نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پشاورمیٹرومنصوبےمیں اربوں روپےکےغبن نظرآتےہیں،حمزہ شہباز
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اپنا رانجھا راضی کرنا

جب آپ نے قانون زیر دست کرنا ہوتا ہے تو آپ وہاں سے میرٹ، ایمانداری، اصول پسندی اور قانون کی پاسداری کرنے والے افسران کو اِدھر اُدھر کر دیتے ہیں اور جب آپ نے قانون کو بالا دست کرنا ہوتا ہے تو پھر آپ وہاں ایماندار، میرٹ پر عمل کرنے والے، اصول پسند اور قانون کی عملداری قائم کرنے والے افسر کو تعینات کر دیتے ہیں۔ آپ کو اپنی بات اگر زیادہ آسانی سے سمجھانا چاہوں تو مجھے اس کے لیے دو مختلف اشخاص کی نہیں بلکہ ایک ہی شخص کی مثال دینا کافی ہو گی‘ اور یہ مثال ڈیرہ غازی خان کے سابق آر پی او شیخ محمد عمر کی ہے۔
کچے کے علاقے کے ڈاکو ہوں یا وہاں عرصہ دراز سے بڑے بڑے نامور سیاستدانوں کی چھتری تلے اغوا برائے تاوان جیسا مکروہ دھندہ چلانے والے گینگ‘ شہر میں قبضہ گروپ چلانے والے گروہ ہوں یا مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے سردار‘ شیخ عمر نے ان معاملات کو سیدھا کرنے کی جو گستاخی کی تھی وہ ڈیرہ غازی خان میں سیاہ و سفید کی ملکیت کے نئے نئے دعویدار سردار عثمان بزدار کو بالکل بھی پسند نہ آئی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈویژن بھر میں جرائم کی کم ہوتی شرح، کچے میں ڈاکوئوں اور اغوا کنندگان کے گینگوں کے خلاف مسلسل کارروائی کے نتیجے میں امن و امان کی بحالی، جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی اور عام آدمی کو تھانے میں ملنے والے انصاف کے باعث پولیس پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو مزید بہتر کرنے کے لیے ڈیرہ غازی خان کے آر پی او شیخ محمد عمر کو تھپکی دی جاتی اور اپنے ڈویژن کی لاء اینڈ آرڈر میں روز افزوں بہتری کو مثال بنا کر دوسرے شہروں میں بھی اسی ماڈل کو آزمایا جاتا اور اس سے پورے صوبے میں جرائم کی کمی کو اپنے کارناموں میں ڈالا جاتا‘ لیکن ہوا اس کے بالکل الٹ۔ 
دراصل ہمارے ہاں اقتدار اور طاقت کا مطلب ہے مطلق اقتدار اور بے کنار طاقت یعنی نہ کوئی پوچھنے والا ہو اور نہ کوئی حدود و قیود ہوں۔ اب میرٹ، ایمانداری، انصاف، اصول پسندی اور قانون کی حاکمیت کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر شخصی اقتدار کو تکلیف تو ہوتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں بھی یہی ہوا۔ سارے سردار بھی اکٹھے ہو گئے اور سارے جرائم پیشہ بھی۔ ویسے اس علاقے میں سارے گینگ اور گروہ انہی سرداروں کے اشارے پر چلنے والے تھے‘ بلکہ شنید تو یہ بھی ہے کہ (شنید کافی بااعتبار اور ثقہ قسم کی ہے) کئی سردار تو اس سارے کاروبار میں حصہ دار تھے بھی اور ہیں بھی۔ ان حقائق کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کے نئے نئے چودھری یعنی سردار عثمان بزدار صاحب کے قریبی لوگوں نے بھی‘ جن میں ان کے رشتہ دار پیش پیش تھے‘ اپنے پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے۔ سرداری و تمن داری کے کلچر والے علاقے میں تھانہ کچہری پر مضبوطی سے جما ہوا ہاتھ ہی اقتدار کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ سو تھانے کچہری میں اپنا پنجہ مضبوط کرنے اور پولیس کو براہ راست اپنے قبضے میں رکھنا بہت ہی ضروری ہوتا ہے۔ ادھر یہ عالم تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں عشروں سے قائم تھانہ کلچر تبدیل ہو رہا تھا۔ سرداری اور تمن داری سدا سے Status quo یعنی حالات کو جوں کا توں رکھنے کی قائل ہے۔ شیخ محمد عمر اس سارے عمل میں روڑا نہیں بلکہ کافی وزنی اور تکلیف دہ پتھر ثابت ہو رہا تھا لہٰذا اسے ڈیرہ غازی خان سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ تب مشہور کر دیا گیا کہ شیخ عمر کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ اسی جرم میں ڈیرہ غازی خان سے چن چن کر اور بھی کئی افسر فارغ کر دیئے گئے اور تابعداری، فرمانبرداری میں مشہور اور اپنی ''ایمانداری‘‘ کے حوالے سے ''نیک نام‘‘ افسران کو دھڑا دھڑ ڈیرہ غازی خان میں تعینات کر دیا گیا۔ پھر راوی چین لکھتا ہے کیونکہ ڈیرہ غازی خان میں قانون کو زیردست لانا مقصود تھا اور وہ مقصد پورا ہو گیا۔
اب اسی شیخ عمر کو لاہور کا سی سی پی او لگا دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو تخت لاہور میں قانون کی حاکمیت درکار ہے۔ ریاست کی بالادستی کی ضرورت ہے۔ میرٹ اور ایمانداری درکار ہے‘ اور اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ لاہور میں کسی عمر بزدار یا طورو خان کو تھانے میں سہولت درکار نہیں ہے۔ کسی سردار کو خوش نہیں کرنا۔ کسی ڈاکو کے سرپرست سیاستدان کو سہولت نہیں دینی۔ کسی کچے کے ڈاکو اور اغوا کار کے حصہ دار کی ساجھے داری خراب نہیں کرنی لہٰذا لاہور میں میرٹ کی پاسداری مطلوب تھی، ایمانداری کی ضرورت تھی اور یہاں بے لچک پولیس افسر وارے کھاتا تھا۔ جب ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں تھی تو ڈیرہ غازی خان سے راندہ درگاہ کرکے نکالا گیا افسر ہی ان ساری خوبیوں پر پورا اترا اور لاہور کا سی سی پی او یعنی کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور تعینات کر دیا گیا۔ کہاں ڈیرہ غازی خان اور کہاں لاہور لیکن بزدار صاحب کو ایسا آفیسر لاہور میں تو چاہیے، ڈیرہ غازی خان میں نہیں چاہیے۔ انہیں لاہور میں قانون کی جبکہ ڈیرہ غازی خان میں سرداروں کی خوشنودی اور بزداروں کی حکمرانی چاہیے تھی۔ انہیں ڈیرہ غازی خان میں قانون کی زیردستی جبکہ لاہور میں قانون کی بالادستی چاہیے تھی۔ لہٰذا ڈیرہ غازی خان کا ناپسندیدہ آر پی او اب لاہور میں سی سی پی او ہے۔ میرا خیال ہے آپ کو سمجھ آ گئی ہو گئی کہ ہمارے ہاں حکمرانی کی ترجیحات کیا ہیں اور حکمرانوں کو دراصل یہاں کیا درکار ہے؟
ابھی چند روز قبل میں نے اپنے تیس اگست کے کالم 'تبادلوں سے آنے والی تبدیلی‘ میں ملتان میں کمشنروں کے تبادلوں میں پھرتیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ملتان میں گزشتہ دو سال کے اندر اندر چار یا پانچ کمشنر تبدیل ہو چکے ہیں۔ تعداد کے بارے میں میں نے یقین سے اس لیے نہیں لکھا تھا کہ آپ یقین کریں مجھے واقعی یاد نہیں کہ چار یا پانچ کمشنر تبدیل ہوئے ہیں؛ تاہم آج اس کالم کے صرف سات روز بعد میں آپ کو یہ بات نہایت مسرت کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ آج مورخہ 6 ستمبر 2020ء کو ملتان کے تبدیل ہونے والے کمشنروں کی تعداد چار یا پانچ سے بڑھ کر پانچ یا چھ ہو چکی ہے اور ان سات دن کے دوران ایک عدد اور کمشنر تبدیل ہو چکا ہے۔ اپنے ذاتی معاملات کو‘ تعیناتی کے عرصہ کی ناپائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے افسران بھی جن پھرتیوں میں لگے ہوئے ہیں آپ کو اب ان کی دور اندیشی کی داد دینی چاہیے۔
اللہ کا شکر ہے‘ ملتان میں نئے آنے والے کمشنر جاوید محمود اختر خیر سے ملتان اور اہلِ ملتان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ اس سے قبل یہاں میں کئی سال بڑی خوبی سے اپنے سرکاری فرائض انجام دے چکے ہیں اور ملتان سے اپنے تعلق خاص کی وجہ سے اس شہر کو درپیش مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے کی کوشش بھی کریں گے؛ تاہم سب سے لمبے عرصے سے تعینات افسر خیر سے اس بار بھی تبادلوں کے جھکڑ میں محفوظ و مامون رہے ہیں۔ ان معاملات پر کڑہتے دیکھ کر ہمارے دوست ڈاکٹر عنایت اللہ کہنے لگے کہ اب پاکستان میں اچھے اور برے کا، ٹھیک اور غلط کا، جائزوناجائز کا اور خوبی اور خامی کا معیار وہ نہیں ہونا چاہیے‘ جو مغرب میں ہے۔ ہم لوگوں کو یہ سارے معیار اپنے لوکل حوالوں سے اور مقامی اخلاقی معیار کو مدنظر رکھ کر نئے سرے سے طے کرنے چاہئیں۔ مغرب کو سامنے رکھ کر بنائے گئے یہ معیار ہمارے معاملات کو تو ٹھیک نہیں کرسکے۔ ہمیں تنگ و پریشان کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کررہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ غریب کے پاس Money نہیں ہے امیر کے پاس منی ٹریل نہیں ہے۔ نہ کوئی غریب کے حال کا پوچھتا ہے اور نہ ہی کوئی امیر کے مال کا پوچھتا ہے؛ تاہم یہ کالم یہاں بھی کسی بہتری کی امید پر نہیں، محض اپنا رانجھا راضی کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں