نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سابق کپتان محمد حفیظ کا کرس گیل کےبیان کاخیرمقدم
  • بریکنگ :- ویسٹ انڈیزچیمپئن کےلیےپاکستان سےڈھیرساری محبتیں،محمدحفیظ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

راس الحکمۃ مخافۃ اللہ

علم اور تقویٰ کا تکبر انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ پہلا تکبر دنیا اور دوسرا آخرت میں انسان کو برباد کر دیتا ہے۔ ہمہ وقت اپنے علم کا ڈھنڈورا پیٹنا دراصل 'تھوتھا چنا باجے گھنا‘ والا معاملہ ہے۔ جب انسان کو یہ زعم ہو جائے کہ وہ مطلق علم کا مالک ہے تو پھر علیم الخبیر اس شخص پر علم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ علم کی بنیاد ہی دراصل اپنی کم علمی کا ادراک ہے‘ اور یہی ادراک انسان کو علم کی طرف مائل کرتا ہے۔ جس فرد کو اپنے بارے میں یہ خوش فہمی ہو کہ اسے ہر بات کا علم ہے بلکہ اپنے علم کا زعم اس حد تک ہو کہ وہ مگرمچھ سے زیادہ دریا کے بارے میں اور شیر سے زیادہ جنگل کو جاننے کا دعویٰ کرے تو بھلا ایسے شخص کا کیا کیا جا سکتا ہے؟
اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ خان صاحب کو اپنے بارے میں خوش فہمی ہے کہ انہیں دنیا کی ہر بات کا نہ صرف یہ کہ علم ہے بلکہ وہ ہر چیز کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان سے زیادہ اس بارے میں کوئی جانتا ہی نہیں۔ یورپ کی بات کریں تو وہ بڑے تیقن سے فرماتے ہیں کہ یورپ کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ افغانستان کی بات ہو تو کہتے ہیں کہ افغانستان اور افغانوں کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا‘ اور تازہ معاملہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا‘ گزشتہ دنوں ازبکستان تشریف لے گئے تو وہاں بھی اپنا مخصوص دعویٰ کھڑکا دیا کہ ازبکستان کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو کہنے لگے کہ ازبکستان کو جتنا وہ جانتے ہیں اتنا تو خود ازبک بھی نہیں جانتے‘ جبکہ عالم یہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ملتی ہیں۔ جب علم کا تکبر ہو اور تکبر بھی ایسا جو سرے سے خوش فہمی پر مشتمل ہو تو پھر انسان ایسے دعوے ہی کرتا ہے۔ دعویٰ دراصل انسان پر سجتا ہی نہیں۔ علم کے دروازے آپ پر تب تک وا رہتے ہیں جب تک آپ طالب علم ہوتے ہیں اور آپ کے دل میں اپنی کم علمی کا احساس علم کی پیاس کو بڑھاتا رہتا ہے۔
حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: (لا ادری نصف العلم) آدھا علم یہ ہے کہ تو کہہ، میں نہیں جانتا۔ یعنی نصف علم تو صرف یہ تسلیم کرنے میں مخفی ہے کہ آپ کو اس بات کا علم نہیں ہے۔ یہی ادراک آپ کو تحصیلِ علم کی طرف مائل کرتا ہے اور آپ راہ علم پر گامزن ہوتے ہیں۔ علم ایک سمندر ہے اور ہم اس سمندر سے ایک چلو بھر پانی اٹھا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سمندر کے شناور ہیں اور سارا سمندر ہماری جیب میں ہے۔ کیا غلط فہمی ہے اور کیا تکبر ہے؟ میرے آقاﷺ کا ایک اور فرمان ہے: علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، یہ جہاں سے ملے اسے حاصل کرے۔ اب اگر یہ احساس ہی نہ ہو کہ میری میراث کھو چکی ہے تو بھلا اس کھوئی ہوئی چیز کا حصول کیا معنی رکھتا ہے؟ اور صرف خان صاحب پر ہی کیا موقوف‘ پوری امت مسلمہ مجموعی طور پر اسی فریب کا شکار محسوس ہوتی ہے کہ یہ ساری دنیا فریب نظر ہے‘ اس کے پاس تقویٰ کا خزانہ ہے۔ ماضی کا سنہرا دور اس کی میراث ہے۔ فانی دنیا اس کی جوتی کا میل ہے اور جنت کی نعمتیں اس کے انتظار میں ہیں۔ اسی خوش فہمی کے بل پر مسلمان نہ دنیا کے لیے کچھ کر رہے ہیں اور نہ آخرت کا سامان اکٹھا کر رہے ہیں۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ علم بغیر عمل بے کار ہے اور عمل بغیر خلوص آزار ہے۔
لگتا یہ ہے کہ اپنے خان صاحب کا سارے کا سارا علم سنی سنائی پر منحصر ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ کس سے سنتے‘ اور یقین کر لیتے ہیں۔ کسی نے ان کے کان میں کہا کہ نجم سیٹھی نے بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن میں پینتیس پنکچر لگائے ہیں۔ انہوں نے پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا کہ ان کے کان میں یہ انکشاف کرنے والا ہے کون؟ اس بات پر نہ صرف یہ کہ یقین کر لیا بلکہ اسے ایسے اعتماد کے ساتھ بیان کرنا شروع کر دیا گویا انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے الیکشن کی خستہ ٹیوب کو نجم سیٹھی کے ہاتھوں پنکچر لگتے ہوئے دیکھا ہے‘ بلکہ پکے پنکچر لگانے والی ویلکنائزنگ مشین پر چڑھی ہوئی اس ٹیوب کے سارے پنکچر بھی خود گنے ہیں۔ جب بات آگے تک گئی تو اسے سیاسی بیان قرار دے دیا۔ عین یہی کچھ اب ہو رہا ہے۔ پہلے فرمایا کہ انہیں پانامہ لیکس کی پیروی نہ کرنے کے عوض شہباز شریف نے پیسوں کی آفر کی۔ معاملہ عدالت میں آیا ہے تو جواب جمع کروا دیا کہ انہیں پیسوں کی آفر شہباز شریف نے خود نہیں کی تھی کسی عمر فاروق نامی بندے نے ان کی طرف سے آفر کی تھی‘ یعنی صرف سنی سنائی پر بیان جاری فرما دیا اور بعد میں پینتیس پنکچروں والی بات کی طرح بیان سے منحرف ہو گئے۔ اب بندہ کیا کرے اور کہاں جائے؟ جہاں اعلیٰ ترین مناصب پر براجمان شخصیات سنی سنائی بات کو بلا تصدیق آگے چلا دیں اور اپنے ذریعہ معلومات کو جانے اور پرکھے بغیر آگے بیان فرما دیں، سنی سنائی باتوں کو اپنا علم سمجھیں اور اس سنے سنائے علم کی بنیاد پر دعویٰ کریں کہ وہ دنیا کی ہر چیز کے بارے سب سے زیادہ جانتے ہیں تو اس پر جناب علیؓ کا قول یاد آتا ہے کہ خاموشی جاہل کا پردہ اور عالم کا زیور ہے۔
ابھی گزشتہ دنوں خان صاحب نے بلا سوچے سمجھے فرما دیاکہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق ریفرنڈم کے بعد کشمیر میں ایک ریفرنڈم کرائیں گے کہ کشمیری پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے ہیں یا آزادی چاہتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی بات کر کے ہم بھارتی موقف کی تائید تو نہیں کر رہے ہیں‘ جو وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے الیکشنز کو کشمیریوں کے بھارت کے ساتھ الحاق کا ریفرنڈم قرار دیتا آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد کا متن ہی یہ ہے کہ کشمیریوں کو پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے لیے آزادانہ استصواب رائے کا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ اس قرارداد میں کہیں بھی تیسرے آپشن، یعنی آزادی کا ذکر نہیں ہے۔ تیسرے آپشن کی آفر کے دو انتہائی مہلک نتائج نکل سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرارداد (خواہ اس پر گزشتہ تہتر برسوں میں عمل نہیں ہوا) ہماری نئی تجویز کی روشنی میں ناکارہ ہو جائے گی اور ہم دوبارہ اس منظور شدہ قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی نہیں کر سکیں گے۔ تیسرا آپشن دراصل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرارداد کے لیے زہر قاتل ہے۔
دوسرا خوفناک نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ 1947 میں الحاقِ پاکستان کرنے والی مختلف اکائیاں بھی اس تیسرے آپشن کے تحت حق مانگنے لگ جائیں گی۔ 1947 میں سرحدی گاندھی عبدالغفار خان نے بنوں ڈیکلریشن کے ذریعے تب کی انگریز حکومت سے شمال مغربی سرحدی صوبے کے لیے بھارت یا پاکستان سے الحاق کے بجائے تیسرے آپشن کا یعنی آزاد پختونستان کا حق مانگا تھا‘ جو انگریز سرکار نے مسترد کر دیا تھا۔ خان صاحب کے اس بیان سے بہاولپور، خیرپور، سوات، چترال، امرکوٹ، ہنزہ، نگر، احب، پھلرہ اور ڈیرہ وغیرہ نے تو خیر کیا فائدہ اٹھانا ہے کہ یہ سابق Pricely states اپنے حال میں خوش ہیں (کم از کم یہ خوش گمانی ہونی چاہیے) تاہم اسی ریفرنڈم کے نتیجے میں بلوچستان کے کئی بلوچ رہنما جو بھارتی پے رول پر بھارت، افغانستان اور یورپ میں بیٹھ کر علیحدگی کے لیے سرگرم عمل بھی ہیں اور مسلح جدوجہد کی آڑ میں دہشت گردی بھی کر رہے ہیں، خان صاحب کے اس بیان کو لے کر اپنا مدعا ایک بار پھر اقوام متحدہ لے جا سکتے ہیں کہ اگر کشمیریوں کو تیسرے آپشن کی سہولت دی جا سکتی ہے تو ہمیں کیوں نہیں؟
میری دعا ہے کہ اللہ رحیم و کریم ہمارے حکمرانوں کو اس قول سے بہرہ مند کرے کہ آدھا علم یہ ہے کہ تو کہہ، میں نہیں جانتا۔ حدیث مبارکہ ہے کہ راس الحکمۃ مخافۃاللہ یعنی دانائی کی بنیاد اللہ کے خوف میں ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں