نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مالی سال 21-2020میں 10.19ارب روپےریونیو وصولی کاریکارڈ
  • بریکنگ :- کان کنی کےوسائل کابھرپوراوربہتراستعمال یقینی بنایاجائےگا،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- کنسٹرکشن سیکٹرکےفروغ کیلئےسیمنٹ سیکٹرپرعائدپابندیاں ختم کردی گئیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- نئی سیمنٹ فیکٹریوں کیلئے 22 این او سی جاری کیےجا رہے ہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- 3 سال میں 10 سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے این او سی جاری ہو چکے ہیں،عثمان بزدار
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

صبح اُٹھنا کوئی آسان کام ہے؟

گورے نے برصغیر میں اپنی حکومت کے دوران کئی ایسے کام کیے جنہوں نے اس کے جانے کے بعد ہمیں مشکل اور مصیبت میں مبتلا کر دیا۔ ان میں ریلوے کا نظام‘ نہری نظام اور ہر بڑے شہر میں گھنٹہ گھر وغیرہ شامل ہے۔ اب بھلا گورے بدبخت کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اتنا بڑا اور منظم ریلوے کا نظام بنا کر چلا جاتا؟ خود تو مزے سے واپس چلا گیا اور ہمیں ''بھسوڑی‘‘ ڈال دی۔ صبح سویرے منہ اندھیرے اُٹھ کر کام کرنے والے اور رات گئے تک مصروف رہنے والے گورے نے پورے ہندوستان کی ریلوے کو نہ صرف تعمیر کیا بلکہ اسے چلا کر بھی دکھایا۔ اس کے جانے کے بعد اس ریلوے کے نظام کا بیشتر حصہ تو ہندوستان کو مل گیا اور اس کا ایک حصہ جسے غالباً اُس وقت نارتھ ویسٹرن ریلوے کہا جاتا تھا پاکستان کو مل گیا۔ جب گورا گیا تو اس ٹریک کی لمبائی تقریباً 8122 کلو میٹر تھی جس میں زیادہ تر ٹریک ساڑھے پانچ فٹ چوڑائی والا تھا تاہم اس میں میٹر گیج (1000 ملی میٹر) اور تنگ گیج (Narrow Gauge ) والا ٹریک بھی شامل تھا۔ ہم نے آہستہ آہستہ نہ صرف سارا میٹر گیج اور تنگ گیج والا ٹریک ختم کیا بلکہ اس دوران درجن بھر چوڑے گیج والے سیکشن بھی بند کر دیئے۔ گزشتہ تہتر سال میں ہمارے ریلوے ٹریک میں کمی ہی ہوئی ہے‘ اضافہ نہیں ہوا۔ 
دنیا کے بہترین نہری نظام کو ہمارے حوالے کیا گیا‘ ہمارے اس نظام سے محکمہ انہار نے اتنی کمائی کی کہ اس کی مثال دنیا میں ملنا ممکن نہیں‘ مگریہ نظام برباد ہو کر رہ گیا۔تاہم سب سے بُرا حشر ہم نے ہر شہر میں تعمیر ہونے والے گھنٹہ گھر کا کیا۔ کیا ملتان اور کیا فیصل آباد (لائلپور) کیا لاہور اور کیا دیگر شہر۔ بڑے شہروں میں صرف گھنٹہ گھر ہی نہیں ہوتا تھا گھڑیال والی درجنوں عمارتیں بھی ہوتی تھیں۔ مال روڈ لاہور پر شروع میں بنے ٹاؤن ہال کے علاوہ دیگر کئی عمارتوں پر بھی کلاک لگے ہوئے تھے۔ ان سب کا مقصد وقت دیکھنے کی سہولت کے ساتھ ساتھ وقت کی اہمیت کا احساس دلانا تھا۔ جب تک گورا موجود رہا کلاک چلتے رہے اور ان کے ساتھ ساتھ دفاتر اور کاروبار کا پہیہ بھی بروقت اور روانی سے چلتا رہا۔ پھر گورا چلا گیا اور کلاک ٹاورز پر لگے ہوئے کلاک بند ہو گئے‘ چوری ہو گئے‘ خراب ہو گئے‘ اُتار لئے گئے یا بیچ کر پیسے کھرے کر لیے گئے۔ ظاہر ہے بے فائدہ اور فضول چیزوں کی کب تک حفاظت کی جاتی؟
ملتان کا گھنٹہ گھر 1888ء میں تعمیر ہوا۔ تب اس تعمیر ہونے والی عمارت کا نام رپن ہال اور کلاک ٹاور کا نام نارتھ بروک ٹاور تھا۔ یہ دونوں نام انڈیا کے وائسرائے صاحبان کے نام پر رکھے گئے تھے۔ نارتھ بروک ٹاور پر ایک بڑا گھڑیال لگایا گیا‘ یہ پرانا‘ نایاب اور تاریخی کلاک تھا جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک چلتا رہا۔ میں نے اپنے بچپن میں اس کی تین اطراف میں لگی گھڑیاں چلتے بھی دیکھیں اور ہر گھنٹے بعد بجنے والی گھنٹی کی ٹن ٹن بھی سنی۔ پہلے ایک طرف کی گھڑی خراب ہوئی‘ پھر دوسری اور پھر تیسری۔ درمیان میں انہیں نیم دلی سے کئی بار مرمت بھی کروایا گیا لیکن شاید وہ بھی اس لیے کہ اس کی مرمت کی مد میں ایک روپیہ لگا کر دس روپے کا کلیم کیا جائے اور نو روپے آپس میں بانٹ لیے جائیں۔ پھریہ جھنجھٹ ہی ختم ہو گیا اور کلاک ہی غائب ہو گیا۔اس کے غائب ہونے کا پتا بھی خدا جانے اس کے اڑن چھو ہو جانے کے کتنے عرصہ بعد چلا۔ اس بارے میں یہ عاجز کچھ نہیں کہہ سکتا شاید برسوں بعد معلوم ہوا ہو۔ کلاک ٹاور پر تینوں گھڑیوں کے ڈائل موجود تھے‘ سوئیاں کھڑی تھیں‘ کلاک بند نظر آ رہا تھا اور گزشتہ کئی سال سے بند تھا۔ اب کیا معلوم کہ پیچھے سے اس کی ساری مشینری کب غائب ہوئی؟ ایک دن دیکھا کہ کلاک ٹاور پر جدید راڈو گھڑی کا ڈائل لگا ہوا ہے۔دل میں بے چینی سی پیدا ہوئی کہ آخر پرانا ڈائل کیوں تبدیل کیا گیا ہے؟ معلوم کیا تو پتا چلا کہ صرف ڈائل نہیں پورا گھڑیال تبدیل کر دیا گیا ہے اور پرانے قدیمی کلاک کی جگہ نئی ٹیکنالوجی والا ڈیجیٹل کلاک نصب کر دیا گیا ہے۔ پتا کیا کہ پرانا نایاب اور تاریخی کلاک کہاں گیا؟ تو معلوم ہوا کہ اس کا کسی کو کوئی پتا نہیں۔ اس عاجز نے اس اندھیر نگری اور ڈکیتی پر کالم لکھا‘ چند روز بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس بات کی تحقیق کرنے اور کلاک کی بازیابی کیلئے ایک چٹھی ملتان کی انتظامیہ کو لکھ بھیجی۔ انتظامیہ نے بڑی عرق ریزی اور محنت شاقہ کے بعد ایک نہایت ہی تفصیلی رپورٹ جمع کروائی جس کا لب لباب محض ایک سطری تھا کہ ''کلاک نشئی اتار کر لے گئے ہیں‘‘۔ کہانی ختم ہوئی اور تفتیش کا باب بند ہوا۔ ایک تاریخی کلاک جس کا وزن بلا مبالغہ پچیس تیس من کے لگ بھگ تھا بھرے دفتر اور چلتے محکمے کی عمارت کی تیسری منزل سے نشئی اتار کر لے گئے۔ اتار کر لے جانے والا تو خدا جانے کون تھا البتہ اس دفتر میں موجود درجنوں ملازمین اور چوکیدار یقینا نشئی تھے۔
بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ بات وقت کی اہمیت کی تھی جو کلاک کی چوری کی طرف چلی گئی لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس کلاک کی چوری بھی تبھی ممکن ہوئی جب ہم نے گھڑی کی طرف دیکھنا بند کر دیا اور گھڑی کی طرف دیکھنا تبھی ختم ہوتا ہے جب ہم وقت کے بارے میں سوچنا اور اس پر عمل کرنا بند کر دیتے ہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں سو میں سے ایک یا دو افسر ہی وقت پر آتے ہیں۔ کئی دفاتر میں تو یہ حال ہے کہ افسر تو ظاہر ہے افسر ہے اور کلرک بادشاہ ہوتے ہیں‘ چپڑاسی اور خاکروب تک وقت پر نہیں آتے۔ میں ایک بار ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں گیا ‘دفتر کا وقت خدا جانے آٹھ بجے کا تھا یا نو بجے کا تھا لیکن وہاں ساڑھے نو بجے پہنچا تو ڈپٹی کمشنر تو رہا ایک طرف اس کا پی اے تک نہیں آیا تھا۔ البتہ ساڑھے نو بجے ایک خاکروب آیا اور دفتر کے سامنے برآمدے میں جھاڑو دینے لگ گیا۔
کورونا کے باعث وبا کی پہلی لہر کے دوران دکانوں وغیرہ کیلئے حکومت نے اوقات کار مقرر کیے تھے۔ برے بھلے اس پر کچھ نہ کچھ عمل ہو رہا تھا اس بار یہ تہمت بھی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ نہ کوئی نظام اوقات ہے اور نہ کوئی احتیاط۔ نہ کوئی پابندی ہے اور نہ ایس او پیز پر عملدرآمد۔ گمان تھا کہ پہلی لہر کے بعد بھی شام سات بجے دکانیں بند کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور قوم جاگنے کے وقت جاگے گی اور سونے کے وقت سوئے گی‘ لیکن وہی حال ہے کہ دکانیں بارہ بجے کے بعد کھلنا شروع ہوتی ہیں اور رات گئے تک کھلی رہتی ہیں۔ دنیا بھر میں دکانیں علی الصبح کھلتی ہیں اور سورج ڈھلنے کے ساتھ یا اس سے پہلے بند ہو جاتی ہیں ‘لیکن ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ دکاندار کا مؤقف ہے کہ صبح کے وقت گاہک ہی نہیں آتا۔حالانکہ گاہک دکاندار کی فلاح و بہبود کیلئے نہیں اپنی ضرورت اور مجبوری کے باعث آتا ہے اور جو بھی نظام الاوقات ہو گا اس کی مجبوراً پابندی کرے گا ‘لیکن کاروباری حضرات من مانی کرتے ہیں اور حکومت مزے کر رہی ہے۔ ایک دکاندار نے اپنے ملازم سے کہا کہ کاروبار عروج میں نہیں آ رہا۔ وہ کہنے لگا: صاحب! برا مت منائیے گا جب کاروبار کا آغاز ہی زوال کے وقت پر ہو گا تو عروج کیسے آئے گا؟
چوہدری بھکن کا کہنا ہے کہ ہمارے جو بزرگ گورے کو گالیاں دیتے تھے وہ دراصل ایسے لوگ تھے جو گورے کے زمانے میں وقت پر دفتر آنے کی مصیبت کا شکار تھے تب اسے دل ہی دل میں گالیاں دیا کرتے تھے اور اس کے جانے کے بعد اسے کھل کر گالیاں دیتے رہے۔ بھلا صبح اٹھنا کوئی آسان کام ہے؟ خاص طور پر اس قوم کیلئے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں