نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں یکساں اقدارتعلقات کومضبوط بنیادفراہم کرتی ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی مصرکےہم منصب سامح شکری سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:دوطرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پاکستان مصرکےساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانےکےوسیع مواقع ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاک مصرفرینڈشپ گروپ پارلیمانی روابط کےفروغ کےلیےمتحرک ہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

مظہرکلیم: ملتان کی پہچان رخصت ہوئی

دیکھتے ہی دیکھتے بچپن اور نوجوانی سے جڑی ہوئی بہت سی دیگر چیزوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی بلکہ گندھی ہوئی ایک پوری زنجیر میری آنکھوں کے سامنے تمام ہوئی‘ پہلے ابن صفی رخصت ہوئے پھر آنہ لائبریری عنقا ہوئی‘ اس کے بعد جاسوسی ناول غائب ہوئے اور چند روز قبل اس سلسلے کی آخری کڑی مظہر کلیم ہم سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔
بچوں کی دنیا‘ تعلیم و تربیت اور نونہال کے بعد تھوڑا عرصہ بادشاہوں اور شہزادوں‘ شہزادیوں کی لمبائی میں کم اور چوڑائی میں کافی زیادہ کاپی نما رف کاغذ پر چھپنے والی کہانیاں پڑھیں اور پھر آنہ لائبریری کے طفیل جاسوسی کتابوں سے آشنائی ہوئی۔ راولپنڈی سے چھپنے والی ''کامران سیریز‘‘ جو انگریزی جاسوسی ناولوں کا اردو ترجمہ چھاپتے تھے‘ ان کی کتابیں اور ابن صفی کی کتابیں۔ حقیقی معنوں میں ناول پڑھنے کی ابتدا یہی جاسوسی ناول تھے۔ جب سارے جاسوسی ناول ختم کر لیے تب جا کر دوسرے ناولوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ پھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہا۔ نسیم حجازی‘ محمد سعید‘ کرشن چندر‘ کنہیا لال کپور‘ بلونت سنگھ‘ اوپندرناتھ اشک‘ احمد ندیم قاسمی‘ کرتارسنگھ دگل اور سعادت حسن منٹو۔ پھر بانو آپا‘ اشفاق احمد‘ غلام عباس‘ مستنصر حسین تارڑ اور بے شمار دیگر لکھنے والے۔ ہاں یاد آیا۔ ان سے پہلے کرنل شفیق الرحمن (تب وہ کرنل شفیق الرحمن ہی تھے۔ ایڈمرل وغیرہ تو وہ بعد میں بنے) کرنل محمد خان اور تب سے اب تک مشتاق احمد یوسفی۔ کتاب اور مصنف سے نہ ختم ہونے والے تعلق کی کہانی۔
چچا غفور کی محلہ غریب آباد میں قائم آنہ لائبریری۔ پہلے چچا غفور کچھ اورکام کرتے تھے‘ پھر وہ کام بند ہوگیا تو انہوں نے اپنی دکان کو‘ جو گلی سے قریب ایک فٹ نیچی تھی‘ لائبریری میں تبدیل کردیا۔ اس کام میں ان کو آسانی تھی۔ نہ روز روز سامان کی خریداری کا جھنجھٹ۔ نہ سامان خراب ہونے کا ڈر۔ نہ بچے ہوئے سامان کو تبدیل کرنے کی مصیبت۔ ایک ہی بار لائبریری کہیں سے پوری کی پوری خرید لائے۔ کتابوں پر پہلے والی لائبریری کا نام پتہ لکھا ہوا تھا۔ ہر کتاب پر کئی جگہ پر لگی ہوئی مہریں بتاتی تھیں کہ لائبریری کم از کم دو ہاتھ فروخت ہو کر ان کے پاس پہنچی ہے۔ ہمیں اس سے کیا غرض؟ ہمارا کام تو کتاب پڑھنا تھا البتہ کبھی کبھار بڑی الجھن ہوتی کہ کتابیں پرانی تھیں اور کسی سابقہ قاری کے چھوٹے بھائی بہن یا بچوں کو دست درازی کے طفیل کسی کسی کتاب سے ایک آدھ صفحہ غائب ہوتا لیکن ایک آنہ روزانہ کے کرایے پر اس سے بہتر مال ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔
ابن صفی کا چسکا کیا چیز تھا؟ آج کی جنریشن کو سمجھانے کے لیے فیس بک یا واٹس ایپ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ایسا چسکا کہ جس کا نہ کوئی توڑ تھا اور نہ ہی کوئی علاج۔ جب عمران سیریز اور کرنل فریدی کی ساری کتابیں پڑھ لیں تو پھر ماہانہ انتظار کا سلسلہ ہوگیا۔ ابن صفی کی ہر ماہ کم از کم ایک کتاب تو ہر حال میں آتی تھی۔ حرم دروازے کے باہر سیدھے ہاتھ پر پھولوں اور نوٹوں کے ہاروں والی دکان کے ساتھ نیوز کارنر تھا۔ اخبارات اور رسائل سامنے پھٹے پر دھرے ہوتے اور گتے پر چپکائے ہوئے سفید کاغذ پر جو ایک ستلی سے لٹکا ہوتا تھا موٹا موٹا لکھا ہوتا کہ ''ابن صفی کا نیا ناول...آگیا ہے۔‘‘ اگر اس وقت پیسے جیب میں ہوتے(اس کا امکان بہت ہی کم ہوتا تھا) تو کتاب اسی وقت خرید لیتے یا پھر گھر جا کر ادھر ادھر سے پیسے اکٹھے کرتے۔ اس مہم میں مستقل فنانسر ماں جی اور بڑی بہن مرحومہ ہوتی تھیں۔ بڑے بھائی طارق محمود خان مرحوم و مغفور کی مالی حالت بوجہ نت نئے فیشن باوجود زیادہ جیب خرچ کے مجھ سے بھی پتلی ہوتی تھی لہٰذا ان سے کچھ مالی تعاون کی امید احمقانہ کام تھا (یہ اور بات ہے کہ ان کے ملازمت میں آنے کے بعد میں نے سارے مزے ان سے مانگے ہوئے پیسوں پر کئے تھے اور یہ مزے میرے ملازمت اختیار کرنے تک جاری رہے) 1980ء میں ابن صفی کا انتقال ہوگیا۔ اب چسکا کیسے پورا کرتے؟۔
انہی دنوں (بلکہ ابن صفی کی زندگی میں ہی) نئے جاسوسی ناول نگاروں کی ایک کھیپ میدان میں موجود تھی لیکن تھوڑے ہی عرصے سے کچرا صاف ہوگیا اور ابن صفی کا حقیقی وارث مظہر کلیم میدان میں رہ گیا۔ مظہر کلیم نے نہ صرف پہلے سے موجود ابن صفی کے کردار کو ابن صفی کے ہی دیئے گئے منظرنامے کے مطابق استعمال کیا بلکہ دوچار نئے کردار بھی روشناس کرائے۔ عمران‘ کرنل فریدی‘ حمید‘ صفدر‘ جولیانا‘ طاہر‘ بلیک زیرو‘ خاور‘ جوزف‘ تنویر‘ چوہان‘ صدیق‘ کیپٹن فیاض‘ مادام ریکھا‘ ٹائیگر‘ جوانا‘ کیپٹن شکیل‘ سلیمان اور ایکس ٹو۔ ڈھیروں کریکٹر اورہر کریکٹر اپنی جگہ پر ایک اپنی ہی قسم کا کریکٹر۔ دانش منزل اور رانا ہائوس۔
ایمانداری کی بات ہے کہ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ میری ساری جنریشن کو کتاب اور ناول سے روشناس کروانے میں ابن صفی کا ایک نہایت ہی اہم رول ہے اور میرے سے فوری بعد والی جنریشن کو کتاب اور ناول سے آشنا کروانے کا سہرا مظہر کلیم کو جاتا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل مظہر کلیم اول اول نواں شہر کے قریب بیٹھ کر ناول لکھا کرتے تھے مگر پھر وہ حرم گیٹ اور پاک گیٹ کے درمیان النگ پر واقع یوسف برادرز پر آگئے۔ یہ ان کا پبلشر بھی تھا اور مستقل ڈیرہ بھی۔ ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے ابن کلیم نے اس دکان میں بیٹھ کر قریب چھ سو جاسوسی اور پانچ ہزار بچوں کے ناول اور کہانیاں تحریر کیں۔ کتابوں اور کہانیوں کے ناموں میں بھی عجیب تنوع تھا۔ پہلا جاسوسی ناول لکھا تو اس کا نام تھا ''ماکازونکا‘‘ بچوں کے ناول لکھے تو ان کے نام بھی غیرروایتی تھے جیسے آنگلوبانگلو‘ چلوسک ملوسک وغیرہ۔ جاسوسی ناولوں کے ناموں میں‘ شوگی پاما‘ شلماک اور اسی قسم کے کئی نام۔
مظہر کلیم نے ایک نہیں‘ کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ بچوں سے لے کر نوجوانوں تک اور جوانوں سے لے کر بوڑھوں تک‘ سب ہی ان کے قلم کے اسیر تھے۔ مظہر کلیم کچھ عرصہ سے علیل تھے اور لکھنا تو انہوں نے اس سے بھی پہلے چھوڑ دیا تھا کہ اب نئی نسل کتاب کے بجائے لیپ ٹاپ اور کاغذ کے بجائے سمارٹ فون سے رشتہ جوڑ چکی ہے اور ان کی کتابوں کے بنیادی ''آوٹ لیٹ‘‘ آنہ لائبریری کو ختم ہوئے بھی اب عشرے گزر گئے ہیں۔
مظہر کلیم ملتان کی شان بھی تھے اور پہچان بھی۔ لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ لاکھوں قارئین اور چاہنے والوں کے باوجود ملتان میں بحیثیت لکھاری نہ تو ان کی خدمات کا وہ اعتراف کیا گیا جس کے وہ مستحق تھے اور نہ ہی انہیں وہ پذیرائی ملی جو انہیں ملنی چاہئے تھی۔ ملتان ٹی ہائوس کے زیراہتمام ہم نے ان کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کی۔ یہ 9 اگست (اگر میں غلطی نہیں کر رہا) 2017ء کا دن تھا جب ہم نے ملتان کے ادب دوست پیروجواں کو اکٹھا کیا اور مظہر کلیم سے مکالمے کا اہتمام کیا۔ علیل اور کمزور لیکن ہمیشہ کی طرح محبت کرنے والے اور منکسرالمزاج مظہر کلیم نے ہماری دعوت قبول کی۔ انہوں نے اس تقریب کے دوران بڑے دکھ سے کہا کہ یہ ان کے ساتھ اہلِ ملتان کی محبت کا پہلا اعتراف ہے۔ یہ ان کے ساتھ ملتان میں پہلی اور آخری تقریب تھی۔
گزشتہ دنوں ہمارے دوست اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی ملتان تشریف لائے تو مظہر کلیم صاحب سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا‘ مگر مظہر کلیم صاحب آنکھوں کے تازہ آپریشن کے بعد صاحب فراش تھے اور ملنا ممکن نہ تھا۔ شاہد صدیقی سے وعدہ کیا کہ وہ اگلی بار ملتان آئیں گے تو مظہر کلیم سے ان کی ملاقات کروائی جائے گی مگر کیا ضروری ہے کہ ہر خواہش پوری ہو؟ سو ڈاکٹر شاہد صدیقی سے معذرت کہ ہم اہلِ ملتان ان کی خواہش اور اپنا وعدہ پورا نہ کر پائیں گے۔ کیا کریں؟ مجبوری ہے۔
گزشتہ روز فیس بک پر ان کے کسی چاہنے والے نے ایک جملہ لکھا۔ یہ جملہ حقیقت حال بھی ہے اور مظہر کلیم سے محبت بھری داستان کا نچوڑ اور اعتراف بھی ہے۔ اس سے بڑھ کر ان کی مقبولیت کا اعتراف ایک جملے میں ممکن نہیں۔ کسی یاسر حسن نے لکھا ہے ''میری تعلیم کی قاتل تحریروں کا مصنف آج انتقال کرگیا۔‘‘ کل من علیہا فان۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں