نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی جانب سےاووربلنگ کامعاملہ
  • بریکنگ :- نیپراکااووربلنگ اورصارفین کی شکایات پرعوامی سماعت کافیصلہ
  • بریکنگ :- نیپرااتھارٹی 30 ستمبرکواووربلنگ کےمعاملےپرسماعت کرےگی
  • بریکنگ :- اووربلنگ پروزیرتوانائی نےنوٹس لیتےہوئےجانچ پڑتال کاحکم دیاتھا
  • بریکنگ :- بل طےشدہ 31 روزکےبجائے 37 روزکی بنیادپربھیجےگئےتھے
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

حلقہ این اے 120 ‘ اکائی کا قاعدہ اور ماسٹر بالی مرحوم

میرے حساب سے تعلقات بچپن سے ہی خراب ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس کمبخت حساب کے طفیل حساب کتاب سے تعلقات بھی ٹھیک نہیں ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ماسٹر اقبال عرف ماسٹر بالی اور پھر ماسٹر غلام حسین کو۔ دونوں نے بھرپور کوشش کی کہ میں حساب میں طاق ہو جائوں لیکن ہر دو ماسٹر صاحبان کی ساری کوششیں رائیگاں گئیں۔ مجھے میونسپل پرائمری سکول چوک شہیداں کی طرف سے پانچویں کلاس میں وظیفے کے امتحان میں بھیجا گیا۔ امتحان مسلم سکول کے سبزہ زارمیں تھا۔ واپسی پر ماسٹر غلام حسین نے صرف اور صرف حساب کے پیپر کا نہ صرف پوچھا بلکہ حل کروا کر دیکھا پھر سر پکڑ کر اپنی مخصوص گالی دی اور کہا تمہارے بمشکل چالیس نمبر آئیں گے۔ میں نے آگے سے کہا میرا خیال تھا تینتیس نمبر آئیں گے چالیس تو بہت ہیں۔ ماسٹر غلام حسین نے پیار سے ایک چپت لگائی اور کہنے لگے تم باقی مضمونوں میں جتنے اچھے ہو اگر حساب میں بھی ہوتے تو کیا ہی بات تھی۔ تاہم اللہ جنت نصیب کرے ماسٹر بالی کو‘ انہوں نے مجھے اکائی کا قاعدہ ازبر کروادیا تھا۔
پانچویں میں وظیفہ صرف اور صرف اس بدبخت حساب کے مضمون کی وجہ سے نہ مل سکا۔ اس وقت صرف حساب کا مضمون ایجاد کرنے والے پر تائو آتا تھا۔ چھٹی سے نویں کلاس تک بھی یہی حال رہا۔ ماسٹر گلزار ماسٹر غلام رسول‘ ماسٹر عبدالقادر‘ ماسٹر ریاض بٹالوی اور ماسٹر عبدالرحمان۔ سب نے حتی الامکان زور لگایا مگر فدوی تینتیس نمبروں سے آگے نہ نکل سکا۔ دسویں کا امتحان بورڈ کا تھا لہٰذا تینتیس نمبروں پر‘ جس میں غالباً ماسٹروں کی رحمدلی بھی شامل تھی بھروسہ کرنے کے بجائے زیادہ زور جیومیٹری پر لگا دیا۔ اس حکمت عملی کا بڑا اچھا نتیجہ نکلا۔ چالیس نمبروں کے جیومیٹری کے سیکشن میں چالیس نمبر آئے اور حساب کے ساٹھ نمبروں میں سے بارہ نمبر آئے اور اس طرح حساب کے پیپر میں زندگی میں پہلی بار اتنے باعزت نمبر حاصل کئے۔ اس کے بعد کئی سال تک حساب سے جان چھوٹی رہی تاوقتیکہ میں نے ایم بی اے میں داخلہ لے لیا تاہم تب تک میں کم از کم اس خوف سے ضرور نجات پا چکا تھا۔ چو بچپن میں حساب کے حوالے سے مجھ پر سوار تھا۔ لیکن اس خوف سے نجات کے باوجود میرے تعلقات حساب سے کسی طور بھی خوشگوار نہیں ہیں۔ میرا حساب اور اس کے حوالے سے حساب کتاب سے تعلقات بھی کچھ خاص اچھے نہیں ہیں مگر بہرحال اتنے خراب بھی نہیں کہ ''کامن سنس‘‘ یعنی عام فہم باتوں کو بھی نہ سمجھ سکوں۔
دو روز قبل ایک موقر روزنامہ میں صفحہ اول پر خبر لگی ہوئی تھی کہ بیگم کلثوم نواز نے میاں نوازشریف کا ووٹ بینک برقرار رکھا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ حساب کتاب کا کوئی ایسا گنجلک مسئلہ نہ تھا جو میری سمجھ سے ماورا ہوتا کہ مجھے سمجھ نہ آتا۔ اس الیکشن میں بیگم کلثوم نواز نے 61745 ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ گزشتہ الیکشن میں میاں نوازشریف نے 91683 ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس حساب سے دیکھیں تو بیگم کلثوم نوازنے نوازشریف کے 2013ء کے الیکشن میں حاصل کردہ ووٹوں سے 29938 ووٹ کم حاصل کئے تھے۔ خبر پڑھ کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی تاہم جب تفصیل پڑھی تو حیرانی دور ہو گئی۔ دور کی کوڑی لانے والے مخبر نے لکھا تھا کہ بیگم کلثوم نواز نے میاں نوازشریف کے بتیس سال پہلے یعنی 1985ء کے الیکشن میں حاصل کردہ ووٹوں کے برابر ووٹ حاصل کر کے ان کا ووٹ بینک برقرار رکھا ہے۔ ڈنڈی مارتے ہوئے وہ اسی حلقے سے تیس ہزار سے زائد ووٹوں کی کمی کو پس پشت ڈالتے ہوئے بتیس سال پرانے اس ووٹ بینک سے موازنہ کرنے لگ گئے جب نہ تو یہ حلقہ اس طرح تھا اور نہ ہی ووٹروں کی تعداد اتنی تھی جتنی اس وقت ہے۔
ضمنی الیکشن 2017ء میں اس حلقہ کے ووٹروں کی تعداد 321786 ہے۔ اب مجھے یہ تو پتا نہیں کہ 1985ء میں اس حلقہ میں ووٹروں کی تعداد کتنی تھی اور میاں نوازشریف نے کتنے ووٹ حاصل کئے کیونکہ یہ غیر جماعتی انتخابات تھے لہٰذا اس نتیجے کو کسی طور سیاسی نہیں کہا جا سکتا۔ ویسے بھی وہ میاں نوازشریف کا پہلا الیکشن تھا اس لیے اسے مثال بھی نہیں بنایا جا سکتا تاہم 1988ء کے انتخابات کو سیاسی اور میاں نوازشریف کے حوالے سے نسبتاً زیادہ مستند کہا جا سکتا ہے۔ 1988ء کے انتخابات میں اس حلقے کا نمبر این اے 95 تھا اور میاں نوازشریف صاحب نے 49318 ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو بیگم کلثوم نوازشریف نے میاں نوازشریف کے ووٹ بینک میں 24% کا اضافہ کیا ہے۔
اگر صرف مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے 2013ء کے جنرل الیکشن اور اب 2017ء کے ضمنی الیکشن کا ون ٹو ون موازنہ کیا جائے تو بڑی مزیدار صورتحال سامنے آتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے 2013ء کے الیکشن میں مجموعی طور پر 144004 ووٹ حاصل کئے تھے۔ ان ووٹوں میں سے مسلم لیگ نون نے 63.66 فیصد جبکہ پی ٹی آئی نے 36.33 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اور ان کا گنتی کے حوالے سے باہمی فرق 39362 ووٹ کا تھا۔ اس الیکشن میں دونوں پارٹیوں نے مجموعی طور پر 108844 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ گو کہ یہ ووٹ 2013ء کے الیکشن میں دونوں پارٹیوں کے حاصل کردہ ووٹوں سے 35160 کم ہیں لیکن ضمنی الیکشن میں ٹرن آئوٹ کم ہونا روٹین کا معاملہ ہے تاہم میاں نوازشریف کے اس سوال کے بعد کہ ''مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ اس حلقے کے ووٹروں کو ضمنی الیکشن والے دن ووٹوں کی کثرت سے ''صندوقڑیاں‘‘ پھاڑ دینی چاہئیں تھیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بہرحال اس ضمنی الیکشن میں دونوں پارٹیوں نے ڈالے گئے ووٹوں کے حوالے سے جس شرح تناسب سے ووٹ حاصل کئے وہ یوں ہے کہ مسلم لیگ نون نے 56.66 فیصد اور پی ٹی آئی نے 43.45 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ یعنی مسلم لیگ نون کے حاصل کردہ ووٹوں کی شرح فیصد 7.12 کم ہوئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے حاصل کردہ ووٹوں میں 7.12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ سب ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے اور اس میں زیادہ سر کھپانا صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔ تاہم مسلم لیگ نون کے قائدین سے لے کر طبلچیوں تک کا یہ کہنا کہ حلقہ این اے 120 کے عوام نے پانچ رکنی بنچ کے عدالتی فیصلے کو عوامی عدالت میں رد کر دیا ہے۔ سراسر غلط ہے۔
اگر عوام نے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کو رد کرنا تھا تو مسلم لیگ کی عوامی حمایت 91683 ووٹوں سے بڑھ جانی چاہیے تھی لیکن وہ بڑھتی تو کیا الٹی کم ہو گئی۔ اس حوالے سے اگر صرف اور صرف ہندسوں کو دیکھا جائے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس بار مسلم لیگ کو 91683 کے بجائے 61745 ووٹ پڑے ہیں اور اس کے ووٹروں میں 29938 کی کمی آئی ہے۔ شاہ جی کا فرمانا ہے کہ یہ تیس ہزار ووٹر میاں نوازشریف کو چور سمجھتے ہیں۔ بے شمار ترقیاتی کاموں‘ نوکریوں کے لالچ اور دیگر ترغیبات کے باوجود مسلم لیگ نون کے ووٹوں میں 33.18 فیصد کمی آئی ہے جبکہ مسلم لیگ نون کی پشت پر ساری مرکزی اور پنجاب کی صوبائی حکومت موجود تھی۔ ویسے بھی تاریخ گواہ ہے کہ ضمنی الیکشن میں حکمران پارٹی کا ہارنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ووٹوں میں 2013ء کے مقابلے میں 10.04 فیصد کمی آئی ہے۔
ایک افواہ یہ بھی گردش کر رہی ہے‘ جن انتالیس پولنگ سٹیشنوں پر بائیو میٹرک مشینوں سے ووٹ ڈالے گئے وہاں اڑتالیس پولنگ سٹیشنوں پر پی ٹی آئی جیتی جبکہ صرف ایک پولنگ سٹیشن پر مسلم لیگ نون نے بازی ماری۔
قارئین! آپ یقیناً دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ حساب کتاب میں اپنی نالائقی کے اعتراف کے باوجود اس کالم کار نے اتنا حساب کتاب کیسے کر لیا؟ ایمانداری کی بات ہے کہ اگر مرحوم ماسٹر بالی نے اکائی کا قاعدہ ازبر نہ کروایا ہوتا تو یہ عاجز اس کالم کی چار سطریں بھی نہ لکھ پاتا۔ آپ سے استدعا ہے کہ ماسٹر بالی مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں