نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شہبازشریف کہتےہیں کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہمارامقابلہ مافیا سے ہے،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان سڑکوں کےنہیں،کرپشن کیخلاف تھے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان اس کرپشن کیخلاف تھےجوسڑکوں کےنام پرکی گئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ نےشاہراہوں کی تعمیرمیں بہت زیادہ کرپشن کی،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

جانے کل کیا ہو جائے؟

اللہ سدا خوش رکھے شاہ محمود کے اکلوتے فرزند زین قریشی کو۔ گزشتہ دنوں اس کا ولیمہ تھا۔ دعوت نامہ مجھے بھی ملا تھا مگر میں گھر کی شادی میں مصروف تھا اس لیے نہ جا سکا۔ اگر یہ مصروفیت نہ ہوتی تو ضرور جاتا کہ ایسے اجتماعات میں بیشمار دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے مگر مجبوری تھی۔ ویسے بھی یہ اجتماع تو شادی سے زیادہ سیاسی تھا اور بحیثیت ایک اخبار نویس بھی اس میں جانا بنتا تھا لیکن کیا کیا جائے؟ اگر میں وہاں خود موجود ہوتا تو دیکھتا کہ عمران خان جاوید ہاشمی کی وجہ سے تقریب سے اٹھ کر چلا گیا یا اسے جلدی تھی۔ لیکن اب صرف باتوں پر ہی بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔
ہماری تہذیب میں اور خاص طور پر وسیب کے رسم و رواج کے مطابق خوشی غمی میں ایسی باتوں پر توجہ نہیں دی جاتی کہ یہاں اور کون کون آیا ہوا ہے اور کس کس سے میرے تعلقات کشیدہ ہیں۔ تقریب میں باہمی دشمن بھی بلائے جاتے ہیں اور وہ آتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی یہ فساد ڈال کر بیٹھ جائے کہ فلاں کو کیوں بلایا ہے تو بزرگ اس بات کا بہت برا مناتے ہیں اور ایسے فسادی کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ لوگوں کی بات پر فوراً یقین نہیں کرنا چاہیے مگر کیا کیا جائے کہ عمران خان اس سلسلے میں زیادہ وسیع القلب واقع نہیں ہوا اور محض سیاسی مخالفت کی بنا پر اپنے کزن کی وفات پر تعزیت کرنے نہیں گیا تھا۔ ایسے میں اگر وہ جاوید ہاشمی کے تقریب میں آنے پر ناراض ہو کر اُٹھ کر چلا جائے تو کچھ بعید نہیں؛ تاہم خوش گمانی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسا گمان نہ کیا جائے۔
ولیمے کا یہ اجتماع خاصا سیاسی بن گیا تھا۔ تقریب بہائو الدین زکریا یونیورسٹی کے گرائونڈ میں تھی اور شہر سے اس مقام تک جانے کے لیے بوسن روڈ ہی واحد سڑک ہے۔ ساری سڑک پر جگہ جگہ خیرمقدمی بینر اور بڑے بڑے پینا فلیکس لگے ہوئے تھے جن پر مستقبل کے امیدواروں نے اپنی اور زین قریشی کی تصویر کے ساتھ مبارکباد کے پیغامات دیئے ہوئے تھے۔ بلامبالغہ سینکڑوں چھوٹے بینر تو میں نے خود دیکھے۔ بڑے بڑے پینا فلیکس اور ہورڈنگز کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ تقریب انہی بینروں اور ہورڈنگز کی وجہ سے ولیمے سے زیادہ انتخابی مہم لگتی تھی۔ میں خود تو نہیں گیا تھا لیکن سنا ہے کہ تیرہ چودہ ہزار مہمان تھے۔ ملتان میں اتنے مہمان صرف بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے گرائونڈ میں ہی سما سکتے تھے۔
عشروں پہلے زکریا یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے جامعہ کے اندر تقریبات کے لیے پانچ ہزار روپے کی فیس مقرر کی تھی۔ اس میں وضاحت تو نہیں کی گئی مگر گمان غالب ہے کہ تب یہ فیس یونیورسٹی ملازمین اور اساتذہ کے بچوں وغیرہ کی شادی کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ کسی ملازم پیشہ شریف آدمی کے بچے کی شادی میں کتنے مہمان ہو سکتے ہیں؟ دوچار سو یا زیادہ سے زیادہ سات آٹھ سو۔ اس کے لیے گزشتہ کافی عرصے سے جناح آڈیٹوریم کے ساتھ والا چھوٹا گرائونڈ استعمال ہو رہا ہے لیکن اس پانچ ہزار روپے کی بہتی گنگا میں صرف شاہ محمود قریشی نے ہی ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ اس سے پہلے سید یوسف رضا گیلانی اپنے بیٹے کا ولیمہ‘ فخر امام اور گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ بھی اپنے اپنے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پانچ ہزار روپے میں آج سو لوگوں کے شادی گھر کی پارکنگ کرائے پر نہیں ملتی کہ کہ دس بارہ ہزار لوگوں کے لیے گرائونڈ کرائے پر مل جائے۔ لیکن اس بڑے گرائونڈ کی سہولت کسی چھوٹے آدمی کو میسر نہیں۔ رہ گئے بڑے لوگ‘ تو ان کے لیے سارا ملک حاضر ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں ہر میز پر اپنی اپنی مرضی کے گروپ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی اپنی مرضی کی گفتگو سے دل بہلاتے ہیں۔ دو ہفتے قبل ایسی ہی ایک تقریب میں جاوید ہاشمی گزرے تو تھوڑی دور ایک میز پر بیٹھے ہوئے ایک اور سیاستدان نے جو مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حلقہ این اے 149 (اب حلقوں کے نمبر بدل جائیں گے کہ نئی مردم شماری کے بعد پنجاب کے چند حلقے کم ہو جائیں گے اور حلقوں کے نمبر بھی بدل جائیں گے فی الحال وہی پرانے نمبر لکھ رہا ہوں) میں اپنے تئیں امیدوار ہے اور اپنا سب سے بڑا حریف جاوید ہاشمی کو سمجھتا ہے، جاوید ہاشمی کو زیرلب گالیاں دینا شروع کر دیں۔ ساتھ ہی کہنے لگا کہ میاں صاحب نے جاوید ہاشمی کے پاس نہیں آنا۔ پھر کہنے لگا کہ اگر اسے اور ملک آصف رجوانہ (گورنر ملک رفیق رجوانہ کے فرزند) کو بالترتیب قومی اور صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ مل جائے تو وہ دونوں جیت جائیں گے اور اگر جاوید ہاشمی کو ٹکٹ مل گیا جس کا امکان ویسے نہ ہونے کے برابر ہے، تو یہ سیٹ مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ پھر اس نے میاں صاحبان کو بھی دبے دبے لفظوں میں لتاڑا اور اپنے دل کے پھپھولے جلائے۔ ایسی تقریبات میں ایسی باتیں سن کر بڑا لطف آتا ہے۔ اس روز اس بڑے ولیمے میں بھی ایسی گفتگو کثرت سے ہوئی ہو گی مگر افسوس کہ میں یہ گفتگو بوجہ غیر حاضری نہ سن سکا۔
اگر الیکشن دور ہوتا تو ممکن ہے یہ تقریب اتنی سیاسی نہ بنتی جتنی بن گئی تھی مگر اب شاہ محمود قریشی ایسی تقریب کر سکتا ہے کہ اس کا میدان صاف ہے۔ شاہ محمود کے مقدر کا ستارہ اب عروج پر ہے اور اس قدر عروج پر ہے کہ اسے بغیر کسی سازش یا چالاکی کے میدان صاف مل رہا ہے۔ اس کے پی ٹی آئی میں دو ہی مقابل تھے۔ یا یوں کہیں کہ اس کے ارادوں کی راہ میں دو ہی رکاوٹیں تھیں۔ ایک جاوید ہاشمی اور دوسرا جہانگیر ترین۔ پہلے جاوید ہاشمی کا کانٹا اس کی راہ سے ایسا نکلا کہ اس کا اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا اور اب جہانگیر ترین کا۔
اب سے کچھ عرصہ قبل شاہ محمود نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ایک دن اچانک عدالتی کلہاڑا چلے گا اور جہانگیر ترین نااہل ہو جائے گا۔ لیکن ہونی کو کون روک سکتا ہے؟ اب صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کے بعد شاہ محمود کی لیڈری کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں اور بقول شاہ جی! اگر پی ٹی آئی پنجاب میں جیت گئی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ شاہ محمود کے ہاتھ میں ہو گی۔ وزارت خارجہ سے بڑھ کر صرف یہی ہو سکتا ہے اور عملی طور پر وزیراعظم کے بعد پاکستان میں سب سے طاقتور کرسی وزیراعلیٰ پنجاب کی ہی ہو سکتی ہے اور پی ٹی آئی کی پنجاب میں جیت کی صورت میں شاید اب شاہ محمود قریشی کا پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے اور کوئی قابل ذکر حریف باقی نہیں بچا۔
جہانگیر ترین کی نااہلی سے پی ٹی آئی کے اندر طاقت کا توازن تو خراب ہوا ہی ہے ملتان کے کئی حلقوں میں بھی انتخابی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ لودھراں کے حلقہ این اے 154 میں تو جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سیٹ پر اس کا بیٹا علی ترین امیدوار ہے لیکن اگر جہانگیر ترین نااہل نہ ہوتا تو وہ اس کے متصل حلقہ این اے 153 جلالپور پیروالہ سے بھی امیدوار ہوتا اور اس حلقے کے لوگ اس بات کے منتظر تھے لیکن اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ جہانگیر ترین کی اپیل کے منظور ہونے کے امکانات کافی معدوم ہیں۔ اگر اپیل میں جہانگیر ترین کو ریلیف مل جاتا ہے تو صورتحال ملتان کی سیاست سے لے کر پی ٹی آئی کی اندرونی پالیٹیکس تک‘ سب کچھ بدل سکتی ہے مگر فی الحال شاہ محمود کا ستارہ عروج پر ہے اور کوئی ایسا ویسا؟ ملتان ضلع کی حد تک تو صورتحال یہ ہے کہ اچھے بھلے شریف لوگ بھی شاہ محمود کی چاپلوسی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جو لوگ شاہ محمود کو برا بھلا کہتے تھے آج کل اس کے آگے پیچھے پھرتے نظر آتے ہیں اور اپنے نمبر ٹانکنے کی فکر میں مبتلا نظر آ رہے ہیں۔ وقت کا کچھ پتا نہیں۔ لیکن سچ یہی ہے کہ وقت کا کچھ پتا نہیں کل کیا ہو جائے؟

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں