نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت کےہرمحکمےمیں اسکینڈل موجودہیں،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- نیب ترمیمی آرڈیننس سےحکومت نےخودکواین آراودیا،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- آئینی نظام میں مداخلت ختم ہونےتک یہ ملک نہیں چلےگا،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- آرڈیننس کےذریعےحکومت خودکیلئےسہاراتلاش کررہی ہے،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- استعفوں،عدم اعتمادکاآپشن موجودہےوقت پراستعمال کریں گے ،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- نیب چیئرمین پہلےفیصلےکرسکتےتھےنہ اب،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- آصف زرداری نےسیاست کرنی ہےتوڈٹ کرمقابلہ کریں،شاہدخاقان عباسی
  • بریکنگ :- جب نظام ہی آئین کےمطابق نہ ہوتوعدم اعتمادکیسےکریں گے،شاہدخاقان
  • بریکنگ :- جب حکومت چھوڑی قرض 28 ہزارارب تھا،اب 50 ہزارارب ہوچکا،شاہدخاقان
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

اچھی خبر

ایک اچھی خبر دنیا کے ہر انسان میں ہے اور اُسی کے لیے ہے۔ یہ اچھی خبر اُس کی شخصیت‘ مزاج‘ صلاحیت اور سکت کے حوالے سے ہے۔ ذرا سوچیے کہ کیا ہوسکتی ہے یہ اچھی۔ جناب! اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا کا ہر انسان جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ روئے ارض پر انسان نے جتنے بھی ادوار گزارے ہیں ‘اُن میں ایک قدر یقینی طور پر مشترک ہے--- یہ کہ انسان اپنی صلاحیت اور سکت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ 
قدرت نے ہر انسان کو کسی نہ کسی کردار کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ کردار ادا کرنے میں کامیاب ہونے ہی پر انسان اپنے آپ کو کامیاب قرار دے سکتا ہے۔ اپنے ماحول پر اُچٹتی سی نظر ڈالیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ سبھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں اور آپ خود بھی کچھ نہ کچھ تو کر رہی رہے ہیں۔ معاملہ اتنا سا ہے کہ کچھ لوگ زیادہ دلچسپی‘ لگن اور تیاری کے ساتھ محنت کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی محنت الگ ہی نظر آتی ہے۔ بھرپور کامیابی کا ذہن بنالینے والوں کے شب و روز بدل جاتے ہیں۔ وہ ایسی زندگی بسر کرتے ہیں‘ جس میں کہیں بھی کوئی ایسا جھول نہیں ہوتا‘ جس کے باعث بہت کچھ داؤ پر لگ جائے۔ غیر معمولی محنت کرنے پر بھی بھرپور کامیابی کا نہ ملنا افسوسناک امر ضرور ہے‘ حیرت انگیز ہرگز نہیں۔ کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ حالات کے بدلنے سے کسی کی محنت کا بڑا حصہ رائیگاں جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ زیادہ محنت نہ کرنے پر بھی بڑی کامیابی ہاتھ لگتی ہے۔ مگر خیر‘ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ عمومی سطح پر رہتے ہوئے سوچیے تو معاملہ ''جتنا گُڑ ڈالیے اُتنا میٹھا‘‘ والا ہے‘ یعنی یہ کہ قدرت ہمیں اُتنی ہی کامیابی عطا کرتی ہے ‘جتنی ہم محنت کرتے ہیں۔ 
محنت کرنے والوں کی کمی کل تھی نہ آج ہے۔ سوال مطلوب لگن اور منصوبہ سازی کا ہے۔ لوگ زندہ رہنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے ہی ہیں‘ مگر بیشتر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے کام میں پوری دل جمعی اور لگن کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ سوال سوچنے کے انداز کا ہے۔ ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی کرتے ہیں۔ اگر کسی نے یہ طے کرلیا ہے کہ حالات کی مہربانی کی بدولت کامیاب ہونا ہے‘ تو پھر اُسے محنت کرنے میں زیادہ کشش دکھائی ہی نہیں دے گی۔ بہت سے لوگ معمول سے بڑھ کر محنت کرتے ہیں‘ مگر خاطر خواہ منصوبہ سازی یا تیاری نہ ہونے کے باعث اُن کی محنت یا تو ضائع ہو جاتی ہے یا پھر مطلوب نتائج نہیں دے پاتی۔ 
بات اتنی سی ہے کہ لوگ بھرپور کامیابی کے بارے میں خاطر خواہ حد تک سنجیدہ نہیں ہوتے۔ دوسروں سے بڑھ کر کچھ کرنے اور قابلِ رشک حد تک کامیاب ہونے کے لیے لازم ہے کہ انسان پوری تیاری کے ساتھ محنت کرے۔ اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اُس میں پائی جانے والی صلاحیت کی نوعیت اور درجہ کیا ہے اور معاملہ یہیں تک نہیں ہے۔ کسی بھی شعبے میں غیر معمولی کامیابی یقینی بنانے کے لیے انسان کو متعلقہ ماحول پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ بڑی کامیابی کے لیے خود کو نمایاں طور پر تیار بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسا کیے بغیر بڑی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ 
قدرت نے ہمیں ‘جو کچھ بھی بخشا ہے‘ وہ ہمارے لیے اچھی خبر سے کم نہیں۔ دنیا کے ہر انسان کو کسی نہ کسی شعبے میں نمایاں ہونے سے متعلق صلاحیت ودیعت کی گئی ہے۔ اس صلاحیت کو نکھارنا‘ پروان چڑھانا لازم ہے۔ ایسا کیے بغیر انسان قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتا۔ صلاحیت کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ سکت یعنی کام کرنے کے لیے مطلوب توانائی کا گراف بلند کرنا بھی لازم ہے۔ اگر کوئی کسی کھیل میں مہارت رکھتا ہو تو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ‘ اُسی وقت کر پائے گا‘ جب اُس کی صحت مطلوب سطح کی ہو۔ بیمار شخص مہارت رکھنے کے باوجود کھیل کے میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ محض سو‘ سوا سو روپے کا پلگ خراب ہوجائے تو موٹر سائیکل کا انجن کام کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ یہ اصول دنیا کے ہر معاملے پر اطلاق پذیر ہوتا ہے۔ ہم بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں تو ہمیں بھی اس اصول کے انطباق سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ 
اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کی دنیا بھی مسابقت ہی کی دنیا ہے‘ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب مسابقت غیر معمولی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ایک طرف تو تکنیکی پیچیدگیاں ہیں اور دوسری طرف سکت کا معاملہ بھی الجھ گیا ہے‘ جنہیں نمایاں کامیابی درکار ہو‘ اُنہیں دوسروں سے زیادہ اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ ہر دور کے انسان کی طرح آج کا انسان بھی اچھی خبر کا حامل ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق ‘یعنی دوسروں سے بہتر‘ معیاری زندگی بسر کرسکتا ہے۔ سوال صرف ارادے اور تیاری کا ہے۔ صلاحیت کا معاملہ کان سے نکالے جانے والے سنگِ مرمر کا سا ہے۔ سنگِ مرمر سے گلدستہ‘ شمع دان‘ پیالہ یا کچھ اور بنایا جاسکتا ہے‘ مگر ایسا اُسی وقت ہوسکتا ہے جب سنگِ مر مرکے مل جانے کو کافی نہ سمجھا جائے‘ بلکہ اُسے تراشنے کے بارے میں بھی کچھ سوچا جائے اور جو کچھ سوچا جائے ‘اُس پر کماحقہ عمل بھی کیا جائے۔ 
یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ہم میں سے بیشتر کو یہ احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ ہم میں ایک اچھی خبر پائی جاتی ہے ‘جو ہمارے ہی لیے ہے؟ اپنے حالات کو بہتر بنانے کے بارے میں کماحقہ اور سوچنا اور کچھ کر گزرنا دنیا کے ہر انسان کے لیے مکمل طور پر ممکن ہے‘ مگر لوگ اس طرف آتے نہیں۔ اپنے لیے کچھ سوچنے اور سوچے ہوئے پر عمل کرنے کی راہ پر گامزن ہونے والوں کی تعداد خاصی قلیل ہے۔ ایسا تو کسی بھی طور ممکن ہی نہیں کہ انسان محنت کرے اور قدرت اُس کا صلہ نہ دے۔ عدل اور جزا کا تو انسان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہاں‘ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کچھ کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہوں گے یا نہیں۔ صلاحیت و سکت کا حامل ہونے پر بھی بامقصد انداز سے جینے کا فیصلہ نہ کرنے والوں کو شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قدرت نے جو اچھی خبر ہم میں رکھی ہے‘ اُسے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہمارا کام ہے۔ قدرت نے اپنا کام کردیا ہے۔ اب‘ ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔ 
فی زمانہ ہر انسان اپنے اندر موجود اچھی خبر کو ڈھنگ سے باہر لانے اور کماحقہ صلہ اور داد پانے کے حوالے سے درکار تمام وسائل کا حامل ہے۔ صلاحیت و سکت کو پروان چڑھانے والے وسائل اُس کی دسترس میں ہیں۔ آپ بھی چاہیں تو اپنے لیے فقید المثال کامیابی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اُسی وقت ممکن ہے ‘جب آپ سنجیدہ ہوں اور قدرت کی بخشی ہوئی اچھی خبر کو بُری خبر میں تبدیل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کریں۔ ہمارے اپنے ماحول میں قدرت کی مرضی کے خلاف جاکر اچھی خبر کو بُری خبر بنانے والوں کی تعداد مایوس کن اور افسوسناک حد تک زیادہ ہے۔
یہ سب کچھ زندگی کے بارے میں خاطر خواہ حد تک سنجیدہ نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ہم اُس عہد میں جی رہے ہیں‘ جو کسی بھی شعبے میں بھرپور کامیابی یقینی بنانے کے لیے مطلوب ماحول پیش کرتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ فیصلے میں تاخیر وہی نتیجہ پیدا کرتی ہے‘ جو بھری پُری سڑک پر گاڑی چلاتے وقت رفتار بڑھانے یا بریک لگانے میں تاخیر کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں