہ صرف اس امریکی تجویز پر انکار کر دیا بلکہ سختی سے ہدایت بھی کی کہ اس مسئلے پر نرم سے نرم رویہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ اس موضوع پر کسی قسم کی رعایت کا عندیہ ہی نہ دیا جائے اور اس موضوع کو امریکہ میں زیر گفتگو آنے سے پہلے ہی یہ باب بند کر دیا جائے۔ لہٰذا وزیر اعظم کی امریکہ روانگی سے قبل ہی یہ پیغام بھجوا دیا گیا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی مثبت(امریکی حوالے سے) پیش رفت کا رتی برابر امکان نہیں لہٰذا بدمزگی سے بچنے کے لیے اس موضوع پر بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے کہ اس سارے پروگرام کے محافظ اس پر بال برابر رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ کو زمینی حقائق کا بخوبی علم تھا لہٰذا فی الوقت یہ معاملہ ٹل گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ نے اس معاملے کو دفن کر دیا ہے۔ امریکہ بہادر کسی مناسب وقت کا منتظر ہے۔
ادھر محافظوں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ انہوں نے بھی اپنا ''فیوچر پلان‘‘ ترتیب دے دیا ہے اور صرف ایٹمی اثاثوں کی براہ راست حفاظت سے ایک قدم آگے جاتے ہوئے نہایت ہی قابل،تیزبین اور متحرک سابق کور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لگانے کی ساری تیاری مکمل کر لی ہے۔ سرکار اس پر راضی ہے۔ یہ کس طرح ہوا اس پر فی الحال پردہ ہی رہنے دیں مگر اصل بات یہ ہے کہ اب محافظوں نے اپنے اثاثوں کی حفاظت کے لیے معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کا بندوبست کر لیا ہے اور یہ انتظام بھی کر لیا ہے کہ معاملات کے بارے میں ان کو ''بعد ازاں‘‘ پتہ نہ چلے بلکہ ''قبل از وقت‘‘ علم ہو تا کہ وہ اس معاملے میں ہر قسم کا ''مکو ٹھپ‘‘ سکیں۔
اب بھلا ایسی صورتحال میں امریکہ کے دورے کا کیا فائدہ تھا؟۔ جس معاملے پر گفتگو ہونی تھی وہ تو ایجنڈے سے ہی خارج کر دیا گیا تھا۔ ممکن ہے جناب وزیر اعظم نے سوچا ہو کہ یہ والا قصہ تو ختم ہو گیا اب کیا کیا جائے؟ لہٰذا انہوں نے واشنگٹن میں دو عمارتوں کی فروخت کا پروگرام بنا لیا ہو۔ یہ کونسی عمارتیں ہیں ‘یہ بھی آپ کو بتائوں گا۔ فی الحال دوسرے دورے کا ذکر ہو جائے۔
پاکستاان کرکٹ بورڈ جس کے نمائشی چیئرمین جناب شہر یار خان اور حقیقی سربراہ جناب نجم سیٹھی ہیں محض پی سی بی کی مالی حالت ٹھیک کرنے کے نام پر پاکستان کو بھارت میں پوری طرح ذلیل اور رسوا کروانے پر نہ صرف تلے ہوئے ہیں بلکہ اس میں کما حقہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ شہریارخان کے ساتھ شروع ہی میں جو سلوک ہوا تھا تو چاہئے تھا کہ اسی وقت عزت سے واپس گھر آ جاتے مگر بزرگ شہریارخان کے حواس ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے اور سیٹھی صاحب پر حسب سابق والا بھارتی عشق سوار تھا جس کے تحت انہوں نے سب کے روکنے کے باوجود ''بگ تھری‘‘ والے معاملے میں بھارت کی حمایت کر کے سارے پتے بھارت کے ہاتھ میں دے دیئے تھے۔ پاک بھارت تعلقات آج کل اس سطح پر ہیں کہ بھارت پاکستانی حکومت سے سیکرٹری کی سطح پر بھی گفتگو کرنے اور معاملات کو سلجھانے سے انکاری ہے۔ وہ پاکستانی فنکاروں، کھلاڑیوں اور معاملات کو ٹھنڈا رکھنے کے دیگر رابطوں کو بتدریج خرابی کی آخری سطح پر لے جارہے ہیں۔ حالیہ بھارتی رویے کے بعد فی الوقت پاکستانی کرکٹ بورڈ کے وفد کو بھارت جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی مگر مالی معاملات کو ٹھیک کرنے اور کانچے لگانے پر بے قرار پی سی بی انتظامیہ جو بظاہر تو دو افراد پر مگر حقیقت میں محض ایک شخص جس کا نام نجم سیٹھی ہے پر مشتمل ہے کہ بورڈ کا اصل اقتدار اور کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہے ۔شہریارخان تو ہاتھی کے وہ دانت ہیں جو محض دکھانے کے لیے ہوتے ہیں۔
نوٹس آپس میں نہ ملائے جائیں تو وہی کچھ ہوتا ہے جو شہریار خان اور نجم سیٹھی کے درمیان ہو رہا ہے۔ شہریارخان کا فرمانا ہے کہ ان کو بے عزت کیا گیا۔ نجم سیٹھی صاحب کا ارشادہے کہ ہماری کوئی بے عزتی نہیں ہوئی۔ شہریارخان کہتے ہیں کہ انہوں نے دو دن تک بھارتی بورڈ کے کسی عہدیدار کی طرف سے رابطے اور معذرت کا انتظار کیا مگر دوسری طرف سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ نجم سیٹھی فرماتے ہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی بیگم کا بیگم شہریار خان سے مسلسل رابطہ تھا اور ''ٹریک ٹو‘‘ ڈپلومیسی جاری تھی۔ ان کا فرمان سن کر دل خوش ہو گیا کہ خود شہر یار خان کو معلوم نہیں کہ ان کی بیگم بھارتی کرکٹ بورڈ کے ان کے ہم منصب کی بیگم سے مسلسل رابطے میں ہے مگر جناب نجم سیٹھی کو اس ساری پیش رفت اور رابطوں کا علم ہے۔ شہر یار خان آخر کار عزت دار آدمی ہیں اور اپنی تذلیل پر افسردہ بھی تھے۔ جب انہوں نے بھارتی بورڈ کے رویے پر احتجاجاً کچھ کہا تو نجم سیٹھی صاحب ان کو ٹھنڈ اکرتے ہوئے روکتے رہے کہ کہیں بھارتی آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔ پی سی بی کے چیئرمین کی بے عزتی اور تذلیل کے بعد بھی نجم سیٹھی کا فرمانا کہ ایسی کوئی بات نہیں بالکل ویسا ہی ہے جیسے ایک شخص بھاگا جا رہا تھا‘ کسی نے اسے روکتے ہوئے پوچھا کہ کیا بات ہے تم بھاگے جا رہے ہو تووہ شخص کہنے لگاکہ پچھلے چوک پر کچھ کمینے اور گھٹیا لوگ والد بزرگوار کی پٹائی کر رہے ہیں‘ شکر ہے کہ میں وہاں سے عزت بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔
واشنگٹن میں ان دو عمارتوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان میں سے ایک بلڈنگ جس کا سرکاری نمبر میرا مطلب ہے کاغذوں میں لکھا ہوا پوسٹل ایڈریس 2315 میساچیوسٹس ایونیو ہے اور یہ شاہراہ واشنگٹن کی مرکزی شاہراہ ہے اور امریکی دارالحکومت کی سب سے مہنگی اور مرتبے کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ سڑک ہے جس پر کسی عمارت کا ہونا ہی ایک فخر کی بات سمجھا جاتا ہے‘اس پر موجود یہ عمارت 2003ء تک پاکستان کے سفارت خانے کے طور پر استعمال ہوتی رہی تا وقتیکہ کہنگی، خستگی اور لا پروائی کی وجہ سے استعمال کے لیے مناسب نہ رہی۔ سفارت خانہ کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا اور زرداری صاحب کی ہدایت پر اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام شروع ہو گیا۔ نیشنل بینک سے تقریباً چھہتر کروڑ روپے لیکر اس کی مرمت شروع ہوئی اور راوی بیان کرتے ہیں کہ مرمت پر اس سے کہیں کم رقم خرچ ہوئی ‘باقی جیبوں میں چلی گئی۔ زرداری اینڈ کمپنی نے تو صرف مرمتی رقم سے اپنا حصہ وصول کیا‘ شکر ہے عمارت بچ گئی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پوری عمارت بیچ کر پیسے کھرے کرنے کا پروگرام ہے۔ پرائیویٹائزیشن کمیشن کے چیئرمین جناب زبیر صاحب کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے دوسرے دو ممبران واشنگٹن میں متعین اپنی مدت ملازمت میں دو سالہ توسیع یافتہ سفیر پاکستان جناب جلیل عباس گردیزی اور ورلڈ بینک میں آج کل ڈائریکٹر کے فرائض سرانجام دینے والے سابق بیورو کریٹ جناب ناصر کھوسہ ہیں۔ میاں صاحب کے پاس ملک کو چلانے کے دو بہترین نسخے ہیں۔ ایک نسخہ ہے کہ جناب اسحاق ڈار کے توسط سے قرضے لئے جائیں اور دوسرا کہ زبیر صاحب کے ذریعے ملکی اثاثے بیچ کر موج میلا کیا جائے۔ آنے والے کیا کریں گے؟ میاں صاحب کو اس کی فکر نہیں۔ ان کا مطمحِ نظر صرف یہ ہے کہ اپنے دن اچھے گزار لیے جائیں۔ آنے والے بھاڑ میں جائیں۔ حکومت پاکستان کو اخلاقاً اس بلڈنگ کے فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ بلڈنگ حکومت پاکستان کی تعمیر کردہ یا خرید کردہ نہیں ہے۔ یہ بلڈنگ امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر جناب مرزا ابوالحسن اصفہانی المعروف ایم اے اصفہانی نے اپنی گرہ سے خرید کر حکومت پاکستان کو تحفہ دیا تھا۔ کیا زمانہ تھا جب پاکستانی سفیر اپنی جیب سے عمارتیں خرید کر پاکستان کو تحفہ دیا کرتے تھے کہ ان میں سفارت خانہ بنا لیں اور کہاں یہ عالم کہ حکمران ان تحفوں کو بیچ کر موج میلا کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ میں نے یہ عمارت بذات خود دیکھی ہے۔ تب اس میں مرمت کا کام چل رہا تھا۔ اب مکمل ہوا ہے تو چوروں کو مور پڑ گئے ہیں۔ امریکہ میں سفیر کا گھر بھی اسی قسم کا تحفہ ہے۔ دوسری برائے فروخت عمارت کا پتہ نہیں کونسی ہے بس اتنا پتہ ہے کہ وہ کنکٹی کٹ ایونیو پر ہے۔ یہ بھی مہنگا علاقہ ہے اور عمارت یقینا بڑی قیمت کی حامل ہو گی جو اس پر میاں صاحب جیسے ''جائیداد دیدہ‘‘ شخص کی نظر پڑی ہے۔ اللہ ہم پر اپنا کرم کرے کہ ہم کو کبھی اصفہانی جیسے لوگ ملتے تھے اب کاروباری حکمران ہمارا مقدر ہیں۔ کیسی بلندی، کیسی پستی اسے ہی کہتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں