نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:ترک صدرطیب اردوان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےخطاب
  • بریکنگ :- ویکسین کوقوم پرستی سےجوڑناانسانیت کی توہین ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- اب بھی لاکھوں لوگ کوروناوائرس سےدوچارہیں،طیب اردوان
  • بریکنگ :- 40 سال سےافغانستان کوتنہاچھوڑدیاگیا،ترک صدرطیب اردوان
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امداداوریکجہتی کی ضرورت ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی افغانستان اوروہاں کےعوام کےساتھ کھڑارہےگا،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی

ہمارے پیارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کا جمعہ بازار لگا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے کراچی کیلئے جتنے بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا اس کی تو تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ رقم اتنی زیادہ ہے کہ جس طرح مرضی پڑھیں تسلی نہیں ہوتی۔ مثلاً یہ رقم ایک ہزار ایک سو بلین روپے ہے۔ اب آپ اسے بے شک دس کھرب ایک سو ارب روپے کہہ لیں۔ اگر آپ کی انگریزی اچھی اور اردو خراب ہے تو آپ اسے ایک اعشاریہ ایک ٹریلین کہہ سکتے ہیں۔ اردو والوں کے لیے عرض ہے کہ یہ رقم گیارہ سو ارب روپے بنتی ہے۔ اس حساب سے کراچی پیکیج گیارہ کھرب روپے کا تھا۔ میں تو اتنی بڑی رقم کا حساب لگاتے لگاتے ہی ''پھاوا‘‘ ہو گیا تھا ہمت تو ان کی ہے جنہوں نے اتنی بڑی رقم کا اعلان کر دیا تھا۔
اب دو چار دن ہوئے وزیراعظم صاحب نے ساہیوال کے لیے اٹھارہ ارب کا پیکیج اناؤنس کر دیا ہے۔ ظاہر ہے یہ ترقیاتی پیکیج کراچی کے مقابلے میں تو کچھ نہیں لیکن ساہیوال اور کراچی کا موازنہ کریں تو یہ پیکیج بھی خاصا بڑا محسوس ہوتا ہے‘ تاہم افتخار کو اس سارے معاملے میں خواہ مخواہ کے شکوک و شبہات لاحق ہیں۔ جس روز ساہیوال کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اٹھارہ ارب روپے کا اعلان ہوا میرے ساتھ افتخار اور جمشید بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے افتخار سے پوچھا کہ ماشاء اللہ تم خاصے با خبر آدمی ہو‘ یہ بتاؤ کہ ہمارے خان صاحب نے کراچی کیلئے جو چند ماہ پہلے گیارہ کھرب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا اس میں سے اب تک کتنے پیسے کراچی پر خرچ ہو چکے ہیں؟ افتخار مسکرایا اور کہنے لگا: اگر کراچی والوں سے دریافت کریں تو ابھی تک شاید انہیں اس پیکیج میں سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ جمشید پوچھنے لگا :پھر وزیر اعظم اس قسم کے اتنے بڑے بڑے پیکیجز کا اعلان کیوں کرتے ہیں؟ میں اس بات پر ہنس پڑا۔ مجھے ہنستا دیکھ کر جمشید پوچھنے لگا آخر مجھے ہنسی کیوں آئی ہے؟ میں نے کہا: کیا اب اس ملک میں بلا وجہ ہنسنا بھی جرم ہے؟ جمشید کہنے لگا کہ بلا وجہ ہنسنا بے شک جرم نہیں ہے مگر اس طرح ہنسنے کا کوئی جواز‘ کوئی وجہ یا کوئی پس منظر تو ہوگا جو تم اس بات پر ہنسے ہو۔ میں نے کہا: دراصل مجھے آبِ گم میں مشتاق یوسفی صاحب والا ایک واقعہ یاد آ گیا تھا۔ اگر وقت ہو تو آپ کو سنا دوں؟ جمشید کہنے لگا :نیکی اور پوچھ پوچھ۔ میں نے کہا کہ آپ کا اشتیاق دیکھ کر زیادہ مناسب ہو گا کہ میں آپ کو یہ اقتباس کتاب سے پڑھ کر سنا دوں۔ محض یادداشت کے زور پر بھلا وہ بات کہاں پیدا ہو سکتی ہے جو یوسفی صاحب کی تحریر میں ہوگی۔ ان کی کتاب ''آبِ گم‘‘ میں پانچ مضامین ہیں اور کابلی والا اس کتاب کا تیسرا مضمون ''کار‘ کابلی والا اور اللہ دین بے چراغ‘‘ ہے۔ اس میں خان صاحب (کابلی والا) کی شادی پر ہونے والے حق مہر کے قضیے کی تفصیل ہے۔ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ:
''میں ماموں کی مشین گن سے مسلح ہو کر گیا تھا۔ سوائے بچوں‘ قاضی اور نائی کے اور کوئی نہتا نہیں تھا۔ عین نکاح کے وقت لڑکی والے پسر گئے۔ کہنے لگے مہر ایک لاکھ کا ہو گا۔ اس پر ماموں جھگڑا کرنے لگا۔ وہ شرعی مہر یعنی پونے تین روپے بھر چاندی پر مصر تھا‘ جس کے تیرہ روپے ساڑھے پانچ آنے سکہ رائج الوقت بنتے تھے۔ قبیلے کے ایک دانا بزرگ نے تجویز پیش کی کہ کچھ لڑکی والے کم کریں‘ کچھ لڑکے والے مہر بڑھائیں۔ دونوں فریق درمیانی اوسط رقم پر سمجھوتہ کر لیں۔ اس پر ایک دوسرا دانا بولا‘ سردار! ہوش کرو۔ تیرہ روپے ساڑھے پانچ آنے اور ایک لاکھ کے درمیان کوئی اوسط رقم نہیں ہوتی۔ ایسے میں اوسط تلوار سے نکلتا ہے۔
راڑ رولابڑھا تو میں نے سہرا ہٹا کر با آواز بلند کہا‘ میں تو پانچ لاکھ کا مہر باندھوں گا۔ اس سے کم میں میرے خاندان کی توہین ہو گی۔ یہ سن کر ماموں سناٹے میں آ گیا۔ میرے کان میں کہنے لگا‘کیا تو آج پوست پی کے آیا ہے؟ پانچ لاکھ میں تو کلکتے کی گوہر جان اور ایک سو ایک رنڈیوں کا ناچ ہو سکتا ہے‘ میں نے کہا‘ ماموں! تو بیچ میں مت بول‘ تو نے زندگی میں بائیں آنکھ میچ کر‘ دائیں آنکھ سے رائفل کی شست باندھ کر فقط اپنے دشمن کو دیکھا ہے۔ یا پھر کلدار روپوں پر کوئین وکٹوریہ کا چہرہ دیکھا ہے۔ تو نے دنیا نہیں دیکھی۔ نہ تجھے مردوں کی 'پختو‘ کا کچھ خیال ہے۔ اگر مجھے نادہندہ ہی ہونا ہے تو بڑی رقم ماروں گا۔ چھوٹی رقم مارنا رذیلوں اور دیوثوں کا کام ہے‘‘۔
خان صاحب کے نکاح اور حق مہر کی اعلان کردہ رقم والا یہ صفحہ پڑھنے کے بعد میں نے جمشید کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا اب اسے سمجھ آ گئی ہے کہ عمران خان صاحب جب اعلان کرتے ہیں تو اتنی بڑی بڑی رقموں والے پیکیجز کا اعلان کیوں کرتے ہیں؟ دراصل عمران خان صاحب چھوٹی موٹی رقم کے پیکیج کا اعلان کر کے اور پھر اس پر عمل نہ کر کے معمولی معمولی رقم کے نادہندہ نہیں ہونا چاہتے۔ وہ اپنے مرتبے کے مطابق والی رقم کے نادہندہ ہونا چاہتے ہیں۔ میں نے جمشید کو مخاطب کر کے پوچھا کہ کیا اسے اب بات سمجھ آ گئی ہے؟ جمشید نے بڑے داناؤں کی طرح سر کو ہلایا اور کہنے لگا کہ اب نہ صرف اسے بات سمجھ آ گئی ہے ‘ بلکہ خوب سمجھ آ گئی ہے۔
میں نے افتخار سے پوچھا کہ آخر وزیراعظم صاحب ملتان کے لیے کسی پیکیج کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ افتخار ہنسا اور کہنے لگا: آپ بھی صرف چسکے لے رہے ہیں۔ ابھی آپ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم صرف موج میلے کیلئے ان بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے کرنا کرانا کچھ نہیں اور ساتھ ہی آپ ملتان کیلئے کسی ایسے ہی ہوائی ترقیاتی پیکیج کے اعلان کے بھی منتظر ہیں۔ میں نے کہا: چلیں دل تو خوش ہوگا اچھی بات سننے کا بھی اپنا ہی ایک مزہ ہوتا ہے۔ اب آپ خود دیکھیں‘ابھی نئے سال کا پہلا مہینہ پوری طرح گزرا نہیں اور وزیراعظم نے اپنے ارکان اسمبلی کو یہ خوشخبری سنا دی ہے کہ انہیں اگلے سال پچاس کروڑ روپے کا ترقیاتی فنڈ دیا جائے گا۔ اگلا سال آنے میں تقریباً پورا سال پڑا ہوا ہے اور انہوں نے اپنے ارکان ِاسمبلی کو اس اعلان کے ذریعے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔
افتخار بتانے لگا: گزشتہ کئی ماہ سے ملتان کیلئے وزیراعظم کے دورے کا پروگرام بنانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ وہ یہاں آئیں اور یہاں کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں لیکن مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ ملتان میں ایسا کوئی کام ہی نہیں ہوا‘ جس کا افتتاح کیا جا سکے یا وہاں کوئی فیتہ کاٹا جا سکے۔ میں نے افتخار کو کہا کہ تمہیں تو بخوبی پتا ہے کہ ان اڑھائی سالوں کے دوران ملتان میں اور کچھ نہ بھی ہو مگر زکریا ٹاؤن کی ڈیڑھ کلو میٹر لمبی سڑک تو بنی ہے۔ اب اس کی تعمیر کی وجہ کچھ بھی ہو‘ لیکن افتتاح تو بہر حال کیا جا سکتا ہے۔ جمشید کہنے لگا :مگر اس سڑک کا افتتاح تو ہو چکا ہے۔ میں نے کہا: غیر متعلق قسم کے دس بارہ لوگوں نے مشترکہ طور پر تختی لگوا کر اس سڑک کا جوافتتاح کیا تھا وہ سراسر جعلی تھا اور اہل ِعلاقہ نے اسے بری طرح مسترد کر دیا تھا۔ اس لحاظ سے یہ سڑک عملی طور پر اب بھی کسی معززانہ افتتاح کی منتظر ہے۔ خالی خولی ترقیاتی پیکیج کے کسی اعلان سے ہزار درجے بہتر ہے کہ اس ڈیڑھ کلو میٹر پر مشتمل سڑک کا جلد از جلد با عزت افتتاح کر دیا جائے وگرنہ دیر ہو جائے گی۔ افتخار نے پوچھا: دیر کس بات کی ہو جائے گی؟ میں نے کہا: جلدی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ سڑک میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے اس لیے یہ کام جتنا جلدی کر لیا جائے بہتر ہے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں